دریائے سندھ میں تیراکی کی ایک داستان
14 جولائی کو موٹروے پولیس ٹریننگ کالج شیخوپورہ سے میرا تبادلہ خیر آباد (خیبر پختونخوا ) ہو گیا۔ اٹک پل کی عرفیت سے مشہور اس مقام پر دریائے کابل دریائے سندھ میں آ کر ضم ہو جاتا ہے۔ اس ملاپ کا منظر نہایت خوبصورت ہے۔ دریائے کابل کی شریر، چنچل اور شوخ لہریں ہمارے دفتر کی بنیادوں کو گدگدی کرتی ہوئی گزرتی ہیں۔ اور اس کی قلقاریاں ہمیں دفتر میں کام کرتے وقت بھی سنائی دیتی ہیں۔ فدوی دفتری اوقات سے فراغت کے بعد رہائشی بلاک کی چھت پر براجمان ہو جاتا۔
اور نشیب میں بہتے ان دونوں دریاؤں کے ملاپ کے حسین منظر سے آنکھوں کو طراوت بخشتا۔ اس دوران دل بار بار للچاتا رہا کہ وہ بھی ان دو عظیم دریاؤں کے صدیوں پر محیط محبت بھرے سنگم کی گہرائی کو محسوس کرے اور اس میں اتر کر خود کو امر کر لے۔ خاص طور پر جولائی اگست کی سخت حبس کے موسم میں تو میرا وہی حال ہوتا رہا جو کسی غریب بچے کا کھلونوں والی دکان پر ہوتا ہے۔ دفتر میں اپنی اس دبی سی خواہش کا جس سے بھی اظہار کیا اس نے شدید حوصلہ شکنی کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ ان تیز اور برفیلے پانی میں پاؤں رکھنے والوں کو قبر نصیب نہیں ہوتی۔
بلکہ مراد صاحب نے تو مجھ جیسے مہم جووں کو ڈرانے کے لیے کچھ حوالے بھی حفظ کر رکھے تھے، جیسے ایک بدنصیب ڈمپر تھا۔ جو آج سے کئی سال پہلے اٹک پل سے ان گہرے پانیوں میں گرا تھا جس کا آج تک نام و نشان نہیں مل سکا۔ اس جگہ کی گہرائی کا آج تک نہیں پتہ چل سکا۔ یہاں تو سکندر اعظم کی فوجیں بھی آ کر پھنس گئی تھیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اتنے خوبصورت منظر کی ایسی خوفناک تصویر کشی پر میرا سارا تخیلاتی رومانس اور ارمان اسی چھت سے گر کے دریا میں پھسل جاتے۔ مگر پھر دو چار دن بعد کسی نہ کسی طرح کنارے سے نکل کر مجھ میں دوبارہ حلول کر جاتے۔
(اس کشمکش میں میری صورتحال اسی سردار صاحب جیسی ہو گئی۔ جو روز سوچتا کہ میرے گھر کے سامنے بندھے بیل کے سینگوں کے ساتھ اگر میرا پاجامہ پھنس جائے تو میرا کیا حال ہو گا۔ بالآخر اس سوچ سے جان چھڑانے کے لیے وہ ایک دن بیل کے بالکل قریب چلا گیا۔ بیل نے اپنے سینگوں پر اسے اٹھایا اور گھما کے پھینک دیا۔ سردار صاحب کی ٹانگ تو ٹوٹ گئی مگر اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا کہ اگر سینگوں میں پاجامہ پھنس جائے تو ٹانگ ٹوٹتی ہے )
میں نے بھی اس عالم سے جان چھڑانے کے لیے ایک دن اپنے عزائم سے بے خبر اے سی پی قذافی صاحب کو سیر کے بہانے دریا کے دوسرے کنارے پر لے گیا۔ وہاں چہل قدمی کرے ہوئے ایک لمبا راونڈ کاٹا۔ جہاں مجھے ایک جگہ نسبتاً آہستہ بہاؤ والا دریا کا ایک حصہ (پاٹ) مل گیا۔ جو مجھے اشنان کے لیے قدرے محفوظ لگا۔ بس پھر کیا تھا۔ میں نے قذافی صاحب کو اپنا فون پکڑایا کہ میری ایک دو تصویریں بنا دیں اور اس سے پہلے کہ انہیں کچھ سمجھ آتی اور مجھے آخرت سے ڈرانا شروع کرتے۔ میں پانی میں کود گیا۔
گلیشیئرز کے پگھلاؤ سے وجود میں آنے والے دریائے سندھ کا پانی اس پوائنٹ پر بھی سینکڑوں میل کی مسافت طے کرنے کے باوجود یخ ٹھنڈا تھا۔ میرا بچپن گاؤں کی نہروں میں نہاتے گزرا ہے۔ اے سی کی عدم دستیابی کی وجہ سے تپش کے دنوں میں روزانہ گھنٹوں پانی میں گزرتے تھے۔ ان دنوں گرمی کا واحد توڑ پانی ہی ہوتا تھا۔ تیرنا بھی وہیں سیکھا۔ مگر یہ میرے پنڈ کی نہر یا چھپڑ نہیں تھا۔ وطن عزیز کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ تھا۔ جو سینکڑوں ندی نالوں اور دریاؤں کو ہضم کر جاتا ہے۔
اس کے آگے میری کیا اوقات تھی۔ ابھی میں جی بھر کر اس کی ٹھنڈک کو محسوس بھی نہ کر پایا تھا کہ برفیلے پانی نے دو ڈھائی منٹ میں ہی میرے بازوں اور ٹانگوں کو شل کرنا شروع کر دیا۔ جس پر میرے جسم کی توانائی ماند پڑنا شروع ہو گئی اس احساس پر میں نے واپسی کا راستہ اختیار کر لیا۔ مگر واپس پلٹ کر جب کنارے کو دیکھا تو وہ بوجہ تھکاوٹ توقع سے کافی دور نظر آیا۔ مگر میں نے حواس قابو میں رکھے اور سکون سے واپسی کا سفر شروع کر دیا۔
پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہنے کی وجہ سے میرا واپسی کا راستہ نسبتاً بدل گیا تھا۔ ابھی درمیان میں ہی پہنچا تھا کہ رستے میں ایک چٹان کی وجہ بننے والے تیز رفتار گرداب نے مجھے اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ توانائی تو پہلے ہی ریزرو پر تھی۔ اوپر سے اس مصیبت نے میرے اوسان بھی خطا کر دیے۔ اس ایک پل میں مجھے کیا کیا یاد آیا بیان سے باہر ہے۔ دریا کی اس ان چاہی زیادتی پر میں تیراکی کے سارے اصول و ضوابط بھول گیا اور الٹے سیدھے ہاتھ مارنا شروع کر دیے۔
اس بے ہنگم انداز کی وجہ سے مجھے غوطے بھی لگنا شروع ہو گئے۔ مگر اس طوفان بدتمیزی کا فائدہ یہ ہوا کہ میں اس گرداب سے بچ کر اپنی سمت تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ مگر تب تک میں نڈھال ہو چکا تھا اور تقریباً خود کو پانی کے رحم و کرم پر چھوڑ چکا تھا۔ اس سے قبل کے میں چیخ کی شکل میں کنارے پر ویڈیو بناتے قذافی صاحب کو اپنی بے بسی (میں گیا جے ) سے آگاہ کرتا۔ خدا نے میرا بھرم رکھ لیا اور میرا ہاتھ زور سے پانی کے اندر کسی ابھرے پتھر کو لگا۔
مجھے ہاتھ میں کچھ درد تو محسوس ہوا مگر وہ درد اس خیال کے نیچے دب گیا کہ میرے نیچے اب گہرے پانی کی بجائے پتھریلی سطح ہے۔ جو اس امر کی عکاسی کر رہا تھا کہ اب کنارے کے قریب پائے جانے والے پتھروں تک رسائی حاصل کر چکا ہوں۔ مزید ہمت کروں تو باہر نکل سکتا ہوں۔ یوں میں نے اسی پتھر پر پاؤں ٹکا کر زور سے اپنے جسم کو کنارے کی جانب دھکا دیا۔ کیونکہ بازو تو اب ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ اس آخری پش کی بدولت میں نے چار پانچ گز کا فاصلہ طے کر لیا۔ جو کنارے پر پہنچنے کے لیے کافی تھا۔ اور یوں گرتا پڑتا دریا سے باہر نکل آیا۔ جہاں قذافی صاحب کے زوردار قہقہے نے میرا استقبال کیا۔ جس کا واضح مطلب تھا اب سکون ہے ( ہن سکون جے )


