دہشت گردوں سے مذاکرات۔ مگر کس قانون کے تحت؟


گلگت بلتستان کے سینئر وزیر کرنل ریٹائرڈ عبیداللہ بیگ اسلام آباد سے براہ بابو سر گلگت جاتے ہوئے احتجاج کرنے والے ایک گروہ کے ہاتھ لگے اور زبردستی مہمان بنائے گئے۔ جمعہ کے روز یہاں مقیم کچھ لوگ اپنے ان ساتھیوں کی رہائی کے لئے احتجاج کر رہے تھے جن پر ننگا پربت کے بیس کیمپ پر مارے گئے کوہ پیماؤں کے قاتل بھی شامل ہیں جو اب جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کے دوسرے مطالبات میں علاقے میں شرعی نظام کا نفاظ اور گلگت میں وومن سپورٹس گالا کی منسوخی اور آئندہ کے کے لئے اس سے اجتناب شامل ہے۔ احتجاجیوں نے صوبائی وزیر اور دیگر کچھ مسافروں کو روک کر رکھا جن کی رہائی مبینہ طور پر جرگہ کے ذریعے ایک معاہدہ کے بعد ہوئی۔

چونکہ کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ کرنل ریٹائرڈ عبیداللہ بیگ اپنی مرضی سے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے رکے تھے اس لئے ہم بھی ان کے لئے مغوی یا یرغمالی کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کریں گے۔ مہمان داری کے دوران سینئر وزیر کی موبائل پر حکام سے بات بھی ہوئی اور تصاویر بھی انٹر نیٹ پر وائرل ہوئیں جن میں ایک صاحب کو ہاتھ میں کلاشنکوف کا کھلونا پکڑے مہمانوں کا دل بہلاتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ خود کرنل صاحب کا گھر پہنچنے کے بعد کہنا تھا کہ ان کو اغوا نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی یرغمال بنائے رکھا تھا ’بس صرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی‘ ۔ اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔

مجاہدین گلگت بلتستان کے نام سے بنائی ایک تنظیم بابو سر اور چلاس کے درمیان واقع تھک نالہ کے علاقے میں کافی عرصے سے فعال ہے اور اس کی کارروائیاں پہلے بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ اس سے قبل پولیس کے اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر ان کو یرغمال بنانے کا واقعہ بھی رپورٹ ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ حکومت نے ان کے ساتھ پہلے بھی مذاکرات کیے تھے اور ایک معاہدہ بھی ہوا ہے جس میں مبینہ طور پر ان کے ساتھیوں کی رہائی کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔

اس تنظیم کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کا سرغنہ حبیب الرحمان جو گلگت جیل توڑ کر فرار ہوا تھا اب یہاں مقیم ہے۔ کمانڈر کے نام سے مشہور یہ شخص لوگوں کے درمیان تنازعات حل کرنے کے لئے جرگے بھی کرواتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد میڈیا پر ہونے والی بحث سے نظر بہ ظاہر لگتا ہے کہ کمانڈر نہ صرف یہاں مقبول ہے بلکہ گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والے کئی نام نہاد پڑھے لکھے صحافی اور دانشور بھی اس کے ہم خیال ہیں اور ان کے موقف کی تائید بھی کرتے ہیں۔

کافی دنوں سے خیبر پختونخوا سے خبریں آ رہی ہیں کہ یہاں سابق سپیکر قومی اسمبلی کے علاوہ کئی سابق وزراء اور صوبے کے موجودہ وزیر اعلی اور اس کی کابینہ کے ارکان اپنی جان کی تحفظ کے لئے باقاعدگی سے بھتہ ادا کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی ترجمانی کرنے والے بیرسٹر سیف اللہ درانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں سرکاری طور شریک رہے ہیں ان کے بقول ایسی کارروائیاں طالبان کو بدنام کرنے کے لئے دوسرے گروہوں کی جانب سے کی جاتی ہیں۔ ان کے بیانات بالکل اسی طرح ہیں جیسے پہلے سے ان کی جماعت اور دیگر ان کے ہم خیال طالبان کی محبت میں دیا کرتے ہیں۔

دوسری طرف دیر اور سوات میں طالبان کی سرگرمیوں کے خلاف عام لوگ میدان میں آئے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں۔ عام لوگ گھروں سے نکل کر بندوق بردار تحریک طالبان پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں مگر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا رویہ انتہائی معذرت خواہانہ نظر آتا ہے جو انتہائی مایوس کن ہے۔

ایک سکول وین پر دہشت گردوں کے تازہ حملے کے بعد سوات شہر میں شہریوں نے جس بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر دہشت گردی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا وہ بے مثال ہے۔ دوسری طرف نامعلوم دہشت گردوں سے ہمدردی رکھنے والے نام نہاد حکومتی نمائندے پشاور اور اسلام آباد میں بیٹھ کر اگر، مگر، لیکن، چونکہ، چنانچہ کی گردان کرتے رہے جو اس بات سے بے خبر ہیں کہ شہریوں نے ان کو عاق کر کے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔

