ٹوئٹر کا بلیو ٹک: ’ہائے ایلون اگر تم بلیو ٹک کے پیسے لو گے تو ٹوئٹر کا پرندہ کیسے آزاد ہے‘
امریکہ کی ٹیک کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کے ٹوئٹر خریدے جانے کے بعد جہاں سماجی رابطوں کی مائیکرو بلاگنگ سائٹ میں اداراتی سطح پر کی جانے والی تبدیلیاں زیر بحث ہیں وہیں ہمیشہ خبروں میں رہنے کا ہنر جاننے والے ایلون مسک نے ایک نیا اعلان کر دیا ہے۔
ایلون مسک نے اتوار کو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ٹوئٹر پر صارفین کی ویریفیکشن یعنی تصدیقی عمل کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور تصدیق کے بعد ملنے والے اعزازی ’بلیو ٹک‘ کے عمل میں تبدیلیاں لائی جائیں گی۔
اگرچہ ایلون مسک نے ان تبدیلیوں کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی لیکن ان کے اعلان کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی کہ ٹوئٹر اب ویریفائڈ صارفین کو بلیو ٹک دینے کے لیے 20 ڈالر ماہانہ وصول کرے گا۔
ٹوئٹر کی جانب سے ’بلیو ٹک‘ کے لیے فیس وصول کرنے کی خبروں نے دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین کو متحرک کر دیا اور ایسے میں ٹوئٹر پر کیا گھمسان کا رن پڑا ہو گا اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔
اس بارے میں ان کی آرا اور تبصروں کے متعلق ہم آگے چل کر آپ کو بتاتے ہیں مگر جس ’بلیو ٹک‘ کی فیس پر اتنا شور مچا ہوا ہے آخر وہ ہے کیا اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
ٹوئٹر کا ’بلیو ٹک‘ کیا ہے؟
ٹوئٹر پر آپ نے اکثر ملکی سربراہان، سیاستدانوں، شوبز شخصیات، مصنفوں، صحافیوں اور دیگر شعبوں میں اعلیٰ سطح پر کام کرنے والے افراد کے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں ان کے نام کے آگے ایک ’بلیو ٹک‘ کا نشان دیکھا ہو گا۔
اس ’بلیو ٹک‘ کے حامل اکاؤنٹس کو ٹوئٹر کی جانب سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس قرار دیا جاتا ہے یعنی ان افراد نے اپنے پیشے، رتبے سے متعلق جو دیگر تفصیلات فراہم کی ہیں وہ درست ہیں۔
ٹوئٹر پر بلیو ٹک کے حامل اکاؤنٹس کو معتبر اور درست سمجھا جاتا ہے۔
’بلیو ٹک‘ کی اہمیت
ٹوئٹر کے بلیو ٹک کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی دفتر میں آپ کے کسی ساتھی یا دوست کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بلیو ٹک ہو جائے تو فوراً اس سے کھانا کھلانے یا پارٹی دینے کی فرمائش کر دی جاتی ہے۔
اگر کہیں وہ ایک صحافی ہو تو فوراً ہی وہ معتبر اور قابل بھروسہ صحافیوں کی فہرست میں شمار ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات تو بلیو ٹک ملتے ہی آپ کے فالورز میں بھی ایک دم سے اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
ٹوئٹر کی جانب سے بلیو ٹک اس وقت مفت دیا جاتا ہے اور اس کے حامل اکاؤنٹس کو مستند سمجھا جاتا ہے۔
مگر یہ صرف آپ کے کوائف کی تصدیق سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ ٹوئٹر کا الگوردھم آپ کی جانب سے کی گئی ٹویٹس کے مواد، شئیر کی جانے والی مصدقہ معلومات، مذہبی و سیاسی خیالات اور دیگر چیزوں کی جانچ کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے فالورز کی تعداد پر آپ کو بلیو ٹک دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔
اس لیے تمام سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹس، سربراہان مملکت کے اکاؤنٹس، سماجی و شوبز شخصیات، ملکی و غیر ملکی معروف صحافی و صحافتی اداروں کے بیشتر اکاؤنٹس بلیو ٹک کے حامل ہوتے ہیں۔
ٹوئٹر کے تصدیقی عمل اور بلیو ٹک پر تحفظات
تاہم پاکستان سمیت دنیا بھر کے بہت سے صارفین کو پہلے ہی ٹوئٹر کے تصدیقی عمل پر کچھ تحفظات اور خدشات ہیں۔
اس بارے میں پاکستان میں غیر سرکاری تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے سربراہ اسد بیگ کا کہنا تھا کہ انھیں ٹوئٹر کے اس تصدیق کے نظام پر تحفظات ہیں۔
’جن معلومات کی بنا پر میں نے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے لیے بلیو ٹک حاصل کیا انھی معلومات پر میری اہلیہ جو میرے ادارے کی ڈائریکٹر بھی ہیں وہ بھی ایک عرصے سے کوشش کر رہی ہیں لیکن ان کو اب تک بلیو ٹک نہیں دیا گیا۔‘
Blue tick on twitter is signifier of clout.
Those with clout will lose their clout if they appear to be paying for this vanity badge.
Those with no clout will buy and signal it and try to appear important.
End result : chaos. But maybe that’s what the end goal is.
— Kunal Shah (@kunalb11) November 1, 2022
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں 20 ڈالر ماہانہ ایک اچھی خاصی رقم ہے اور اگر پہلے بھی میرا کام اس کے بغیر چل رہا تھا اور مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا تو اب میں کیوں اس کے لیے ادائیگی کروں۔‘
اسی طرح سوشل میڈیا صارف کونال شاہ نے لکھا کہ ’ٹوئٹر پر بلیو ٹک کو اثر و رسوخ کی نشانی سمجھا جاتا تھا، اور اب اگر ایسے افراد اپنے اس اثرو رسوخ کے لیے پیسے ادا کریں گے تو وہ اپنا اثر چھوڑ دیں گے اور جو بااثر نہیں ہیں وہ اس اعزازی بیج کو خریدیں گے اور اہم اور معزز ظاہر ہونے کی کوشش کریں گے۔ جس کا حتمی نتیجہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی اور تباہی ہے اور شاید اس فیصلے کا مقصد بھی یہ ہی ہو۔
سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل
اب آپ خود سوچیے کہ جس شخص نے اب سے کچھ ہی ہفتے پہلے بلیو ٹک حاصل کرنے پر دوستوں کو کھانا کھلایا ہو اب اسے یہ خبر ملے کہ اسے اب 20 ڈالر تک ماہانہ جیب ڈھیلی کرنا پڑے گی تو اس کا ردعمل کیا ہو گا۔
دنیا بھر کے صارفین نے ٹوئٹر کے اس ممکنہ اقدام کی نہ صرف سخت الفاظ میں مذمت کی بلکہ ادارے کے تصدیقی عمل پر سوالات اور مستقبل کے خدشات کا اظہار بھی کیا۔
انڈین صارف کستوری شنکر نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہائے ایلون اگر تم بلیو ٹک کے لیے پیسے وصول کرو گے تو ’ٹوئٹر کا پرندہ کیسے آزاد ہے‘۔ اظہار آزادی رائے کو مفت ہونا چاہیے۔‘
Hey Elon, How exactly "the bird is freed" if u charge to keep a blue tick? Free speech needs to be free .@elonmusk #TwitterBlue
— Kasturi (@KasthuriShankar) October 31, 2022
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میرے خیال میں اگر ٹوئٹر نے آغاز سے ہی بلیو ٹک پر فیس عائد کی ہوتی تو بہت سے لوگ اسے قبول کر لیتے مگر اب کون اپنی ٹرولنگ کروانے کے ساتھ ساتھ 20 ڈالر ماہانہ دینا چاہے گا۔ اور اب ٹوئٹر ویریفائڈ صارفین کے لیے ٹرولنگ کروانے کی جگہ ہی تو رہ گیا ہے۔
I imagine if Twitter had charged users with blue ticks in the beginning, many would’ve gone for it. But who wants to pay $20 a month to be trolled, which is what Twitter has become for many verified people
— Charlie Condou (@Charliecondou) November 1, 2022
پاکستانی صحافی افتخار فردوس نے تو اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان معاشی حالات میں تو بلیو ٹک چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔‘
Better to give up the blue tick in this economy! https://t.co/VPPuSIODXF
— Iftikhar Firdous (@IftikharFirdous) October 31, 2022
جبکہ صحافی صبا اعتزاز نے لکھا کہ ’بلیو ٹک ابتدائی طور پر سیکورٹی، ساکھ اور غلط معلومات کو کم کرنے کے لیے تھا لیکن اس نئے اقدام کے عوامی اعتماد سے متعلقہ اداروں، صحافیوں اور حکومت پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔‘
The blue tick was also initially there for security, credibility & to minimize misinformation. Obviously it’s already a caricature of that but this new move will have larger implications for public trust related institutions, journalists and government. https://t.co/3vrJzh6pIk
— Saba Eitizaz/ صبا اعتزاز (@sabaeitizaz) October 31, 2022
جہاں ایک جانب ٹوئٹر کے بلیو ٹک کے اثرات پر بات کی جا رہی ہیں وہیں کچھ صارفین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اب کتنے صارفین ماہانہ 20 ڈالر ادا کریں گے۔
20 dollar for blue tick ✔️ verification on Twitter ? How many people do you think will pay 🧐
— Ishkaran Singh Bhandari (@ishkarnBHANDARI) October 31, 2022
ایک صارف نے لکھا کہ ’میں تو ان چیزوں کی فہرست بنا رہا ہو جو میں ماہانہ 20 ڈالر خرچ کر کے کر سکتا ہوں اور یہ کہ میں تو ٹوئٹر کو اپنا بلیو ٹک رکھنے کے لیے پیسے دینے والا نہیں۔‘
https://twitter.com/neeleshmisra/status/1587065937798103042

