سکولوں کی فیس اور ہمارے بچے

سوشل میڈیا پر اسکول یونیفارم میں بیٹھے بچوں کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ اسکول سے فیس کی ادائیگی نہ کرنے پر نکالے جانے پر سڑک کنارے دونوں بھائی بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب ان سے استفسار کی گیا کہ ’اسکول کیوں نہیں گئے تو جواب ملا کہ تین ماہ سے فیس جمع نہیں کروائی اسی لیے اسکول والوں نے نکال دیا ہے ہم پاپا کو بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتے۔ ‘
بچے کہتے ہیں کہ ’جب چھٹی ہو جائے تو گھر چلے جائیں گے۔‘
دونوں بھائیوں نے بتایا کہ ’والد پی آئی اے میں ملازم تھے لیکن انہیں نوکری سے نکال دیا گیا ہے اور ہم اپنے بیروزگار والد کو پریشان نہیں کرنا چاہتے۔ اسکول فیس نہ ہونے کی وجہ سے دونوں بھائی روز صبح اسکول کے لیے نکلتے ہیں اور سڑک کنارے بیٹھ کر چھٹی کے ٹائم کا انتظار کر کے واپس گھر روانہ ہو جاتے ہیں اگرچہ یہ ویڈیو حقیقت پر مبنی نہیں اس کا دوسرا حصہ بھی موجود ہے جس میں بچے نے بتایا کہ میرے والد کو ملازمت سے نکالنے کے بعد ان کے دوست ان کے پاس آ کر افسردہ ہوتے تھے میں نے سوچا کہ میں ایک ویڈیو بناؤں جس کی وجہ سے پی آئی اے والے انہیں دوبارہ ملازمت پر رکھ لیں، اگرچہ بچہ کہتا ہے کہ میرے پاس سب کچھ ہے مگر والد کی بے روزگاری کے باعث حالات ویسے ہی پیدا ہونے ہیں جو وہ اپنی اداکاری کے دوران بتا رہا ہے بلاشبہ یہ ویڈیو دیکھ کر ہر آنکھ ایک بار اشکبار ضرور ہوجاتی ہے۔ اگرچہ یہ محض گھڑی سٹوری ہے مگر لحمہ فکریہ یہ ہے کہ کیا ریاست اتنی بے بس ہے کہ وہ اپنی نئی پود کی تعلیم کی ذمہ داری خود نہیں اٹھا سکتی اور اس نے اپنا مستقبل ان رنگ برنگی تعلیمی دکانوں کے حوالے کیا ہوا ہے۔ کیا اگر کسی کے والد کی ملازمت ختم ہو جائے تو اس ریاست کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ اس کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند نا ہونے دے؟ کیا ریاست کے پاس ایسے دماغ نہیں کہ وہ یکساں تعلیمی نصاب اور یکساں تعلیمی نظام وضع کر سکیں؟
شاید ہم سمجھتے ہیں کہ ان پرائیویٹ اداروں کے پاس بڑے قابل اور عالی دماغ ہستیاں موجود ہیں جو ارسطو کی طرح سکندر اعظم بنانے کی قدرت رکھتے ہیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔ ان سے زیادہ قابل لوگ گورنمنٹ سیکٹر میں موجود ہیں، جہاں منظم نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ تساہل پسندی کے عادی ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ان رنگ برنگی تعلیمی دکانوں کو اپنے کاروبار چمکانے کا موقع ملا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ان اداروں میں بچوں کو داخل کروا کر انسان بھاری فیس دینے کے باوجود اپنے سر مصیبت مول لیتا ہے۔ ان سکولوں کا کام بس اتنا سا ہے کہ بچہ ان کے پاس جا کر ہوم ورک لے آئے اور شام کے وقت ان کی اکیڈمیز میں دوبارہ جا کر سکول سے بھی زیادہ بھاری رقم ادا کرے۔ یہ وہ مافیا ہے جو تعلیم کے نام پر لوٹ مار کر رہا ہے۔ کسی بھی قوم کی فکری ہم آہنگی کے لیے اس قوم کا یکساں نظام تعلیم ہونا ضروری ہے۔ کس بھی قوم کی ذہن سازی اس کا نظام تعلیم ہی کرتا ہے جس قوم کا نظام تعلیم یکساں ہوتا ہے اس قوم کی سوچ میں بھی یکسانیت پائی جاتی ہے، جب وہ قوم کوئی فیصلہ کرتی ہے تو پوری قوم اس فیصلے پر لبیک کہتی ہے اور جن اقوام کا نظام تعلیم طبقات میں بٹا ہوتا ہے، وہاں فکری اعتبار سے قوم کی بجائے ایک ہجوم پروان چڑھ رہا ہوتا ہے ایسے ممالک میں قومی مفاد کی خاطر کسی قسم کا کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو وہاں بھانت بھانت کی آوازیں آنے لگتی ہیں جو عموماً قومی مفاد کے حق میں نہیں ہوتیں ہم بھی بحیثیت قوم کبھی ایک فیصلے پر متفق نہیں ہو پاتے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ قوم کی کردار سازی اور ذہن سازی میں یکساں نظام تعلیم کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے یکساں نظام تعلیم سے ہی ایک اچھی قوم کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تین طرح کے نظام تعلیم رائج ہیں جس کی وجہ سے ہم قومی فیصلوں کے دوران تین طرح کے طبقات میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور کبھی کسی ایک نکتے پر اتفاق نہیں کر پاتے۔ ہمارے ہاں انگلش میڈیم اردو میڈیم اور مدارس کے نظام تعلیم رائج ہیں۔ ان تینوں نظاموں کا مزاج، ماحول، دائرہ کار، سوچنے اور پرکھنے کا انداز مختلف ہے یہ تینوں طرح کے نظام تین طرح کے طبقات کو جنم دے رہے ہیں۔
ہماری اشرافیہ کے بچوں کے لیے ہمارے ہاں انگلش میڈیم طریقہ تعلیم رائج ہے، ان کے لیے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم آکسفورڈ اور کیمبرج سے منگوایا جاتا ہے، ایک خاص کیپسول کے ماحول میں انہیں بند رکھا جاتا ہے، انہیں مڈل کلاس اور لوئر کلاس کی مخلوق کی ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی۔ درآمد شدہ نصاب میں اس ملک کی مٹی کی خوشبو، اقدار، روایات، احساسات، جذبات اور خیالات شامل نہیں ہوتے۔ جس کی وجہ سے ہماری نئی نسل حب الوطنی کے احساسات و جذبات سے عموماً عاری ہوتی ہے اردو سے دوری اور انگریزی کی قربت کی وجہ سے تعلیم فروشی کی باقاعدہ ایک صنعت وجود میں آ چکی ہے، اشرافیہ کے بچوں کا اردو میں اچھا گریڈ بھی آ جائے تو وہ اسے اپنی عظمت کے منافی سمجھتے ہیں حالانکہ اردو ہی پاکستان میں وہ واحد ذریعہ ہے جو ہمیں ہر طرح کی صوبائی عصبیت سے نکال کر ایک قومی لڑی میں پرو سکتی ہے۔
اردو میڈیم اسکولوں یا سرکاری اسکولوں کا نظام، اس لیے تباہ ہوا کہ اس میں اشرافیہ کے بچے نہیں پڑھتے ہیں۔ اس لیے یہ ادارے عدم توجہی کا شکار ہوئے ان کی مالی معاونت سے بھی ہاتھ کھینچ لیے گئے اس کے نتیجے میں علم فروشی کی نجی صنعت کو فروغ ملا جو لوگ استطاعت رکھتے تھے۔ وہ ان پرائیویٹ سکولوں میں چلے گئے جو استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ وہ سرکاری اداروں کا خام مواد بن کر رہ گئے پھر ان اداروں میں مختلف سیاسی تنظیموں کے کارندوں نے اپنے حیلے بہانوں سے ان طلبہ کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بطور خام مواد کے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
اب وقت کی ضرورت ہے کہ ان تمام تعلیم فروش دکانوں کو بند کر کے آٹھویں تک ایک نصاب تعلیم وضع کیا تاکہ ہماری قومی سوچ یکساں ہو، اگر ہمارے سرکاری اداروں کے اساتذہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ٹھیک طرح سے ادا نہیں کرتے تو پھر تمام سرکاری سکولوں کو ختم کر کے اونر شپ دے دینی چاہیے تاکہ اس مد میں خرچ ہونے والے بجٹ کو کسی اور مفید کام میں لگایا جا سکے۔