گلگت بلتستان جو فرقہ ورانہ کشیدگی کی وجہ سے انتہائی حساس علاقہ ہے جہاں وقتاً فوقتاً خون آشام واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے پہلے ناران بابوسر شاہراہ پر لولو سر کے مقام پر مسافروں کی بس کو روک کر قتل عام کیا گیا اور شاہراہ قراقرم پر بونر داس میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آ چکا ہے جس میں بسوں سے مسافر اتار کر ذبح کیے گئے یا دریا میں کودنے پر مجبور کیے گئے۔ اس واقع کی موبائل کلپس اور تصاویر بھی بنائی کر وائرل کرنے کے باوجود مجرموں تک قانون کا ہاتھ نہیں پہنچ سکا۔

ننگا پربت بیس کیمپ پر 2013ء میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 10 کوہ پیما اور ایک مقامی گائیڈ کا قتل ایک ایسا واقعہ ہے جس نے پاکستان کی شہرت کے علاوہ سیاحت کی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس واقعہ سے پہلے چلاس شہر میں پولیس افسر اور سیکیورٹی اہلکار بھی قتل کر دیے گئے تھے جو اسی گروہ کی کارروائی بتائی جاتی ہے۔ اس واقعہ کے ملزم گرفتار ہوئے مگر ان میں سے دو جیل توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب بھی ہو گئے۔ وہ کمانڈر جس نے صوبائی وزیر کی زبردستی مہمان نوازی کی ان فرار ہونے والوں میں سے ایک ہے جو اب اپنے دیگر ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ پاکستان گزشتہ بیس سالوں میں دہشت گردی، فرقہ واریت اور خانہ جنگی کے کڑے مراحل سے گزرا ہے جس میں پونے ایک لاکھ سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس دوران جو ایک بات کھل کر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ کسی بھی گروہ یا تنظیم کو اس وقت تک کارروائی کی جرات نہیں ہوتی جب تک ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کے اندر اس کے لئے ہمدردی پیدا نہ ہو۔ یہ ہمدردی گروہی یا انفرادی بھی ہو سکتی ہے اور ادارہ جاتی بھی جو سہولت کاری کی شکل میں ان کو دستیاب ہوتی ہے۔

دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کے اپنے بچے یورپ اور امریکہ میں پڑھتے ہیں مگر وہ قبائلی علاقوں، سوات اور مالاکنڈ کے سکولوں کو تباہ کرنے والوں کو اگر مگر کے ساتھ جواز فراہم کرتے ہیں۔ یہ گروہ سازشی تھیوری بنانے اور پھیلانے کا اتنا ماہر ہے کہ آج بھی نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک بچی پر دہشت گردی کے حملے کو ڈرامہ اور خود ملالہ کو جاسوس سمجھتی ہے۔

ایک اور عنصر جس سے دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں وہ عام شہریوں کا رویہ ہے۔ ان دہشت گردوں کے ہمدردوں اور ہمنوا گروہوں اور افراد کے علاوہ کچھ لوگ خوف سے اور کچھ ہمدردی میں خاموش رہتے ہیں جو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں ہم سبھی شامل ہیں جو کھل کر برائی کی مخالفت نہیں کرتے۔ شہریوں کے لاتعلق ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جن پر الگ سے لکھنے کی ضرورت ہے۔

دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کی جو سب سے بڑی وجہ اب تک سامنے آئی ہے وہ ریاستی اداروں اور حکومت کی غیر متوازن پالیسی ہے۔ حکومت ہمیشہ مصلحت کی وجہ سے ایک پالیسی اپنانے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے کبھی سختی اور کبھی نرمی برتی گئی۔ ہر بار فوجی آپریشن کے بعد دہشت گردوں کے ساتھ بار بار کیے جانے والے مذاکرات اور معاہدوں کی وجہ سے ہی ان گروہوں کو سنبھلنے کا موقع ملتا رہا۔ ہر بار کمر توڑنے کے ریاستی دعووں کے باوجود ان کی کارروائیاں جاری رہیں۔

پاکستان کے دفاعی امور کے ماہر اور خاص طور پر دہشت گردی سے نپٹنے کا تجربہ رکھنے والے برگیڈئیر ریٹائرڈ محمود شاہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ”ریاست کسی دوسری ریاست سے تو مذاکرات کر سکتی ہے مگر اپنے ملک کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد سے مذاکرات کس قانون اور آئین کے تحت کیے جاتے ہیں؟“۔ ریاستیں اپنے مجرموں سے مذاکرات اور معاہدے نہیں کرتیں بلکہ ان کو پکڑ کر قانون کے تحت سزا دلواتی ہیں تاکہ دوسرے شہریوں کو تحفظ حاصل ہو جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ جب تک ریاست اس یک نکاتی پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہوتی اپنی رٹ قائم نہیں کرسکے گی اور یہ بات ذہن میں ہمیشہ رکھنے کی ضرورت ہے کہ جس کی رٹ قائم نہ ہو وہ ناکام ریاست کہلاتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 264 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan