سننے والو ختم اب میری کہانی ہو چکی


لب پہ ہے فریاد اشکوں کی روانی ہو چکی
اک کہانی چھڑ رہی ہے اک کہانی ہو چکی
آخری آنسو مری چشم الم سے گر چکا
سننے والو ختم اب میری کہانی ہو چکی

بہزاد لکھنوی کے یہ اشعار سارہ انعام کی اسلام آباد میں شاہنواز کے ہاتھوں اندوہناک موت پر یاد آئے۔ ان کے قتل کو کافی دن گزر گئے دو چار دن کی میڈیا ہائپ کے بعد اب خاموشی نظر آ رہی ہے۔ سارہ زبان حال سے یہ کہہ کر سننے والو اب میری کہانی ختم ہو چکی دنیا کو داغ مفارقت دے گئیں لیکن اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گئیں۔

نور مقدم کا ابھی لہو خشک نہیں ہوا ہو گا کہ ایک اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہر معاشیات سارہ انعام خون میں نہلا دی گئیں۔

پاکستانی نژاد کینیڈین سارہ انعام کا نوحہ کتنی ہی بد نصیب لڑکیوں کا نوحہ ہے۔ سارہ کے والد نے کہا کہ بچیاں چکنی چپڑی باتوں میں آ کر بہک جاتی ہیں۔

نور ظاہر سے سارہ شاہنواز تک دولتمند باپوں، امیر سماجی کارکن ماؤں کے وحشی بیٹوں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کی گئی عورتوں کی ان گنت کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ وہ عورتیں جنہوں نے اپنے منتخب پیاروں کے تمام جرائم کو شاید صرف اس لیے نظرانداز کیا کہ وہ امراؤ الدین کے وارث تھے۔ یہ کہانیاں ہمیں سبق سکھاتی ہیں کہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے ساتھ انہیں اچھی تربیت بھی دی جائے اور اچھے برے کا فرق بھی سمجھایا جائے۔ بروقت ان کے ہاتھ پیلے کیے جائیں۔ انہیں آزادی دے رہے ہیں توان پر نظر بھی رکھیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

آج کل پیسے کی دوڑ ہے ہماری زندگی کا بنیادی مقصد صرف پیسہ بن چکا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ کہاں سے اور کیسے آتا ہے؟ عورتیں اور مرد دولت کی بنیاد پر رشتوں کے بندھن باندھتے ہیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھے بغیر کہ کیا وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے۔ دونوں کے مزاج میں ہم آہنگی بھی ہے یا نہیں۔ روشن خیالی کے باعث ماں باپ نے بچوں کو جو بے لگام آزادی دی ہے اس کا شاخسانہ ہے کہ بچے اور بچیاں انتخاب میں آزاد روی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں دونوں اپنی اپنی حیثیت کو سب کچھ سمجھتے ہیں اختلاف کی صورت میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور معاملات بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انتخاب کے وقت ایلیٹ کلاس سے تعلق ہی قابل ترجیح ٹھہرتا ہے یہ جانے بغیر کہ وہ شخص ماضی میں دوسری عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا رہا ہے اور اس شخص کی ذہنی حالت کیا ہے؟ کیا وہ مجرمانہ ریکارڈ تو نہیں رکھتا جس سے ان کی بیٹی شادی کرنے جا رہی ہے۔ نتیجتاً نور مقدم اور سارہ شاہنواز جیسے المیے جنم لیتے ہیں جو واضح کر رہے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بالخصوص پاکستانی ایلیٹ کلاس کس قدر بوسیدہ ہو چکی ہے۔ ایسی شادیوں اور تعلقات کا وہی انجام ہو تا ہے جو نور ظاہر اور سارہ شاہنواز کا ہوا۔ جب دونوں فریق دولت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے رشتہ جوڑ رہے ہوں تو خلوص کہاں ہو گا؟

نور مقدم کو بھی اپنے انتخاب نے قتل کیا۔ ظاہر جعفر ارب پتی باپ کا بیٹا تھا اور اس کی والدہ عصمت جعفر اسلام آباد کے سماجی اور سفارتی حلقوں میں سرگرم تھیں۔ پہلے نور مقدم نے ظاہر سے دوستی کی جس سے نور کے والدین بخوبی واقف تھے مگر وہ اسے روک نہ سکے۔ شاید ان کا بس نہیں چلتا تھا اتنی خود سری کیوں تھی؟ اس کا جواب کون دے گا؟ ظاہر ہے ہوس کی آگ بھی بجھائی اور گلا کاٹ کر کام تمام کر دیا۔

سارہ، کینیڈین شہری اور والدین امریکہ میں تھے۔ سوشل میڈیا پر شاہنواز سے دوستی ہوئی یہ جاننے کے باوجود کہ اس نے مختصر عرصے میں دو بیویاں چھوڑی ہیں، اس سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ شادی سے والدین کو بھی لا علم رکھا۔ سارہ کی عمر 37 سال تھی اور وہ سمجھتی تھیں کہ شاید وہ شاہنواز کو راہ راست پر لے آئے گی یہ خود اعتمادی اس ٹویٹ سے جھلک رہی ہے جو مہر بخاری نے شیئر کی ہے۔

سارہ نے لکھا کہ ’اس نے میری زندگی میں رنگ بھر دیے، لیکن میری زندگی کا ایجنڈا خود بہت بری طرح متاثر ہوا، شمس تبریز کہتے ہیں کہ، ‘ خزانے کھنڈرات میں چھپے ہوتے ہیں، اور ٹوٹے ہوئے دل میں خزانے جمع ہوتے ہیں ’۔

کھنڈرات اور ٹوٹے ہوئے دلوں میں چھپے خزانوں کو ڈھونڈنے کے لیے نکلنے والی سارہ پل بھر میں اپنی زندگی گنوا بیٹھی۔ شاہنواز کے متعلق جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق وہ کم عمری سے ہی مجرمانہ ذہنیت کا مالک تھا۔ ایک بار گاڑی چلاتے ہوئے ایک راہگیر کو مار ڈالا۔ 14 سالہ لڑکی کو اغوا کیا جس پر حفیظ پیرزادہ نے (جو اس کی والدہ ثمینہ پیرزادہ کے دوسرے شوہر تھے جب ثمینہ پیرزادہ نے ایاز امیر سے طلاق کے بعد حفیظ سے شادی کی۔) اسے گھر سے نکال دیا تھا۔ وہی شاہنواز پولیس کو بتا رہا ہے کہ سارہ مجھے مارنا چاہتی تھی اس نے مجھ پر حملہ کیا۔ شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ معاملہ چل رہا ہے لیکن بات کرنے پر اس نے مطمئن کر دیا۔ اس نے مجھے گلے سے پکڑا لیکن میں نے پیچھے دھکیل دیا۔ اگلے دن صبح بھی اس نے یہی کام کیا مجھے لگا میں دم گھٹنے سے مر جاؤں گا۔ میں نے سارہ کو دھکا دیا وہ گر گئی اس نے اٹھ کر دوبارہ مجھ پر حملہ کیا۔ میں نے ڈمبل اس کو مارا وہ زخمی ہو گئی۔ خون پھیلنے پر اس کو باتھ ٹب میں ڈال کر پانی کھول دیا۔ سخت گھبرا گیا، تصویر بنا کر والد ایاز امیر کو بھیجی۔ فون پر واقعہ بتایا، والد ایاز امیر نے پولیس کو اطلاع دی۔

یقیناً شاہنواز کی پہلی پہچان ایاز امیر ہیں لیکن یہاں ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ والدین کا طرز زندگی ان کے بچوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے واقعات اس وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک ہمارا مجموعی سماجی نظام اور کلچر ایسے رشتوں اور شادیوں کو فروغ دے گا۔ جس میں نئی نسل شادی اور وفاداری کی قدروں کو سمجھنے کی بجائے امراء کی اولاد سے شادی کر کے امیر بننے کا خواب دیکھنے میں مصروف رہے گی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ یہی دولت اس کیس کو بھی انجام تک نہیں پہنچنے دے گی۔ سارہ کے کیس میں دفاع میں ڈمبل مارنے سے اس کی بنیاد رکھ دی گئی ہے کہ شاہنواز کا ارادہ سارہ کو قتل کرنے کا نہیں تھا۔ سارہ کا مقدمہ کون لڑے گا؟ شنید یہ ہے کہ اس کے اپنے والدین اور بھائیوں نے اس سے لاتعلقی ظاہر کر دی ہے۔ ہماری ریاست سے یہ امید نہیں کہ وہ اس کیس کو انجام تک پہنچائے۔ ایسے میں ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم کسی اور خاتون کے ایسے ہی بہیمانہ قتل کا انتظار کریں۔

نکاح ایک مقدس بندھن ہے بد قسمتی سے اب یہ رشتہ بزنس بنا دیا گیا ہے کمرشل ازم کی دنیا نے اس رشتے کو ڈس لیا ہے اور آئے روز سہاگنیں اس کمرشل ازم کے ہاتھوں کفن پہن رہی ہیں۔ اس المیے کا ایک اور پہلو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے کہ ہمارے ہاں ایسا جرم کوئی قدامت پسند کرتا تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا۔ روشن خیال نے پاپ کمایا تو نہ اس کی تربیت پر بات کی جا رہی ہے اور نہ اس کی گھریلو پس منظر پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ سارہ کے قتل کا دلخراش سانحہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اسی سال جو اور واقعات ہوئے ہیں ان پر بھی نظر ڈال لیں۔

» اگست میں گوجرانوالہ کے ایک وکیل نے کینیڈا واپسی کی ضد پر اپنی بیوی ردا کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
»جون میں سرگودھا میں پاکستانی نژاد آسٹریلوی انجنئیر خاتون ساجدہ تسنیم کو سسر نے قتل کر دیا۔
»مئی میں گجرات میں سپین سے آئی 2 بہنوں انیسہ اور عروج کو رخصتی سے انکار پر چچا نے مار دیا۔

»جنوری 2020 میں گجرات میں ہی برطانیہ سے آئی 2 بہنوں نادیہ اور ماریہ بھی پر اسرار طور پر مردہ پائی گئیں۔

پاکستان میں ہر سال سینکڑوں خواتین کا قتل ہوتی ہیں احتجاج سوشل میڈیا پر ٹرینڈ ہونے کے بعد ختم ہوجاتا ہے ۔ یہ سب کمرشل سوچ کا شاخسانہ ہے۔

مقتولہ کے والد انعام رحیم تو بیٹی کا ذکر کرتے دھاڑیں مار مار کر رو دیے جواں سال اولاد کی جدائی پر بلا شبہ قیامت ٹوٹ جاتی ہے اور ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔ کاش اس واقعے سے دولت کو رشتوں میں اولیت دینے اور اولاد کو بے لگام آزادی دینے والے کچھ سبق حاصل کر لیں تاکہ آئندہ معصوم بیٹیاں کسی وحشی درندے کی ہوس ناکی کی بھینٹ نہ چڑھیں۔ یہ واقعہ ان والدین کو جھنجھوڑنے کے لیے بھی کافی ہونا چاہیے جو اپنی اولاد کی منہ زوری کے سامنے ہتھیار ڈال کر انہیں اپنی من مانی راہوں پر چلنے کی اجازت دیتے اور اپنی بے بسی کا رونا روتے ہیں۔

یہ سانحہ ان والدین کے لئے مقام عبرت ہے جو ان کے دوستوں اور سہیلیوں کے خاندانوں کے بارے میں جاننا ضروری نہیں سمجھتے۔ جو اپنی اولاد کی افتاد طبع کو جاننے اور پھر اس میں نامناسب کے سامنے بند باندھنے کی شعوری کوشش سے گریز کرتے ہیں جو کسی احساس کمتری کے تحت کسی کی دولت کسی کی شہرت یا کسی کے اثر و رسوخ سے متاثر ہو کر اپنی جوان لڑکیوں کو ایسے افراد سے راہ و رسم بڑھانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ جو اپنوں پر اعتماد کرنے کی بجائے غیروں پر اعتماد و اعتبار کرتی ہیں جو اپنی آزادی کی حدود کو کراس کرنے میں ہی آزادی سمجھتی ہیں۔ جو ماں باپ کے جائز کہے پر بغاوت کر کے گھر کی دہلیز چھوڑ دیتی ہیں تو پھر وہ اس کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں جس کی دہلیز پار کر کے وہ اپنی منہ زور آزادی کا مزا لینا چاہتی ہیں اور پھر ماں باپ کے سامنے خود سری کرنے والی ایک آوارہ منش کے سامنے سر جھکا دیتی ہے۔ اپنا سب کچھ لٹوا لیتی ہے اور بعض اوقات سر بھی کٹوا لیتی ہے۔

Facebook Comments HS