بارسلونا کی پاکستانی قونصلیٹ: کہانی ایک خط کی


قونصل جنرل بارسلونا ہراسانی کیس میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب بارسلونا کے دو آن لائن چینلز اچانک ایک روز شکایت کنندہ کی برطرفی کا حکم نامہ سامنے لے آئے۔ مذکورہ حکم نامہ دیکھ کر میں نے سوشل میڈیا پر ایک تین سطری پوسٹ میں ان صحافیوں پر طنز کرتے ہوئے اس خط کو جعلی قرار دے دیا۔ ان دو صحافیوں میں سے ایک صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ ثابت کریں کہ یہ خط جعلی ہے میں صحافت چھوڑ دوں گا۔ میری گزارش ان سے یہ تھی کہ آپ جب اور جہاں چاہیں ہم اس پر مکالمہ کر سکتے ہیں البتہ آپ سمیت کسی کی صحافت یا کچھ اور چھڑوانا میرے مقاصد میں سے نہیں۔ میرا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ حقائق بیان کیے جائیں کسی کی مخالفت یا کسی تعصب کے زیر اثر حقائق مسخ نہیں کیا جانا چاہیے۔ حسب سابق ان صاحب نے مکالمے کی اس پیشکش کو رد کرتے ہوئے مجھے سوشل میڈیا پر اپنا موقف دینے کا کہہ کر بات ختم کر دی۔

کچھ دنوں کے بعد بارسلونا کے آن لائن نیوز چینل نیوز ڈپلومیسی کے اینکر پرسن وسیم رزاق نے اپنے پروگرام میں مجھ سے سوال کیا کہ میں نے اس خط کو کس بنیاد پر جعلی قرار دیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اول تو میری معلومات کے مطابق سولہ جون کو خاتون کی شکایت موصول ہونے کے بعد سفیر پاکستان شجاعت راٹھور کے حکم پر خاتون کو انتظامی رخصت پر بھیجا گیا تھا۔ دوسرا یہ کہ دکھائے جانے والی دستاویز پر صرف سابق قونصل جنرل سلمان بابر بیگ کے دستخط ہیں جو کہ ایک اس کیس میں ایک ملزم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تیسری بات اس خط کا متن مبہم ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ادارے کی بجائے کسی فرد کا مدعا لگ رہا ہے یعنی اس میں نہ صرف یہ کہ سفارتخانے اور وزرات خارجہ کو مطلع نہیں کیا گیا بلکہ قونصل خانے کی انتظامیہ کو بھی اس برطرفی کے حوالے سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ اس میں نوکری سے برخاست کیے جانے کی کوئی وجہ بیان ہوئی ہے نہ ہی ماضی میں جاری کیے گئے کسی شوکاز نوٹس یا برطرف کیے جانے والے کے خلاف کسی شکایت کا کوئی حوالہ یا تذکرہ ہے۔

میری رائے یہ تھی کہ یہ خط بعد میں تیار کیا گیا ہے اور اس پر تیرہ جون کی تاریخ درج کرنے کا مقصد یہ تھا کہ خاتون کی سولہ جون کو درج کروائی جانے والی شکایت کا توڑ کیا جا سکے۔ لیکن جلد بازی میں دو باتوں کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ تیرہ جون کو قونصل خانے میں ایک تقریب تھی جس کے بعد سابق قونصل جنرل نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کی۔ اس میں بارسلونا کے دو صحافیوں سے ملاقات میں قونصل جنرل نے قونصل خانے کے ایک اندرونی معاملے پر اپنی اسی ماتحت خاتون کی حمایت میں ایک صحافی کے ساتھ سخت رویہ اپنایا۔ دوسری اہم بات یہ نظرانداز کر دی گئی کہ سولہ جون کو خاتون کی جانب سے سفیر پاکستان کو شکایت موصول ہونے کی خبر پاتے ہی ملزم نے جلد بازی میں مقامی پولیس کو بلا کر انھیں جبراً دفتر سے نکلوا دیا تھا۔

سولہ جون کو پولیس بلوا کر خاتون کو دفتر سے نکلوانے کی بات کر کے اپنے تئیں میں نے ایک انکشاف کیا تھا البتہ مجھے خط کو جعلی ثابت کرنے کا چیلنج دینے والے بارسلونا کے صحافی نے کا منٹ سیکشن میں ایک نیا موقف اختیار کیا۔ ان کا فرمانا تھا کہ مجھے اپنی تصحیح کرنی چاہیے کیونکہ خاتون کو تیرہ جون کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا اور وہ سولہ جون کو جب وہ پھر دفتر آ گئی تو مجبوراً پولیس بلا کر انھیں دفتر سے باہر نکلوانا پڑا۔ ان کے اس تبصرے کے بعد ایک بات تو یہ واضح ہوئی کہ انھوں نے اس خط کو بغور پڑھنا گوارا نہیں کیا کیونکہ خط مبہم اور نامکمل ہونے کے باوجود یہ کہہ رہا ہے کہ تیرہ جون کو اس خاتون کو مطلع کیا جا رہا ہے کہ تیرہ جولائی سے قونصل خانہ بارسلونا میں ان کی ملازمت ختم ہو جائے گی۔

عزیزان من! ایسی صورت میں سولہ جون کو پولیس بلانے کی صرف ایک وجہ باقی بچتی ہے کہ اس روز خاتون کی جانب سے کی گئی شکایت سفیر پاکستان کو موصول ہوئی اور اس کی بھنک ملزم کو بھی پڑ گئی جس پر ملزم نے سفیر پاکستان کی جانب سے شکایت کنندہ کو انتظامی رخصت پر بھیجنے سے پہلے ہی پولیس بلوا کر دفتر سے نکلوا دیا۔ جہاں تک اس خط کا معاملہ ہے یہ شاید ملزم نے اپنے وکیل سے مشورے کے بعد بارسلونا کے ان دو صحافیوں کے ذریعے میڈیا پر پھیلایا ہے تاکہ عوامی حمایت و ہمدردی حاصل کی جا سکے۔ مکرر عرض ہے کہ اس مدعے پر مخالف رائے کو سننے کے لئے بندہ ہر قسم کے مکالمے کے لئے تیار ہے اور کسی کا کچھ چھڑوانا مقاصد میں شامل نہیں، بارسلونا کے باسیوں کے سامنے حقائق پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور وہی ہم کر رہے ہیں کتنی کامیابی ملی اس کا فیصلہ اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

Facebook Comments HS