پٹاری، تلے دانی اور نوسٹیلجیا


ہماری زندگی میں جن اشیا کی بہت اہمیت ہے۔ ان میں سے ایک تو پٹاری ہے۔ اور دوسری؟ ارے صاحب ذرا چھری تلے دم تو لیجیے وہ بھی بتلا دیں گے۔ ابھی اتنا ہی لکھا تھا اور سوچ میں گم تھے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے کہ ایک لطیفہ ہو گیا۔ اپنے لکھے پہ نظر دوڑائی تو کمپیوٹر موصوف پٹاری کو پٹواری بنا چکے تھے۔ ان کا مزاج بھی مزاج یار کی مانند ہے وقت دیکھتا ہے نہ موقع ہر آن من مانی پہ تلا رہتا ہے۔ ایسی اصطلاحوں سے اپنا تو سخت پرہیز ہے کہ ہم ٹھہرے نازک طبع ایسی بد زبانیوں سے فشار خون میں اضافے کے ساتھ ساتھ اختلاج قلب ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بد کلامی اب قومی زبان کا خاصہ بن چکی ہے۔ اس میدان کے کھلاڑی اس میں وہ ید طولٰی رکھتے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ ڈھٹائی کا یہ عالم کہ بقول امیر مینائی

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں، دیکھتے تو ہیں
میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

یہ کمپیوٹر موصوف بھی کچھ کم نہیں ہیں ان کی چیرہ دستی کا یہ حال ہے کہ ذرا سی بھی نظر چوک جائے تو محرم کو مجرم بنا ڈالنے سے بھی نہیں چوکتے۔ زبانوں کا امتزاج بھی نت نئے لطیفوں کو جنم دیتا ہے۔ ایک زمانے میں گشتی لائبریریاں ہوا کرتی تھیں۔ جن سے علمی و ادبی پیاس بجھے یا نہ بجھے پڑھنے کی عادت برقرار رہتی تھی۔ جب سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ بھی ایک نازیبا لفظ ہے، گشتی لائبریری تو کجا ہم تو لفظ مٹر گشتی سے بھی اجتناب کرتے ہیں کہ خدا جانے اس کا کیا مطلب سمجھ لیا جائے۔

اس سے ہمیں وہ واقعہ یاد آ گیا جو والدہ محترمہ لوٹ پوٹ ہو کر سنایا کرتی تھیں۔ یہ تقسیم ہند کے ابتدائی برسوں میں ہماری نانی کو راولپنڈی میں درپیش آیا۔ غالباً کسی عارضے کی بنا پر سرکاری اسپتال تشریف لے گئیں۔ اس زمانے میں ہر کس و ناکس سرکاری اسپتالوں سے ہی استفادہ کرتا تھا۔ جب تک نہ تو کھال اتارنے والے ڈاکٹر اور پرائیویٹ اسپتال ہوتے تھے نہ کسی کی جیب اتنی بھاری فیسوں کی متحمل ہو سکتی تھی۔

سرکاری اسپتال ہو اور انتظار نہ کرنا پڑے ایسا سوچنا بھی خام خیالی ہے۔ اسی کرب سے بچنے کے لیے نانی صاحبہ نے ساتھ بیٹھی خاتون سے گپ شپ شروع کر دی۔ ان کے ساتھ ایک جواں سال لڑکی بھی تھی جو شکلاً بیمار دکھتی تھی۔ از راہ ہمدردی اس سے پوچھا کہ یہ کون ہے اور اسے کیا ہوا ہے؟ بوڑھی خاتون کے چہرے پہ زمانے بھر کا دکھ درد امڈ آیا۔ اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہنے لگی یہ میری بیٹی ہے، شودی رنڈی ہے۔ اس جملے پہ تو ہماری اہل زبان نانی کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔

پھیلی ہوئی پتلیوں کے ساتھ اتنا ہی کہہ پائیں، کیا کہا، رنڈی ہے! جتنا ہم اپنی نانی کو جانتے ہیں اس لحاظ سے انہوں نے خدا جھوٹ نہ بلوائے تو تین بار یہ جملہ ضرور دہرایا ہو گا۔ اس سیدھی سادھی غریب عورت کو کیا پتہ کہ ہماری نانی کی لغت میں اس کا کیا مطلب تھا۔ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس نے گفتگو کو یوں بڑھاوا دیا کہ جب سے اس کا خاوند فوت ہوا ہے یہ مستقل بیمار رہتی ہے۔ تب کہیں جا کر ہماری نانی کے دم میں دم آیا۔ برسوں یہ قصہ ان کی نوک زبان رہا۔

