مسئلہ بری کارکردگی نہیں، کپتان نے قسمت کو راضی کرنے کے لوازمات پورے نہیں کئے!


پاکستان ٹیم ورلڈ کپ کے پہلے اور دوسرے میچ میں اپنی کارکردگی نہیں بلکہ قسمت سے ہار گئی۔ دونوں میچ ہارنے میں کھلاڑیوں پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے والے نہیں جانتے کہ قسمت کیسے معاملات کو الٹ پلٹ کر دیتی ہے۔ کیا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ انڈیا کو آخری تین اوور میں اڑتالیس رنز کے پہاڑ کی ضرورت تھی لیکن یہ انڈیا کی اچھی قسمت تھی کہ وائیڈ اور نو بال کے ساتھ پاکستانی باؤلرز کی اچھی بالز پہ بھی چھکے پہ چھکے بھی لگتے رہے۔

اگر قسمت کا معاملہ نہ ہوتا تو جارحانہ طور پر شاٹیں لگانے والے بابر اعظم اور رضوان زمبابوے کے باؤلرز کو کھیلتے ہوئے گھبرائے گھبرائے کیوں نظر آتے؟ شان مسعود اچھی بیٹنگ کرتے کرتے ایک وائیڈ بال پہ لڑکھڑا کر زمین کر گرتے ہوئے سٹیمپ آؤٹ کیوں ہو جاتے؟ افتخار صرف پانچ کے سکور پر کیچ آؤٹ کیوں ہو جاتے؟ چھکے مارتے ہوئے مخالف ٹیم کو دن میں تارے دکھانے والے حیدر علی ایک سیدھی بال پہ ایل بی ڈبلیو کیوں ہو جاتے؟ اعتماد سے کھیلتے ہوئے محمد نواز کی شاٹ آرام سے چوکا بھی ہو سکتی تھی لیکن وہ کیچ آؤٹ کیوں ہو گئے؟ یہ سب قسمت کے چکر ہیں جسے بھولے لوگ کھلاڑیوں کی خراب کارکردگی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

کیا ہماری کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا روانگی سے پہلے درباروں پہ چادریں چڑھاتے ہوئے دعائیں مانگی تھیں؟ نہیں۔ کیا ہماری کرکٹ ٹیم نے کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑیوں کے تبلیغی لیکچر لئے تھے؟ نہیں۔ کیا ہمارے کپتان نے اپنی مرادوں کو پورا کرنے کے لئے درباروں کی چوکٹھوں پہ سجدے کیے تھے؟ نہیں۔ پھر کہاں سے قسمت ہمارے ٹیم کا ساتھ دے سکتی تھی، اگر قسمت ساتھ دینے کے لوازمات پورے کیے جاتے تو ہم انڈیا سے میچ جیتتے جیتے ہار نہ جاتے بلکہ میچ ہارتے ہارتے جیت جاتے۔

اگر قسمت ہمارے ساتھ ہوتی تو زمبابوے کو ہرانے کے لئے اکیلا شاہین آفریدی ہی کافی تھا، زمبابوے کو شکست فاش سے دوچار کرنے کے لئے بابر اعظم اور محمد رضوان کی بیٹنگ ہی کافی تھی۔ لیکن قسمت کے عنصر کو نظر انداز کرنے کا خمیازہ کرکٹ ٹیم ہی نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستان کی حمایت کرنے والے کرکٹ شائقین کو بھی بھگتنا پڑا۔

کیا پاکستان کرکٹ بورڈ، ٹیم منیجمنٹ اور ٹیم کے کپتان اور کھلاڑیوں کو معلوم نہ تھا کہ پاکستان کے 2018 کے الیکشن میں کپتان کو فتح یاب کرنے کے تمام لوازمات الیکشن سے پہلے ہی پورے کر لئے گئے تھے اور ووٹ کی طاقت سے دشمن کو شکست دینے کا پورے اہتمام ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود کپتان نے قسمت کے فیصلہ کن ’فیکٹر‘ کو نظر انداز نہیں کیا، ’انڈر ایسٹیمیٹ‘ نہیں کیا۔ کس کس دربار پہ جار کر دربار کی چوکھٹ پہ سجدے نہیں کیے ، کس کس دربار کے اندر جا کر وہاں کے فرش پہ گلاب کے سرخ پھولوں نہیں بچھائے، کس کس دربار پہ جا کر چادریں نہیں چڑھائیں اور اپنی مرادیں بر آنے کی دعائیں صدق دل سے نہیں مانگیں، حالانکہ الیکشن میں فتح یاب کی مکمل ’گارنٹی‘ تھی۔

کیونکہ کپتان یہ قیمتی بات جانتا تھا کہ قسمت جیتے ہوئے کر ہرا سکتی ہے اور ہارے ہوئے کو جتوا سکتی ہے، قسمت کا بھید جاننے والے ہی جانتے ہیں کہ قسمت کیا کیا گل کھلا سکتی ہے۔ جو قسمت کے اس راز کو جانتے ہیں، مانتے ہیں اور اس کے لوازمات پورے کرتے ہیں، کامیابی ان کے قدم چومتی ہے اور جو نادان اپنی کارکردگی کے زعم میں مبتلا رہتے ہیں، وہ جیتتے جیتتے ہار جاتے ہیں، ہارتے ہارتے جیتنا ان کے نصیب میں نہیں ہوتا کیونکہ نہ تو وہ قسمت کے جادوئی اثرات کو جانتے اور مانتے ہیں اور نہ وہ مورکھ قسمت کے اثرات کو سمجھ سکتے ہیں۔

ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، اس وقت بھی اگر ٹیم منیجمنٹ آسٹریلیا میں پہنچے والے بزرگوں کے مزارات کو کھوج لگائے، ان مزارات پہ جا کر، چوکٹھوں پہ نہ صرف ماتھے ٹیکے بلکہ رو رو کر اپنی مراد پورے ہونے کی دعائیں مانگیں، وہاں چادریں چڑھائیں، مرادی پوری ہونے پہ ایک مخصوص تعداد میں دیگوں کا چڑھاوا چڑھانے کی نیت کریں، ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی عہدیدار پاکستان میں بڑے بڑے تمام درباروں پہ جا کر صدق دل سے رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، وہاں کی چوکٹھوں پہ سجدہ ریز ہوں، چادریں چڑھائیں، رو رو کر دعائیں مانگیں اور مراد پوری ہونے پر چڑھاوے چڑھانے کی عزم کر لیں تو اب بھی روٹھ ہوئی قسمت پلٹ سکتی ہے، ہماری قومی ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچانے کے لئے جس جس ٹیم نے میچ جیتنا ہے، جس جس ٹیم نے میچ ہارنا ہے اور ہم نے جس جس ٹیم سے جس جس اوسط سے میچ جیتنا ہے، سب کچھ ممکن ہو سکتا ہے کہ اگر ہم قسمت کو پانے کا گر سیکھ لیں، قسمت کو اپنے حق میں کرنے کے سربستہ راز جان لیں۔

یہاں قسمت کے حوالے سے ایک پیش گوئی ابھی سے پیش کر دوں کہ کپتان پاکستان کو آزاد کرانے کے لانگ مارچ کا جہاد کرنے میں کامیاب نہیں ہو گا، کیونکہ اس نے قسمت کو راضی کرنے کے اس فیصلہ کن ”فیکٹر“ کو نظر انداز کر دیا ہے جسے اس نے 2018 کے الیکشن میں نظر انداز نہیں کیا تھا۔ کپتان نے داتا کی نگری لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کیا ہے لیکن کیا کپتان نے لانگ مارچ سے پہلے درباروں پہ جا کر چادریں چڑھائی ہیں؟ کیا مزارات پہ رو رو کر اپنی مرادیں پوری ہونے کی دعائیں مانگی ہیں؟

کیا مزارات کے فرش پہ سرخ گلابوں کو بچھایا ہے؟ اس بار کپتان نے قسمت کو قابو کرنے کے اصل لوازمات کو نظر انداز کر دیا ہے، اس لئے اس کپتان جیتتے جیتتے ہار جائے گا، اس کی ہار، اس کی شکست آسمانوں پہ لکھ دی گئی ہے۔ یہی بات قومی کرکٹ ٹیم کی انتظامیہ اور کپتان بابر اعظم کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ قسمت کو اپنے حق میں کرنے پر بھر پور توجہ دیں، ”پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے“ ، اور پھر ہماری ٹیم ہارتے ہارتے سیمی فائنل کیا چیز ہے فائنل میچ بھی جیت جائے گی۔

Facebook Comments HS