ایران میں بڑی تیزی سے الحاد کیوں پھیل رہا ہے؟

آپ کو کیسا لگے گا جب آپ انتہائی خوشگوار موڈ میں کچھ گنگناتے ہوئے گھر سے نکلے ہوں اور فرط جذبات میں آپ کی آواز کا والیم بڑھ جائے اور آپ کو پتہ ہی نہ چلے تو اچانک سامنے سے مورل پولیس کا اہلکار آپ کو روک لے اور آپ کی اس بے معنی سی حرکت پر ڈانٹ ڈپٹ شروع کردے اور احتجاج کرنے پر آپ کو ایک آدھ کوڑا بھی جڑ دے؟
آپ کے احساسات کی اس وقت کیفیت کیا ہو گی کہ سر راہ لوگوں کا مجمع لگا ہو اور اس ہجوم کے بیچ آپ کی اپنی بہن کو مورل پولیس والے صرف اس لئے مار رہے ہوں کہ اس نے اپنے وجود پر جو کپڑے پہنے ہیں وہ ریاست کے ڈریس کوڈ کی نافرمانی کے زمرے میں آتے ہیں؟ اس وقت آپ کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی جب آپ کی والدہ کو اس لیے سزا دی جا رہی ہو کہ اس کا حجاب سرکا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کے بال دکھائی دے رہے تھے؟
آپ کے درد کا عالم اس وقت کیا ہو گا جب آپ کی دس یا بارہ سالہ بچی کو مورل پولیس والے اس وجہ سے سزا دے رہے ہوں کہ اس نے سڑک پر بائیسکل کیوں چلائی؟ ذرا تصور تو کریں اس لمحے کا کہ آپ کے وجود پر آپ کا حق نہ رہے اور ریاست بڑے فخر سے کہے کہ آپ آزاد ہیں؟
جی ہاں اکیسویں صدی میں یہ سب کچھ ایران میں ہو رہا ہے جہاں باقاعدہ طور پر مورل پولیسنگ کا ایک مضبوط ڈھانچہ موجود ہے جن کا کام لوگوں کی نجی زندگیوں میں تانک جھانک کرنا اور انہیں زبردستی کے اخلاقی ضابطوں پر چلانا ہے اور انکار کی تو بالکل ہی گنجائش موجود نہیں ہے۔ سڑکوں چوراہوں اور چوکوں پر آپ کو مورل پولیس کے اہلکار نظر آئیں گے جو مرد و زن کو اخلاقی نافرمانیوں پر سزائیں دیتے ہوئے دکھائی دیں گے اور خاص طور پر مورل سینٹر یا اخلاقی ٹریننگ سینٹر بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں باقاعدہ مورل کلاسز کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو ”سدھایا“ جا سکے۔ اس کے علاوہ وہاں وہ سب کچھ ہوتا ہے جس کی آج کی مہذب دنیا میں قطعی کوئی گنجائش نہیں ہے مثلا
نافرمانی پر چاہے عورت ہو یا مرد پبلک فلوگنگ کی جاتی ہے۔ چوکوں چوراہوں میں مورل پولیس کے اہلکار نگرانی کر کے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کوئی خاتون اپنی اداؤں سے کسی کو لبھانے کی کوشش تو نہیں کر رہی ہے، مطلب حجاب نہ سرکا ہو یا بھڑکیلا لباس نہ پہنا ہوا ہو۔
مورل پولیس کے گائیڈ کرنے کے باوجود بھی سامنے والا ضد پر اتر آئے تو اسے فوری قید میں ڈالنے کے احکامات جاری کر دیے جاتے ہیں۔
ایرانی خاتون کو ایران کی حدود سے باہر جانے کے لیے اپنے سرپرست کی ضرورت درکار ہوگی ورنہ وہ اکیلے سفر نہیں کر سکے گی۔
وہاں خواتین کی لیگل میرج ایج 13 سال ہے، اگر والدین اس سے بھی کم عمر میں اپنی بچی کی شادی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کا اجازت نامہ درکار ہو گا جو بڑی آسانی سے مل جاتا ہے۔
2020 سے 2021 کے درمیان ایسی 31 ہزار خواتین کی شادیاں ہوئی ہیں جن کی عمریں 10 سے 14 سال کے درمیان تھیں دوسرے لفظوں میں اسے چائلڈ میرج بھی کہا جا سکتا ہے۔
اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ آج کی دنیا جو ایک عرصہ سے ”انفرادیت“ کو انسان کے بنیادی حق کے طور پر تسلیم کر چکی ہے اس قسم کے جبر کو مہذب رویوں میں شمار کیا جاسکتا ہے؟
نیوٹریشن و ایجوکیشن یا مینٹل کپیسیٹی کی پختگی کے بغیر بچی کو کسی مرد کے حوالے کرنا کیا ظلم نہیں ہو گا؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جبری حربوں کا ما حاصل کیا ہے؟
کیا جبری رویے اختیار کر کے اور تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود ایران دنیا کی صفوں میں اپنا کوئی منفرد مقام بنانے میں کامیاب ہو پایا ہے یا خودی کو بلند کرنے کے چکروں میں تباہی یا تنزلی کی طرف بڑھا ہے؟ اب چلتے ہیں اس قسم کے ہوشربا انکشافات کی طرف جس کی دنیا بھر کے سروے گواہی دے رہے ہیں مثلاً
ایران میں الحاد بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ایک سروے کے مطابق صرف 32 فیصد لوگوں نے خود کو شیعہ مسلم ڈکلیئر کیا ہوا ہے۔ تقریباً 68 فیصد ایرانی آبادی خود کو شیعہ مسلم ہی کہنا چھوڑ چکی ہے۔
32 فیصد لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ان کا کوئی مذہب نہیں ہے۔
یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ سروے بتا رہے ہیں اور اگر آپ ان حقائق کو تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں تو سید مزمل کا وی لاگ ملاحظہ فرما لیں میں نے زیادہ تر مواد وہیں سے لیا ہے۔
اب الحاد کیوں پھیل رہا ہے اس کے اسباب یا پھیلاؤ کو جاننا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ بنیادی وجہ جبر یا گھٹن کا ماحول ہے جس میں فرد کو مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ خود سے کچھ نہیں کر سکتا جو ریاست کی دنیا ہے وہی اس کی دنیا ہے وہ خود سے اپنا کوئی نیا جہاں یا ضابطے نہیں کھوج سکتا۔ سعودی عرب میں بھی کافی عرصہ سے یہی کچھ چلتا آ رہا تھا مگر اب وہ رجوع کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں اور مہذب دنیا کے ساتھ ساتھ تیزی سے نہیں بلکہ آہستہ آہستہ رینگنے یا سرکتے رہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں کہ اگر پیٹ کا دھندا چلے گا تو سب چلے گا ورنہ ہم اپنی مخصوص سی ذہنیت یا آئیڈیالوجی کے ساتھ آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ کیا ایرانی علماء کو اس بات پر سوچنا نہیں چاہیے کہ لوگ دائرہ مذہب سے کیوں نکل رہے ہیں؟
ان جبریات کا ماحصل کیا ہے؟ کیا جبری حربوں سے اسلام پھیلا ہے یا سکڑا ہے؟
جو لوگ آپ کے جبری رویوں کی وجہ سے اسلام کو خیرآباد کہہ گئے ہیں ان کے اس عمل کا ذمہ دار کون ہو گا؟
یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ جب آپ سراغ لگانے نکلیں گے تو کھرا آپ کے گھر تک ہی پہنچے گا، اگر آپ کے جبر میں کوئی دم ہوتا تو مہسا امینی کی دردناک موت کے بعد سے ہی یہ چیپٹر کلوز ہو چکا ہوتا جسے سدھارنے والوں نے بڑی بے دردی سے مار ڈالا تھا۔ آپ کچھ بھی کہیں موجودہ انقلاب کا سہرا مہسا امینی کے سر پر سج چکا ہے اور جبر کا مقابلہ کرنے کے لیے لاکھوں خواتین جنہیں سدھارنے لیے آپ لاٹھیوں کا سہارا لیا کرتے تھے وہی سڑکوں پر سراپا احتجاج بن چکی ہیں۔
ویسے سدھایا جانوروں کو جاتا ہے انسانوں کو نہیں اور انسانی تاریخ میں جس کسی نے بھی اپنے جبری ضابطوں سے انسانوں کو سدھارنے کی کوشش کی ہے انہیں اسی عوام کے آگے خود کو سرنڈر کرنا پڑا ہے۔ معاشرتی جبر کا پریشر ککر جب پھٹتا ہے تو بہت سے فرعونوں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ دنیا کے تمام رجعت پسندوں کی نفسیات ایک سی ہوتی ہے، ایران کی خواتین کے احتجاج یا حجاب جلانے کے پیچھے ایران میں یہ بیانیہ بن چکا ہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے امریکہ ہے مطلب یہ سب مغرب اور کفار کی سازش ہے۔
نجانے ہم کب اپنے اپنے سراب کی قید سے آزاد ہوں گے؟ آج کے دور میں داخل ہونے کے لیے آج کے تقاضوں کے ساتھ چلنا بہت ضروری ہے ورنہ تمہاری داستان بھی نہیں ملے گی دنیا بھر کی داستانوں میں۔ ویسے غور طلب بات یہ ہے کہ الحاد کا تناسب دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے مگر حیران کر دینے والی بات یہ ہے کہ جن معاشروں میں مذہب پر سختی سے عمل کروانے یا ذرا سی بات پر کفر کے فتوے لگانے یا دائرہ مذہب سے خارج کرنے کے حربے آزمائے جاتے ہیں وہاں الحاد مہذب معاشروں کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔
بنیادی وجہ مذہبی پنڈتوں کی فرقوں کے نام پر آپس میں بڑھتی ہوئی خلیج ہے اور ہزاروں قسم کی مذہبی تشریحات کے پلندے ہیں جن پر وہ خود بھی آج تک متفق نہیں ہو پائے یا یوں کہہ لیں کہ یہ طبقہ مذہب کو اپنے عصر سے ہم آہنگ کرنے میں بالکل ناکام رہا ہے۔ لگے رہیں اپنی اپنی بین بجانے میں اور اپنے اپنے فرقوں کی دکانداری بچانے میں، مگر یاد رکھیں کہ سوچ کے زاویے دن بدن بدلتے چلے جا رہے ہیں اور آپ ابھی تک قرون وسطی کی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہ رہے ہیں ایسے بھلا کیسے چلے گا؟
”اندر گھر کی ایک دیوار کے اور کوئی دیوار نہیں ہے
سوچ سے زیادہ ہتھیاروں میں اور بڑا ہتھیار نہیں ہے ”

