زندگی تیرے تعاقب میں ہم اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں


آج کے ترقی یافتہ دور میں جہاں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبۂ زندگی میں ہمیں نظر آتی ہیں، زندگی کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور یہ ثابت کر چکی ہیں کہ موقع ملنے پر وہ کسی طرح بھی مرد سے کم نہیں ہیں، وہیں آج بھی اس ملک خداداد میں عورت کے پیدا ہونے پر ماتم کرنے والوں اور بیٹی کی پیدائش پر افسوس کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ ابھی ہم سے پچھلی نسل ہی کی بات ہے کہ بیٹی پیدا ہونے پر مائیں رو پڑتی تھیں جیسے نو ماہ کی مشقت اور زچگی کی تکلیف کا ثمر وہ نہیں ملا جو ملنا چاہیے تھا۔ کئی خاندان تو ایسے بھی ہیں جہاں یہ پتا چلتے ہی کہ لڑکی ہے ماں کی صحت کی پرواہ کیے بغیر حمل ضائع کرا دیا جاتا۔ ایسے میں عطائی ڈاکٹروں کی غلطیوں سے کئی ساری عورتوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتیں اور آج بھی چھوٹے قصبوں اور گاؤں میں ایسا ہوتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ جب میری سب سے چھوٹی بہن پیدا ہوئی تھی تو امی رو پڑی تھیں جیسے کہ وہ ہر مرتبہ یہ ساری تکلیف بیٹیاں پیدا کرنے کے لیے تو نہیں برداشت کرتی تھیں۔ عورت جو مرد کے بدلے میں آ جانے والے اضافی بوجھ کے علاوہ کچھ نہیں سمجھی جاتی، اس کی پرورش بھی پھر اسی طرز سے کی جاتی ہے اور ہر قدم پر اسے بھائیوں کے مقابلے میں کم تر ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے، کھانے میں سے اچھی بوٹیاں چن کر بھائی کے لیے رکھ دی جاتی ہیں اور اگر کبھی اس نا انصافی پر بہنوں کی طرف سے احتجاج ہو تو یہ کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ وہ مرد ہے۔

مجھے بچپن سے ہی اس طرح کے تمام امتیازی رویوں پہ غصہ آتا۔ کئی مرتبہ تو اس بات پر مار بھی پڑی کہ بھائی کا مقابلہ کیوں کرتی ہو تم؟

یہ عدم مساوات بچپن سے ہی بچیوں کے ذہنوں میں احساس کمتری پیدا کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بھائیوں کو برتر مخلوق سمجھنے لگتی ہیں اور کبھی ان سے نفرت کرنے لگتی ہیں کیونکہ والدین کی محبت اور توجہ تو ہر بچے کو یکساں ہی چاہیے ہوتی ہے۔ ان کے معصوم ذہن اس معاشرتی تفریق سے نابلد خود کو مکمل انسان سمجھتے ہیں جبکہ خاندان اور معاشرہ ہر موڑ پر لڑکی کو یہ احساس دلاتا ہے کہ نہیں تم تو یہ نہیں ہو اور تمہیں خود کو ہمارے بنائے گئے آئینے ہی میں دیکھنا ہے۔

یہ پدر شاہی نظام عورت کو نہ صرف اس کے بنیادی انسانی تشخص سے محروم رکھتا ہے بلکہ اس کی طرف سے اپنے وجود اور شناخت کو برقرار رکھنے کی خاطر کی جانے والی ہر کوشش کو بھی کچل دینا چاہتا ہے۔ اس کی زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں بھی اسے بے اختیار رکھا جاتا ہے۔ اس کی حیثیت مرد کے مقابلے میں ایک کم تر مخلوق کی ہے۔ مرد اس کو بتائے گا کہ اسے کیا کرنا ہے کیا نہیں بلکہ سوچنا بھی کیا ہے کیونکہ ظاہری طور پر تو وہ اشرف المخلوقات یعنی انسان ہی ہے مگر اس کی عقل و دانش مرد سے کم ہے اور اس لیے ساری عمر مرد کو اس کا ہاتھ پکڑ کر چلانا ہے۔

گھر کی چار دیواری کے باہر بلا اجازت قدم رکھنے پر نہ صرف سرزنش بلکہ تشدد کے ذریعے اسے قابو کیا جاتا ہے اور اس طرح کے گھٹن زدہ ماحول کو اس کے لیے محفوظ ترین پناہ گردانا جاتا ہے۔ اسے کسی خزانے کی طرح تجوری میں بند رکھا جاتا ہے چاہے اس میں اس کی تمام تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ لگ جائے۔ وہ باہر نکلتی ہے تو بھی اس کا وجود ناقابل برداشت ہے۔ اس کی جانب اٹھنے والی غلیظ نظریں ہر نکڑ پر اس کے جسم کو چیر پھاڑ ڈالنا چاہتی ہیں۔

وہ جانتی ہے کہ اس کی حیثیت ایک جسم سے بڑھ کر کچھ نہیں سو وہ بھی اسی جسم کی بناوٹ اور تراش خراش میں جت جاتی ہے، پھر اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مرد کے لیے وہ چاہے جتنا بن سنور لے، پھر بھی اس کی نظر دوسری عورت کے تعاقب سے باز نہیں آئے گی۔ ایسے میں اگر اس کا بھی دل چاہے کہ کسی کی محبت بھری نظروں سے اپنے وجود کو پھر سے جوان کر لے تو اس کا مرد یہ بھی گوارا نہیں کرے گا اور اگلے ہی لمحے وہ بدچلن موت کے گھاٹ اتار دی جائے گی۔

مرد کو پھر سات خون معاف ہیں، کم عمری میں بہن سے ہو جانے والی غلطی اور خاندان کے نام پر پڑنے والے دھبے کو دھونے کے لیے بھائی ہی کی تو غیرت کو ہوا دی جائے گی۔ پتا نہیں، کتنی ساری قندیلیں ہیں جن کی خبر بھی ہم تک نہیں پہنچ پاتی اور وہ ابدی نیند سو چکی ہوتی ہیں۔

اچھی عورت کا معیار اس معاشرے میں اتنا اونچا رکھ دیا گیا ہے کہ جب تک عورت اپنا آپ مارتی مارتی اس دنیا فانی سے کوچ نہیں کر جاتی تب تک اس کی ذات میں کیڑے نکالنے سے باز نہیں آتے۔ شادی سے پہلے طرح طرح کی پابندیاں لگا کر اس کی آرزوؤں کا گلا گھونٹا جاتا ہے تاکہ ماں باپ کی تربیت پر حرف نہ آئے اور پھر شادی کے بعد اس پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال کر اس سے اس کے خواب تک چھین لیے جاتے ہیں۔ اس سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ زندگی کے بارے میں کیا سوچتی ہے، خاندان کی عزت و وقار کے تحفظ اور شوہر کی فرماں برداری سے ہٹ کر وہ کچھ چاہتی یا سوچتی بھی ہے۔ پھر اگر کوئی عورت اس سب کے علاوہ اپنے لیے کچھ کرنا چاہے، باہر نکل کے نوکری کرنا چاہے تو وہ بدذات او بد کردار ہوتی ہے اور اس کا شوہر بھی نامرد اور بے غیرت کہلاتا ہے۔

پھر لوگ کہتے ہیں کہ تمام مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔ میں بھی یہی کہتی ہوں کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہیں مگر بات یہاں انفرادی طور پر مرد کی نہیں بلکہ اس پورے پدرسری معاشرے اور نظام کی ہے جو عورت کے استحصال پر کھڑا ہے۔ مرد پر صرف معاشی ضروریات پوری کرنے کا بوجھ ہے جبکہ عورت کو با کردار و با حیا ہونے کے ساتھ ساتھ مطیع و فرمانبردار بھی ہونا ہوتا ہے۔ شادی سے پہلے اچھی بہن او بیٹی کے بعد شادی شدہ زندگی میں اچھی اور مثالی بیوی اور بہو کیسے بنا جائے، اس پر آپ کو نہ صرف ہزاروں کتابیں بلکہ بڑے بڑے موٹیویشنل اسپیکرز کی تقاریر بھی مل جائیں گی جبکہ اس معاشرے میں عورتوں پہ ہونے والی زیادتیوں پر ان کے منہ سے ایک لفظ بھی جیسے حرام ہو۔ بے حیائی کی بتی کے پیچھے ایسے لگے ہوتے ہیں کہ معاشرے کی نا انصافی کا کوئی سپیڈ بریکر حتیٰ کہ کھڈے اور کھائیاں بھی ان کی نظر سے اوجھل ہی رہتے ہیں۔

ایسے میں ان تمام ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبی وہ کب جوان لڑکی سے ادھیڑ عمر عورت میں بدل جاتی ہے اور اس کی ذات کے کتنے حصے اور بخرے ہوتے ہیں، کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو کہتا ہے، نہیں! اب تو بڑی ترقی ہو چکی ہے۔ خواتین کو ان کے تمام حقوق حاصل ہیں اور ہر کام کرنے کی آزادی ہے۔ میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں، یہ ہمارے ملک کی کتنی فیصد خواتین ہیں۔ پچھلے سال ہی پاکستان جینڈر پیریٹی انڈیکس یعنی صنفی برابری کی فہرست میں صرف افغانستان سے اوپر دیکھا گیا اور پھر جب زندگی کے بنیادی حقوق جیسے کہ تعلیم میں بھی ہم اتنے پیچھے کھڑے ہیں تو اور کاہے کی آزادی ہے؟

آج بھی ایسے علاقے ہیں جہاں قبائلی رسم و رواج اور غیرت کے نام پر آئے دن عورتیں بھینٹ چڑھائی جاتی ہیں۔ چونکہ ان علاقوں میں عورت کو انسان تو سمجھا نہیں جاتا، بھیڑ بکریوں کی طرح بس فوائد جتنا ہو سکے لے لیے اور حقوق ندارد۔ روٹی کپڑا اور چھت مل تو رہی ہے اور کیا چاہیے عورت کو؟!

اور تو چھوڑیں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات یہاں روز کا معمول ہیں۔ گھریلو تشدد، تیزاب گردی اور قتل جیسے سنگین جرائم تک کی روک تھام نہیں ہو سکی ہے۔ آئے روز ایسا کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور پیش آ جاتا ہے جو بس چند دن اخبارات کی سرخیوں میں گردش کرتا ہے اور ٹاک شوز میں موضوع بحث رہتا ہے مگر اکثر اوقات نہ تو مجرم کیفر کردار تک پہنچتے ہیں اور نہ ہی ان مسائل کا تدارک ہوتا ہے۔

میں بحیثیت ایک بیٹی کی ماں کے بس یہ سوچتی ہوں کہ آنے والی نسلوں کا مستقبل کیا ہو گا اس ملک میں؟ کیا یہ معاشرہ کوئی بہتر سمت اختیار کرے گا یا بد سے بدتر ہوتا چلا جائے گا؟

Facebook Comments HS