کیا پاکستان میں فوج ”غیر سیاسی“ ہو سکتی ہے؟
مستقبل کے سیاسی ماحول میں فوج کا ممکنہ کردار کیا ہو گا؟ عوامی حمایت اور سوشل میڈیا پر بے پناہ مقبولیت کے ساتھ خان انقلاب لانے کے عزائم پورے کرسکے گا؟ ایک تجزیاتی اور خصوصی رپورٹ
فوج اس ضرورت سے بخوبی واقف ہے کہ عمران خان کو پہلے سے زیادہ ہیرو بنانے سے گریز کیا جائے
وسیع سوشل میڈیا کے دور میں سیاست کی موجودہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے کیونکہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ سیاست میں فوجی اشرافیہ کے کردار کو مزید چھپایا نہیں جا سکتا۔
کیا خان کی تحریک پاکستان کے کام کرنے کے طریقے کو بدل سکتی ہے؟
خان کی انقلاب برپا کرنے کی خواہشات، تاہم، عوامی حمایت اور سوشل میڈیا کی وسیع موجودگی کے باوجود پورا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ سیاست اور پالیسی پر فوج کے تسلط کی مخالفت کرنے والے مقبول رہنما ماضی میں بھی پاکستان میں موجود رہے ہیں۔ وہ اس گرفت کو ڈھیلی نہیں کر سکے، اور خان کے پاس ایسا کرنے کا کوئی بہتر موقع نہیں ہے۔ خان صرف وہی کر رہے ہیں جو ان سے پہلے نواز شریف اور ذوالفقار علی بھٹو نے فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کیا تھا۔
تینوں میں یہی مماثلت ہے کہ فوج کی مدد سے یہ حکومت میں اور بعد میں فوج ہی سے تصادم ہوا۔ اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف نے اپنے جلسوں میں کافی ہجوم اکٹھا کیا تھا، لیکن بعد ازاں ان کی جماعتیں صرف پاکستانی فوج کے ساتھ کیے گئے سمجھوتوں کی وجہ سے ہی زندہ رہ سکیں۔ بہت سے لوگوں کو یہ بات متاثر کن معلوم ہوتی ہے کہ جہاں نواز شریف نے فوج کے اعلیٰ افسروں پر اپنی تنقید کو نرم کیا اور ان سے مذاکرات شروع کر دیے، خان صاحب اپنی بندوقیں سنبھالے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اگرچہ پی ٹی آئی کے عام پیروکار میں جسمانی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے کسی بہادر سیاسی کا رکن جیسا جوش نہیں ہے، لیکن پھر بھی وہ خان کی حمایت جاری رکھنے کے لیے سیاسی طور پر کافی متحرک ہے۔ یہاں یہ بات بتانے مقصد یہ نہیں ہے کہ عمران خان ایک بڑے جمہوریت پسند ہیں، جیسا کہ ان کی اسٹیبلشمنٹ سے قبل از وقت انتخابات پر مجبور کرنے کے لیے اپنا زور استعمال کرنے کی درخواست سے دیکھا گیا ہے۔ بلکہ اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ ذاتی اقتدار کی خواہش سے متحرک، وہ اس سمت میں آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے جہاں دوسروں نے ہار مان لی تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ خان اور فوج کے درمیان تنازع ابھی تک حل نہیں ہوا۔ اس کے خلاف اب تک واحد کارروائی توشہ خانہ کیس کی نا اہلی ہے۔ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ فوج اس کے خلاف کس حد تک جائے گی۔ عوامی حمایت اور سوشل میڈیا پر کافی موجودگی کے باوجود، خان کے انقلاب لانے کے عزائم کے پورا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ وہ ایک بار پھر سڑکوں پر ہے، وہ اور اس کے حامی ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے، لیکن فوج اس ضرورت سے بخوبی واقف ہے کہ عمران خان کو پہلے سے زیادہ ہیرو بنانے سے گریز کیا جائے۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ جرنیل صرف قانونی اقدامات اور پروپیگنڈا کو سزا کے طور پر استعمال کریں گے، اس سے زیادہ سخت کچھ نہیں۔ وسیع سوشل میڈیا کے دور میں سیاست کی موجودہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے کیونکہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ سیاست میں فوجی اشرافیہ کے کردار کو مزید چھپایا نہیں جا سکتا۔
مستقبل کا سیاسی ماحول اور فوج کا ممکنہ کردار
”پاکستان میں سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن“ صرف ایک افسانہ نہیں ہے۔ یہ پاکستان میں ایک حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ نئے سیاسی نظام میں فوج کا کام کیا ہو گا، یہ اہم سوال ہے۔ مستقبل کی پیشین گوئیاں اکثر مشکل ہوتی ہیں، لیکن پاکستان کے حالات میں، اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بیک روم ڈیل اور مشکوک طرز عمل نے اسے مزید مشکل بنا دیا ہے۔ نتیجتاً، وسیع امکانات اور قوم کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے، درج ذیل تین منظرنامے ممکن ہیں۔
