میں ادب کا ہرجائی ہوں ”۔ ڈاکٹر خالد سہیل“ گفتگو: حامدیزدانی


““

اس طرف آ جائیے ۔

اس سے پہلے کہ انڈین ریستوران کے استقبالی کا ؤنٹر پر کھڑی لڑکی سے میں کچھ پوچھتا یہ ’باوزن‘ دھیمی صدا میرے بائیں کان کے پردے سے ٹکرائی تھی اور میری گردن اور نگاہ بے ساختہ صدا کے تعاقب میں روانہ ہو گئی تھیں۔ لانبی سفید زلفوں میں لپٹے ڈاکٹر خالد سہیل ادھر دیوار کے ساتھ کھڑکی والی نشست پر بیٹھے میری طرف دیکھ رہے تھے۔

ونڈو سیٹ ”۔ میں نے سوچا اور قدم بڑھاتے ہوئے دل ہی دل میں مسکرا دیا۔ سکول کے زمانے میں گرمیوں کی تعطیلات گزارنے لائل“ پور) فیصل آباد (جانے کے لیے بادامی باغ لاہور ملنے والی رنگین لاری میں بیٹھتے ہی ہم بھائیوں میں کھڑکی والی سیٹ کے لیے تکرار شروع ہوجاتی اور امی جان ہمیں سمجھاتی رہ جاتیں۔

جھگڑنا بند کرو اور آرام سے بیٹھ جاؤ۔ بس چلی تو آگے سیٹ سے یا کھڑکی سے جا ٹکرائے گا سر۔ دھیان سے۔ ”۔“دھیان سے۔ آگے دو زینے ہیں۔ سنبھل کر ۔ ”اسی دھیمی صدا نے میرے سر اور پاؤں دونوں کو ٹکراؤ سے بچا لیا تھا۔“

میں لائل پور جانے والی لاری سے ایک ہی لمحے میں مسس ساگا کے ریستوران پہنچ گیا تھا جہاں ڈاکٹر خالد سہیل اب میرے سامنے تھے، سوٹ بوٹ پہنے، سر پر ہیٹ ٹکائے۔ سامنے کھانے کے میز پر البتہ رکابیوں کے بجائے کتابیں سجی تھیں۔

انہوں نے اپنی نشست سے ذرا سا اٹھ کر محبت سے میرا استقبال کیا اور واپس بیٹھتے ہوئے بولے
”قبلہ و کعبہ، کہاں کھوئے ہیں؟“
سوال سے زیادہ یہ بھی مجھے مصرعہ لگا۔

کیا ڈاکٹر صاحب شعر ہی کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ میں نے سوچا اور ان کی طرف دیکھتے ہوئے ان کے مقابل کرسی پر بیٹھ گیا۔

آپ تو مصرعے کہے جاتے ہیں ”۔ میں نے ان کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا تھا کیونکہ ان کے سوال کے جواب میں لاہور سے لائل“ پور تک سفر اور کھڑکی والی سیٹ کے لیے اپنی خود غرضی کی داستان سنانا مشکل کام تھا۔

انھوں نے بھی جواب کے لیے اصرار نہ کیا۔

آپ کو یہاں پہنچنے میں دقت تو نہیں ہوئی؟ ”انھوں نے اخلاقاً استفسار کیا اور مجھے ان کے انداز سے جانے کیوں پروفیسر عارف عبدالمتین یاد آ گئے جن سے لاہور میں نیاز مندی رہی تھی اور جن کا وجود مجھے ہمیشہ ایک پر گداز اور پر خلوص احساس کی طرح لگا۔ ایک دھیما ہموار سر جو کسی پرسکون نورانی لے پر سفر کرتا تھا۔

“آپ تو پھر سے کہیں گھو گئے ہیں ”۔ ڈاکٹر صاحب نے پھر باوزن جملہ کہہ کر مجھے چشتیہ ہائی سکول کے عقب میں واقع عارف صاحب کے گھر سے کینیڈا واپس بلا لیا تھا۔

“کیا آپ آرڈر کے لیے تیار ہیں، سر؟ ”منحنی سی ویٹر نے اپنی مودب اور دل کش آواز میں باری باری ہم دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے میری طرف دیکھا۔ میں نے کھانا آرڈر کرنے کی ذمہ داری بخوشی انھیں سونپ دی کہ میں اس ریستوران میں پہلی بار آیا تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے آرڈر دیا۔
“اور پینا کیا پسند کریں گے آپ؟ ”ویٹر نے آرڈر لکھتے لکھتے پوچھا تھا۔

میں تو سافٹ ڈرنک لوں گا۔ اور آپ؟ ”انھوں نے مینیو کارڈ ویٹر کو تھمانے کے بعد اپنی باریک فریم کی عینک احتیاط سے اتارتے“ ہوئے میری طرف دیکھا تھا۔

“آپ کے چہرے پر عینک بہت بھلی لگتی ہے ”۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔

اچھا۔ شکریہ لیکن جملے سے آرڈر مکمل نہیں ہوتا۔ کیا پینا پسند کریں گے آپ؟ کوئی سافٹ ڈرنک، کوئی جوس یا پھر اے گلاس آف وائن؟ ”۔

وہ بھی مسکرا دیے تھے۔
” وائن تو قطعی نہیں۔“ میں نے فوراً کہا
”وہ کیوں؟“ انھوں نے بغور مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
ایسے مشروب کے لیے کم عمر ہوں ابھی ”۔ میں نے جواب دیا اور وہ قہقہہ لگا کر ہنسے۔
” تو پھر؟“ انھوں نے پوچھا

میں بھی سافٹ ڈرنک ہی لے لوں گا ”۔ میں نے ویٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو جواب کا مستعدی سے انتظار کر رہی تھی کیونکہ“ اسے ان مہمانوں کو بھی مناسب نشستوں پر بٹھانا تھا جو ابھی ابھی ریستوران کے دروازے سے اندر داخل ہوئے تھے۔

کیا اب ریستوران میں ہجوم ہونے والا ہے؟ ڈنر کا وقت جو ہو رہا ہے۔ میں نے سوچا تھا۔ کیا یہ بھی کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو سکتا ہے کہ میں کم ہجوم اور کم مصروف ماحول میں زیادہ سکون محسوس کرتا ہوں؟ ہو سکتا ہے۔ مگر میں نے اپنے سامنے بیٹھے ذہین ماہر نفسیات سے اس کا اظہار نہیں کیا جو بغور مجھے دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے جیسے انھوں نے میری خفیہ خود کلامی سن لی ہو۔

“تو یہ سب کتابیں میرے لیے ہیں کیا؟ ”میں نے بے ترتیب خیالات کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے سامنے پڑی خوب صورت کتابوں کو  دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔

”جی، کچھ آپ کے لیے ہیں اور کچھ ایک اور دوست کے لیے جو پاکستان سے آئے ہوئے ہیں اور جن سے میں اس ڈنر کے بعد کافی پر ملنے والا ہوں“ ۔ ڈاکٹر صاحب نے کتابوں کا سیٹ بناتے ہوئے جواب دیا تھا۔

”ڈاکٹر صاحب، میں سوچ رہا ہوں کہ کس قدر مصروف شب و روز ہیں آپ کے۔ دن میں کری ایٹو سائیکوتھیراپی کلینک، پھر ادبی ملاقاتیں اور تقریبات اور پھر لکھنا پڑھنا بھی۔ کیا کہنے۔“ ۔ میں نے رشک بھرے انداز میں کہا تھا۔

اور جناب، دختران خوش گل سے ملاقاتوں کو تو آپ بھول ہی گئے۔ وہ بھی تو اہم مصروفیت ہے۔ ”۔ ڈاکٹر صاحب نے خوش دلی سے ایک اور قہقہہ بلند کیا تھا۔

“تو کیا اب بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے؟ ”میرے لہجے میں بھی شرارت تھی۔

تو اور کیا۔ مانا کہ شیر اب بوڑھا ہو گیا ہے بلکہ درویش ہو گیا ہے مگر حسن سے بے اعتنائی تو ناقابل معافی جرم ہے۔ نہیں کیا؟ ”انھوں نے زندگی سے بھرپور لہجے میں کہا تھا۔“

“یہ رہے آپ کے سافٹ ڈرنکس، سر۔ کھانا بس آہی رہا ہے ”۔
ویٹر نے دو کین اور دو گلاس میز پر ترتیب سے رکھتے ہوئے آہستہ سے کہا تھا۔

اچھا، ڈاکٹر صاحب۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں میں آپ سے آپ کی شخصیت اور تخلیقات کے حوالے سے کچھ بات چیت کرنے کا بھی ”ارادہ رکھتا ہوں تو کیوں نہ غیررسمی انداز میں وہ مقصد بھی پورا کرلوں؟“ میں نے ویٹر کے جانے کے بعد کہا تھا۔

“جی ضرور، زہے نصیب۔ پوچھیے۔ میں تیار ہوں۔ ”ڈاکٹر صاحب نے اپنی کرسی پر چوکس ہو کر بیٹھتے ہوئے جواب دیا اور یوں مکالمہ آغاز ہو گیا۔

حامد یزدانی: ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، خوش قسمتی ہے میری کہ آج آپ جیسی توانا اور بھرپور لکھنے والی ہستی سے، ایک معروف تخلیق کار سے گفتگو کا موقع مل رہا ہے۔ اب تخلیق کے سوتے تو ، کہتے ہیں، کہ سوچ ہی سے پھوٹتے ہیں اور

ایک تخلیق کار کا ذہن عام انسان سے قدرے مختلف بھی ہوتا ہے۔ میں اپنی گفتگو کا آغاز اسی لمحے سے کرتے ہوئے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ اس وقت آپ کیا سوچ رہے ہیں؟

خالد سہیل: حامد یزدانی صاحب، میں اس لمحے یہ سوچ رہا ہوں کہ ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں دوسرے انسانوں کے انٹرویو لینے کا عادی ہوں لیکن آج میرے ایک عزیز دوست جو ایک مستند شاعر بھی ہیں اور ایک معتبر دانشور بھی میرا انٹرویو لے رہے ہیں۔ میں دوسروں کی تحلیل نفسی کرنے کا عادی ہوں لیکن آج میری تحلیل نفسی ہونے والی ہے۔ لیکن میں چونکہ اپنے انٹرویو لینے والے دانشور کی عزت بھی کرتا ہوں اور ان پر اعتبار بھی کرتا ہوں اس لیے مجھے پورا یقین ہے کہ سب اچھا ہو گا۔ چونکہ میں انٹرویو کو ایک تخلیقی عمل سمجھتا ہوں اس لیے عین ممکن ہے کہ اس انٹرویو میں میری ادبی زندگی اور شخصیت کے چند ایسے گوشے سامنے آئیں جن سے میں پہلے خود بھی ناواقف تھا۔ اس لیے مجھے زندگی کا یہ تبادلہ خیال کرنے کا موقع فراہم کرنے کا اور اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔

حامد یزدانی: آپ میرے بارے میں ایسا عمدہ اور مثبت گمان رکھتے ہیں، یہ سراسر میری خوش بختی ہے۔ بہت شکریہ۔ ویسے شکریہ تو میں ملاقات کے آخر میں بھی ادا کروں گا ابھی تو آپ یہ فرمائیے کہ تخلیق کار کے لیے موضوع اور متن زیادہ اہم ہوتا ہے یا زبان اور اسلوب؟ کہتے ہیں کہ ہنر مند گھسے پٹے خیال میں بھی جان ڈال دیتا ہے جبکہ کم ہنر مند اعلی خیال کو بھی غیر موثر انداز بیاں کے باعث غیر دل چسپ بنا دیتا ہے یا یوں کہیے کہ ایک اچھے خیال کو ضائع کر دیتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

خالد سہیل: میری نگاہ میں ہر ادبی فن پارے کے دو حصے ہوتے ہیں
FORM AND CONTENT

ایک فن پارہ اس وقت شہ پارہ بنتا ہے اور ادب عالیہ کا حصہ بنتا ہے جب فن پارہ دونوں حصوں کا بہترین اظہار ہو اور شاعر یا ادیب موضوع اور زبان دونوں سے انصاف کر سکے۔ ادب کے معیار کا بھی خیال رکھے اور زندگی کے رازوں اور بصیرتوں کے ساتھ بھی جڑا رہے۔ میں شاعروں اور ادیبوں کو دو خانوں اور دو گروہوں میں بانٹتا ہوں۔ پہلا گروہ تفریحی ادب لکھتا ہے جبکہ دوسرا گروہ ادب عالیہ تخلیق کرتا ہے۔

تفریحی ادب تخلیق کرنے والے زبان سے کھیلتے ہیں لیکن ان کے ادب میں زندگی کی کوئی بڑی سچائی کوئی دانائی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر کسی کا شعر ہے

رہے ان کے بہانے ہی بہانے
بہانے ہی بہانے مار ڈالا
یا
دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل
دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں

ان اشعار میں الفاظ کے تکرار کو سن کر ہمارے ہونٹوں پر مسکراہٹ تو پھیل جاتی ہیں لیکن ہم کچھ سوچنے پر مجبور نہیں ہوتے۔ لیکن اس کے مقابلے میں جب ہم غالب کا یہ شعر سنتے ہیں کہ

شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
یا اقبال کا یہ شعر پڑھتے ہیں
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
یا فیض کا یہ شعر سنتے ہیں
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ شاعر ہمارا زندگی کے کسی خفیہ راز سے تعارف کروا رہا ہے اور وہ ہمیں دعوت فکر دے رہا ہے۔ میں ان اشعار کو ادب عالیہ میں شمار کرتا ہوں کیونکہ ان میں زبان کا حسن بھی ہے اور زندگی کی دانائی کا راز بھی۔

فورم ادب کو فن بناتا ہے
کونٹنٹ اس میں فلسفہ شامل کرتا ہے

اس لیے وہ شاعر جو دانشور بھی ہیں وہ لاشعوری طور پر اپنی شاعری میں فورم اور کونٹنٹ کا حسیں امتزاج پیش کرتے ہیں۔ ادب عالیہ میں بیک وقت

ENLIGHTENMENT
بھی ہوتی ہے اور اینٹرٹینمنٹ بھی۔ وہ ہمیں محظوظ بھی کرتا ہے اور مسحور بھی اور ہمیں زندگی کے رازوں سے متعارف بھی کرواتا ہے

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3