بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ اور زیتون


بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال شہر سے تلہ گنگ روڈ پر بیس منٹ کی ڈرائیو پہ ہے۔ راستے میں شہر ختم ہوتے ہی مرید ہوائی اڈہ بھی آتا ہے، اگر آپ موٹروے سے آ رہے ہیں تو پھر آپ بلکسر انٹرچینج سے باہر آتے ہی اس خوبصورت سرزمین پر داخل ہو جاتے ہیں۔ ہم نے بھی آج اپنا رخ اس سرزمین کی طرف کیا، مختصر دورہ کیا۔ میرے ہم سفر پیارے دوست جناب طیب قاسمی صاحب تھے ہمارے پاس وقت بہت مختصر تھا اس لیے ہم نے صرف انگوروں کے باغات، کینو اور زیتون کے باغات کا دورہ ہی کیا اور زیتون کا خالص تیل خریدا۔ زیتون کا تیل نجم الحسن باجوہ صاحب سے خریدا۔ تین ہزار سے بات چلی تو میں نے کہا کیا یہ مہنگا نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ زیتون کے تیل کی تین اقسام ہیں ہم مارکیٹ والے تیل کو خالص نہیں کہہ سکتے لیکن ہم آپ کو دعوے ٰ سے کہتے ہیں کہ یہ سو فیصد خالص ہے

زیتون کا تیل پانچ قسم کا مارکیٹ میں ملتا ہے۔ :

1) ایکسٹرا ورجن اولیو آئل جس کو ایوو بھی کہا جاتا ہے۔ 2) ورجن آئل۔ 3) لائٹ آئل۔ 4) پیور آئل۔ 5) اور آخر میں سب سے خراب قسم، پامس اولیو آئل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصلی اور خالص قسم پہلی والی ہے، ایکسٹرا ورجن اولیو آئل (ایوو) ہے۔ جس کو آپ نہ صرف پی سکتے ہیں بلکہ کھانے پکانے سے لے کر جسم یا سر کی مالش تک میں استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی کیمیکل یا انڈسٹریل ویسٹ استعمال نہیں ہوتا۔

باقی کی تین قسمیں بھی زیتون کا تیل ہی ہیں، مگر ان کا معیار ٹھیک نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی پچھلے پانچ چھ سالوں سے چکوال کے اس علاقے میں اس کی کاشت کی گئی ہے۔ اور دو سالوں سے یہاں سے خالص آئل اور فروٹ مل رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ سب سے بہترین ہے، اگر آپ کو یہ خالص پاکستانی زیتون کا تیل اور فروٹ مل سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تازہ ہوتا ہے۔ ایک بار پھر یاد رکھیے، زیتون کا تیل جتنا تازہ ہو گا، اتنا ہی بہترین ہو گا۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے ماضی میں پام آئل کی کاشت سے متعلق ملائیشیا کی مدد بھی کی مگر اب خود بڑی دولت اس تیل کی درآمد پر خرچ کر رہا ہے گزشتہ چار پانچ برس سے زمینداروں کی زیتون کی کاشت میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ جو کہ خوش آئند ہے۔

 

Facebook Comments HS