عمران واپس آ رہا ہے


ارشد شریف قتل ہوا، معید پیر زادہ اور ارشاد بھٹی اپنی حفاظت کی خاطر ملک چھوڑ گئے، چوہدری غلام حسین بھگت رہا ہے، صابر شاکر خوش قسمت تھا بروقت نکل گیا تھا جبکہ عمران خان کو نا اہل کر کے ڈسکریڈٹ کیا جا رہا ہے۔

مجھے جاننے والے میرے قاری شاہد ہیں کہ میں نے ایک دن بھی عمران خان کی طرز سیاست اور اس کو ڈیگال، ڈیزرائیلی اور صادق و امین ثابت کرنے والوں کی جھوٹی صحافت کے علمبردار معید پیر زادہ عمران ریاض خان ارشاد بھٹی اور مبشر لقمان جیسے ابن الوقت کو کبھی پسند نہیں کیا۔ لیکن اب ان سب کو جینے نہیں دینا جو آج آپ کی بات نہیں مانتے، اسی طرح غلط ہے جس طرح مجھ جیسے لکھنے والوں کو ماضی میں عمران خان کو سپورٹ کرنے کی آپ کی بات نہ ماننے والوں پر ان کی دنیا تنگ کردی گئی تھی۔ لیکن آپ کل بھی ٹھیک تھے اور آپ آج بھی ٹھیک ہے، یہ خبط عظمت پر مبنی بالکل غلط اور نارسسٹ رویہ ہے۔ اپنی غلطی ماننا اور خود کو کل کی طرح آج بھی واحد راست باز سمجھنا غلطی ماننا نہیں اپنی نئی سٹریٹیجی کو کامیاب کرانے کا حیلہ ہے۔

آپ نے دیکھا ہے کہ قوم آپ کے سیاسی کردار کو کتنا پسند کرتی ہے۔ جب آپ عمران خان کو سپورٹ کر رہے تھے تو لوگ نواز شریف زرداری اور مولانا کے گرد جمع ہو کر آپ کی مخالفت میں نعرے لگا رہے تھے۔ اب آپ نواز شریف زرداری اور مولانا کے قریب ہیں تو لوگ انہیں رد کر کے عمران خان کو پورے پاکستان سے ووٹوں سے بھرے ہوئے بکسے تحفہ میں دے رہے ہیں، ان کو شاید عمران خان یا نواز شریف سے اتنی نفرت یا محبت نہ ہو، ایسا کر کے وہ دراصل آپ کی سیاسی مداخلت سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔

عدالتیں عمران خان کو سینکڑوں دفعہ نا اہل کر دے، حزب اختلاف آپ کی آشیرباد سے ہزاروں دفعہ حکومت تبدیل کردے اور بیرونی ممالک عمران خان کو جتنا چاہے ناپسند کردے، عوام ان سب کے خلاف کھڑی ہو کر عمران خان کو ووٹ دے رہی ہے، اور یہی نوشتہ دیوار ہے، جسے حکومتی پروپیگنڈا کے زور پر میڈیا کے سپن ڈاکٹر جو بھی رخ دیدے لیکن یہی پاکستان کی سیاست کی واحد سچائی ہے۔ جسے سمجھنے کی شدید ضرورت ہے۔

عمران خان میں کوئی گن ہو یا نہ ہو، اس نے عشروں سے ملکی اشرافیہ کے مفادات کے لئے باہمی گٹھ جوڑ کرنے والی عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ، پارلیمنٹ، غیر ملکی مداخلت اور آئینی لوپ ہولز کو برہنہ کر کے مفلوج کر دیا ہے۔

عمران خان کے بیانیہ میں ربط نہ تقاریر اور انٹرویوز میں تسلسل ہوتا ہے، کیونکہ وہ بیک وقت سب سچ کہہ کر سروائیو نہیں کر سکتا، اس لیے وہ کسی چست باکسر کی طرح دو قدم آگے بڑھ کر وار کرتا ہے تو اگلے لمحے چار قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے، لیکن وہ فائٹ کر رہا ہے۔ وہ ٹکڑوں میں تھوڑا تھوڑا کر کے سچ بول رہا ہے، چیلنج کر رہا ہے۔ وہ ایک دن دھمکی دے کر مخالف کی کمزوری کو چیلنج کرتا ہے تو دوسرے دن صفائی پیش کر کے حالات کو سنبھال لیتا ہے۔

دوسری طرف اس کے مخالفین اسے ڈرانے خاموش اور قابو کرنے کی خاطر اس کے دائیں بائیں موجود لوگوں کو اٹھاتے ہیں، تشدد کر کے مقدمات بناتے ہیں، لیکن ان کی یہ چال عمران خان ان پر الٹ دیتا ہے، جس کی وجہ سے دوسرے دن وہ خود پریس کانفرنس کر کے صفائیاں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شہباز گل، ایاز امیر اور اعظم سواتی پر ہاتھ ڈالنے کے بعد یہی کیا گیا۔ پہلے بھی سیاسی رہنماؤں اور ان کے ورکروں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے، ان کو ننگا کیا جاتا تھا ان کی عزت نفس کو شدید مجروح کر کے ان کی مزاحمتی روح کو کچل کر ان کو اپنے کیے پر نادم کیا کرتے تھے، جس کے بعد وہ خاموش ہو کر جدوجہد سے الگ ہو جاتے تھے۔ لیکن عمران خان کی بہترین جوابی سٹریٹیجی کی وجہ سے اب سیاسی نظریات کی وجہ سے تشدد سہنے والے شرم کے مارے خاموش نہیں رہتے بلکہ وہ تشدد کرنے والوں کے نام لے کر بتاتے ہیں کہ دوران حراست ان کے ساتھ کس نے کون سا انسانیت سوز عمل کیا ہے۔

اختلافی آوازیں معاشرے کی روح ہوتی ہے۔ کل اگر ارشاد بھٹی، معید پیر زادہ اور عمران ریاض، پی ٹی آئی حکومت کے ہر فاشسٹ عمل کو حب الوطنی کا لبادہ اوڑھا کر حامد میر، ابصار عالم، اسد طور اور مطیع اللہ جان کے زخموں کو مصنوعی باور کرانے میں جتے ہوئے تھے تو آج حکومتی کارپرداز اور ان کے راتب خور ارشاد بھٹی، معید پیر زادہ اور عمران ریاض خان کی جان کو درپیش خطرات کو بزدلی اور بہادری کے ترازو میں تول کر بے حسی کا وہی مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ارشد شریف کو کس نے قتل کیا اور کیوں قتل کیا گیا یہ اب اہم نہیں رہا کیونکہ اس طرح کے ہائی پروفائل مقتولین کے قاتلوں کا پکڑے جانا پاکستان کی تاریخ میں کبھی ممکن نہیں ہوا، اہم یہ ہے کہ وہ محب وطن بریگیڈ کون سی ہے جو اشارہ ملتے ہی تھانہ تھانہ غداری، سازش، توہین اور ملک دشمنی کے پرچے کاٹ کر بولنے اور لکھنے والوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ کینیا میں تفتیشی ٹیم بھیجنے سے بہتر ہے کہ ملک کے اندر ان لوگوں کو ڈھونڈا جائے جنہوں نے ڈرا ڈرا کر ارشد شریف کو دیار غیر میں اغیار کے درمیان بے بسی کی موت مرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

ارشد شریف ایک فوجی کا بیٹا اور دوسرے فوجی کا بھائی تھا۔ فوج وطن عزیز میں ایک برادری کی طرح ہے، اگر ایسا خاندان خود کو پاکستان میں غیر محفوظ محسوس نہیں کرتے ہیں تو پھر ہم سب کیسے محفوظ ہیں۔ آپ کے مخالف بیانیے کی شہرت اور قبولیت کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ زندہ ارشد شریف کی بات کتنے لوگ سنتے اور مانتے تھے اور مردہ ارشد شریف کے جنازے میں کتنے عقیدت مندوں نے شرکت کی۔

جب محض اختلافی بیانیہ کو آپ کی مخالفت سمجھا جانے لگتا ہے اور مخصوص لابی اختلاف کرنے والوں کے خلاف دشنام سرائی پر مبنی قوالی کرنے اور غداری پر مبنی مقدمات قائم کرنے لگتی ہے اور صحافی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ کر ملک چھوڑ دیتا ہے، تو ملک اور آپ کو بدنام کرنے کے لئے تھرڈ پارٹی کو سنہری موقع فراہم کر دیا جاتا ہے۔

اعلان ہوا ہے لیکن ابھی تک ہم فیٹف سے حقیقی طور پر نکلے نہیں، دفتری کارروائی کا خاتمہ اور سرٹیفکیٹ ملنا باقی ہے۔ ارشد شریف کو عدنان خشوگی بنا کر ہمیں پھر سے ٹیرر فنانسنگ اور غیر ملک میں حملہ کرنے میں ملوث کیا جاسکتا ہے۔ سعودی عرب معاشی اور سفارتی طور پر ایک مضبوط ملک تھا خشوگی کے وار کو سہ گیا، ہم تو آئی ایم ایف ورلڈ بنک ایشیئن بنک اور اقتصادی طاقتوں کے دریوزہ گیری کے لئے مشہور ہیں۔ ارشد شریف گیا، لیکن خود کو غیر محفوظ سمجھ کر ملک چھوڑنے والے معید پیر زادہ اور ارشاد بھٹی وغیرہ بیرون ملک ہر گز محفوظ نہیں ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک چھوڑنے والے ان تینوں صحافیوں سمیت ملک میں موجود دوسرے صحافیوں کے لئے بھی پرامن اور محفوظ روزگار کا ماحول بنانے کے لئے فوری اور مثبت اقدامات کرے تاکہ کل پھر کوئی تھرڈ پارٹی صورت حال کا فائدہ اٹھا کر ہمیں صفائیاں پیش کرنے پر مجبور نہ کرے۔

شازار جیلانی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 125 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments