جادو کی کھڑکی


زندگی میں بعض واقعات، ملاقاتیں اور حادثات دفعتا رونما ہوتے اور ہم پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں کہ بعد میں ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ یہ کب اور کہاں کی بات ہے۔ ہمیں یاد تو کچھ نہیں آتا البتہ اس کے اثرات ہم میں اس طرح سرایت کر جاتے ہیں کہ بقیہ زندگی میں ہم انہیں خود سے جدا نہیں کر سکتے۔ نعیم فاطمہ علوی سے ملاقات بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ جس کے بارے میں تیقن سے کہنا مشکل ہے کہ کب اور کہاں ہوئی۔ اسلام آباد میں درجنوں کانفرنسوں میں سامنا ہونا تو عام سی بات ہے۔ سب اہل قلم ایک دوسرے کے نام اور کام کے علاوہ شکلوں سے بھی کسی حد تک شناسا ہو جاتے ہیں۔ لیکن اب نعیم فاطمہ علوی کے ساتھ دوستی کا تعلق گہرا ہو کر بہت سی ملاقاتوں تک جا پہنچا ہے۔

اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں کے لکھاری بھی نہ صرف ان کے نام اور کام سے متعارف ہیں بلکہ ان کی پر خلوص میزبانی سے بھی حظ اٹھاتے ہیں۔

نعیم فاطمہ علوی دراصل ایک متجسس روح ہیں۔ ان کی پہلی تصنیف ان کا سفر نامہ، حیرت کو تصویر کریں، تھا۔ جس کی نمایاں خوبی یہی تھی کہ انہوں نے سفر کے دوران اپنی حیرت کو نہیں چھپایا۔ بلکہ ان سب سوالوں کے جواب کھوج ڈالے، جن سے ان کا پالا پڑا تھا۔ ان کا یہ رویہ صرف تحریر میں ہی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی سامنے آتا ہے۔ ان کی متحرک زندگی کی مصروفیات میں سماجی خدمت، گرلز گائیڈ، تصنیف و تالیف، اپنے ارد گرد ہونے والی نا انصافیوں کے لیے آواز اٹھانا، حالیہ سیلاب زدگان کے لیے امداد، دوستوں سے ملاقات کے لیے وقت نکالنے کے ساتھ ساتھ یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنے کے ساتھ ساتھ گھر میں تواتر سے ہونے والے، حلقہ ارباب نثر کے اجلاس شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ادبی تقریبات میں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں۔ یوں نعیم فاطمہ علوی ایک لامحدود کیفیت کا نام ہے۔

ایسی شخصیت کے لیے کسی ایک جگہ ٹک کر محدود ہو جانا کس قدر مشکل ہے، اس کا علم کرونا کے شب و روز میں ہوا۔ اس تکلیف دہ دور میں انہوں نے فیس بک پر روزمرہ کی بنیاد پر ایک تحریری سلسلے، کھڑکی کے اس پار، کی بنیاد ڈالی۔ جس میں وہ اپنے ڈرائینگ روم کی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر اپنی سوچوں کو قلمبند کرتی جاتیں۔ کرونا تو گزر گیا لیکن ان کی سوچوں کا سلسلہ نہ رکا۔ یہ طویل سلسلہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے تعاون سے حال ہی میں، کھڑکی کے اس پار کے عنوان سے کتابی شکل میں چھپا ہے۔ 213 صفحات کی یہ کتاب اپنے اندر ایسی دل چسپی رکھتی ہے کہ ایک بار قاری پڑھنا شروع کرے تو رکتا نہیں۔ بہت کم کتابیں ایک ہی نشست میں پڑھی جا سکتی ہیں، اور کھڑکی کے اس پار، ان میں سے ایک ہے۔

عنوان بہ ظاہر تو اس کتاب کے ابتدائی مندرجات سے مطابقت رکھتا ہے۔ لیکن جوں جوں اگلے ابواب کا مطالعہ کیا جائے تو اس کی معنویت مزید واضح ہوتی ہے۔ یہ کھڑکی، جس کا ذکر مصنفہ نے کیا ہے، ہم میں سے ہر شخص کے اندر موجود ہے۔ یہ خود احتسابی کا ایسا آئینہ ہے، جس میں ہمیں اپنی تصویر اکثر دیکھنی چاہیے لیکن ہم نہیں دیکھتے۔ یا تو ہمارے پاس وہ فرصت عنقا ہے یا ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ اس لحاظ سے مصنفہ صاحب بصیرت ہیں کہ انہوں نے ایک کھڑکی کے استعارے میں اپنی تمام زندگی کا احاطہ کیا ہے۔

گفتنی، نا گفتنی، سبھی کچھ ایمان داری سے بیان کیا ہے۔

کھڑکی کے اس پار، ایک ایسا مطالعہ ہے، جس کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ اس پہ روشنی ڈالتا ہے کہ فی زمانہ زندگی کیسی ہے اور کیسی ہونی چاہیے۔ دوسری جانب یہ درس بھی ملتا ہے کہ آج کل کی زندگی میں کیا کچھ کمی ہے اور کیا کچھ ہمیں اپنی زندگیوں سے نکال باہر کرنا چاہیے۔ نعیم فاطمہ علوی کی تمام تر تحاریر اور زندگی میں مقصدیت کو اہمیت حاصل ہے۔ وہ بغیر کسی وجہ کے کچھ نہیں لکھتیں، نہ ہی تقاریب میں محض تصحیح اوقات کی غرض سے شرکت کرتی ہیں۔ درج بالا تصنیف میں بھی یہی خصوصیت بدرجہ اتم نظر آتی ہے۔ زندگی کے تمام واقعات کو انہوں نے جس طور رقم کیا ہے، ان میں کوئی نہ کوئی اخلاقی، معاشرتی سبق پو شیدہ ہے۔ خاص ور پر نوجوان نسل، جس نے وہ زمانہ نہیں دیکھا، جب اخلاقی اقدار کو اہمیت دی جاتی تھی، اس سے سبق سیکھ سکتی ہے۔

نعیم فاطمہ نے جن کرداروں کا چناؤ کیا ہے، وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ ہر کردار کا نفسیاتی مطالعہ ان کے پیش نظر ہے۔ اور اس کا بیان انہوں نے جس بے خوفی اور سچائی سے کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ اگرچہ کتاب چھپواتے ہوئے انہوں نے کئی واقعات کو حذف بھی کیا ہے، جس کا ذکر دیباچے میں موجود ہے۔ اس کے باوجود جتنی سچائیاں انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں بیان کی ہیں، انہی سے ان کی ہمت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔

اس کتاب کے واقعات سے مصنفہ کی نیک دلی اور دریا دلی بھی کھل کر سامنے آتی ہے، جس میں ان کے شریک زندگی جناب ایوب علوی بھی ہمراہ رہے۔ اور دونوں نے زندگی کا جو مختصر اصول وضع کیا، یعنی کر بھلا، ہو بھلا۔ اس کے نتائج بھی بعینہ سامنے آئے۔ ان مختصر واقعات نے مطالعے کے دوران قدیم طریقہ تعلیم کی یاد دلائی، جب شیخ سعدی کی حکایات کو پڑھ کر سبق حاصل کیا جاتا تھا۔ یا پھر اصغری، اکبری کے کردار گھڑ کر بچیوں کی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا۔ مطالعے لے بعد میری سوچ یہ تھی کہ کم از کم اپنے کالج کی لائبریری میں اس کتاب کو ضرور رکھوں گی تا کہ بچیاں، تعلیم، معاش، اور عائلی زندگی کے تجربات سے استفادہ کر سکیں۔

مختصر طور پر اس کتاب کے تعارف کے لیے یہ کہنا نا مناسب نہ ہو گا کہ، کھڑکی کے اس پار، ایک جادو ہے۔ جو قاری کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ کھڑکی استعارہ ہے ہر شخص کے من میں کھلی اس کھڑکی کا، جس پر نظر کرنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنی خوبیوں اور خامیوں کا اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے لیکن ان کے محاسبے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ یہ کھڑکی اس محاسبے کا بہترین ذریعہ ہے۔ نعیم فاطمہ علوی خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے بروقت اس کھڑکی سے نہ صرف خود جھانک کر دیکھا بلکہ اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے ایک روشن راہ گزر چھوڑی۔ اللہ ہم سب کو ایسی ہی کھڑکیوں کے اس پار جھانکنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

Facebook Comments HS