مسلم پرسنل لا کے ”متبنی/لے پالک“ قانون کو سمجھنے کی مخلصانہ کوشش

واقعہ رسالت کے اعلان سے پہلے کا ہے۔ حکیم ابن حزام نے عکاظ کے بازار میں آٹھ سالہ زید بن حارثہ (غلام) کو چار سو درہم کے عوض خریدا اور اپنی پھوپھی (ام المؤمنین) سیدۃ خدیجہ بنت خویلد (رضی اللہ عنہا) کو ہدیہ کر دیا۔ سیدہ خدیجہ، رسول اللہ ﷺ سے نکاح کے بعد ، زید کو ان کی خدمت میں پیش کر کے ملکیت کے حق سے دست بردار ہو گئیں۔ رسول اللہ نے انہیں آزاد کر دیا، لیکن آزاد ہو جانے کے بعد بھی وہ آپ کے ساتھ ہی رہے۔
رسالت مآب ﷺ کی بعثت اور حج کے فرض ہونے سے پہلے بھی حج کی رسم جاری تھی۔ عرب حج کیا کرتے تھے۔ ان کے طور طریق جدا گانہ تھے۔ ایسے ہی حج کے کسی موسم میں زید بن حارثہ کے قبیلہ کے کچھ لوگ مکہ آئے، انہوں نے زید کو اور زید نے ان لوگوں کو پہچان لیا۔ زید بن حارثہ نے اپنے اہل قبیلہ سے کہا کہ وہ اس کے باپ کو پیغام پہنچا دیں کہ وہ دنیا کے بہترین انسان کے پاس رہ رہے ہیں۔
حارثہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا زید مکہ میں محمد (رسول اللہ) کے پاس ہے تو وہ آئے اور کہا کہ جتنا مال و زر آپ کو چاہیے لے لیں اور میرا بیٹا میرے حوالے کر دیں۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ جانا چاہے تو لے جائیے مجھے اس کے عوض کچھ نہیں چاہیے۔ زید کو فیصلہ کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے محمد رسول اللہ کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ رسول اللہ نے فرمایا جو میرے ساتھ رہنا پسند کرتا ہو میں اس کے ساتھ بے رخی کا برتاؤ نہیں کر سکتا۔ زید نے کہا میں آپ ہی کے ساتھ رہوں گا، آپ ہی میرے باپ اور آپ ہی میرے چچا ہیں۔ اس بات پر حارثہ نے زید کو ڈانٹا تو اس نے کہا کہ میں نے ان (محمد بن عبد اللہ) میں وہ خوبیاں دیکھی ہیں جن کی وجہ سے میں دنیا کے تمام انسانوں سے بے نیاز ہو گیا ہوں، میں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
محمد رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے جب زید کی زبان سے یہ باتیں سنیں تو انہیں لے کر کعبہ کے پاس گئے، اونچی جگہ پر کھڑے ہوئے اور وہاں موجود قریش قبیلہ کے لوگوں سے کہا، سنو! زید میرا بیٹا ہے، میں اس کا وارث ہوں گا اور یہ میرا وارث ہو گا۔ رسول اللہ جب کار رسالت کی ادائیگی پر مامور ہوئے اور قرآن نے بچوں کو ان کے باپ کے نام سے منسوب کرنے کا حکم دیا تو آپ نے انہیں زید بن حارثہ کہنا شروع کر دیا۔
اس واقعہ میں دو باتیں بہت ہی زیادہ اہم ہیں۔ پہلی بات ”بچہ کو اختیار دیا جانا کہ وہ کس کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہے“ ۔ یہی رسول کی سنت ہے لہذا اسلامی بھی ہے اور انسانی آزادی کے تقاضوں کے عین مطابق تو ہے ہی۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ قرآن نے حسب و نسب کی حفاظت کے پیش نظر یہ حکم دیا ہے کہ بچوں کو ان کے باپ کے نام سے منسوب کیا جائے۔ کہیں بھی اور کبھی بھی یہ حکم نہیں دیا ہے حتی کہ مشورہ کے طور پر بھی یہ بات نہیں کہی ہے کہ شیر خوارگی سے شعور کی عمر کو پہنچنے تک اپنے پالنہار قانونی گارجین کے ساتھ گزارنے کے بعد بچہ کو اپنے نسبی باپ کے پاس اس کی مرضی کے خلاف لوٹنے پر مجبور کیا جائے۔ اس میں بچہ کے بالغ یا نا بالغ ہونے یا اس کے نسبی باپ کے جذبات کو بنیاد بنا کر بھی شرعی حیثیت سے بحث نہیں کی جا سکتی ہے، اس لیے کہ زید بھی نابالغ تھے اور اس لیے بھی کہ قرآن و سنت میں اس بابت ایسی کوئی بات مذکور نہیں ہے۔
ایسا کیا جانا رسول کی سنت کے خلاف اور قرآنی تعلیمات پر ”من مانا“ اضافہ ہو گا۔ لہذا اگر بچہ گود لینے کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں تو بچہ کی جبری واپسی کا نہ صرف یہ کہ کوئی شرعی و قانونی جواز نہیں ہے، بلکہ اس کا حقیقی باپ عدالت میں فریق بھی نہیں بن سکتا۔ اسلامی نقطۂ نظر سے بحث صرف اس بات پر ہوگی کہ بچہ کو باپ کے نام سے منسوب کرنے کا طریقۂ کار ہو۔ اس مرحلہ میں مسلم پرسنل لا بورڈ اپنا کردار ادا کر سکتا ہے اور طریقۂ کار متعین کرنے میں عدالت کو مشورے دے سکتا ہے۔ لیکن ساری جد و جہد دوسرے رخ پر ہو رہی ہے، بچے زبردستی واپس لوٹائے جا رہے ہیں، اسلامی قانون (مسلم پرسنل لا) کے نام پر ایسا کیا جا رہا ہے، اور وہ بھی جب بڑے بڑے ”علماء“ موجود ہیں، بلا شبہ تشویشناک اور انتہائی افسوسناک صورت حال ہے۔
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ زید بن حارثہ کا قصہ رسول کی بعثت سے پہلے کا ہے، اسے دلیل نہیں بنایا جا سکتا، تو ایسا سوچنے اور کہنے والے کو یہ سمجھنا چاہیے کہ رسول نے بعثت کے بعد بھی زید کو گلے سے لگائے رکھا، اسے اس کی مرضی کے خلاف باپ کے پاس نہیں بھیجا اور بعثت کے بعد قرآن اترا تو اس نے بھی باپ کا نام استعمال کرنے کی تعلیم دی، حالیہ گارجین سے زبردستی علیحدہ کرنے کا حکم نہیں دیا۔
موجودہ دور میں تعلیمی اور دوسرے قانونی دستاویزات میں ایک خانہ ہوتا ہے جس میں (باپ/لیگل گارجین) لکھا ہوا ہوتا ہے۔ بچہ ”متبنی/ لے پالک“ ہے تو مذکورہ خانہ میں لیگل گارجین کا نام لکھا جانا چاہیے اور اسی کے ساتھ قوسین میں اس کے نسبی باپ کا نام لکھ دیا جانا چاہیے۔ اگر ایسا کرنے میں اداروں کی طرف سے کوئی مشکل درپیش ہو تو گفت و شنید سے اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ یہ ایک بہترین پیش رفت ہو سکتی تھی، جو اب تک نہیں ہو سکی ہے۔
بد ترین پیش رفت یہ ہے کہ لیگل گارجین کے جذبات کو کچلتے ہوئے اور بچہ کے معصوم احساسات کو مسلتے ہوئے عدالتیں علیحدگی کا فیصلہ دینے پر مجبور ہیں کیونکہ ”مسلم پرسنل لا“ نافذ العمل ہے اور متبنی کا غیر واضح قانون اس کا حصہ ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اسے عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے اور اس میں ضروری ترمیم ضرور کی جانی چاہیے۔
اگر اس معاملہ میں مستحقین وراثت کے حقوق کے تحفظ کا عنصر بھی شامل ہے جیسا کہ بتایا جاتا ہے، تو وہ مرنے کے بعد کی بات ہے۔ بعد میں پیش آنے والے کسی مسئلہ کو بنیاد بنا کر موجودہ مسئلہ کی غیر واقعی تشریح و تفہیم نہیں کی جانی چاہیے۔ الجھن تب ہوگی جب مرنے والا کچھ چھوڑ کر گزرا ہو۔ اگر وہ غریب ہے تو منہ بولا بیٹا یا بیٹی ہی بڑھاپے یا مرض و محتاجی میں اس کا سہارا بنیں گے، اور اگر خوشحال ہے تو ان کی خدمات سے خوش ہو کر وہ انہیں ”گفٹ/ہدیہ“ بھی کر سکتا ہی خواہ ایک تہائی ہی سہی۔
بہر حال زیر بحث ”متبنی/ لے پالک قانون“ سے وراثت کے مسئلہ کا تعلق بنیادی نہیں ہے۔ ضمنی ہے، اندیشوں اور مفروضوں پر مبنی ہے۔ اگر وراثت سے محرومی کا اندیشہ یا مفروضہ سچ ہوتا ہوا نظر آئے تو اسی مسلم پرسنل لا کی بنیاد پر عدالت مستحقین کو ان حق دلوا دے گی جس کے سہارے وہ آج کسی لے پالک اور اس کے گارجین کو خوشیوں سے محروم کر رہے ہیں۔
قرآنی تعلیمات اور رسول کی سنت کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے اس مشکل کو بہت خوش اسلوبی کے ساتھ حل کیا جا سکتا تھا، لیکن افسوس ہے کہ قرآن اور رسول کا نام لے کر ہی اسے الجھایا جاتا رہا ہے :
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

