ارشد شریف کا قاتل کون؟

ملکی سیاست میں ہمیشہ کی طرح پھر ہلچل ہے۔ بظاہر عمران خان کی سیاست کا خاتمہ ہوا چاہتا تھا، الیکشن کمیشن اسے نا اہل قرار دے چکا تھا اور امکان یہ ہی تھا کہ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ بھی اس فیصلے کو برقرار رکھیں گی۔ حکومت وقت نے بظاہر چیف جسٹس سے غیر علانیہ معاہدہ کر لیا تھا اور اٹارنی جنرل اور وزیر قانون دونوں نے اپنا ووٹ چیف جسٹس کے نامزد کردہ ججز کو دے کر ان کی تعیناتی کو آسان کر دیا تھا۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر معاہدہ ہو گیا ہے، ڈالر نیچے آ رہا تھا اور حکومت کے پاؤں مضبوط ہو رہے تھے، پھر اچانک سیاست میں ہلچل شروع ہو گئی۔
مشہور صحافی ارشد شریف کینیا میں قتل کر دیے گئے اور قتل کی ذمہ داری کینیا کی مقامی پولیس نے قبول کر لی۔ جس نے اپنے تین الگ الگ بیانات میں اس قتل کو محض شناخت نہ ظاہر کرنے اور ناکے پر نہ رکنے کو وجہ قرار دیا تاہم یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ ہر بیان میں پولیس ترجمان نے ناکہ لگانے کی وجوہات الگ الگ بیان کیں مثلاً بچہ اغوا ہو گیا تھا اور گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی تھی، گاڑی پر شک تھا کہ یہ اسمگلروں کی گاڑی ہے، ایک گاڑی چھین لی گئی تھی جس کی تلاش جاری تھی۔ پولیس نے گاڑی کی تصاویر بھی جاری کیں جس میں گاڑی کو پیچھے سے نشانہ بنانے کے ثبوت مہیا کیے گئے ہیں مگر سب جانتے ہیں کہ گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ کھلوا کر فائرنگ کرنے کے بعد گاڑی کو پیچھے سے نشانہ بنا کر کیس کی تفتیش کا رخ بدلنے کے امکانات زیادہ ہیں اور اکثر فلموں میں دکھائے جانے والے ایسے ہی مناظر سے لوگ کافی حد تک اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایک عرصے تک تفتیشی صحافت کرنے کے بعد میں بھی اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا قتل ہے اور اسے محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دے کر فراموش کرنا ہر صحافی اور ادیب کے لئے خطرناک ہو گا اور اگر اس طرح کی ہلاکتوں پر صدائے احتجاج بلند نہ کی گئی تو پھر ایک ایک کر کے ہر وہ شخص مارا جائے گا جس کے منہ میں زبان اور ہاتھوں میں قلم ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں اور اس قتل کے محرکات کیا ہوسکتے ہیں، پھر یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اس قتل سے کس کو زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔
ارشد شریف کے قتل کی افسوسناک خبر کے آتے ہی سوشل میڈیائی دانشوروں کے ایک طبقے نے اس کا الزام پاکستانی فوج پر لگا دیا، ان کا خیال تھا کہ ارشد شریف گزشتہ کچھ عرصے سے فوج کے خلاف پروگرام کر رہے تھے اور عمران خان کا قریبی ساتھی ہونے کی وجہ سے فوج ان کی مخالف تھی۔ پھر جس انداز سے قتل کیا گیا اس انداز سے قتل صرف ایجنسیاں ہی کروا سکتی ہیں۔ ان کے دلائل میں وزن ہونے کے باوجود ان کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا جس کی کئی وجوہات ہیں۔
1) ارشد شریف نے ہمیشہ فوج کا ساتھ دیا اور اگلے مورچوں پر جا کر فوج کی حوصلہ افزائی کے پروگرام کیے۔ انہیں ایسے ایسے حساس مقامات تک رسائی دی گئی جہاں کسی اور صحافی کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
2) ارشد شریف کے والد محمد شریف نیوی میں کمانڈر تھے اور ان کے بھائی میجر اشرف شریف اپنے والد کی نمازجنازہ میں شرکت کے لئے آتے ہوئے دہشت گردی کا شکار ہوئے تھے۔ ایک فوجی گھرانے سے منسلک ہونے کی وجہ سے بھی وہ فوج کے لئے پسندیدہ تھے۔
3) محض ایک پروگرام فوج کے خلاف (اگر اس پروگرام کو بھی دیکھا جائے تو وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ عمران خان کے حق میں تھا) فوج ایسا انتہائی قدم نہیں اٹھا سکتی۔
بے نظیر بھٹو کی شہادت پر شیخ رشید نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی بھی قتل کے محرکات کا اندازہ لگانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دیکھا جائے اس قتل سے کس کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا۔ پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے بھی کسی اندھے قتل کی تفتیش کے آغاز میں سب سے پہلے ان ہی لوگوں پر شک کرتی ہے جنہیں قتل سے فائدہ پہنچنے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر ہم اس مفروضے کو دیکھیں اور جیسا کہ کچھ دانشور اشارتاً کہہ بھی رہے ہیں کہ ارشد شریف کے قتل کا سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو ہو گا کیونکہ اس قتل سے فوج، اداروں اور موجودہ حکومت کے خلاف عوامی غیظ و غضب میں اضافہ ہو گا۔ عمران خان کی اداروں کے خلاف تحریک اور موقف دونوں کو تقویت ملے گی اور عمران خان کا اعلان کردہ لانگ مارچ کامیاب ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ عمران خان نے اس قتل کے فوراً بعد لانگ مارچ کا اعلان کر کے ان الزامات اور خدشات کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔
دوسری طرف کل ڈی جی آئی ایس پی آر نے ارشد شریف کے قتل میں فوج کے ملوث ہونے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے حکومت سے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دیکھنا ہو گا کہ کس نے ارشد شریف کو ملک چھوڑنے کا کہا۔ ان کے بیان کے آس پاس ہی عمران خان نے پشاور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے ارشد شریف کو ملک چھوڑنے کا کہا تھا“ ، انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ”مجھے پتہ ہے کہ ارشد شریف کو ٹارگٹ کر کے قتل کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہ ”ارشد شریف کو دھمکیاں مل رہی تھیں“ ، ان سارے بیانات کے بعد عمران خان نے ارشد شریف قتل کیس میں اپنی گرفتاری کے لئے حکومت وقت کو جواز فراہم کر دیا ہے۔ انہیں اس قتل کیس میں تفتیش کے لئے گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اگر گرفتار نہ بھی کیا جائے تو انہیں شامل تفتیش کیا جا سکتا ہے کیونکہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اسے کسی قتل کے متعلق معلومات ہیں تو اس کا شامل تفتیش کرنا بنتا ہے۔
اس بیان کے بعد عمران خان دو دھاری تلوار پر چل رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ عمران خان چونکہ پشاور میں یہ بیان دے چکے تھے جس کے بعد انہیں ان کے قانونی مشیروں نے انہیں بتایا کہ آپ یہ بیان دے کر بہت بڑی غلطی کر چکے ہیں۔ آپ کو تفتیش کے نام پر گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ جس کے بعد انہوں نے اچانک لانگ مارچ کا اعلان کر دیا تاکہ حکومت دباؤ میں آ جائے اور ان کی گرفتاری سے گریز کرے اور اگر وہ گرفتار کر بھی لیے جائیں تو ان کے ترجمان یہ موقف اختیار کر سکیں کہ حکومت نے لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ بظاہر عمران خان کے لئے حالات کسی بھی طرح سازگار نہیں ہیں اور وہ اپنی زبان پر قابو نہ کر سکنے کی وجہ سے مسلسل عتاب میں ہیں۔
حکومت وقت نے ایک تفتیشی ٹیم بنا دی ہے اور وہ ٹیم چند دنوں میں کینیا جا رہی ہے جہاں وہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرے گی۔ جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے اور امکان ہے ایک آدھ دن تک اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔
ارشد شریف نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی طور پر ایک جانے پہچانے صحافی تھے اور انہوں کئی بڑے سکینڈل بے نقاب کیے۔ ان کی سیاسی وابستگی اور جھکاؤ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ سیاست دانوں کی موت، دوسرے صحافیوں کی گرفتاری، ان پر قاتلانہ حملوں، انہیں ملازمتوں سے نکالنے اور تشدد کے واقعات پر ارشد شریف کے تبصروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے مگر کسی بھی صورت ان کے قتل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میں بطور ادیب اور صحافی ارشد شریف کے قتل پر ہمیشہ احتجاج کرتا رہوں گا اور حکومت سے یہ مطالبہ بھی کہ اس قتل کی صاف و شفاف تفتیش کر کے قتل میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

