ایشیا کپ 2023 کے پاکستان میں انعقاد پر انڈیا کا ردعمل: سر رمیز پورے پاکستان کی نظریں آپ پر ہیں، پلیز مایوس نہ کیجیے گا‘
جب سے انڈیا میں کرکٹ کے نگراں ادارے بی سی سی آئی کے سیکریٹری جے شاہ نے یہ کہا ہے کہ ایشیا کپ میں انڈیا پاکستان کے بجائے کسی غیر جانبدار مقام پر کھیلنا چاہے گا اس کے بعد سے پاکستان میں کرکٹ کے مداح سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق اگلا ایشیا کپ پاکستان میں ہونا ہے اور یہ فیصلہ ایشیئن کرکٹ کونسل (اے سی سی) کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے کیا تھا۔ اب یہ اتفاق کی بات ہے کہ جے شاہ ایشیئن کرکٹ کونسل کے بھی صدر بھی ہیں جبکہ منگل کو ممبئی میں انھیں بی سی سی آئی کی سالانہ جنرل میٹنگ میں دوسری مدت کے لیے سیکریٹری منتخب کیا گيا ہے۔
منگل کو ممبئی میں بی سی سی آئی کی سالانہ جنرل میٹنگ کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران جے شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’انڈیا ایشیا کپ غیر جانبدار مقام پر کھیلے گا۔‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے فی الحال جے شاہ کے بیان پر باضابطہ کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے، لیکن پی سی بی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ہمارے پاس اس وقت کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے، لیکن ہم اس معاملے پر اگلے ماہ میلبورن میں ہونے والے آئی سی سی بورڈ کے اجلاس میں بات کریں گے۔‘
اس سے قبل ایشیا کپ کا انعقاد نیوٹرل مقام پر ہوتا رہا ہے۔ سری لنکا میں جاری معاشی بحران کی وجہ سے کرکٹ کا ٹورنامنٹ منعقد کرانے سے انکار کے بعد 2022 کا ایشیا کپ گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوا تھا۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیاسی تناؤ کی وجہ سے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان گذشتہ کئی برسوں سے دوطرفہ کوئی سیریز نہیں ہو رہی ہے اور دونوں ممالک صرف ایشیا کپ اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہیں۔
گذشتہ ماہ کھیلے گئے ایشیا کپ میں دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کے خلاف دو میچ کھیلے تھے جبکہ آسٹریلیا میں جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دونوں ممالک 23 اکتوبر کو میلبورن میں مدمقابل ہوں گی۔
انڈیا نے 2008 کے ایشیا کپ کے بعد سے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ پاکستانی ٹیم آخری بار دو طرفہ سیریز کے لیے سنہ 2012 میں انڈیا آئی تھی۔
پاکستان میں ردعمل
بی سی سی آئی کے اس بیان کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر کافی ردعمل سامنے آیا ہے۔
صارف اسرار احمد ہاشمی نے ٹویٹر پر لکھا: ’انڈین حکومت نے ایک بار پھر کھیل کے بجائے سیاست کا انتخاب کیا ہے، یہ شرمناک ہے۔‘
ایک صارف نے پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’بات پاکستان پر آجائے تو نفع نقصان نہیں دیکھا جاتا، عزت نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ہم کوئی دو ٹکے کی قوم نہیں۔ ہم پاکستانی ہیں، سر۔ اب پورے پاکستان کی نظریں آپ پر ہیں، پلیز مایوس نہیں کیجیے گا۔‘
اسی درمیان انڈیا کے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کی خبروں کے درمیان رمیز راجہ کا ایک پرانا ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔
کلپ میں رمیز راجہ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی 50 فیصد فنڈنگ سے چلتا ہے اور آئی سی سی کی فنڈنگ یہ ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کا انعقاد کرتا ہے اور اس کے پاس جو رقم ہوتی ہے، وہ اسے اپنے ممبروں میں تقسیم کرتا ہے۔‘
’اور آئی سی سی کی اس فنڈنگ کا 90 فیصد انڈین مارکیٹ سے آتا ہے۔۔۔‘
یہ بھی پڑھیے
وہ حکمتِ عملی جو مداحوں کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے قریب لے آئی
پاکستان انڈیا کرکٹ مقابلوں کا جنون جس میں صحافی بھی مبتلا ہو جاتے ہیں
انڈیا پاکستان سمیت چار ملکوں کی سیریز، کیا رمیز راجہ کا خواب سچ ہو پائے گا؟
محمد حمزہ نے ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ایشیا کپ 2023 کے ساتھ لکھا کہ ’انڈیا کے بغیر ایشیا کپ قبول ہے، لیکن پاکستان سے باہر ایشیا کپ قبول نہیں ہے۔‘
احمد نواز نے لکھا کہ ’اگر انڈیا ایشیا کپ کے لیے نہیں آ رہا تو پاکستان کو بھی کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے انڈیا نہیں جانا چاہیے۔ دونوں ٹورنامنٹ غیر جانبدار مقامات پر منعقد ہونے چاہییں۔‘
صارف توصیف راجپوت نے لکھا کہ ’رمیز راجہ کو جلد از جلد پاکستان کا موقف واضح کرنا چاہیے، اگر وہ ایشیا کپ کے معاملے پر انڈیا کا موقف مان لیں تو چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی بھول جائیں، میچز پاکستان میں نہیں ہوں گے۔ بی سی سی آئی کو ایک مضبوط پیغام دیا جانا چاہیے۔‘
انڈیا میں جے شاہ کی مدت پر شور
دوسری جانب انڈیا میں اس بات پر مباحثہ جاری ہے کہ جے شاہ کو دوسری مدت کے لیے بی سی سی آئی میں سیکریٹری کیوں منتخب کیا گیا ہے اور سورو گنگولی کو دوسری مدت کیوں نہیں دی گئی ہے۔
انڈین میگزن ’دی کارواں‘ کے ہینڈل سے یہ ٹویٹ کیا گیا ہے کہ جے شاہ کے ماتحت ’بی سی سی آئی بی جے پی حکومت کی نوکرانی اور اس کا اضافی بازو‘ بن گیا ہے۔ موٹیرا میں سردار پٹیل سٹیڈیم کا نام مودی کے نام پر رکھنے کے علاوہ، بی سی سی آئی نے پی ایم کیئرز فنڈ میں 51 کروڑ روپے کا تعاون کیا ہے۔‘
مصنف ڈیریک او برائن نے جے شاہ کی دوسرے مدت پر تبصرہ کرتے ہوئے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے لکھا: ’میں جے شاہ ہوں، پھر سے بی سی سی آئی کا سیکریٹری بن رہا ہوں۔ میرے پاپا مرکزی وزیر داخلہ ہیں۔‘
’میں ارون سنگھ دھومل ہوں، آئی پی ایل کا نیا چیئرمین۔ میرے بڑے بھیا انوراگ ٹھاکر مرکزی وزیر برائے کھیل ہیں۔ ہم بی جے پی کے ’پریوار واد‘ (خاندانی وراثت) سے پاک انڈیا اور مودی کے ڈائناسٹس کلب کر رکن ہیں۔‘
واضح رہے کہ بی جے پی کانگریس پر پریوار واد کے الزامات لگاتا رہا ہے۔
بی سی سی آئی کا کیش ریزرو 6000 کروڑ روپے پر پہنچ گیا
اس دوران بی سی سی آئی کے سبکدوش ہونے والے خزانچی اور آئی پی ایل کے نئے چیئرمین ارون دھومل نے بتایا کہ کرکٹ بورڈ کا بینک بیلنس تین برسوں میں 3648 کروڑ روپے سے بڑھ کر 9629 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے تشکیل دی گئی کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز (سی او اے) کی 33 ماہ کی مدت کے بعد سنہ 2019 میں سورو گنگولی کی ٹیم نے بی سی سی آئی کی کمان سنبھالی تھی۔
ارون دھومل نے کہا: ’جب موجودہ ٹیم نے سنہ 2019 میں بی سی سی آئی کا چارج سنبھالا تو کرکٹ بورڈ کے خزانے میں 3648 روپے تھے۔ ہم نئی ٹیم کو ایک ایسی تنظیم کو سونپ رہے ہیں جس کے خزانے میں 9629 کروڑ روپے ہیں۔ ہم نے اس میں تین گنا اضافہ کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’ریاستی کرکٹ ایسوسی ایشنز کو دی جانے والی رقم میں بھی تقریباً پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ سی او اے کے دور میں یہ رقم 680 کروڑ روپے تھی جو اب 3295 کروڑ روپے ہے۔‘