اگرچہ تاریخی طور پر ہر 10 سے 12 سال کی سویلین انتظامیہ کے بعد فوج نے حکومت سنبھالی ہے، لیکن اب ایسا ہونا انتہائی ناممکن ہے۔ موجودہ معاشی بحران فوجی قبضے کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ادارے کو بہت زیادہ سماجی، سیاسی اور اقتصادی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایک امکان نئے اور تازہ ہائبرڈ نظام کا دوبارہ ابھرنا ہے۔ ہائبرڈ سیاسی نظام میں، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن، اور پی پی پی معاون کردار ادا کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
’آمریت کی ایک طویل تاریخ کی وجہ سے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں میں فلسفہ پھیل گیا ہے کہ جب تک ریاستی ادارے (فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ) سیاست میں اس طرح مداخلت کرتے رہیں جس سے ان کو فائدہ اور ان کے حریفوں کو نقصان پہنچے، وہ اس کے ساتھ ٹھیک ہیں۔ تاہم، ہائبرڈ نظام کے اپنے مسائل ہیں، کیونکہ اس کی وجہ سے فوج کو کھلم کھلا سیاسی بنایا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ سیاسی شخصیات جو ابتدائی طور پر اس نظام سے بلند ہوئیں وہ معزول ہوتے ہی فوج کی غیر آئینی شمولیت کی مذمت کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
پچھلے پانچ سالوں میں اس کی سماجی و سیاسی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کو دور کرنے کے لیے موجودہ ماحول میں فوج کو سٹریٹجک پسپائی کی ضرورت ہے۔ لہٰذا، ایسا لگتا ہے کہ فوج ایک نیا ہائبرڈ نظام تیار کر کے مزید موقع لے گی، خاص طور پر آخری نظام کی شدید ناکامی کی روشنی میں۔ فوج کا سیاست میں ”غیرجانبدار“ ہونے کا ظاہری موقف سب سے قابل فہم منظر نامہ ہے۔ پنجاب میں، مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی دونوں کی مضبوط پیروکار ہیں، اور دونوں گروپوں نے اپنے اپنے مذاکراتی موقف کو مضبوط بنانے کے لیے فوج کے اعلیٰ افسروں پر تنقید کرنے کے رجحان کا مظاہرہ کیا ہے۔
فوج عوامی سطح پر مسلم لیگ نون یا پی ٹی آئی کی حمایت نہیں کر سکتی۔ کیونکہ ایسا کرنے سے منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن دونوں سیاسی جماعتوں کے حامی فوج سے تب کم ناراض ہوں گے جب ان کا اہم سیاسی حریف فوج میں ان ہی کی طرح غیر مقبول ہو گا۔ لہٰذا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فوج کے لیے کم از کم جلد ہی اپنی واضح سیاست کو روکنے کے لیے سٹریٹجک‘ غیر جانبداری بہترین آپشن ہے۔ اس سے فوج کو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کی موجودہ قیادت کے علاوہ دیگر سیاسی آپشنز پر غور کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہو گا۔ لہٰذا، آنے والے سیاسی ماحول میں کم از کم پنجاب میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی کشمکش کے حوالے سے، فوج شاید تحمل سے کام لے گی۔
اس وقت جب ہائبرڈ حکمرانی بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے، فوج نیوز کانفرنسوں کے ذریعے اس بات پر زور دے رہی ہے کہ وہ اب سیاست میں حصہ نہیں لے گی۔ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کے چھوٹے بھائی اس بات پر خوش ہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنی عوامی پیشی سے قبل ان کی منظوری طلب کی۔ یہ سب کچھ جمہوریت کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کھیل کے بنیادی اور جمہوری اصول قائم کیے جائیں، ان کی وضاحت کی جائے، ایسا تب ہی ممکن ہے پارلیمان کی بالادستی، آئین کی روح کے تحت فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو ماسوائے اصل، اضافی کردار کو محدود کیا جائے۔ بصورت دیگر آنے والے دنوں میں، خاص طور پر اگر معاشی بدحالی برقرار رہی تو سیاسی جماعتوں اور ریاستی اشرافیہ (اعلیٰ ترین عدالتی اور فوجی حکام) کے درمیان اندرونی کشمکش غیر منظم سطح تک بڑھنے کا قوی امکان ہے۔


