جیون ساتھی چنتے ہوئے کیا کچھ دیکھا جاتا ہے؟


نکاح ایک سماجی روایت ہے جس کو مذہبی توثیق بھی حاصل ہے، اس لیے مسلم معاشروں میں یہ صرف کلچرل سرگرمی ہی نہیں بلکہ ایک مذہبی فریضہ بھی مانا جاتا ہے۔ دو عاقل بالغ افراد اپنا گھر آباد کرنے کی نیت سے مستقل رشتہ جوڑتے اور زندگی بھر کے لیے ازدواجی بندھن قائم کرتے ہیں تا کہ زندگی کی رونقوں کو مزید خوبصورت بنایا جا سکے۔ فرد کی المناک تنہائیوں، ذہنی اور نفسیاتی پیچیدگیوں، جسمانی ضرورتوں اور جذباتی اکیلے پن کو دور کرنے کے لیے کوئی مستقل رفیق سفر میسر ہو سکے۔ ایک ایسا رازدار جسے بے جھجک انسان اپنا ہر راز سنا سکے، سب کیفیتوں کا اظہار کر سکے اور اپنی ساری اداؤں کے ساتھ نچھاور ہو سکے۔ ( یہ الگ بات ہے کہ عملی طور پر ایسا ہوتا ہے یا نہیں لیکن مانا کچھ اسی طرح جاتا ہے۔ )

نکتہ، جو آج زیر بحث لانا تھا، وہ یہ ہے کہ ہمارے سماج میں کسی انسان کو بطور شریک حیات اپنی زندگی میں شامل کرتے وقت ہم کیسے پرکھتے ہیں کہ وہ کیسا انسان ہے۔ کیسی شخصیت کا حامل ہے۔ ہمیں بحیثیت والدین یا بطور فریق یہ کیسے طے کرنا چاہیے؟ ارینج میریج ہو یا لو میریج یا ارینجڈ لو میریج۔ ہم اپنے رفیق حیات کو چنتے وقت (مرد و عورت) میں کن خوبیوں / صلاحیتوں کو تلاشتے ہیں؟

سچی بات تو یہ ہے کہ آج تک مجھے سمجھ نہیں آیا کہ واقعتاً میاں / بیوی کا انتخاب کرتے وقت اکثریت کے فیصلوں میں کچھ مستقل اصول جو ہماری اپنی شعوری کاوش سے وجود میں آئے ہوں، موجود ہوتے بھی ہیں یا نہیں اور جو اصول فیصلوں سے اخذ ہو رہے ہوتے ہیں ان کو شعوری کاوش کہا بھی جاسکتا ہے یا نہیں؟

مشاہدے میں جو چیزیں آتی ہیں ان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ شادیاں ظاہری اور سطحی بنیادوں پر ہو رہی ہوتی ہیں۔ جن کے سہارے زندگی بھر کا خوشگوار تعلق قائم رکھنا، الفت کو برقرار رکھنا، زندگی کے حسن کو تازہ رکھنا اور اپنے عقل و جذبات کو بحال رکھنا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔

ارینج میرج ہو یا لو میرج، عورت کے معاملے میں اکثر سارا زور رنگت، چہرہ مہرہ، عمر، کنوارا پن، برادری، خاندانی شرافت اور سماجی برابری ( معاشرے کے طے کردہ معیار کے مطابق ) پر نظر آتا ہے، بس اتنا ہے کہ لو میرج میں قدرتی کشش ہونے کو زیادہ اہمیت ملتی ہے، جس کو خوبصورتی اور پیار کا نام دیا جاتا ہے۔

رہا مرد، تو شکل و صورت اس کی بھی دیکھی جاتی ہے لیکن زیادہ اہمیت اس کی معاشی حیثیت کو ملتی نظر آتی ہے کہ گھر در کی بنیادی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل ہو، کماتا اور کھاتا پیتا ہو، اپنا مسکن یا کم از کم کمرہ شریف ضرور رکھتا ہو ( یہ ضروری بھی ہے لیکن کچھ لوگوں کا سارا زور بس انہیں جیسی چیزوں پر ہوتا ہے ) ، شریف اور خاندانی ہو ( شرافت کا معیار خود کا طے کردہ نہیں ہوتا، جو سماج نے مقرر کر دیا ہے وہ ہی قابل قبول ہے ) ، اپنے خاندان کا بچہ ہو تو کیا کہنے۔

ان معیارات پر رشتہ طے کرتے ہوئے ہم امید یہ لگاتے ہیں کہ وہ میری بیٹی، بہن / یا میرے ساتھ ہمیشہ محبت و اعتماد کا رشتہ قائم رکھے گا/ گی۔ عزت و احترام کے ساتھ اک سکھ بھری زندگی نبھائے گا۔ اک نفیس اور شائستہ انسان کی طرح برتاؤ کرے گا جبکہ ان معیارات میں کہیں بھی ان سوالوں کو حل کرنے کی کوئی جستجو نظر نہیں آتی جن کے حل کیے جانے کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسی زندگی گزارنے اور اس طرح رشتہ نبھانے کے اہل ہو سکتا ہے۔

یعنی اس بندے / بندی میں زندگی کا فہم اور زندگی کے متعلق رویہ کیسا ہے؟ رشتہ نبھانے کی صلاحیت کیسی ہے؟ اپنے آس پاس کے انسانوں سے رویے کیسے ہیں؟ انسان کے متعلق (مرد ہے تو خاص کر عورتوں کے متعلق) اس کا شعور کیسا ہے؟ گھر والی عورتوں کے علاوہ کو کیسے دیکھتا ہے؟ خود اہل خانہ کے ساتھ اور پہلے سے قائم شدہ دوسرے تعلقات اور رشتوں میں کیسا کردار ہے؟ جنسی تعلق کے بابت کیا تصورات رکھتا ہے؟ ذمہ داریاں نبھانے اور معاملات سلجھانے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟

یہ اور ایسے کچھ اور سوالات، اگر ہم رشتہ طے کرتے وقت، تعلق کو ازدواجی بندھن میں باندھنے سے پہلے، ان سوالات کو ممکن حد تک سوچیں اور جوابات فراہم کرسکیں، اپنے حاصل کردہ جوابات کو شائستگی سے عملی طور برتنے کی ہمت پیدا کرسکیں اور ان کا مہذب اظہار کرسکیں تو شاید ہمارا شادی شدہ زندگی کے متعلق تصور اور رویہ، ہمارے تعلقات اور جنسی رویے کچھ بہتر ہو سکیں گے۔

آپ ان سوالات کے بابت کیا رائے رکھتے ہیں؟ رشتہ طے کرتے اور جیون ساتھی چنتے وقت کن چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ اپنی رائے سے ضرور آگاہ فرمائیے۔ شکریہ

Facebook Comments HS