ڈاکٹر اے کیو خان، بھٹو، ضیا اور نواز شریف (2)


ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی قوت بننے کا خواب تو دیکھا تھا لیکن اپنی زندگی میں اس کو شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھ نہ سکے۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں پاکستان ”کولڈ ٹیسٹ“ کر ایٹمی قوت بن گیا لیکن ایٹمی دھماکہ کرنے کی کسی کو جرات نہیں ہوئی یہ نواز شریف ہی جرات مند لیڈر تھا جس نے پاکستان کو ایٹمی کلب کا رکن بنا دیا یہ الگ بات ہے اس کے سال سوا سال بعد ایک ”طالع آزما“ نے دن دیہاڑے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اس طرح اس نے جہاں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے سیاست دان کو زندان میں ڈال دیا وہاں عالمی قوتوں کے ”گماشتے“ نے بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر نہ صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ”ناکردہ گناہوں“ کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا بلکہ ان کی عالمی شہرت کو خراب کرنے کی کوشش کی نواز شریف کے دو ادوار میں ڈاکٹر خان ایٹمی پروگرام سے وابستہ رہے لیکن ان کی آپس میں کبھی نہیں بنی تاہم ایٹمی پروگرام کے حوالے سے نواز شریف ڈاکٹر خان کی خدمات کے معترف رہے ہیں ڈاکٹر خان جنرل پرویز مشرف کے ستائے ہوئے تھے لہذا جب ان کے سامنے کوئی جنرل پرویز مشرف کا نام لیتا تو ان کا خون کھول اٹھتا تھا جنرل مشرف کا دور ڈاکٹر عبد القدیر پر بھاری تھا۔

ڈاکٹر خان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ کسی دشمن کے ساتھ نہیں کیا گیا نواز شریف نے ایک ملاقات میں بتایا کہ ”وہ قازقستان کے دورے پہ تھے تو انہیں 11 مئی 1998 ء کو دو شنبے میں اطلاع ملی بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے ہیں مشاہد حسین سید بھی میرے ساتھ تھی انہوں نے“ کڑاکے ”نکال دینے کا مشورہ دیا میں نے اسی دن وہیں سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں کہ وہ جوابی ایٹمی دھماکوں کی تیاری شروع کر دیں۔

میں نے یہ بھی ہدایت کی سارا کام راز داری سے کم سے کم درکار وقت یعنی سترہ دن کے اندر اندر مکمل کر لیا جائے۔ مجھے امریکی صدر کی طرف سے نصف درجن فون آئے۔ 5 ارب ڈالر کا لالچ دیا گیا لیکن میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو سربلند دیکھنا چاہتا تھا۔ میں نے وہی کیا جو پاکستان کے مفاد میں تھا“۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں سینیٹر مشاہد حسین کی وساطت سے بھارتی صحافی کلدیپ نائر کی ڈاکٹر خان سے ملاقات کرائی گئی تو انہوں نے بھارت کو پیغام بھجوایا ”کہ بھارت“ ایٹمی پاکستان ”سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے اس ملاقات کے حوالے سے بڑا ہنگامہ بھی ہوا لیکن مشاہد حسین سید کو قومی فریضہ ادا کرنے کے “جرم” پر جلد ہی“رہائی” مل گئی۔

ڈاکٹر اے کیو خان کی داستان حیات“ دیو مالائی ”شخصیت کی سی ہے جس نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے لئے اپنی ساری زندگی ایک“ قیدی ”کی طرح گزار دی اگر پاکستان یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل نہ کرتا تو کسی صورت ایٹمی قوت نہ بنتا ڈاکٹر خان نے ایٹم بم کی تمام ڈرائنگ محفوظ ہاتھوں کے سپرد کر دی تھی پھر کوئی شخص انہیں ایٹم بم کا خالق ہونے کے کریڈٹ سے محروم کر سکتا ہے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں ڈاکٹر اے کیو خان کی غلام اسحق کے سوا کسی حکمران سے نہیں بنی ان کا یہ کہنا ہے کہ“ اگر غلام اسحقٰ خان ڈاکٹر اے کیو خان پراجیکٹ سے منسلک نہ ہوتے اور اسے مالی وسائل کی فراہمی میں فراخدلی کا مظاہرہ نہ کرتے پاکستان کبھی ایٹمی قوت نہ بنتا ”