بات پٹاری سے شروع ہوئی تھی اور کہاں سے کہاں چلی گئی۔ چیزیں رکھنے کو تو بہت کچھ استعمال کیا جاتا ہے مثلاً الماری، صندوق یا صندوقچی، گٹھڑی، تھیلا، بوری یا پیٹی۔ اول الذکر تینوں تو مناسب ہیں۔ گٹھڑی گوارا ہے بشرط کہ اس میں میلے کپڑے نہ ہوں۔ میل چاہے من کا ہو یا تن کا دونوں ہی طبیعت پہ گراں گزرتے ہیں۔ تھیلا تو اتنا غیر شاعرانہ ہے کہ سوچ کر ہی متلی ہونے لگے۔ اس سے ہمیں جوٹ کا بنا وہ تھیلا یاد آتا ہے جس پہ ہرے رنگ سے جلی حروف میں سبزی منڈی بھی لکھا ہوتا تھا۔ اماں اس میں ٹینڈے لوکی، نیم چڑھے کریلے اور گوبھی کے پھول لایا کرتیں تھیں، جن سے ہمیں اللہ واسطے کا بیر تھا۔

پھولوں میں گوبھی کا پھول بھی انتہائی غیر شاعرانہ ہے۔ خدا جانے اسے پھول کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کا واحد ذکر اس گانے میں ملتا ہے جو ایک زمانے میں شادی بیاہ پہ لڑکی والے لڑکے والوں کو تپانے کے لیے بہت زور شور سے گایا کرتے تھے

میں نے مانگا پھول وہ گوبھی لے کے آ گیا
میں ہو گئی بدنام مجھے ۔ ۔ ۔

جملہ بوجوہ نامکمل چھوڑ دیا ہے۔ اس زمانے کے سیاں کھلاڑی نہیں اناڑی ہوا کرتے تھے، لے آئے ہوں گے گوبھی کا پھول۔ کوئی بد دماغ ہوتی تو ان کے سر پہ دے مارتی۔ گوبھی کے پھول کی بھی کیا قسمت پھری ہے، آج کل یہ دو سو روپے کلو سے کم نہیں ملتا۔ ایک گوبھی ہی کیا آلو پیاز کی قسمت بھی ایسی چمکی ہے کہ الامان و الحفیظ۔

بوری کی ہولناکیوں سے کوئی اور واقف ہو نہ ہو کراچی والے بخوبی واقف ہیں۔ اس کا تو تصور ہی روح فرسا ہے۔ کیا کیا نہیں بھگتا اس غریب نواز شہر نے۔ باقی رہی پیٹی تو ننگی کیا نہائے اور کیا نچوڑے؟ پیٹی بندوں کے کھیل نے اوڑھنے کے لیے دلائی اور لحاف تو کیا چادر بھی نہیں چھوڑی۔

صندوقچی اب بے مصرف ہے۔ ہار سنگھار کی چیزیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اس ننھی منی بغچی میں سما نہیں سکتیں۔ ان کے لیے تو ڈریسنگ ٹیبل بھی چھوٹی پڑتی ہے۔ ہاں یاد آیا کہ گئے وقتوں میں یہ محلے ٹولے میں بسنے والی جنت مکانی محبوب نما مخلوق کے خوشبوؤں میں بسے خطوط رکھنے کے کام بھی آتی تھی اور بوجوہ رازداری اس پہ ایک نازک سا سنہری تالا مستقل جھولتا رہتا تھا۔ شیطان بچے ہمیشہ اس تاک میں رہتے کہ باجی یا آپا کب تالا بند کرنا بھولیں اور وہ ان کے راز محلے بھر میں طشت از بام کریں۔ کھلم کھلا پیار کرنے کے اس دور میں خطوط لکھنے کی زحمت کون کرتا ہے؟ بقول شاعر

وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

غریب کی ویرانی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ وقت کی دست و برد سے کون محفوظ رہا ہے۔ یہ اتنا ظالم ہے کہ اچھے اچھوں کے خنے ڈھیلے کر دیتا ہے تو اس غریب کی کیا حیثیت؟ اپنے ہاں کا تو دستور یہی ہے کہ دلہن وہی جو پیا من بھائے مگر ان اناڑیوں کون سمجھائے کہ میاں دھیرج رکھو اس سر زمین میں راکھ کو لاکھ ہوتے دیر نہیں لگتی۔

آخر میں بچیں بی پٹاری۔ ہم نے اس میں بہت کچھ سینت سینت کے رکھا ہے جسے وقتاً فوقتاً ہوا لگاتے رہتے ہیں۔ یہ اور بات کہ دکھ سکھ سے بھری اس پٹاری میں سکھ کم اور دکھ زیادہ ہیں۔ آج اسے الٹتے پلٹتے وہ چیز سامنے آ گئی جس سے ہمارا جذباتی لگاؤ ہے۔ اس کی تاریخی حیثیت یہ ہے کہ لگ بھگ پچاس پچپن برس پہلے یہ ہماری اماں کو جہیز میں ملی تھی۔ اماں تو راہی ملک عدم ہوئیں اب یہ چند چیزیں ہی ہم نے کلیجے سے لگا رکھی ہیں کہ ان سے ان کی خوشبو آتی ہے۔

اسے تلے دانی کہتے ہیں۔ یہ سرمہ دانی کی ہم قافیہ ضرور ہے مگر ہے بالکل مختلف۔ نئی نسل تو خیر اس کے نام سے بھی ناواقف ہو گی۔ تو چل میں آیا کے اس دور میں اس غریب کا وجود ہی متروک ہو چکا ہے۔ اس میں رنگ برنگے دھاگے اور ہمہ اقسام کے بٹن اور سوئیاں رکھی جاتی تھیں۔ بٹن ٹوٹا تو نیا لگا دیا، گریبان یا دامن چاک ہوا تو سی سلا کر معاملہ رفع دفع کر دیا۔ جہاں سوراخ ہو گیا وہاں پھول کاڑھ دیا۔ اب تو ہر کسی کا یہ حال ہے کہ

اور بازار سے لے آئیں گے گر ٹوٹ گیا
ترے جام جم سے میرا جام سفال اچھا ہے

ہائے پرانے وقتوں کے لوگوں میں بھی کیا کیا وضع داریاں تھیں۔ پاکی داماں کی حکایت کو اتنا نہیں بڑھاتے تھے کہ قطع تعلق کی نوبت آ جائے۔ اس اللہ ماری سیاست نے گوشت کو ناخن سے جدا کر دیا ہے۔ گلیہاروں کی وقعت ہے وضعدار مارا مارا پھرتا ہے۔ کاش اس تلے دانی میں کوئی ایسی سوئی اور دھاگہ ہوتا جو گز بھر کی زبانوں کو سینے کے کام آتا۔ سر عام پگڑیاں اچھالنے اور گالم گفتار کے اس دور میں کوئی ایک بھی تو ایسا نہیں جسے وضع داری کی الف بے سے واقفیت ہو۔ یہ سوچیں اپنی تہی دامنی کا احساس دو چند کر دیتی ہیں۔ لد گیا وہ زمانے جب یہ چلن عام تھا کہ

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

فی زمانہ تیر و تفنگ چلے یا توپ ارباب اختیار کے دل میں درد تو کجا کان پہ جوں بھی نہیں رینگتی۔ عوام کا حال تو غریب کی جورو سے بھی برا ہے۔ یہ اللہ ماری بھینس تو لاٹھی والوں کی ہے۔ ان ہی کی پوبارہ ہے۔

آپ یقیناً سمجھ گئے ہوں گے کہ دوسری چیز کیا تھی۔ یہ تلے دانی ہمیں اس کیفیت میں لے گئی ہے جسے عرف عام میں نوسٹیلجیا کہا جاتا ہے۔ وہ کیفیت جس سے انسان نکلنا ہی نہ چاہے اس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ فی الوقت اپنی بھی وہی کیفیت ہے خیالوں کی دنیا میں بہت سے پیاروں کی اداس محفل ہماری منتظر ہے۔ کچھ وقت وہاں بتانا بھی ضروری ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments