جنت ارضی میں گزرے چند ایام کا تذکرہ (1)


نیلے آکاش پہ تیرتے آوارہ بادل، گھنا جنگل، فلک بوس پہاڑوں کے اوپر اگی گھاس اور اس پہ لگا گھنا جنگل چیڑ چنار اخروٹ اور دیودار کے درخت ان درختوں کی شاخوں سے چھن کے آتی سورج کی روشنی، ٹھنڈیاں ہوا جب ان درختوں کے بیچ سے گزرتی ان کو گدگداتی تو دنیا کی خوبصورت ترین موسیقی سنائی دیتی نیچے بہتا دریائے نیلم کا نیلگوں پانی منظر ایسا دلفریب کہ نظر ہٹائے نا ہٹے ایسا دلربا نظارہ کہ دل کبھی سیر نا ہو میں نے پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے ایک لمبی سانس کھینچی اور ان سب درختوں اور نباتات کی خوشبو اپنے روح میں اتار لی منظر ذہن کے کینوس پہ اور مہک میرے رگ و پے میں سرایت کر گئی، اگلے ہی پل مجھے وہ سانس منہ کھول کے واپس لوٹانی پڑی کیونکہ میں ہانپ رہا تھا آکسیجن کی کمی مسلسل چڑھائی اور تھکن کی وجہ سے اوپر چڑھتے ہوئے ہمیں کافی دیر ہو گئی تھی ہم براستہ سڑک کیل کے گاؤں تک پہنچے تھے کیسے پہنچے تھے یہ ایک الگ داستان ہے وہاں سے اڑنگ کیل کے لئے بذریعہ کیبل کار رسائی حاصل کی کیل اور اڑنگ کیل کے گاؤں دو پہاڑیوں کے دامن میں آباد ہیں ایک پہاڑی پر کیل ہے اور سامنے پہاڑیوں کے دامن میں اڑنگ کیل کا گاؤں ہے درمیان میں دریائے نیلم حائل ہے اسے پار کرنے کے لئے کیبل کار کی سہولت موجود ہے دونوں پہاڑیوں کے درمیان ایک کیبل لگائی گئی ہے اس پر ایک کیبن سا بنا ہے جس میں بیک وقت آٹھ افراد آمنے سامنے بیٹھ کر سفر کر سکتے ہیں اسے مقامی زبان میں ڈولی کہتے ہیں ویسے تو ہیر ڈولی چڑھتی ہے مگر یہ رانجھے ڈولی چڑھ رہے تھے ”ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکاں“ چیخیں تو رانجھوں نے بھی ماری تھیں مگر ان چیخوں میں درد یا وچھوڑا نہیں ولولہ تھا جوش تھا جنون تھا ایڈونچر تھا ہم سے دو سو روپے فی کس کرایہ وصول کیا گیا تھا آنے جانے کا رانجھے ڈولی چڑھتے اور وہ بھی کرایہ دے کر چڑھتے پہلی بار دیکھے تھے عجب منظر تھا، راوی اس پر پتہ نہیں کب لکھے گا فی الحال تو اسے چڑھائی درپیش تھی جہاں پر کیبل کار کا سٹیشن ہے وہاں سے آگے سیدھی چڑھائی ہے جو اپنے زور بازو نہیں بلکہ اپنے زور قدم سے چڑھی جاتی ہے۔

اس طرح یہ دشوار گزار رستہ عبور کر کے اڑنگ کیل تک رسائی ممکن ہے۔ اسی طرح ہم بھی اس جنت نظیر وادی کے ایک جنت نظیر گاؤں کی طرف رواں دواں تھے، ویسے تو سنا ہے اس طرف آنے کا ایک ٹریک بھی ہے نیچے سے اوپر سارا رستہ پیدل طے کیا جاتا ہے مہم جو فطرت کے رسیا، سر پھرے، من چلے اور ایڈونچر پسند لوگ ڈولی کی بجائے اسے پسند کرتے ہیں مگر ہمارے ہم ایسے سہل پسند لوگوں کے لئے یہی ٹریکنگ کافی تھی اتنا ایڈونچر اور تھرل کافی ہے زندگی میں۔

فراز کوہ سے آتی کوہستانی ہوا کے ایک جھونکے نے میرے چہرے کو تھپتھپایا پیار سے میرے بال بکھرائے میں بھی مسکرایا مگر من ہی من میں کیونکہ مسکرانے کے لئے منہ بند ہونا ضروری ہوتا ہے مگر میرا منہ پہلے ہی کھلا تھا ہانپنے کے لئے۔ مست ہوا کے جھونکے نے میرے چہرے کا طواف کرنے کے بعد اردگرد موجود سر سبز و شاداب درختوں کے پتوں کو ہلایا ایک ارتعاش سے بھرپور موسیقی نے جنم لیا مجھے یوں لگا جیسے مجھے حوصلہ دیا گیا ہو کہ ہمت نا ہارو آگے بڑھو بالکل ایسے جیسے چھوٹے بچوں کو بہلانے کے لئے چیزوں کو بجا کر شور کیا جاتا ہے ، سبزہ درخت اور چڑھائی بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے، ہوووووو ایک زور کی آواز گونجی جیسے جنگلی لوگ نکالتے ہیں مگر آواز میں شوخی تھی شرارت تھی زندگی سے بھرپور ایک آواز تھی جنگل سے واقعی ایسا ہی لگتا تھا کہ ہم کسی ایمیزون کے جنگل میں آ گئے ہیں بلکہ رستہ بھٹک گئے ہیں، ابھی جنگلی بڑے بڑے نیزے پکڑ کے آئیں گے اور ہمارے اردگرد رقص شروع کریں گے مجھ سے آگے چلنے والے سلیم نے بھی ویسی ہی آواز نکالی، اوپر سے منچلوں کی ایک ٹولی نیچے اتر رہی تھی اٹکھیلیاں کرتے ایک دوسرے پر آوازیں کستے تیزی سے نیچے آرہے تھے اوپر کیا ہے؟

میں نے پوچھا وہی ہے جو نیچے ہے جواب آیا مطلب درخت گھاس پتے سبزہ پھل پھول کتنا سفر باقی ہے؟ میرا دوسرا سوال تھا بس پہنچ گئے بادشاہو ہمت کرو اگلا جواب آیا حالانکہ میں نے ابھی تھوڑا سا فاصلہ طے کیا تھا یار اوپر کچھ بھی نہیں ہے ٹولی میں سے ایک ممبر نے مجھے مزید بد دل کرنا چاہا، پہاڑی علاقے میں ٹریکنگ کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے اور اس کے لئے بہترین ٹریک ہے اڑنگ کیل، قدرت کے قریب رہنے کا اور فطرت کو اپنے اندر اتارنے کا بہترین مقام، اوپر چڑھتے ہوئے یوں لگ رہا تھا گویا ہم جنت کی طرف جا رہے ہیں اور رستہ پل صراط ہے اور ہمارے اعمال مطلب بیگ ہمارے پیچھے لدے ہوئے تھے ہر شخص اپنے اعمال کا وزن اٹھا کے چل رہا تھا قطار اندر قطار بڑھے چلے جا رہے تھے رستہ اتنا خوبصورت تھا تو منزل کیا ہوگی۔

سامنے دیکھا ایک خاتون سامنے بیگ رکھے ہوئے اپنی چھڑی کے سہارے بیٹھی تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ گری ہوئی تھی اس کا جسم عبایہ کے اندر بالکل ساکت تھا کوئی جنبش اس کے وجود میں نا تھی اس نے دونوں ہاتھوں سے چھڑی کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا وہ بالکل نڈھال سی ہو گئی تھی۔ نقاہت تو مجھ پر بھی طاری تھی مگر میں ظاہر نہیں کر رہا تھا کہ طاہر کر کے بھی کیا کروں گا اس سے کیا ہو جائے گا کیا فرق پڑے گا اپنے حصے کا سفر تو کرنا ہے اپنا فاصلہ تو خود طے کرنا ہے اپنی جنگ تو خود لڑنی ہوتی ہے اسے بھی اوپر جانا تھا مگر رستے کی کٹھنائیوں سے ڈر گئی تھی شاید اس کی ہمت بھی جواب دے گئی تھی میری بھی ہمت جواب دینے لگی مگر پھر سوچا میرے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے سوائے آگے بڑھنے کے اور یہی چیز مجھے مہمیز کر رہی تھی اور یہی چیز زندگی میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

میرا لیڈر سب سے آگے تھا چونکہ وہ ان علاقوں میں پہلے آ چکا تھا اسے سب پتہ تھا ان سب رستوں کا میں نے خاتون کے پاس سے گزرتے ہوئے بلند آواز سے کہا سلیم شاباش ہمت پکڑو بس تھوڑا سفر باقی ہے اٹھو اور چلو بس چلتے رہو اس خاتون کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی انسان جب ہمت ہار جائے تو اسے کوئی موٹیویشن نہیں ہوتی کوئی جو مرضی کہتا رہے۔

زگ زیگ رستے نے ایک موڑ لیا جو کہ اوپر جا رہا تھا سامنے ایک بڑا سا درخت تھا میں اس کے تنے سے گلے لگنے کے سے انداز میں چمٹ گیا اس پر لگے ہاتھوں کے نشان اور اس کی چھال جو سامنے سے گھسی ہوئی تھی جس سے پتہ چلتا تھا کہ مجھ جیسے کتنے ہی تھکے ہارے لوگ اس درخت سے گلے آ لگتے ہیں ایسے لوگ اور ایسے درخت کمال کے ہوتے ہیں جو دوسروں کو سہارا دیتے ہیں جن سے لگ آپ اپنا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں اپنے گلے شکوے ان سے کر کے اپنے دکھ درد ان کے سپرد کر کے آپ بے فکر ہو جاتے ہیں، مجھے رکتا دیکھ کر میرے پیشرو نے چیخ کر کہا رکنا نہیں ہے اور میں پھر چل پڑا اس کے پیچھے بالکل اس بچے کی طرح جو اپنے ماں باپ کے ساتھ ہو اور ان کو نظروں سے اوجھل نا ہونے دے کہ کہیں میں کھونا جاؤں سلیم نے زگ زیگ رستے کی بجائے شارٹ کٹ استعمال کیا اور سیدھا اوپر چڑھنے لگا میں ظاہر ہے اس کے پیچھے تھا کیونکہ میں اسے نظروں سے اوجھل کرنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا میں نے جھک کر اوپر کھڑے درخت کی جڑیں پکڑیں اور خود کو گھسیٹ کر اوپر اٹھایا میری کمر پر لدے میرے بیگ کی وجہ سے مجھے سب سے زیادہ دشواری ہوئی اوپر جا کے میں رک گیا میں نے بڑی مشکل سے ہانپتے ہوئے سلیم سے کہا کہ ہم اوپر کیوں جا رہے ہیں؟

اوپر کیا ہے؟ میں واپس جا رہا ہوں سلیم نے کہا یار وہ دیکھو نیچے عاقب اور حمزہ چلے آرہے ہیں دیکھو وہ شہر کے برگر بچے ہیں برائلر کی پیداوار اور تم گاؤں کے مضبوط پلے بڑھے شخص ہو اور تم نیچے رہ جاؤ تو کتنے شرم کی بات ہے سلیم مجھ سے اوپر کھڑا مجھے عار دلا رہا تھا میں نے نیچے جھانکا کچھ لڑکیاں اور خواتین نیچے سے اوپر چڑھی آ رہی تھیں لڑکیوں کی تو خیر تھی کیونکہ ہم صنف نازک کو کمتر نہیں سمجھتے مگر عمر رسیدہ خواتین کا مجھ سے پہلے اوپر چڑھ جانا واقعی باعث شرم ہو سکتا تھا چنانچہ میں نے بھی اپنی آخری ہمت مجتمع کی اور بھاگ کھڑا ہوا مگر اپنے کی من میں حقیقت میں تو میں کھسیٹ رہا تھا۔ رستے کی دشواری خوبصورتی درختوں کی تعداد اور میری تھکن بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی،

اوپر سے ایک لڑکی اور لڑکا اتر رہے تھے ایک دوسرے کا سہارا بن کر دونوں نے جینز شرٹس پہن رکھی تھی لڑکی کی جینز شرٹ سفید تھی اور لڑکے کی بلیو ایسے ماحول میں سفید لباس بڑا ہی عجیب انتخاب تھا میرے قریب آ گئے تو میرے منہ سے بے اختیار نکلا سبحان اللہ دونوں نے چونک کر میری طرف دیکھا اس سے پہلے کی کوئی تماشا بنتا میں نے پیچھے بلکہ مجھ سے کافی نیچے آتے حمزہ کو مخاطب کر کے کہا حمزہ جانی نیچے اترنے کی دعا ہے سبحان اللہ اور اوپر چڑھنے کی دعا ہے اللہ اکبر دونوں خاموشی سے میرے پاس سے گزرتے ہوئے نیچے چلے گئے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا انہوں نے ہمیں رستے میں کراس کیا تھا دونوں بائیکر تھے اس وقت لڑکی بائیک چلا رہی تھی اور چہرے کو اچھی طرح سے ڈھانپا ہوا تھا اس کا مکمل سفید لباس حتیٰ کہ بوٹ تک سفید تھے اس یہی انفرادیت اس کی پہچان کا سبب تھی انفرادیت ہمیشہ آپ کو ممتاز کرتی ہے

ذہن و دل میں جنگ جا رہی تھی مگر میں رکا نہیں تھا کیونکہ میں اپنے پیشرو کو کھونے کا رسک نہیں لے سکتا تھا میں اس کی پیٹھ کے پیچھے لگا ہوا تھا مجھے اس علاقے کے بارے میں کچھ بھی اندازہ نہیں تھا نا کوئی مطالعہ کیا تھا نا ہی کوئی گائیڈنس لی تھی اور نا ہی کوئی معلومات تھیں میرے پاس کیونکہ اچانک مجھے یہ سفر کرنا پڑا تھا وہ بھی بالکل شارٹ نوٹس پہ۔ اوپر سے ایک گارڈ کی وردی میں ملبوس شخص نے نیچے جھانکا وہ شاید رستے کی نگرانی کر رہا تھا کہ کوئی حادثہ نا ہو جائے کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ میرا ہاتھ پکڑے سہارا دے کر منزل مقصود پر پہنچا دے ایک خواہش من میں جاگی مگر ہر خواہش پوری ہونے والی تھوڑی ہوتی ہے خوش قسمت لوگوں کو ہاتھ سے پکڑ کر منزل مقصود پر پہنچا نے والے مل جاتے ہیں، مگر اس کا کام صرف رستے پر نظر رکھنا تھا شاید خاموش تماشائی بس۔

سامنے اخروٹ کا بڑا سا درخت تھا اس پر سبز رنگ کے کچے کچے اخروٹ لگے ہوئے تھے میں نے اس کو ہاتھ لگا کر آگے بڑھ گیا کیونکہ مجھے دور جانا تھا شاید آسمان تک فراز کوہ سے کچھ خواتین اتر رہی تھیں ان کے ہاتھوں میں چھڑیاں تھیں وہ آپس میں باتیں کرتی چلی آ رہی تھیں ایک خاتون شاید اپنے گائیڈ کے یا پورٹر کے بارے میں بتا رہی تھی اور کہ رہی تھی اس نے مجھے بھی سہارا دیا میرا سامان بھی اٹھایا اور مجھے اوپر پہنچایا میم یہ سپر فٹ ہوتے ہیں اور اس علاقے کے مکین ہیں مقامی لوگوں کے لئے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے دوسری خاتون کی آواز گونجی۔

میری آنکھوں میں منظر دھندلا گیا تھا کیونکہ پسینہ میرے چہرے سے بہہ کر میری آنکھوں میں پڑ رہا تھا میں نے آستین سے پسینہ پونچھا ان کے ہاتھوں میں چھڑیاں دیکھ کر مجھے اپنی حماقت یاد آ گئی، نیچے جب ہم کیل کے بازار سے گزر کے اوپر آرہے تھے تو ہم اپنی مستی میں مست مگن ہو کر اٹکھیلیاں کرتے اوپر آرہے تھے ہماری آپس میں ہنسی مذاق سے سبھی لوگ بزرگ بچے اور خواتین محظوظ ہو رہے تھے خاص طور پر بزرگ دکانداروں کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ بہت بھلی لگ رہی تھی کیونکہ اس مسکراہٹ کی وجہ بھی ہم تھے سامنے چوک میں کچھ چھڑیاں پڑی تھیں واکنگ سٹک اور لکھا تھا فی چھڑی کرایہ تیس روپے اور پچاس روپے میں نے سوچا یار یہ لوگ اندھے تھوڑی ہیں کہ چھڑی رکھیں ہم الحمدللہ جوان ہیں بغیر سہارے کے چل سکتے ہیں کیا ضرورت ہے لینے کی مگر اب پچھتا رہا تھا کہ سہارے کے لئے ایک سٹک لے لیتا تو بہتر تھا درختوں کے فاصلے بڑھنے لگے تھے چڑھائی بھی کم ہونے لگی تھی یا پھر ہو سکتا ہے میں عادی ہو گیا تھا مگر واقعی میں پہنچ گیا تھا منزل مقصود پر پہنچ ہی گیا آخر کٹ ہی گیا یہ سفر بھی پہنچ تو گیا تھا مگر تھکن سے برا حال سانس پھولی ہوئی تھی واقعی منزل پہ پہنچنے والوں کی برسوں تھکن نہیں اترتی برسوں تکلیف اور زخم تازہ رہتے ہیں اور آنکھوں کی سرخی سالوں ختم نہیں ہوتی، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا میں ہانپ رہا تھا سلیم نے میرے سامنے کھڑے ہوکے یوگا کے انداز میں ہاتھ پھیلائے اور مجھے بھی ایسا کرنے کا کہا میں نے اس کی تقلید کی اس نے کہا زور سے سانس اندر کھینچیں ساتھ ہی اس نے خود بھی ایسا کیا اور منہ سے سانس خارج کیا میں نے بھی سانس کھینچا مگر وہ تو پہلے ہی کھینچ رہا تھا اور جب میں نے منہ سے سانس نکالا تو واقعی اس طرح سے میں تھوڑی دیر میں ہی ریلیکس ہو گیا اطمینان ہوتے ہی میں سلیم کوسنے لگا کہ کیا ضرورت تھی اس کوہ پیمائی میں ہم ایسے نازک مزاجوں کو جھونکنے کی جو زندگی میں زیادہ سے زیادہ چوتھی پانچویں منزل تک چڑھے ہوں گے ہم سیر کرنے آئے تھے کوہ پیمائی کرنے نہیں، ہم نے قومی ہیرو محمد علی سدپارہ بننا ہے کیا وغیرہ وغیرہ پاس سے گزرنے والے سیاحوں اور ان کی ساتھیوں نے بہت لطف لیا ان کے چہرے پر ہنسی اور ان کے ساتھیوں کے چہرے پر مسکراہٹیں تھیں

اب جو میں نے گاؤں کی طرف دھیان دیا تو ساری تھکن ساری جھنجھلاہٹ ہوا ہو گئی اور میں اس کے سحر میں مبتلا ہو گیا جی میں متاثر ہوئے بغیر نا رہ سکا بلکہ متاثرہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا اب میں سلیم کو دعائیں دے رہا تھا اللہ تمہیں جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے تم نے مجھے اتنا خوبصورت منظر دکھایا میں سے اس لئے دعائیں دے رہا تھا کہ وہی مجھے اس میں کھینچ لایا تھا جی باقاعدہ کھینچ کے لایا تھا اس سفر پر خطر و بے مثال پہ

سامنے سیدھا میدان تھا تھوڑے فاصلے پر گاؤں تھا اڑنگ کیل ڈھلوانی چھتوں والے لکڑی کے بنے گھر تھے ہمارے ساتھ ہوٹلز تھے ہوٹلز کے درمیان سے ایک کچا راستہ گاؤں کی طرف جا رہا تھا سامنے خیمے لگے تھے اگر آپ خیمے میں رہنا پسند کریں تو اس میں سے کوئی کرائے پر لے سکتے ہیں پہاڑیوں کے پیچھے سورج غروب ہو رہا تھا شام ہونے والی تھی اندھیرا آہستہ آہستہ پہاڑوں سے نیچے اتر رہا تھا واقعی منزل پر پہنچتے ہوئے اکثر شام ہی ہوجاتی ہے پہاڑی علاقوں میں خاص طور پر طلاع آفتاب اور غروب آفتاب کا منظر بڑا دلفریب ہوتا ہے پہاڑوں کی شام بڑی ظالم ہوتی ہے بڑی رومانوی ہوتی ہے مگر آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے اس دلکش گاؤں اڑنگ کیل کی شام سب سے خوبصورت تھی میں نے جلدی سے موبائل نکالا اور دور حاضر کی اس ایجاد سے اردگرد کے ماحول کو کیمرے دل و دماغ اور روح میں بیک وقت محفوظ کرنے لگا، اس سے پہلے کہ اندھیرا سارے مناظر کو اپنی لپیٹ میں لے کے دھندلا دیتا میں جلدی جلدی اس کو اپنے پاس خوبصورت یاد بنا کے رکھ لینا چاہتا تھا، موبائل جس کا واحد مصرف فوٹو گرافی ہی رہ گیا تھا کیونکہ وادی نیلم میں داخل ہوتے ہی موبائل سگنلز غائب ہو جاتے ہیں وہاں پر ان کا اپنا نیٹ ورک چلتا ہے ایس کام گھر رابطے کے لئے ایس کام کا کنکشن لینا پڑتا ہے میں نے یہ کنکشن نہیں لیا تھا صرف عاقب کے پاس سم تھی اس سے میں نے اپنے گھر والوں کو اپنی خیریت بتا دی تھی خیر و عافیت سے پہنچ جانے کی اطلاع کے ساتھ ہی میں بے فکر ہو گیا تھا اور وہ بھی، باقی دنیا سے میں ویسے بھی کچھ دیر کٹ کے رہنا چاہتا تھا ان وادیوں کی خوشبو ان کے ماحول میں گھل مل جانا چاہتا تھا

سامنے اڑنگ کیل کا گاؤں تھا پتھر اور لکڑی سے بنے گھر تھے ایک میدان سا بنا ہوا تھا کچا راستہ گاؤں کی طرف جا رہا تھا راستے کے دونوں اطراف مکی کی فصل لگی ہوئی تھی لیکن یہ مکی کی فصل ہمارے پنجاب کی فصل جیسی نہیں تھی بارانی علاقوں میں ہونے کی وجہ سے قد چھوٹا اور پھیلی ہوئی تھی یہ صرف چارے کے لئے استعمال ہوتی تھی رستے کے اطراف چیڑھ کے درختوں کی لکڑی کی باڑھ ہوئی تھی سامنے ایک نالہ تھا اس کے اوپر پتھروں کا پل بنا ہوا تھا دائیں بائیں ہوٹلز بنے ہوئے تھے ہوٹلز کی چوبی بالکونیوں سے آنکھیں جھانک رہی تھی ہر کوئی اپنی نظر سے اور اپنے انداز سے اڑنگ کیل کو دیکھ رہا تھا سامنے سرسبز و شاداب پہاڑیاں تھیں ان کے دامن میں خوبصورت گاؤں آباد تھا نیچے ڈھلان میں دریائے نیلم بہہ رہا تھا جو یہاں سے نظر نہیں آ رہا تھا جہاں سے ہم اوپر آئے تھے میدان میں آگ جلانے کے لئے لوہے کا سٹینڈ رکھا تھا یقیناً یہاں رات کو سیاح اکٹھے ہوکے کیمپ فائر کا مزہ لیتے ہوں گے اور ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوتے ہوں گے سامنے خیمے لگے ہوئے تھے جو کہ کرائے پر دستیاب تھے اڑنگ کیل میں کیمپ میں رات بسر کرنا کتنا رومینٹک ہو سکتا ہے میں نے سوچا مگر اکیلا بندہ خاک رومانوی ہو گا، اگلے پل ہی اس خیال کی تردیدی کی پورا اڑنگ کیل ایک لان کی طرح لگتا ہے ایک وسیع میدان دائیں طرف اونچے سر سبز و شاداب پہاڑیاں تھیں اور بائیں جانب دریائے نیلم جو یہاں سے نظر نہیں آ رہا تھا مگر اسی کو پار کر کے یہاں تک آئے تھے درمیان میں ایک میدان سا بنا تھا جہاں پر اڑنگ کیل کا گاؤں آباد ہے یوں لگتا ہے پہاڑیوں نے اپنا دامن پھیلا رکھا ہو اور اس جھولی میں گاؤں آباد ہے اس گاؤں کی ٹھنڈی ہوا پر لطف فضا آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے سبزے کی بہتات سے ہم لطف اندوز ہو رہے تھے یوں لگتا تھا ہم کسی خوبصورت تصویر میں موجود ہیں یا شاید میں کوئی خواب دیکھ رہا تھا لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت والا حساب تھا واقعی میں اب سانس بھی آہستہ لے رہا تھا اور چل بھی دھیرے دھیرے رہا تھا کہ کہیں یہ سہانا سپنا ٹوٹ نا جائے گاؤں کے لکڑی اور پتھر سے بنے گھروں کی ڈھلوان چھتیں بہت بھلی لگ رہی تھیں ہم مکمل طور پر فینٹسی میں تھے خوابوں اور خیالوں کی حسین دنیا ہماری اپنی ذہنی اختراع مگر اڑنگ کیل تو حقیقت تھی میں تھا اور دلکش اور پیارا سماں میری کوئی فینٹسی کتاب اور چائے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی چاندنی رات جھیل کنارہ چائے کا کپ کتاب میں اور تم دل میں ارمان جاگ اٹھے شوریدہ سر خواہشوں نے انگڑائی لی پہاڑوں کا ماحول اور خاص طور پر شام بڑی قاتل ہوتی ہے اور رات تو زہر ہلاہل ہوتی ہے اس حسین منظر میں آپ کو اپنا سب کھویا ہوا بھولا سب یاد آ جاتا ہے آپ کے زخموں کے منہ کھل جاتے ہیں ہرے ہوئے زخموں سے ٹیسیسں اٹھنے لگتی ہیں ایک درد اور ایک نشے کی سی کیفیت ہوتی ہے کچھ ایسی ہی کیفیت تھی سب کی مگر ایک دوسرے سے سبھی چھپا رہے تھے۔

سردیوں میں یہ سارا علاقہ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے لوگ اپنے گھروں میں محدود ہو جاتے ہیں زندگی صرف گھر تک سمٹ آتی ہے۔ اوپر آنے کا رستہ برف پڑنے کے باعث مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ من پسند شخص کے ساتھ اس لکڑی اور پتھر کے بنے گھر میں برف کے باعث قید ہو جانا ایک نعمت سے کم نہیں ہو گا۔ میری چشم تصور دیکھ رہی تھی باہر برف روئی کے گالوں کی طرح پڑ رہی ہے تھی میں لکڑی کے بنے گھر کے چوبی برآمدے میں کھڑا تھا چائے کا کپ ہاتھ میں لئے اور کچھ لوگ برف میں بھیگ رہے تھے کھیل رہے تھے اٹکھیلیاں کر رہے تھے ایک دوسرے پر برف پاشی کر رہے تھے برف کا مزہ برف کے اندر آ کر ہی ملتا ہے یوں برآمدے سے بیٹھنے سے نہیں ایک شخص مشورہ دیتا ہے اور میں مسکرا کے رہ جاتا ہوں من پسند شخص کے ساتھ سب اچھا لگتا ہے صاحب تو تمہیں ایسے رومینٹک شخص کو کس ذات شریر نے کہا تھا یہاں اکیلے آؤ؟

سوال کرنے والا شاید سب جانتا تھا پہاڑوں کے سبھی موسموں کا واقف حال تھا، اپنے درد کا مداوا کرنے میرا جواب تھا ایک قہقہہ اس شخص کے منہ سے خارج ہوتا ہے، درد بڑھانے کے لئے اس سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہے، سب اپنی موج میں مست اور من کو جلاتا اکیلا لکھاری۔ برف کو دیکھتے صبح سے شام اور پھر رات ہوتی ہے برف کی سفید چادر پر ٹھنڈی میٹھی چاند کی چاندنی نکھر جاتی ہے چاندنی رات کا منظر وہ بھی اس برف اور فلک بوس پہاڑوں کے دامن میں زبان عاجز اور الفاظ کی قلت ہر بار آڑے آجاتی ہے

جاری ہے۔

Facebook Comments HS