تہجد


پہلی رات: اس کی آنکھ کھلی۔ لیکن اس کا پورا جسم جامد تھا۔ یوں جیسے صرف اس کا دماغ زندہ ہو اور اس کا نچلا دھڑ مردہ۔ حتی کہ حلق سے آواز نکلنا تک ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔ یوں جیسے زبان تالو سے جا لگی ہو جس نے آج تک ایک لفظ بھی ادا نہ کیا ہو۔ اسی بیڈ پر لیٹے وہ اپنی بیوی کو اٹھانے کی سکت بھی اپنے اندر نہیں پاتا تھا۔ تقریباً دس سے پندرہ منٹ تک وہ اسی طرح نیم مردہ رہا اور جب خود کو حرکت دینے کے قابل ہوا تو یوں لگا کہ ذہن جیسے بالکل خالی اور بوجھل ہو۔

کانپتے ہاتھوں اور نیم وا آنکھوں سے اس نے سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔ رات ایک بجے کا وقت تھا اور اس کی نیند ایک ڈراؤنے خواب نے جھٹ سے توڑ دی تھی۔ ابتدائی آدھے گھنٹے کی زبانی تسبیحات جو لیٹے لیٹے اس کی زبان سے ادا ہوئیں۔ اس کے بعد اگلے دو اڑھائی گھنٹے موبائل دیکھتے، سکرول کرتے کیسے سیکنڈوں میں گزرے۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ اور جب ہاتھ اسے پکڑے، نگاہیں اسے تکتے اور ذہن جاگ جاگ کے تھکنا لگا اور نیند کی جھپکی اسے بے خبر کرنے لگی۔ تب اس نے موبائل ایک طرف رکھ کے دوبارہ نیند کی آغوش میں پناہ لی۔

دوسری رات: آنکھ مشکل سے ہی لگی تھی۔ نیند گہری بھی نہیں تھی۔ سوئی جاگی کیفیت۔ بالآخر جب کروٹیں بدل بدل کر اس کی بس ہو گئی تو وہ اٹھ بیٹھا۔ سامنے دیوار گیر گھڑی کے بڑے بڑے ہندسے، زیرو پاور کی روشنی میں رات کے تین بجنے کا پتہ دے رہے تھے۔ وہ لیٹے سے اٹھ کے بیٹھ گیا۔ کمرے میں خاموشی، خنکی اور نیم تاریکی تھی۔ کچھ دیر غائب دماغی سے وہ وہیں بیٹھا رہا۔ پھر چپل اڑسے، واش روم گیا اور کھڑکی کے ساتھ رکھی کرسیوں میں سے ایک پر آرام دہ حالت میں بیٹھ گیا۔ پاؤں سامنے دھرے چھوٹے، نرم اسٹول کم سٹوریج پر رکھ دیے۔ کھڑکی کے شیشے سے باہر آسمان اور اس پر چمکتے ستارے تک نظر آ ر ہے تھے۔ وہ پندرہ بیس منٹ یونہی بے مقصد وہاں بیٹھا رہا۔ اور پھر وہاں سے بیزار ہو کے دوبارہ اپنے بستر پر آ کے لیٹ گیا۔ اور دوبارہ سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔

تیسری رات: آنکھ یک دم جھٹکے سے کھلی تھی۔ حلق میں جیسے کانٹے اگ آئے ہوں۔ ہونٹ الگ خشک ہو رہے تھے۔ سینے میں جلن کا احساس بھی تھا۔ اس نے پاس لیٹی بیوی کو آواز دے کر جگانے کی ہمت کی لیکن وہ بے خبر گہری نیند میں تھی۔ پانی کا جگ دیکھا تو وہ بھی خالی تھا۔ وہ بے چینی سے کچن تک گیا اور تین گلاس پانی اوپر نیچے پی گیا۔ یوں جیسے صحرا کے لمبے سفر سے لوٹا ہو۔ کچن سے واپسی پر وہ بیڈروم جانے کی بجائے لاؤنج کے ایک صوفے پر الٹا سیدھا لیٹ گیا۔

پورے گھر میں ایک ترتیب، سلیقہ اور رنگ تھا جو آدھی رات میں اٹھنے پر بھی ہر جگہ دیکھا جا سکتا تھا۔ لیکن کوئی بھی چیز اس کو اپنی طرف راغب نہیں کر پا رہی تھی۔ بیچ میں اس نے ایک دفعہ کتابوں کی الماری سے محسن نقوی کی عذاب دید بھی اٹھائی لیکن پھر اسے بھی غیر دلچسپی سے ایک طرف کر دیا۔ اور اسی حالت میں کب وہ لونگ کے صوفے پر سو گیا۔ اسے نہیں معلوم۔

چوتھی رات: وہ آج سو ہی نہیں پایا۔ صبح آنکھ کھلتے ہی جو خبر کانوں کو سننے کو ملی اور آنکھوں کو دیکھنے کو۔ اس نے اس کے دل کو جیسے چیر کے رکھ دیا۔ اذیت حد سے سوا تھی۔ حق اور سچ کے مسافر ارشد شریف کو دیار غیر میں قتل کر دیا گیا۔ اس کی مہاجری، اس کی دکھی ماں، اس کی بے وطنی کا لحاظ بھی نہ کیا گیا۔ جس کا باپ، بھائی پہلے ہی وطن کی خدمت کرتے کرتے گزر گئے۔ اس خانماں خراب اور آخری چراغ کو بھی نہ بخشا گیا۔ صبح سے دوپہر، پھر شام اور اب رات کے گھپ اندھیرا ہو گیا۔

سرکتے سرکتے درمیانی شب کے لمحے پھر سے دہلیز کو چھو رہے ہیں۔ اور جس بے چینی نے اسے تادم صبح اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ اس پہر تک وہ اس میں جکڑا گیا تھا۔ اداسی، فکر، یاسیت وہ سب کے گھیرے میں تھا۔ پورے گھر میں کبھی بیڈ روم، کبھی لونگ روم، کبھی اوپر اور کبھی نیچے وہ چکراتا پھر رہا تھا۔ اور پھر لان میں نکل آیا۔ پودے چپ لیکن سامع بنے بیٹھے تھے۔ ہوا سرد اور مدھم تھی۔ اور اوپر آسمان خالی اور دھندلا تھا۔ یوں جیسے ابھی برسا۔

وہ بنا چادر اور سویٹر کے ادھر آ بیٹھا تھا تو اب کپکپی طاری ہونے کا احساس ہوا۔ اٹھ کے اندر جانے ہی لگا تھا کہ اذان کی آواز سنائی دی۔ حیرانی سے کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا تو وہی اڑھائی بجے تھے۔ اچنبھے سے سوچا کہ فجر کا وقت تو ابھی دور ہے۔ پھر یہ کیا؟ سوچتے، چلتے وہ بیڈ روم میں پھر بستر تک آ گیا۔ اوہ، یہ تو تہجد کی گھڑیاں ہیں۔

بڑے مشینی انداز میں وہ واش روم گیا اور وضو کر کے باہر آ گیا۔ کھوئی کھوئی کیفیت۔ اسی حالت میں باہر نکل کے الماری سے جائے نماز نکال کے لے آیا۔ زمین پر بچھا کے دو نفل نماز کی نیت کی اور اللہ اکبر کہنے کو ہاتھ بلند کر دیے۔ یکسوئی کم تھی۔ اوپر نیچے سبھی رکن پورے ہو رہے تھے۔ لیکن پچھلی اتنی راتوں کی بے چینیاں جیسے دھل کر سکون میں بدل رہی تھیں۔ بے دلی کو ایک سمت مل رہی تھی۔ پتہ نہیں رات کا فسوں تھا یا اس حاضری کا جسے رب نے تہجد کا نام دیا ہے۔

لغت میں اس کے معانی بیداری یا خواب، سونا اور جاگنا ہیں۔ یعنی آدھی رات کے بعد کی نفل نماز۔ سترہویں سورت میں آنے والا یہ لفظ، قرآن میں ایک مرتبہ لکھا گیا ہے۔ لیکن اس میں جادو ہے۔ شاید وہی اس تک آپا تے ہیں جو قربانی دینا جانتے ہیں۔ تنہائی کے متلاشی ہیں۔ لیکن سننا اور سنانا بھی چاہتے ہیں۔ رونے کو کوئی پوشیدہ کونہ ڈھونڈتے ہیں۔

خیر دعا مانگتے اسے اپنے باپ کی یاد آنے لگی۔ جسے اس نے اپنے بچپن سے جوانی تک راتوں میں، چپکے سے مصلی بچھاتے اور گریہ و زاری کرتے دیکھا تھا۔ راتوں میں وہ بھلے کیسا ہی کمزور اور دکھی ہو لیکن دن اس کے دن بہت مطمئن ہوتے تھے۔ نیند گہری، پر سکون اور آسودہ ہوتی تھی۔ اسے یقیناً اس پکار پر لبیک کہنا آتا تھا جو شب کی سیاہی میں رب کائنات کی طرف سے پورے جگ میں گونجتی ہے لیکن اس کو سننے والے خوش قسمت بہت کم ہیں۔

اور ادھر زمین کی طرف دیکھیں تو پانچ راتوں کا جاگا وہ، بغیر تکیے، چادر اور کمبل، بے سدھ سو چکا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments