دوبئی کی محیر العقول عمارتوں کے بعد اب عظیم الشان نئی لائبریری
جہاں دوبئی اپنی بلند و بالا فلک بوس عمارات، برج خلیفہ ٹاور، فائیو سٹار ہو ٹلوں جیسے برج العرب، تین سو میل لمبے ساحل سمندر، دنیا کی سب سے بڑی اور مہنگی شاپنگ دو بئی مال، نائٹ کلبوں، 6,600 روشنیوں والا دوبئی فاؤنٹین، اور دولت کی فراوانی کے لئے چار دانگ عالم میں مشہور ہے وہاں اب ایک اور حیرت انگیز چیز کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس تعمیراتی عجوبے کا نام محمد بن رشید لائبریری ہے۔
دوبئی کے علاقے الجدف میں سٹیٹ آف دی آرٹ نئی لائبریری کا افتتاح 16 جون 2022 میں ہوا تھا۔ دوبئی کے حکمران شیخ محمد بن رشید المکتوم نے اس کا خاکہ چھ سال قبل 2016 میں پیش کیا تھا اور اس کی تعمیر میں ایک بلین درہم ( ($ 270 خرچ ہوا ہے۔ لائبریری میں 1.1 ملین طبع شدہ اور ڈی جے ٹائزد کتابیں قارئین کے لئے دستیاب ہوں گی۔ لائبریری میں ایک نمائش کے لئے ہال، بچوں کی لائبریری، مین فلور پر کتابیں خریدنے کا سٹور، ریڈنگ ہالز، سروس ایریاز، بزنس لائبریری اور ٹریننگ ہالز ہیں۔ لائبریری کے تہ خانے میں ایک ہزار کاروں کی پارکنگ کے لئے جگہ ہے۔
با ہر سے دیکھیں تو لائبریری کا ڈیزائن کھلی ہوئی رحل کی طرح ہے۔ سات منزلوں والی اس بلڈنگ کا رقبہ 650,000 مربع فٹ ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ہر سال یہاں نو ملین شائقین علم و ادب اور ویزیٹرز آیا کریں گے۔ لائبریری میں 4.5 ملین طبع شدہ، آڈیو اور ڈیجیٹل کتابیں ہیں۔
لائبریری کے اندر بھی نو قسم کی لائبریریاں ہیں جیسے انفارمیشن سینٹر، بزنس لائبریری، عریبک لائبریری، انٹرنیشنل لائبریری، پبلک لائبریری، چلڈرن لائبریری، نقشے اور اٹلس، یوتھ لائبریری، فیملی لائبریری اور ریڈنگ کا رنر۔ یہاں مستقل آرٹ گیلری کے علاوہ امید کی جاتی ہے 100 کلچرل اور انٹلیکچوئل سالانہ پروگرامز ہوا کریں گے۔ یہاں دو میوزیم بھی قابل ذکر ہیں یعنی سویلائزیشن میوزیم اور عرب ہیرے ٹیج میوزیم۔ لیکچرز اور سیمینارز کے لئے 500 سیٹوں والا تھیٹر بھی ہے۔
گراؤنڈ فلور پر بچوں کی لائبریری پانچ سال سے گیارہ سال کے بچوں کے لئے ہے۔ یہاں انسان کی شکل کا روباٹ "پیپر” رکھا ہوا ہے جس کے سامنے بچے بیٹھ کر کہانیاں سنتے ہیں۔ یہ بچوں سے پو چھتا ہے کہ کرونا وائرس کتنا بڑا ہے؟ یہاں آئی پیڈز بھی ہیں مگر بچے شائع شدہ کتابوں کو ہاتھ میں پکڑ کر خوش ہوتے ہیں۔ یہاں بچوں کے لئے 17,000 کتابوں کے علاوہ دل چسپی کی اور چیزیں بھی ہیں۔
یہاں کی نو لائبریریوں کے علاوہ ڈیجیٹل کتابوں کی سہولت ہے جہاں کتابوں کے شوقین ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ جو لوگ بینائی سے محروم ہیں ان کے لئے کتابیں بریل پر موجود ہیں۔ یا جو شائقین ویل چیئرز پر آتے ان کے لئے ایک کونے میں کتابوں کی سہولت موجود ہے۔
ٹیکنالوجی کا استعمال اپنے عروج پر نظر آتا جب انسان دیکھتا کہ یہاں کے آٹو بک سٹور میں چار لاکھ کتابیں ہیں جو کہ لائبریری کی شلفوں پر نظر نہیں آتی ہیں۔ لائبریری کی ایپ سے انسان کوئی بھی کتاب آرڈر کر سکتا، اس کے لئے پانچ سرخ رنگ کے روباٹ ہیں جو کتابوں کو تلاش کر کے اٹھا کر ایک کریٹ میں ڈال کر لائبریری آپریٹر کو پہنچا دیتے ہیں۔
لائبریری میں نادر و نایاب مخطوطات بھی ہیں، ساتویں منزل پر نمائش کے لئے کتابوں کے فرسٹ ایڈیشن بھی ہیں۔ وزیٹرز چھ ملین مقالات کو آن لائن پڑھ سکتے، 75,000 ویڈیوز، 35,000 طبع شدہ اور ڈیجیٹل بین الاقوامی جرنلز بھی حاضر ہیں۔ پانچ ہزار ایسے رسالے اور جرنلز ہیں جو پچھلے 325 سالوں پر محیط ہیں۔ مقامی لوگوں، اور ٹورسٹوں کے لئے داخلہ بالکل مفت ہے۔ اگر بھوک لگ گئی ہے تو یہاں زائرین کے لئے جدید کیفے ٹیریا بھی موجود ہے۔
اس ضمن میں شارجہ ہاؤس آف وزڈم (بیت الحکمۃ) بھی قابل ذکر ہے جس کا افتتاح 2020 میں ہوا تھا۔ اس عظیم الشان لائبریری میں 407,500 کتابوں کا ذخیرہ ہے جن میں سے 322,000 ڈیجیٹل فارمیٹ اور 85,500 بارہ زبانوں میں طبع شدہ کتابیں ہیں۔
مصنف پبلشر اور لائبریری بورڈ کے ممبر جمال السحنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہت سے لوگ دوبئی کی شا پنگ مالز کو بہت پسند کرتے ہیں مگر اس جہاں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے لئے کتابیں ہر دلعزیز ہیں۔
لائبریری میں قریب قریب ہر موضوع ہر نوع کی کتابیں پائی جاتی ہیں۔ جیسے ایک حصہ مکمل طور پر متحدہ عرب امارات سے متعلق ہے۔ یہاں ملک کے ناول نگار رشید نعیمی کے ناول کا پہلا ایڈیشن رکھا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ملک کے اندر جتنی بھی کتابیں آج تک شائع ہوئی ہیں وہ محفوظ کر دی گئی ہیں۔ ساتویں فلور پر لائبریری کے نوادرات ہیں جو کہ لائبریری سے زیادہ میوزیم کا احساس دلاتے ہیں۔ یہاں نا یاب قلمی نسخے ہیں، کیلی گرافی کے ٹولز ہیں، اور متعدد نادر و نایاب کتابوں کے فرسٹ ایڈیشن ہیں جن میں سے بعض کا تعلق 13 ویں صدی سے ہے۔
کارٹوگرافی سیکشن میں عرب جزیرہ نما کا ڈچ نقشہ ساز جون بلیو کا 1662 میں بنایا ہوا قدیم نایاب نقشہ ہے۔ یہاں آسکر وائلڈ کی کتاب
The Importance of Being Earnest
کا پہلا ایڈیشن اور چئیر مین ماؤ زے تنگ کی ریڈ بک بھی ہے۔ برٹش فزیشن ایڈ ورڈ جینر 1823 جس نے دنیا کا پہلا چیچک کا ٹیکہ بنا یا تھا اس کی بیش قیمت کتاب
An Inquiry into the Causes and Effects of the Variolae Vaccinae 1798
بھی ہے جس سے ویکس سین کا رواج عام ہوا تھا۔ ویکس سین کا لفظ بھی کتاب کے نام سے اخذ ہوا تھا۔
الغرض اہل علم اور کتابوں کے رسیا لوگوں کے لئے دوبئی جانے کی ایک اور وجہ پیدا ہو گئی ہے۔


