صدر کلنٹن کی رپورٹ اور آفات کے بعد کی تعمیرات


ہر گزرتا ہوا دن موسمیاتی بدلاؤ کے شدید اثرات پوری دنیا میں ظاہر کرتا نظر آ رہا ہے۔ اک بات جو محققین کی نظر میں اہم بن گئی وہ یہ کسی بھی آفت کے بعد میں جو تعمیر اور بحالی کے کام تھے۔ وہ اتنے بہتر نہ تھے ؛ اس لیے ہر آنے والی نئی آفت سخت و تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ اس لیے Building Back Better (BBB) کی حکمت عملی پر کافی کام ہوا ہے۔ جب میں یہ مضمون لکھنے بیٹھا تو کافی پریشان رہا کہ BBB کا ترجمہ کیا کروں۔ ”پھر سے بہترین تعمیر!

“ اس میں ’پھر سے‘ مجھے اضافی لگا۔ اس کی لغوی معنی کچھ بھی ہو لیکن اک بات تو طے شدہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی پہلے سے اچھا تعمیر نہیں کیا تو اس کا ترجمہ ’پھر سے، دوبارہ، نئے سرے سے‘ جیسے الفاظ سے نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کا لٹریچر کہتا ہے کہ آفات قوموں اور ملکوں کو لیے مواقع کے دریچے کھولتے ہیں! میں نے 1956 والے سیلاب، 1970 مشرقی پاکستان والے طوفان اور پھر 2010، 2005، 1973 اور اب 2022 کو تاریخ کے دریچوں سے دیکھا۔

1973 کے سیلاب کے دوران شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران سیلاب کو نمٹنے کے لیے کچھ بنیادی قانونی اور اداراتی کام کیے گئے اور پھر 2005 کے زلزلے کے ملبے سے کچھ ادارے اور قانون بنائے گئے جس کے نتیجے میں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے جیسے ادارے بنے۔ باقی وہ پنجابی میں کیا عمدہ مثال ہے ”کل پیراں دی خیر!“ ۔

2004 میں بحر الہند والی سونامی کے نتیجے میں اس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سابق امریکی صدر کلنٹن کو اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا۔ صدر کلنٹن نے سونامی سے متاثرہ لوگوں کی بحالی کے لیے قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ ان کی Building Back Better والی رپورٹ بہت اہم ہے جس میں 10 اہم تجاویز دیں گئیں۔ اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ تعمیر اور بحالی اس طرح کی جائے جس کے نتیجے میں لوگ پہلے سے زیادہ محفوظ ہوجائیں اور خدا نخواستہ اگر کوئی آفت آ جائے تو ان کو کم سے کم نقصان ہو۔

حالیہ سیلاب میں شکر ہے کہ جانی نقصان سونامی کی طرح لاکھوں میں نہیں ہے پر ہزاروں میں ضرور ہے! اور اگر سندھ کا حال دیکھیں تو آنے والی تباہی کسی سونامی سے کم نہیں۔ سوچیں کی جس خطے میں صرف خریف کی فصل کا نقصان تقریباً 400 پاکستانی ارب کے لگ بھگ ہے، تو اس صوبے کے غریب کی حالت زار کیا ہوگی۔

سندھ میں تعمیراتی ترقی کا کام کئی دہائیوں سے زوال پذیر ہے۔ سندھ کے شہر و گاؤں، تعلیم و تربیت اور سماجی بہتری کی سہولت 70 کی دہائی تک باقی پاکستان سے یا تو بہتر تھی یا کسی سے کم نہیں تھی۔ 80 کی دہائی سے شروع ہونے والی زوال پذیری ڈکٹیٹرشپ اور جمہوریت میں کم و بیش ایک جیسی رہی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سندھ کی انسانی ترقی کے اشارے indicator باقی صوبوں سے پیچھے رہتے گئے۔ ماہر کہتے ہیں کہ آفات کسی بھی معاشرے اور ملک کی صلاحیت اور ہونے والی ترقی کے چہرے کا پردہ چاک کر کے رکھ دیتی ہیں۔

جب کسی بھی ملک، صوبے یا علاقہ میں تعمیراتی کام، ترقی کے منصوبہ جات، شارع، انہار، سکول، ہسپتال، ہنگامی حالات میں کام کرنے والے اور باقی ادارہ جات ور مکانی حکومتیں بہتر ہوتی ہیں تو لوگوں کی آفات کو برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ جب یہ سارے کام اچھی منصوبہ سازی کے ساتھ ہوتے ہیں تو بڑی آفت بھی چھوٹے نقصان کرتی ہے۔ اور گر ادارے، کام اور منصوبہ بندی اس کے برعکس ہوتے ہیں تو چھوٹی ہنگامی حالت بھی آفت بن جاتی ہے! کمزور طرز حکمرانی اور اوپر سے نیچے پھینکی گئی منصوبہ سازی سارے نظام کا وہ بگاڑ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں نقصانات بڑھتے چلے جاتے ہیں!

حکومت سندھ لوگوں کے بگڑے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے بہت سی کوششیں کر رہی ہے۔ صرف عالمی بینک کے ساتھ 1.3 بلین (ارب) ڈالر کے قرضے کی بات بہت آگے جا چکی ہے۔ بہت سے عالمی ادارے اور ممالک نے امداد دینے کا وعدہ بھی کیا ہے اور امدادی کاموں میں شامل بھی ہو گئے ہیں۔ اب جب کے دوبارہ تعمیر اور بحالی کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں تو اس وقت میں یہ بات بہت اہم ہے کہ ہونے والے کاموں کو بہتر انداز سے کیا جائے اور سندھ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بن کر ابھرے۔ ڈوبے ہوئے سندھ کو نئے سرے سے بہتر تعمیر کرنے کے لیے کا نعرہ، پروگرام اور اصول بالکل کھلے ہوئے طریقے سے BBBکی دس عالمی تجاویز کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ آئیے ان دس تجاویز کا مختصر ذکر کرتے ہیں۔

1:۔ آفت زدہ لوگ اور خادان عام زندگی کی طرف لوٹنے کی پہلی کوشش خود کرتے ہیں۔ اور وہ اکثر کہیں بہتر جانتے ہیں کہ ان کو کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ یہ بات حکومت اور عالمی اداروں کو منصوبہ بندی میں رکھنی چاہیے۔ متاثرین کے ساتھ باہم مشورہ اور ان کی تجاویز کو اہمیت دینا لازمی ہونا چاہیے۔ جس طرح حکومت سب سے پہلے لوگوں کو پانی میں سے نکالنے کا کام کیا اور اب ان کی مربوط بحالی کے لیے قدم اٹھا رہی ہے تو یہ سارے ہونے والے عمل لوگوں کی ضروریات اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہونے چاہئیں۔

ہم نے دیکھا ہے کہ ہماری افسر شاہی، (مجھ جیسے ) انجنیئر اور کئی حالات میں منسلک سیاستدان اپنی باتوں اور اپنے دیے ہوئے حل کو ہی بہتر سمجھتے ہیں اور مقامی لوگوں کو ”جاہل اور گنوار“ سمجھتے ہیں۔ اس عقل کل والی روش میں کئی بڑے ادارے بھی شامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پہ جب ایل بی او ڈی بن رہا تھا تو مقامی لوگوں نے ہاتھ باندھ کر عرض کی تھی ”اس راستے میں نہ بنائے، یہاں سے تو باد مخالف پانی کو جانے نہیں دے گی اور سمندر کو لے آئے گی“ لیکن پھر بھی ایل بی او ڈی بن گیا، اچھا یا برا اب جو وہ قطرہ قطرہ پانی سمندر میں نکال رہا ہے۔ یہ نہ ہوتا تو پتہ نہیں کیا ہوتا!

ایل بی او ڈی بنانے سے لے کر اب 2022 کی بارش کے سیلابی پانی کی انتظام کاری تک، مقامی لوگوں کی دانش اور صدیوں کے تجربہ کو ”گنوار“ کہہ کر دھتکار دیا گیا۔ امریکی صدر کلنٹن کی نظر میں یہ ادارے اور لوگ خود ”مغرور اور جاہل“ ہوتے ہیں، جبکہ وہ دوسروں کو گنوار اور اپنے آپ کو افلاطون سمجھتے ہیں۔ اس تجویز کے مطابق عام لوگوں کو منصوبہ بندی اور کام میں شامل کرنا پڑے گا۔ سندھ کو پھر سے کھڑا کرنے کے لیے ؛ لوگوں کو اچھی طرح سننا پڑے گا!

2:۔ دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ اس نئی تعمیری کام کے لیے برابری اور انصاف کے مکمل تقاضے ذہن میں رکھے جائیں۔ یہ بات تو بالکل ثابت شدہ ہے کہ ہنگامی حالات کی صورت میں، کسی بھی آفت کے آنے کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر عورتیں، بچے اور بوڑھے ہوتے ہیں۔ سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر جو لوگ کمزور ہوتے ہیں، وہ سب سے زیادہ جھیلتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نئے تعمیری اور بحالی کے کام برابری اور انصاف کے مطابق ہوں۔ اور سب سے اہم بات کام کے معیار کو اس ڈگر پر نہ چلایا جائے جیسے عام حالات میں سرکاری کام ہوتے ہیں۔ جس میں سارے عمل ہوتے ہیں لیکن بس معیار کہیں پر رہ جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ سب متاثرین کے لئے بغیر کسی سیاسی اور سماجی پریشر کے اچھے کام ہوں جو ان کے لئے زندگیاں آسان کرنے میں مدد دیں۔

3:۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ آفات اور موسمی تبدیلی کے اثرات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیاری ”Preparation“ پر مکمل دھیان دیا جائے۔ پاکستان میں ڈزاسٹر رسک رڈکشن (آفات کے خطرے کو کم کرنے ) اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے بارے میں پالیسی اور پلان مرتب ہوئے ہیں۔ سندھ میں بھی کچھ ایسی صوبائی پالیسیاں ہیں۔ اس لئے عام حالات میں جو بھی ترقی کے پراجیکٹ وہ مرکزی، صوبائی، ضلعی ہوں، ان سب کی منصوبہ بندی میں ’آفات‘ کے حوالے سے تیاری کو نظر میں رکھا جائے۔ بہتر تیاری ہی بہتر بچاؤ ہوتا ہے۔ اس عنصر کو سندھ کے فیصلہ ساز اور منصوبہ ساز افراد اور اداروں کو سوچنا چاہیے۔

4:۔ چوتھی تجویز یہ ہے کہ مکانی اداروں کی صلاحیت اور کردار کو بڑھانا چاہیے۔ نچلی سطح تک لوگوں کو اقتدار سونپنا کافی مسائل کا حل مہیا کرتا ہے۔ لیکن ہائے ہمارے مکانی اداروں کی قسمت! وہ آمروں کو عزیز رہتے ہیں (بغض معاویہ میں ) اور سیاسی جماعت بشمول پی ٹی آئی، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی، ان سے بھاگتی ریتی ہیں! گراس روٹ grassroot تک اقتدار کی منتقلی کا ترجمہ محترم امر جلیل نے کیا خوب کیا تھا: ’گھاس کے جڑ تک اقتدار‘ کو پہنچانا۔

بس وہ اقتدار گھاس کی جڑ میں کہیں گم ہوکے رہ جاتا ہے اور نچلی سطح کے سیاسی/سماجی کارکن کو نصیب نہیں ہوتا۔ اس وقت اگر مکانی اداروں کی اداراتی صلاحیت دیکھی جائے تو وہ تو شاید اس گھاس کی جڑ سے بھی نیچے گئی ہوئی ہے۔ سیاسی مصلحتوں کے شکار یہ مکانی ادارے تنخواہوں اور بھتہ خوری میں ’اس کا اتنا اور اس کا اتنا‘ میں ہی پورے ہو گئے ہیں۔ اس کھلی ہوئی بندر بانٹ کو کھلے قلم اور دماغ سے چیلنج کرنا چاہیے اور پاکستان اور صوبائی اقتدار کے دھنی اداروں کو بھلے وہ سیاسی، بیوروکریٹ یا غیر سیاسی ہوں، اس پر دھیان دے کے ان بنیادی مکانی اداروں کو چھوٹے قصبے سے لے کرے بڑے شہر تک مضبوط کرنا چاہیے۔ دنیا کی تحقیق اور تجربات بتاتے ہیں کہ مضبوط مکانی ادارے اور نظام اپنے لوگوں کی مصیبت اور آفات کے دنوں میں بہت اہم مدد کرتے ہیں۔

5:۔ پانچویں تجویز یہ تھی کہ اک مربوط معلوماتی نظام ملک میں برپا ہو جس میں بہتر اور صحیح معلومات جلد مل سکتی ہوں۔ اس کے نتیجے میں تھوڑے وقت میں بہت سے لوگوں کی جان بچائی جا سکتی ہے اور نقصانات کا تخمینہ اور زندگی کی طرف لوٹنے کے لئے فیصلہ سازی اچھی طرح کی جا سکتی ہے۔ پھر دہراتا ہوں کہ بہتر معلومات کے نتیجے میں ہی بہتر منصوبہ بندی ہوتی/ہو سکتی ہے، اس سے شفافیت بڑھتی ہے اور سیاسی حکومت پر تمام لوگوں کا اعتماد بھی بڑھتا ہے۔

6:۔ چھٹی تجویز ہے کہ اقوام متحدہ، عالمی بینک اور دوسرے عالمی کثیر الجہتی ادارے اور حکومت بہتر رابطہ کاری کریں اور اپنے اپنے کام، ذمے داریوں اور آفات کے لحاظ سے فرائض کو نہ صرف واضح کریں بلکہ اک دوسرے کو جانکاری (معلومات) بھی دیں۔ یہ عمل اس لئے بھی ضروری ہے کہ اندازہ لگایا جا سکے کون کیا، کتنا اور کہاں کر رہا ہے۔ اگر کوئی اہم متاثر علاقہ اور لوگ رہ گئے ہیں تو وہاں پر جلد ہی کام کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح تھوڑے وقت میں زیادہ لوگوں تک پہنچا جاسکتا ہے۔

7:۔ عالمی فلاحی، غیر حکومتی ادارے ( این جی او ) ریڈ کراس اور ہلال احمر جیسے اداروں کا کام اہم ہوتا ہے ذمے داریاں بھی۔ ہم نے دیکھا تھا کہ کس طرح اس شعبے نے 2005 اور 2010 کے آفات میں کام کیا تھا۔ بس چودھری نثار علی خان کی نظر بد کی نظر ہو گئے اور بڑے بڑے ادارے اب تو پاکستان سے یہ جا اور وہ جا! بھائی جو ہوا سو ہوا؛ اب ان کو واپس بلانا چاہیے اور عالمی ڈگر کے راستے اپنانے ہیں۔ اس شعبے میں حکومت پاکستان نے کچھ آسانیاں پیدا کیں ہیں جو حوصلہ افزا ہیں ؛ اب بھی بہت سا کام بہت جلد کرنے کی ضرورت ہے۔

8؛۔ نئی تعمیرات اور بحالی کی منصوبہ بندی کے لیے آٹھویں تجویز یہ ہے کہ حکومت اور کام کرنے والے عالمی/لوکل فلاحی ادارے کچھ ایسے کام شروع کریں جس کے نتیجے میں چھوٹے چھوٹے کاروباری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوجائیں۔ یہ تجویز بہت ہی وزندار ہے۔ شروعاتی دنوں میں رقم، بیچ، کھاد، بنا سود کے قرضہ، کام کے عیوض رقم اور گھر اور کاروبار کی بحالی کے لئے مدد جیسے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان مشکل راستوں پر چل کر لوگ زندگی کی طرف لوٹیں گے اور پھر سے معاشرہ فعال اور مارکیٹ کا کام کرنے لگیں گے۔ آہستہ آہستہ لوگ محتاجی سے نکل آئیں گے۔

9:۔ نویں تجویز یہ ہے کہ حکومت (صوبائی یا مرکزی) اور عالمی اداروں کو اک ساتھ کام کرنا چاہیے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح کووڈ میں صوبے اک ڈگر میں چل رہے تھے اور مرکز دوسری ڈگر میں۔ اب اس وقت نہ صرف ساتھ مل کر کام کرنا ہے بلکہ عالمی اداروں کو بھی اس طرح ترجیحی طور پر مل کر کے تعمیر نو کے کام کو مضبوط کرنا ہے۔

10 :۔ صدر کلنٹن کی دسویں تجویز میں یہ کہا گیا تھا کہ ”تعمیر نو“ کے نتیجے میں لوگوں لیے آفات کے خطرات کم ہونے چاہئیں ؛ اور جان و مال پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہوجائیں۔ اس زیادہ محفوظ اور کم خطرے کے مقصد کو بحالی اور تعمیری کام کے لیے مرکزی نقطہ بنا کے رکھا جائے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ خصوصاً سندھ کے لوگوں کی 2010، 2011، 2012، 2020 اور 2022 والے سیلاب کی وجہ سے متواتر آفات کو برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی رہی ہے۔

اس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کی ان سیلاب کے بعد جو بھی پراجیکٹ اور منصوبہ بندی کے لیے کام کیے گئے وہ نہ خطرات کم کر سکے نہ ہی لوگوں کو زیادہ محفوظ بنا سکے۔ اگر اس کے جواب میں کوئی یہ کہے کہ ”دیکھیں دریائے سندھ کا (بند) پشتہ کہیں سے نہیں ٹوٹا اور ایل بی او ڈی اسپائنل کے پشتے اب تک مضبوط ہیں اور پانی باہر نہیں نکل رہا“ تو اس کا مقصد مرحوم عمر شریف کی زبانی یہ ہے کہ ”یار بندے کو آنکھ کے اوپر گولی لگی؛ بندہ تو مر گیا لیکن آنکھ بچ گئی!“

· اس مضمون کی تیاری میں اقوام متحدہ کی رپورٹ (Key Propositions for Building Back Better)
· سنٹیکا ماناکارا اوسوزین ولکسن کی تحقیقی Build Back Better Principles for Post Disaster Impact
· اور کچھ مضامین سے استفادہ کیا گیا۔ )

Facebook Comments HS