سندھ میں ہندو لڑکی کا اغوا اور احتجاج: ’ملزم کئی دن سے ہراساں کر رہا تھا‘


’تیسرا مہینہ ہونے کو ہے میری بیٹی کا کچھ اتا پتا نہیں۔ کس حال میں ہو گی کچھ پتا نہیں۔ اس کی یاد مجھے رات کو سونے دیتی ہے نہ دن کو سکون آتا ہے۔ ہر وقت اپنی غربت کو کوستی ہوں کہ نہ غریب ہوتی اور نہ میری بیٹی کام کرنے جاتی اور نہ ہی اغوا ہوتی۔‘

یہ کہنا ہے صوبہ سندھ کے ایک بڑے شہر کی رہائشی خاتون کا، جن کی کم عمر بیٹی کو کئی ہفتے پہلے ایک صنعتی علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس اغوا کے خلاف اس وقت سندھ کے کئی شہروں میں احتجاج ہو رہے ہیں۔

اغوا کا مقدمہ 17 ستمبر کو درج ہوا۔ درج مقدمے کے مطابق اغوا کی یہ واردات 12 ستمبر کو ہوئی تاہم مغویہ کی والدہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مقدمہ تاخیر سے درج کیا۔

درج مقدمے کے مطابق بھی اغوا کا یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج کے حکم پر درج کیا گیا ہے۔

ایس ایچ او غلام حیدر کا کہنا تھا کہ پولیس کو جب واقعے کی اطلاع ملی تو اسی وقت تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔

’ہمیں مقدمہ درج کرنے کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت تھی۔ ابھی ہم لوگ تفتیش ہی کر رہے تھے کہ عدالت کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کا حکم آ گیا، جس پر ہم نے فی الفور مقدمہ درج کیا۔‘

غلام حیدر کہتے ہیں پولیس اس کیس کی تفتیش سائنسی بنیادوں پر کر رہی ہے اور جیو فینسگ سمیت دیگر تمام طریقے استعمال کیے جارہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مغویہ کی بازیابی میں وقت لگ گیا ہے مگر پولیس ملزماں کے پیچھے ہے۔‘

’ہم نے اب تک کیا تفتییش کی ہے، ابھی اس موقع پر نہیں بتایا جا سکتا۔ ویسے بھی ملزمان انتہائی شاطر اور چالاک ہیں لیکن ہمیں پوری امید ہے کہ آنے والے چند دنوں میں ہم مغویہ کو بازیاب کروا کر ملزماں کو گرفتار کر لیں گے۔‘

’میں چیختی رہی اور وہ بہن کو اٹھا کر لے گئے‘

لڑکی کے اغوا کا مقدمہ ان کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ میری بیٹی جس کی عمر پندرہ سال ہے اور میری بڑی بیٹی، جس کی عمر 20 برس ہے، دونوں ایک مل میں کام کرتی ہیں اور 12 ستمبر کو دونوں کام کے بعد واپس گھر آرہی تھیں کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی آئی، جس میں ایک شخص جو بلوچستان کا رہائشی ہے، نے میری چھوٹی بیٹی کو زبردستی گاڑی میں بیٹھا کر اغوا کر لیا۔

درج مقدمے میں کہا گیا کہ میری بڑی بیٹی نے اس موقع پر شور شرابہ کیا مگر وہ سنسان علاقہ تھا۔

’وہاں پر کوئی مدد دستیاب نہیں تھی، جس کے بعد میری بڑی بیٹی اکیلی گھر واپس آئی اور مجھے سارا واقعہ سنایا جس کے بعد میں پولیس سٹیشن گئی۔‘

مغویہ کی بڑی بہن کے مطابق واقعہ اتنا اچانک تھا کہ انھیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔

’سفید رنگ کی کار میں وہ چار لوگ تھے۔ پہلے ایک اترا، اس نے میری بہن کو دبوچا اور پھر دوسرا اس کی مدد کو آیا اور ان دونوں نے میری بہن کو اٹھا کر کار میں پھینکا اور تیزی سے نکل گئے۔‘

مغویہ کی بڑی بہن کہتی ہیں کہ اس دوران ان کی چھوٹی بہن بہت چیخ رہی تھیں اور ہاتھ پاؤں مار رہی تھیں مگر دو طاقتور مردوں کے سامنے اس کی بس نہیں چلا۔

’مجھے ان لوگوں نے کہا کہ کسی کو بتایا، شور شرابہ کیا تو گولی مار دیں گے۔میں چیخی جتنا چیخ سکتی تھی مگر وہاں پر سننے والا کوئی نہیں تھا۔ جب میں گھر پہنچی تو میری حالت غیر تھی۔ اپنی ماں کو واقعہ سنایا اور پھر پولیس کے پاس گئے۔‘

شیوا کچھی جو پاکستان دراوڑ اتحاد کے چیئرمین اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں، بتاتے ہیں کہ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو لڑکی کو فی الفور بر آمد کیا جا سکتا تھا مگر پولیس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جس وجہ سے ملزماں کو لڑکی کو کسی نامعلوم مقام پر پہنچانے کا موقع مل گیا۔

ایس ایچ او غلام حسین شیوا کچھی کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پولیس نے وہ سب کچھ کیا، جو وہ کر سکتے تھے۔

یہ پہلا واقعہ نہیں

شیوا کچھی کہتے ہیں کہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کے اغوا کے واقعات ہو رہے ہیں اور ان میں کچھ واقعات تو ایسے ہیں، جن میں مذہب تبدیل کر کے نکاح کیا جاتا ہے۔

’اب اس واقعے کے بارے میں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا ہوا ہو گا۔ اغوا ہونے والی لڑکی کم عمر ہے۔ اس کی عمر صرف پندرہ سال ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بہت وقت گزر چکا ہے۔ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں، جن میں لڑکیوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’لڑکی خوبصورت تھی، معلوم نہیں کہ وہ کب سے آنکھ لگا کر بیٹھا تھا‘

’مذہب کے نام پر ہماری بیٹیوں کا ریپ نہ کریں‘

’اگر انصاف نہیں ملا تو خود کو گولی مار لوں گا‘

شیوا کچھی کہتے ہیں کہ اس پر سندھ کے کئی شہروں میں احتجاج بھی ہوا ہے لیکن جب دیکھا کہ اس سے کام نہیں چل رہا تھا تو پھر ہم لوگوں نے ایک بڑے احتجاج کی کال دے دی، جس کے بعد ہمیں کہا گیا کہ پولیس مدد کرے گی۔ دیکھتے ہیں کہ پولیس کیا مدد کرتی ہے۔ ‘

مغویہ کی بڑی بہن کے مطابق اغوا کار کئی دن سے انھیں ہراساں کر رہا تھا۔

’وہ راستے میں کھڑا ہو جاتا اور ہمیں تنگ کرتا تھا۔ ہم پر فقرے کستا تھا۔ ہم لوگوں کے ساتھ یہ معمول تھا۔ راہ سے گزرتے لوگ اکثر ہمیں غریب سمجھ کر تنگ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، جس وجہ سے زیادہ توجہ نہیں دی تھی۔‘

بچی لا دیں یا مجھے بھی اس کے پاس لے جائیں

مغویہ کی والدہ کہتی ہیں کہ ان کی بیٹیوں کے کام سے ہی گھر کا خرچہ چلتا تھا لیکن اس واقعہ کے بعد وہ اتنی خوفزدہ ہو گئی تھیں کہ اپنی دوسری دو بیٹیوں کو بھی کام پر نہیں بھیجا۔

’گھر میں فاقے کرنے کی نوبت آ گئی تھی، جس کے بعد بیٹیوں کو کام پر بھیجا تو کسی نے انھیں رکھا ہی نہیں کہ اب ان کے ساتھ مقدمے کا مسئلہ ہے۔‘

مغویہ کی والدہ کہتی ہیں کہ کھانے پینے کو تو کسی نہ کسی طرح کچھ مل ہی جاتا ہے اور نہ ملے تو بھوکا رہ لیتے ہیں مگر اپنی بیٹی کے بغیر کیسے رہوں۔

’وہ عمر جو اس کے کھیلنے کودنے کی تھی اس عمر میں اس کو کام پر لگا دیا تھا۔ تھوڑی سی بڑی ہوئی تو یہ آفت سر پر پڑ گئی۔ اس کی تصویر دیکھ کر ہی کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ کتنی چھوٹی اور معصوم ہے۔‘

’میں بھی سندھ دھرتی کی بیٹی ہوں۔ میری بیٹی بھی سندھ دھرتی کی بیٹی ہے۔ سندھ کے لوگ بڑے غیرت مند ہیں۔ سب بڑوں سے کہتی ہوں کہ میری بیٹی نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اس کو مجھے لا کر دے دو اگر اس کو نہیں لا سکتے تو مجھے بھی اس کے پاس لے جاؤ۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp