آفتاب اقبال بمقابلہ بابر اعظم

پاکستان کی تاریخ میں آفتاب اقبال وہ واحد شخص ہیں جو دوسروں کی غلطیوں کو سدھارنے کا مشکل ترین ٹاسک اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ آج تک کسی ماں نے وہ لال نہیں جنا جو ان کا بوجھ کم کرنے یا شیئرنگ کرنے کا کسی حد تک فریضہ سرانجام دے پاتا۔ ویسے دیانت داری کی بات یہی ہے کہ وہ جو فریضہ سرانجام دے رہے ہیں وہ انہی کو جچتا ہے کسی اور کو نہیں۔ حالات کی ستم ظریفیاں مشاہدہ کیجئے کہ وہ بندہ دوسروں میں ”ایگو سنڈروم“ کی نشاندہی کر رہا ہے جو خود سراپا ”ایگو سینٹرک یا سیلف سینٹرڈ“ ہے یا یوں کہہ لیں کہ اپنی ذات کے متعلق بہت زیادہ غلط فہمیوں کا شکار ہے۔
نفسیات کے گیانی تو یہی بتاتے ہیں کہ جو جتنا ”میں میں“ کرتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ فرسٹریشن میں ایسے بندے کا خود کی زبان پر کنٹرول نہیں رہتا اور وہ ہر چیز کو خود شخصی کے عکس میں یا فریم آف مائنڈ کے حساب سے قبول یا مسترد کرنے کی عادت کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ موصوف کے سیاسی رہنما عمران خان بھی اسی قسم کے نفسیاتی بحران سے گزر رہے ہیں۔ نفسیاتی بحرانوں میں سب سے زیادہ خطرناک ترین بحران یا کیفیت وہ ہوتی ہے جس میں ایک شخص اپنے متعلق اس قسم کے زعم کا شکار ہو جاتا ہے کہ
”بس میں ہی میں ہوں میرے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے“
اس نہج تک پہنچ جانے والوں کو خود میں ایک ”مرد بحران“ نظر آنے لگتا ہے اور وہ اپنے متعلق اس قسم کی غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ
وہ بہت دیانت دار ہیں۔
انہیں دولت یا شہرت کا نشہ بالکل نہیں ہے۔
جو چاہیے تھا وہ سب تو انہیں حاصل ہو چکا ہے اب تو وہ رضاکارانہ طور پر اپنا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔
اس کی معلومات یا فہم سب سے زیادہ معتبر ہے۔
دوسرے بھی کام کرتے ہوں گے مگر وہ اکیلا بہت زیادہ کام کرتا ہے۔
تاریخ و تلفظ کا جو فہم یا ملکہ اسے حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں ہے۔
خود کے متعلق اس قسم کی غلط فہمیوں کا شکار لوگوں کو بعد میں بہت سے یوٹرن لینا پڑ جاتے ہیں جس طرح سے فرقہ عمرانیہ کے سربراہ کو لینے پڑ رہے ہیں، بالکل یہی کہانی آفتاب اقبال کی ہے جنہیں دوسروں کا ٹھٹھہ اڑانے یا مضحکہ خیزی کرنے میں بہت لطف آتا ہے اور ان کا ذہنی المیہ یہ ہے کہ انہیں خود پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس وقت سنجیدہ گوئی فرما رہے ہوتے ہیں اور کس وقت مضحکہ خیزی کا چیزا لے رہے ہوتے ہیں؟ ایک وقت میں وہ جو کہہ رہے ہوتے ہیں دوسرے لمحے ہی مسترد کر کے کچھ اور کہنے لگ پڑتے ہیں۔ مزاحیہ پروگرام کرتے کرتے وہ خود بھی مزاحیہ اداکار ہی بن چکے ہیں اسی لئے تو سنجیدہ بات کرتے کرتے پٹڑی سے اتر جاتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ سیانے بندے کہا کرتے تھے کہ ”جیسا دیس ویسا بھیس“۔
ایکٹنگ ایک الگ چیز ہے اور دانشوری کا جہاں الگ ہوتا ہے دونوں صلاحیتیں ایک جگہ اکٹھی ضرور ہو سکتی ہیں مگر انہیں بیلنس کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ملٹی ٹاسکنگ لوگوں کی شرح بہت کم ہوتی ہے اور زیادہ تر لوگ ایک یا دو فیلڈ تک خود کو محدود رکھتے ہیں۔ آفتاب اقبال کو ہم نے ہمیشہ مزاح کے روپ میں دیکھا ہے اور ہنسنے ہنسانے کا کام بہت اچھے سے کرتے ہیں مگر جیسے ہی وہ دانشور بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ناکام رہتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ دانشوری انہیں جچتی ہی نہیں ہے۔
انہیں بس ایک چسکا یا لت لگی ہوئی ہے کہ ہر فیلڈ کے متعلق ایکسپرٹ اوپینین ضرور دینی ہے انہی چکروں میں ان سے اکثر مضحکہ خیزیاں سرزد ہو جاتی ہیں۔ ثبوت کے طور پر زیادہ دور جانے کی ضرورت بالکل نہیں ہے آپ ان کے صرف دو پروگرام ملاحظہ فرما لیں جن میں انہوں نے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور حبیب جالب کے متعلق کس قدر رعونت کے ساتھ اپنی دانشوری بگھاری ہے، آپ کو پتہ چل جائے گا کہ وہ اپنے خیالات میں کس حد تک گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں۔
ارتقا ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں مگر ارتقاء اور شعبدہ بازی یا موقع پرستی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جنہیں خود کو دانشور منوانے کا چسکا پڑ جاتا ہے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ حال ہی میں موصوف نے بابر اعظم کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس کی شخصی خامیوں کو اس یقین کے ساتھ منظر عام پر لانا شروع کر دیا جیسے وہ ان کے لنگوٹیا رہے ہوں چونکہ ان کو عمران خان کی طرح دوسروں کو ڈگریاں بانٹنے کا شوق ہے تو بابر اعظم کا نام سنتے ہی فرمانے لگے کہ ”بابر اعظم از اسٹار نو مور“۔ اور ایک ناکام جوتشی کی طرح ان کے متعلق پیشگوئیاں شروع کر دیں۔ بابر اعظم کے متعلق مزید فرماتے ہیں کہ
”یہ بندہ انا پرست بنتا چلا جا رہا ہے اور اپنی ایگو کو بہت زیادہ مساج کرنے اور کروانے لگا ہے، کم از کم میرے لئے تو وہ سٹار نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ایگو کے مسائل ہیں، یہ اپنے آپ کو بھول چکا ہے کہ تم کہاں تھے اور کہاں پہنچ گئے ہو۔ تمہیں تو چاہیے تھا کہ عاجزی اختیار کر کے زمین میں دھنستے چلے جاتے“
اتنا لمبا چوڑا بھاشن دینے کے بعد موصوف کا فرمانا تھا کہ وہ خود بھی کرکٹنگ سینس رکھتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں کہیں تو انہوں نے سرزنش کرتے ہوئے بابر اعظم کو اس کی اوقات یاد دلائی ہے مطلب یہ کہ ”جہاں کے تھے، بس وہیں رہو۔ انا یا رعونت تو آفتاب اقبال کو جچتی ہے تم کو نہیں اور ہر وقت اپنی اوقات کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ اٹھنے یا ابھرنے کی کوشش مت کرو”۔ جیسے کسی سیانے بندے نے کچھ عرصہ پہلے ایک شاندار جملہ بولا تھا جو آفتاب جی پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے کہ
”پہلی مرتبہ ان کو ٹکر کے لوگ ملے ہیں“
بابر اعظم کو جب صحافیوں نے ان کے متعلق ”آفتاب زبانیاں“ بتانے کی کوشش کی تو انہوں نے انتہائی معصومیت سے کہا کہ ”آپ نے جس شخص کا نام لیا ہے میں تو ان کو جانتا بھی نہیں ہوں اور ہم اس قسم کی باتوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتے“
بابر اعظم نے اپنی معصومیت میں آفتاب اقبال کی "توہین“ کر ڈالی۔ شاید وہ اس حقیقت سے بھی بے خبر ہیں کہ اس فیلڈ کو بھی آفتاب اقبال سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔

