مہنگائی بھی مہنگائی سے پناہ مانگ رہی ہے
آنا انقلاب تھا مگر پہلے عذاب اور پھر سیلاب آ گیا۔ ہم ہر نئی دکھنے والے چیز کو ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ویلکم کہنے والے لوگ ہیں بس ذرا پیکنگ اچھی ہونی چاہیے مال بے شک گلا سڑا، بوسیدہ، پرانا اور بدبودار ہی کیوں نہ ہو۔ وہ دیکھو انقلاب آ رہا ہے، بتایا اور دکھایا تو یہی جاتا رہا، ہم جب نظر نہ آنے کی شکایت کرنے کی کوشش بھی کرتے تو جواب ملتا اندھا ہے کیا؟ جا، جا کر نظر ٹیسٹ کرا۔ پاکستان میں ہر دو ، چار سال بعد دکھائے جانے والے انقلاب بھی ہوائی چیزوں کی طرح کے ہوتے ہیں جن کو صرف عامل و کامل قسم کے سیاسی بابے ہی دیکھ سکتے ہیں اور ان کو اپنے قابو میں لے سکتے ہیں، ہم جیسے نکمے، نالائق نہیں کیونکہ ہم عوام کی اوقات و رسائی صرف روٹی کے حصول اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی تک ہے۔
وہی پرانا گلا سڑا اور بدبودار انقلاب اس بار بھی نئی پیکنگ میں دکھایا جا رہا تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ اگر انقلاب خود سے نہ بھی آیا تو آن لائن آرڈر دے کر منگوا لیا جائے گا، لیکن روز روز اتے پتے بدلنے کی وجہ سے آرڈر کیا ہوا انقلاب کسی اور کے پتے پر پہنچ گیا۔ ریپر کے اندر کیا تھا یہ انقلاب کے خواب دکھانے والے کو بھی تب پتا چلا جب اندر سے رچڈ گینگ (راہزنوں، چوروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ) نکل آیا اور ساتھ میں مہنگائی کا عذاب!
انقلابی قسم کے عذاب کی شکل میں مہنگائی کا جو ٹوکرا ہمارے سر پر لاد دیا گیا ہے اس کے وزن سے گردن کے مہرے تک چٹخنے لگے ہیں، اور ہمارے اردگرد تنی اور اکڑی وہ گردنیں جن پر ہم تبصرے کر لیا کرتے تھے ان کا سر یہ بھی پگھل رہا ہے، نقطہ کھولاؤ اور پگھلاؤ پر پہنچی ہوئی مہنگائی کو ایک دیا سلائی یا چنگاری دکھانے کی ضرورت ہے اور پھر یہی عذاب ریورس ہو کر شاید انقلاب بن سکتا ہے۔ انقلاب ظلم و زیادتی، معاشی اور معاشرتی ناہمواری اور بے شمار ایسی ہی نا انصافیوں کی وجہ سے آتے ہیں اور ان کا ایندھن ہمیشہ سے ہی غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ بنتے آئے ہیں، کنٹینرز پر ڈنڈ بیٹھکیں لگا کر ، ہیلی کاپٹروں پر الٹا سیدھا لٹک کر ، قوم کی جیبیں کاٹ کریا خزانہ چاٹ کر انقلاب نہیں لائے جا سکتے، ہاں البتہ عذاب ضرور لائے جا سکتے ہیں اور ہم اس وقت حالت عذاب میں ہیں۔
عذاب کے والدین پٹرول اور بجلی ہیں اور ناخلف و نافرمان اولاد پانی، گیس اور روٹی، ٹکر ہیں۔ جنھیں نہ گھر سے نکالا جاسکتا ہے نہ عاق اور بے دخل کیا جاسکتا ہے۔ ان کے ساتھ اب اسی مہنگی قیمت پر رہنا پڑنا ہے۔ تعلیم کے ذکر اور فکر کی ضرورت نہیں، ہم ذکر نہیں کرتے اور حکومتیں فکر نہیں کرتیں، حساب برابر۔ جس کے پاس خرچنے کے پیسے ہیں اس کا بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ اور جن کے ابا پیسے نہیں خرچ سکتے ان کے بچوں کا الگ الگ راستہ۔
علاج معالجہ کی بھی فکر ناٹ، چونکہ ہم ایک جگاڑو قوم ہیں اس لئے کوئی نہ کوئی جگاڑ کر کے یا ٹوٹکا لڑا کے چھوٹی موٹی بیماری کو پچھاڑ لیتے ہیں، بڑی بیماری کا کیا؟ ہر ایک کو اس دنیا سے جانا ہے کوئی آگے تو کوئی پیچھے، جو اللہ کی مرضی، ایسے ہی لکھا ہو گا اور تدفین، کل عصر کے بعد قل اور ہاں دعا کے بعد طعام کا بھی بندوبست ہے۔ تکلیف میں جو عیادت کرنے نہ آئے اور پیناڈول، اسپرین یا ڈسپرین تک لے کر دینے کی زحمت گوارا نہ کی اب قل کی دعوت اڑانے پہنچ جائیں گے۔ کسی غریب کی عیادت اب اس جدید سائنسی تحقیق کے پیش نظر بھی نہیں کی جاتی کہ اس کی ہر بیماری کسی دوسرے کو اڑ کر لگ سکتی ہے، یہی ہے وہ راکٹ سائنس جس کا ذکر ہم لوگ اکثر اپنی گفتگو میں بھی کر جاتے ہیں۔
اور ڈالر ان سب کا جد امجد ہے یہ ناراض تو سمجھ لو کہ پورا گھرانا برباد! پہلے جو ہم اگاتے اور بناتے تھے ہم اب وہ منگواتے ہیں اور ڈالر کی مرضی کے بغیر نہ آمد نہ جامد (نو امپورٹ نو ایکسپورٹ) ۔ ایک دفعہ کا ذکر ہوا کرتا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک تھا اور اس کی تقریباً ستر، پچھتر فیصد آبادی کے روزگار کا انحصار زراعت پر تھا اور وہ سبزیاں، پھل اور دیگر اجناس جنھیں ہم ”دب کے وا تے رج کے کھا“ کے فارمولے کے تحت اگایا کرتے تھے اب ان میں سے بہت ساری ہم منگواتے ہیں، جو ملک ہماری فصلوں کا بیج لے کر کاشتکاری کیا کرتے تھے انہی ملکوں نے اب ہمیں اپنا بھکاری بنا رکھا ہے اور یہ بھی بعید نہیں کہ کسی سازش کے تحت ہی ہماری زرعی زمینوں کا خاتمہ کرایا گیا ہو، کیونکہ اب پاکستان ایک زرعی ملک نہیں بلکہ ایک رہائشی ملک ہے اور تاحد نظر لہلہاتی ہوئی ہاؤسنگ کالونیاں!
یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ کبھی جن کھیتوں کے اندر تک منہ اندھیرے لوگ ”انتہائی ضروری“ کام کے لئے جانے سے کتراتے ہوں یا ڈرتے ہوں اب انہی جگہوں پر بنے گھروں میں انتہائی محفوظ، آرام دہ اور خوشبوؤں سے معطر زندگیاں بسر کر رہے ہوں۔ اور وہ جو ہم بنایا کرتے تھے ان میں سے بے شمار چیزیں اب پاکستان کے بینر تلے تیار نہیں ہوتیں کیونکہ ان کو بنانے والے اکثر صنعت کار بنگلہ دیش، مشرق وسطیٰ، مشرقی یورپ اور وسط ایشیائی ریاستوں کا رخ کر گئے ہیں۔ ”ناٹ میڈ ان پاکستان بٹ میڈ بائے پاکستانی“ جب ضرورت کا کچھ بھی پورا نہ ملے جی ضرورت کا پانی، بجلی، گیس اور قیمت بھی دگنی سے زیادہ وصول کر لی جائے تو پھر یہی ہوتا ہے۔ انڈسٹری کو مراعات دینے کی بجائے موت دے دی گئی، جو مرنے سے بچ گئی وہ ادھ موئی انڈسٹری کیا بنائے گی اور کیا کما کے لائے گی۔
اب کی بار اس کڑاکے کی مہنگائی پڑی ہے کہ خدا کی پناہ اور مہنگائی کے عذاب کا یہ عالم ہے کہ خود مہنگائی بھی مہنگائی سے پناہ مانگتی پھر رہی ہے۔ بھائی آخر کب تک لوگ چیزیں بیچ بیچ کر اپنے اور اپنے بچوں کے لئے ضرورت حیات کا سامان خریدتے رہیں، کیسے اور کب تک دو ہزار کی بجلی کے بیس ہزار بھرتے رہیں؟ سوچیں ذرا جب لوگوں میں اپنی چیزوں کی قوت فروخت ختم ہو جائے گی اور وہ پوری طرح خالی اور کنگال ہو جائیں گے تو تب وہ کیا کریں گے؟ دو ہی راستے ہیں یا خود کو ماریں گے یا۔ رچڈ گینگ نے جب آتے ہی پٹرول مہنگا کیا تو انھوں نے اتنے پیسے اینٹھ لئے تھے کہ کاروبار مملکت آسانی سے چلا سکتے تھے۔ لیکن انھیں اور پیسہ چاہیے ہی چاہیے تھا، اس لئے آئی ایم ایف کے در پر سوالی بن کر پہنچ گئے، اور اپنی جیب بھرنے کے لئے ہمارے بچے گروی رکھوا آئے۔ آئی ایم ایف کا پیسہ کدھر گیا کدھر لگا کبھی حساب پہلے ملا نہ اب ملے گا کہ ہمارے منشی منجھے ہوئے نوسرباز ہیں، ایک نے مکھن چاٹ لیا تو دوسرا ملائی کھانے آ گیا۔ پٹرول مہنگا کر کے ایک دن میں کتنا مال بنایا گیا اس کا حساب بھی اس جہان میں تو نہیں ملنے والا۔
عذابوں کے دن اور پھر سیلابوں کے دن! مہنگائی کا عذاب لایا گیا اس کا تو پکا پتا ہے لیکن سیلاب آیا یا لایا گیا اس کا پکا پتا نہیں اور نہ ہی اس بارے میں کسی کو جاننے میں دلچسپی ہے۔ کوئی ملکی یا غیر ملکی موسم شناس اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ایمانداری کے ساتھ یہ بات بتا سکتا ہے کہ کیا اتنی بارشوں سے اتنا بڑا سیلاب آ سکتا تھا؟ سیلاب سے تقریباً ایک تہائی پاکستان زیر آب آ گیا۔ کسی کی ماں، کسی کا باپ، کسی کا بیٹا، کسی کی بیٹی، پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں آناً فاناً غرق ہو گئے اور جو بچ گئے وہ بھی زندہ کہاں ہیں اکثر کے پاس اب بھی کھانے کو پورا نہیں، اوڑھنے بچھونے کو نہیں، دوا دارو کے لئے کچھ نہیں جتنے سیلاب سے جاں بحق ہوئے اتنے ہی شاید سیلابی بیماریوں کی وجہ سے جان سے گئے، جس دامن کو پھیلا کر بددعائیں دی جا سکتی ہیں ان کے پاس تو وہ دامن بھی پورا نہیں، بد دعائیں بھی لٹیروں کو دعائیں بن کر لگتی ہیں ان کو کسی کی آئی بھی نہیں آتی۔
ان لٹے پٹے لوگوں کے لئے اندرونی امداد راستوں میں ہی لوٹ بانٹ لی گئی اور بیرون سے آنے والے امداد کے جہازوں کے جہاز نہ جانے کن کی تجوریوں میں بنے رن ویز پر لینڈ کر گئے، کچھ ملکوں نے تو صاف کہہ دیا کہ وہ اپنی امداد حکومت کی بجائے کسی اور ذریعے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔ ہر کسی نے ان لاچار، بے بس و بے کس لوگوں کے نام پر کھل کر مانگا اور ملا بھی لیکن وہ اب بھی امداد کے لئے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں، کہیں یہ سیلاب بھی تو امپورٹ نہیں کیا گیا تھا کہ پیسہ کھینچا جا سکے؟
کتنی امداد ملتی ہے اور کتنی اب تک مل چکی ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نام پر زر تلافی کتنا ملے گا یا صرف ٹھینگا! ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا اور اس کا حساب بھی کون مانگے گا اور کون دے گا، یہ بھی اب ایک بچگانہ سا سوال لگنے لگا ہے۔ ویسے ایک حیرت کی بات ضرور ہے کہ سیلاب میں بے حساب لوگ اور ان کے مال مویشی ڈوب گئے مگر ایک بھی سیاستدان ڈوب کر نہیں مرا، نہ شرم سے نہ چلو بھر پانی میں۔


