سیاسی و انتظامی بحران اور عوام


روتے ہو ایک جزیرۂ جاں کو فراز تم
دیکھوں تو کتنے شہر سمندر کے ہو گئے

بارشوں اور سیلاب کے بعد نہ کھیت رہے نہ کھلیان، نہ باغ نہ باغیچے اور نہ مکان نہ مکین اس وقت وطن عزیز کا حال احمد فراز کے شعر کی طرح ہے۔ اس تباہی کو بھی دو ماہ گزر چکے ہیں۔ پوری دنیا سے ہمیں صرف خیر سگالی کے پیغامات ہی نہیں امداد بھی مل رہی ہے۔ حالانکہ روس نے جو جنگ یو کر این پر مسلط کی ہے۔ اس کے اثرات امریکہ سمیت پورے یورپ پر پڑ رہے ہیں۔ یہ ممالک تیل اور گیس چونکہ روس سے درآمد کرتے ہیں تو اس جنگ کی وجہ سے تیل اور گیس کی بندش ہو رہی ہے جس کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ روس اور یو کر این کی جنگ کی وجہ سے انسانی المیہ بھی جنم لے رہا ہے۔ مشرقی یورپ کی طرف یو کر اینی عوام ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہی ہے جس میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ اب تک 20 لاکھ بچے مشرقی یورپ کی طرف ہجرت کر چکے ہیں اور 25 لاکھ بچے یوکرین کے اندر ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد بچوں کے حوالے سے یہ ایک بڑی ہجرت ہے اور اس کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہور ہا ہے۔ ان بچوں پر جنگ کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ کچھ نہیں معلوم۔

ان ساری مشکلات کے باوجود دنیا نے ہماری تکلیفوں کو سمجھا ہے۔ ہماری مدد کی ہے اور آگے بھی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ہمارا مسئلہ ہمارے اندر کے حالات کی وجہ سے خراب ہو رہا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آ گیا ہے۔ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ حتی کہ پیاز، ٹماٹر اور ہری مرچ تک دستیاب نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں گندم، چاول اور دیگر اجناس کا ملنا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں صرف چار ماہ کی گندم کا ذخیرہ رہ گیا ہے۔ اگر گندم ابھی بھی خریدی نہیں گئی تو قحط کا خدشہ ہے۔ نئی فصل کی کا شت نہیں ہو سکتی کیونکہ زمینوں سے اب تک پانی نہیں نکالا گیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں کو واپس جا نا چاہتے ہیں لیکن مقامی انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے شہروں اور دیہاتوں سے پانی کا اخراج ممکن نہیں ہو سکا۔ اگر پانی نہیں نکالا گیا تو افراتفری اور مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔

وفاقی حکومت کو چاہیے تھا کہ جو امدادی رقم مل رہی تھی۔ اس سے سب سے پہلے ملک کی غذائی قلت کو دور کرتے اور اشیاء خورد و نوش اور دوسری ضروری اشیاء کو خرید کر اس پر سبسڈی دی جاتی تاکہ پورے ملک پر جو مہنگائی کا ایک دم سے بوجھ پڑا ہے۔ وہ کام ہوتا لیکن وفاقی حکومت صرف سیلاب زدہ علاقوں کو تھوڑا بہت ریلیف دینے کی پالیسی پر گامزن ہے جس کا عام عوامی طبقے کو کوئی فائدہ نہیں ہور ہا ہے اور مہنگائی کا بوجھ ایک موچی سے لے کر افسر تک کے کاندھوں پر آ گیا ہے۔ اسی طرح بجلی کے بل کا بھی معاملہ ہے۔ اس کا ریلیف بھی سیلاب زدہ علاقوں کو دیا جا رہا ہے جس پھر ان لوگوں کو ریلیف دیا جا رہا ہے جن کے یونٹ 300 سے کم ہیں۔ افسوس کے ساتھ کراچی میں یہ ریلیف بھی سب کو نہیں مل رہا ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد وفاقی محتسب کی عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہے اور وہاں بھی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ خاص کر خواتین کو نیپرا کے دفتر بھیجا جا رہا ہے۔ وفاقی محتسب کے افسران یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اختیار میں کچھ نہیں ہے۔

ایک اور ظلم یہ بھی ہو رہا ہے کہ جس کے 300 سے ایک یونٹ بھی اوپر ہے۔ اس کا بل 26 روپے کے حساب سے چارج کیا جا رہا ہے جو مختلف یونٹوں کے لئے سلیب تھی۔ ختم کر دی گئی ہے۔ اس پر سیلز ٹیکس کے ساتھ چار مختلف طریقے کے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ دو دن پہلے نیپرا نے 14.25 روپے فی یونٹ کا مزید اضافہ بھی کر دیا ہے۔ ایک سیاسی جماعت مسلسل دعویٰ کر رہی ہے کہ ہم نے کراچی کے مسائل حل کر دیے ہیں اور خاص کر بجلی کا مسئلہ جبکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے۔ اس سیاسی اور عوامی احتجاج سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے بلکہ بجلی کے بل کے معاملات اور بھی خراب ہو گئے ہیں۔ ان چھ سالوں میں بجلی کی چوری بڑھی، لوڈشیڈنگ بڑھی، میٹر تیز رہے اور سب سے بڑھ کر ٹیرف بڑھا اب کے الیکٹرک لوگوں کے حقیقی مسائل بھی نہیں سن رہی اور وفاقی محتسب کے افسران کے الیکٹرک کے نمائندوں سے پوچھ کر فیصلہ کر رہے ہیں۔ اگر شکایت کنندہ مطمئن نہیں ہوتا اسے نیپرا بھیجا جا رہا ہے۔ یعنی شکایت کنندہ کی کہیں بھی شنوائی نہیں ہو رہی اس کی شکایت کو بھی سیاسی بیان سمجھا جا رہا ہے۔ اس احتجاج نے صارف کو خوار کر دیا ہے اور اس کو عدالتوں کے چکر لگوائے جا رہے ہیں۔

اس وقت وطن عزیز میں صرف آسمانی آفت ہی نہیں بلکہ سیاسی اور انتظامی بحران کا بھی سامنا ہے۔ ان تمام مصیبتوں کا اثر عوام کی جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ مال پر بھی پڑ رہا ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے اور منصب پر بیٹھے ہوئے صاحب اقتدار لوگوں کو عقل سلیم عطا کرے۔

نبی کریم ﷺ نے فرما یا اللہ اس پر رحم نہیں فرما تا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا (مسلم، ترمذی، مسنداحمد بن جنبل ) ۔

Facebook Comments HS