ڈاکٹر خان ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پر پاکستان آ گئے اور دنوں میں پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا خواب شرمندہ تعبیر بنا دیا

جب ایران اور لیبیا نے پاکستان کی طرف سے انہیں ایٹمی قوت بنانے میں مدد دینے کا اعتراف کیا تو اس کا سارا ملبہ ڈاکٹر اے کیو خان پر ڈال دیا گیا ان سے ان کے ”ناکردہ گناہوں“ کا اعتراف کروا ان کی تذلیل کی گئی جنرل پرویز مشرف نے ان کو ان اعزازات سے محروم کر دیا جو ان کو قومی خدمات پر دیے گئے تھے میں آج یہ بات برملا کہتا ہوں پاکستانی قوم نے ڈاکٹر اے کیو خان کی قدر نہیں کی زندہ قومیں اپنے قومی ہیروز کی قدر کرتی ہیں نواز شریف حکومت نے اسلام آباد ایکسپریس وے پر نصب چاغی پہاڑ کے ماڈل کو سڑک کی کشادگی کی آڑ میں فاطمہ جناح پارک میں ٹھکانے میں لگا دیا ہے ڈاکٹر اے کیو خان کی متاع حیات وہ میڈل و اعزازات ہیں جو ان کے ڈرائنگ روم میں سجے ہوئے ہیں یا جو کتب ان کے کارناموں کا احاطہ کرتی ہیں ایک وقت ایسا تھا پاکستان کے اندر بھی ایٹمی پروگرام پر بات کرنا ”جرم“ تصور کیا جاتا تھا جب 1998 میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی کلب کا از خود رکن بننے کا اعلان کیا تو عوامی جمہوریہ چین کے سوا ایٹمی کلب کے دیگر ارکان پاکستان کو رکن بنانے سے گریزاں رہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی امریکہ کو موقع ملتا ہے وہ یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے کیڑے نکالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے امریکی صدر جو بائیڈن جو بظاہر پاکستان دوست ہونے کے دعوے دار ہیں پاکستان کو آڑے ہاتھوں لینے سے باز نہیں آتے

اگرچہ پاکستان نے 24 سال قبل محفوظ طریقے سے ایٹمی دھماکے کر پوری دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہے اور اس کی کہیں سے لیکیج کا کوئی خطرہ نہیں پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اس نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے کے لئے باقاعدہ ”کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم“ قائم کر رکھا ہے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ”پاکستان شاید دنیا کی خطرناک ترین اقوام میں سے ایک ہے کیونکہ اس کے جوہری ہتھیار غیر منظم ہیں، دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، یہ کوئی مذاق نہیں، بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے کوئی نئی بات نہیں کی امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو محفوظ رکھنے کے پاکستانی عزم پر نہ صرف مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے بلکہ ان ایٹمی اثاثوں کو محفوظ رکھنے کی پاکستانی صلاحیت پر بھی اپنے امریکی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

بہر حال وفاقی کابینہ اور کور کمانڈرز کے اجلاسوں بھی امریکی صدر کے بیان کا نوٹس لیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان نے جوہری سلامتی کا نظام موثر بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں پاکستان نے امریکی صدر کے دشمنی پر مبنی بیان کو مسترد کر دیا ہے لیکن پاکستان کے عوام کو بحیثیت قوم ہر وقت خبر دار رہنا ہو گا اور اپنے ایٹمی اثاثوں کو عالمی طاقتوں کی“ نظر بد ”سے بچائے رکھنا ہے ڈاکٹر عبد القدیر خان نے پاکستان کے عوام کو جو“ تحفہ ”دیا ہے اس کی وجہ سے وہ بھارتی جارحیت اور بلیک میلنگ سے محفوظ ہو گیا ہے۔

Facebook Comments HS