صدف نعیم کا پرسہ


یہ تحریر نہیں ہے سوگ ہے، ایک جواں سال صحافی کی شہادت کا۔
ماتم ہے، بچوں سے ان کی ماں کے ہمیشہ کے لئے بچھڑ جانے کا۔
آنسو ہیں، ایک عورت کے اپنے آپ کو ثابت کرنے کی کوشش میں فنا ہو جانے پر۔
گریہ ہے، خاندان کی کفالت میں ہاتھ بٹانے والی بیوی کی رخصت کا۔
غصہ ہے، رزق حلال کی تلاش میں کچلے جانے والے خوابوں کا۔

دکھ ہے، ان تمام گمنام صحافیوں کا جو ساری زندگی معمولی وسائل کے ساتھ بڑی خبریں نکالنے کی کوشش میں کسی عظیم الشان کنٹینر کے پیچھے بھاگتے بھاگتے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

چینل فائیو سے وابستہ ساتھی رپورٹر صدف نعیم کی شہادت کی خبر جب سے سنی سوالات کی بوچھاڑ اور خیالات کی یلغار دل کو بوجھل کیے دے رہی ہے۔ گو کہ میں خود موقع پر موجود نہیں تھی لیکن وہاں موجود صحافیوں کے مطابق صدف نعیم نے آج کل جاری حقیقی لانگ مارچ کے آغاز میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کنٹینر میں انٹرویو کیا تھا اور آج پھر وہ ایکسکلوزو انٹرویو کرنا چاہتی تھی۔ کنٹینر کے اوپر جانے کا موقع نہ ملا تو کنٹینر کے ساتھ ساتھ بھاگتی گئی عینی شاہدین کے مطابق وہ کم ازکم دو کلو میٹر مسلسل کنٹینر کے اوپر موجود قیادت کو متوجہ کرنے کے لئے ساتھ بھاگتی رہی اس کا چہرہ کنٹینر کی طرف تھا پتہ نہیں بد نصیب کو اس دوران دھکا لگا یا ٹھوکر اور ایسے گری کہ سر کنٹینر کی زد میں آ گیا۔ پر جوش اور پر اعتماد صدف کا وہ چہرہ جو ہر وقت مسکراہٹ سے سجا ہوتا خون میں لت پت ہو گیا۔ شور مچا تو لانگ مارچ رک گیا اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اہل خانہ سے تعزیت کے پیغام کے بعد اسے موخر بھی کر دیا لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟

ریسکیو کی گاڑی میں ایک صحافی قذافی بٹ کے سوا کوئی سیاسی یا صحافتی رہنما صدف کے جسد خاکی کے ہمراہ ہسپتال کیوں نہ گیا؟

کیا عام مزدور صحافی کے خون کا رنگ مختلف ہوتا ہے؟
کیا صحافی کو عزت اس کے چینل کا نام دیکھ کر دی جانی چاہیے؟
کیا خاتون صحافی ہونے کی وجہ سے اس کو نظر انداز کیا گیا؟

کیا کسی بھی اجتماع میں ایسا سانحہ ہو تو اس تنظیم کے انفارمیشن ونگ کے نمائندوں کو ساتھ نہیں جانا چاہیے اور کیا ہمارے اپنے درجنوں صحافی حضرات جو سب اپنے تئیں لیڈران ہیں ان کو ڈیڈ باڈی کے ساتھ لواحقین کی آمد تک نہیں رہنا چاہیے تھا؟

کس کس سے گلہ کریں؟ ان اداروں سے جو اپنی خواتین رپورٹرز کو ایسی جگہوں پر بھیجتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ صنفی امتیاز پر یقین نہیں رکھتے لیکن ایمرجنسی کٹس تو کیا ان کو سپاٹ تک پہنچنے کے لئے ادارے کی گاڑی بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ ان سے ایکسکلوزو خبریں چاہتے ہیں مگر وقت پر تنخواہ نہیں دیتے اور صدف نعیم جیسی سادہ خواتین ادارے کی جانب سے شاباش اور روزی کے تحفظ کے لئے کسی کنٹینر کے نیچے کچلی جاتی ہیں مگر یہ بتا جاتی ہیں کہ بیٹ رپورٹنگ، مسنگ اور بریکنگ کے اس دور میں سیاسی، سماجی اور تمام متعلقہ تنظیموں کو خبر اور قیادت تک رسائی دیتے وقت خاص رپورٹرز یا چینلز کے ناموں کی بجائے تمام صحافیوں کو ایک نظر سے دیکھنا ہو گا ورنہ خاص طور پر خواتین صحافیوں کو جان ہتھیلی پر رکھ کر خود کو منوانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

 

Facebook Comments HS