پروفیسر مسکین احمد منصور: ایک استاد، ایک ادارہ

استاذی پروفیسر مسکین احمد منصور کا شمار پتلون قمیض پہن کر صرف تنخواہ وصول کرنے والے اساتذہ میں نہیں ہوتا بل کہ ان کی شخصیت درس و تدریس اور علم و ادب کے ذریعے انسانیت کی بلا امتیاز اور بے لوث خدمت کے سبب ایک ادارے کی حیثیت رکھنے کے ساتھ انگریزی کے اس محاورے
”Respect Is Commanded Not Demanded“
کی بھی خوب صورت عملی تصویر ہے جو عصر حاضر میں عنقا ہیں۔
وہ 8، نومبر، 1938 ء کو فیصل آباد (لائل پور) میں پیدا ہوئے۔ ان کی شخصیت پر والدین کے علاوہ ان کے اساتذہ بالخصوص ڈاکٹر محمد احسن فاروقی نے بے انتہا اثرات مر تب کیے بقول پروفیسر مسکین ”یہ سب علم کا سمندر تھے میں ان ہی کی دی ہوئی تعلیم و تربیت کی بدولت بہت کچھ سیکھ پایا ہوں“ یہ بیان کرتے وقت خوشی سے ان کی آنکھیں نم ناک ہوجاتی تھیں جو ان کی اپنے اساتذہ سے محبت کی واضح عکاسی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس دور کی نام ور علمی و ادبی شخصیات مثلاً ڈاکٹر الیاس عشقی، پروفیسر خالد وہاب، ڈاکٹر حسن منظر اور زبید احمد فردوسی جیسی نابغہ روزگار شخصیات کی صحبت سے بھی بہت کچھ سیکھا۔
حیدرآباد دکن کے رسالے شعر و حکمت کے علاوہ چہار سو، دنیا زاد اور اخبار جہاں سمیت دیگر کئی موقر ادبی جرائد میں بھی ان کی تحریریں شائع ہوئیں۔ انہوں نے 1990 ء کی دہائی میں انگریزی اخبار ”ڈان“ میں دو سال تک کالم لکھے جس میں آپ نے معاشرے کے اہم مسائل کو اجاگر کیا جن کو قارئین میں مقبولیت حاصل ہوئی۔
1966 ء میں سندھ یونی ورسٹی سے ایم اے انگریزی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے مختلف اہم تعلیمی اداروں میں تدریس کے فرائض انجام دیے اور ہزاروں افراد کو علم کی روشنی سے سرفراز کیا۔
انہوں نے طالب علموں کی درخواست پر ان کی سہولت کے لیے نصاب میں شامل ارنسٹ ہیمنگوے کے نوبل انعام یافتہ مختصر ناول ”دی اولڈ مین اینڈ دی سی“ اور تھری ون ایکٹ پلیز پر نوٹس لکھے جو کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیں۔ 1980 ء کی دہائی میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے آٹھویں جماعت کی انگریزی کتاب مرتب کرانے کی غرض سے ان کی خدمات بھی حاصل کیں اور ان کے تحریر کیے گئے اسباق میں سے دو سبق فتح مکہ اور چاند بہت پسند کیے گئے۔
وہ وقت کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کی سختی سے پابندی کرنے والے تھے اسی لیے غیر ضروری گفت گو سے پرہیز کرتے تھے۔ مسکین صاحب کالج میں ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھتے اور لابنگ سے کوسوں دور رہتے تھے۔ انہوں نے پڑھانے میں کبھی کوتاہی نہیں کی، کئی شرارتی طالب علم جو امتحان سے کچھ عرصے قبل پڑھنا شروع کیا کرتے تھے مگر ڈرتے تھے کہ کہیں وہ فیل نہ کر دیں لیکن جب وہ دیکھتے تھے کہ وہ جو امتحانی کاپی میں لکھ کر آئے ہیں اتنے ہی مارکس انہوں نے حاصل کیے ہیں اور وہ پاس ہو گئے ہیں تو ان کی نگاہوں میں آپ کا مقام مزید بلند ہو جاتا تھا اور وہ کسی کی کلاس میں چین سے بیٹھیں نہ بیٹھیں ان کی کلاس میں دلچسپی کے ساتھ لیکچر سنا کرتے تھے۔
ان کا نظریہ تھا کہ ”تعلیم وہ ہوتی ہے جو انسان بھولے نہیں، نصاب تو کوئی بھی پڑھا دیتا ہے لیکن ایک استاد کو اس طرح پڑھانا چاہیے کہ وہ طلبہ کو یاد رہے جس کے لئے نصاب سے ہٹ کر دوستانہ ماحول میں معیاری ادبی کتابوں، فلموں اور ڈراموں وغیرہ پر بھی گفتگو ہونی چاہیے“ جس پر وہ باون سالوں تک عمل پیرا رہے کیوں کہ یہ ان کا کامیاب تجربہ تھا اور بقول ان کے اس انداز تدریس سے اساتذہ اور طالب علموں میں مکالمے کا عمل زیادہ پیدا ہونے سے ان میں انسیت اور قربت بڑھتی ہے، نئے نئے خیالات جنم لیتے ہیں، طالب علموں پر نصاب پڑھنے کا دباؤ کم ہوتا ہے اور ان کی دلچسپی نصابی و مثبت غیر نصابی سرگرمیوں پر مرکوز ہو جاتی ہے جس کی بدولت ان کے شعور کو وسعت ملتی ہے جو ایک انصاف پسند، پر امن، اعتدال پسند، روشن خیال اور ترقی پسند معاشرے کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
وہ طالب علموں کو تحقیق کی جانب راغب کرتے ہوئے سمجھاتے تھے کہ اطلاع اور علم دو الگ الگ چیزیں ہیں لہذا ہر پڑھی ہوئی، ٹیلی ویژن، ریڈیو یا سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل ہونے والی اطلاع پر فوری اعتبار نہ کریں بل کہ پہلے اس کی تحقیق کریں اور اگر وہ اطلاع درست ثابت ہوتو پھر اس کو مانیں ورنہ نہیں کیوں کہ بغیر تحقیق کیے کسی اطلاع کو مان لینا علم حاصل کرنا نہیں ہوتا اس طرح آپ کچھ سیکھ نہیں سکتے ہیں۔
آپ طلبہ کو بتاتے تھے کہ دو طاقتیں ”خیال اور دولت“ دنیا پر حکومت کرتی ہیں جن میں سے خیال زیادہ موثر اور دیرپا ہوتا ہے جس کی ایک مثال ٹیکنالوجی ہے جو خیال کی پیداوار ہے یہ صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس کی اہمیت رہے گی جب کہ دولت تو عربوں کے پاس بے تحاشا ہے لیکن ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے اور یاد رہے خیالات اسی معاشرے میں جنم لیتے ہیں جہاں کی درس گاہوں سے طالب علموں کو نصاب اور نصاب سے ہٹ کر مکالمہ کرنا سکھایا جاتا ہو، جہاں مثبت بحث و مباحثہ ہوتا ہو اور جہاں اختلاف رائے کی اجازت ہو لیکن صد افسوس ہمارے معاشرے میں ایسی کوئی درس گاہ نہیں ہے۔
09، اکتوبر، 2022 کو پروفیسر مسکین احمد منصور کے انتقال کی خبر نے افسردہ کر دیا اور اسی دوران مجھے شاعر عبید اللہ علیم کا یہ شعر یاد آیا جس سے کچھ صبر حاصل ہوا،
اندر بھی زمیں کے روشنی ہو
مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے

