لانگ مارچ ایجنڈا: بن کے دنیا کا تماشا معتبر ہو جائیں گے؟
بن کے دنیا کا تماشا معتبر ہو جائیں گے
سب کو ہنستا دیکھ کر ہم چشم تر ہو جائیں گے
مجھ کو قدروں کے بدلنے سے یہ ہو گا فائدہ
میرے جتنے عیب ہیں سارے ہنر ہو جائیں گے
آج اپنے جسم کو تو جس قدر چاہے چھپا
رفتہ رفتہ تیرے کپڑے مختصر ہو جائیں گے
رفتہ رفتہ ان سے اڑ جائے گی یکجائی کی بو
آج جو گھر ہیں وہ سب دیوار و در ہو جائیں گے
کیسے قصے تھے کہ چھڑ جائیں تو اڑ جاتی تھی نیند
کیا خبر تھی وہ بھی حرف مختصر ہو جائیں گے
کیا کہیں ایسے تقاضے ہیں محبت کے تو
اپنی بیتابی سے ہم رقص شرر ہو جائیں گے
کاخ و کوئے اہل دولت کی بنا ہے ریت پر
اک دھماکے سے یہ سب زیر و زبر ہو جائیں گے
سلیم احمد کی غزل کے چند اشعار اگر ایک طرف پاکستان کی نازک صورتحال کی عکاسی کر رہے ہیں تو دوسری جانب اناؤں کا یہ کھیل جاری رہا تو اس میں مستقبل کی خوفناک تصویر بھی دکھائی دیتی ہے۔
”گھر پھونک تماشا دیکھ“ کا محاورہ آج کے منظر نامے پر صادق آتا ہے۔ وطن عزیز جس ہیجان انگیز دور سے گزر رہا ہے تاریخ کے اوراق کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ ایسے حالات کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا کرتا۔
حالات کی یہ خرابی چرب زبانی، من گھڑت اور بے ثبوت الزام تراشیوں اور سازشی بیانیوں کا نتیجہ ہے جس میں مخصوص ذہن سازی کے ذریعے پاکستان کو عالمی طاقتوں کی آماجگاہ بنانے اور دشمنوں کا کام آسان بنانے کے لئے انتشار، بدامنی، نفرتوں اور فساد کی آگ لگانے کا عمل جاری ہے۔
لانگ مارچ کے نام پر گلیاں محلے لہو لہو کرنے کے اعلانات اسی ماحول کی غمازی کرتے ہیں کہا جاتا ہے کہ ماضی میں ”را“ نے مشرقی پاکستان میں فساد ڈالنے کے لئے مولانا بھاشانی کو جلاؤ، گھیراؤ اور مارو یا مر جاؤ کا ایجنڈا دے کر میدان میں اتارا جس کا انجام سقوط ڈھاکہ کی صورت میں نکلا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ہمارے ملک کی خوش قسمتی رہی کہ بدترین حالات میں بھی پاکستانی عوام کی والہانہ محبت، باصلاحیت، تجربہ کار، منظم بیوروکریسی اور بے مثال فوج کے باعث کوئی عالمی سازش کامیاب ہو سکی اور نہ کسی کو مصر، شام، لیبیا، یمن کے مناظر تخلیق کرنے کا یارا ہوا۔
لیکن لگتا ہے اب وہ سارے تجربے یہاں آزمانے کا سٹیج تیار ہو رہا ہے اور سکرپٹ کی جو پرت پراسرار انداز میں درجہ بدرجہ کھل رہے ہیں وہ دیسی ساختہ دکھائی نہیں دیتے مصر کے التحریر چوک میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر عرب بہار لایا تو انجام کیا ہوا؟ اب حقیقی آزادی اور مقبولیت کے نام پر کیا کھلواڑ ہوگی اس کا پتہ بھی جلد چل جائے گا۔ عمران خان نے کرپشن کے نام پر ماضی کے طالع آزماؤں کی طرح سیاستدانوں کو من پسند اور مصنوعی احتساب کے شکنجے میں جکڑا۔
جتھے بنا کر چور چور کے شور میں جمہوریت کو ذلیل و رسوا کیا۔ نا اہلی نے معیشت کا جنازہ نکال دیا تو نفرت اور تکبر کا زہر تھوہر کی فصل کی طرح پاک سرزمین میں بو دیا اور لوگوں پر گھروں ہوٹلوں، ریستورانوں اور بازاروں میں حملہ آور ہونے کی نئی ریت ڈال دی گئی۔ من گھڑت مقدمات میں مخالفین کو پس دیوار زنداں کیا گیا، یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی بزرگ اساتذہ کی لاشیں زنجیروں میں بندھی ہوئی احتساب بیورو سے برآمد ہوئیں۔ افسروں نے ذلت کے خوف سے خودکشیاں کر لیں۔
ماضی قریب میں آگ لگانے والے جتھوں کو ملک میں انارکی کے لیے از سر نو منظم کیا جا رہا ہے۔ اب وہی عمران خان ریاست مدینہ اور جہاد کا نعرہ بلند کر کے گلی گلی، قریہ قریہ لوگوں کو آپس میں ٹکرانے پر اکسا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان کی پارٹی عوامی امنگوں کی ترجمان ہے تو انہوں نے اپنے دور میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مہنگائی اور قرضوں کی دلدل میں کیوں دھکیلا؟ اسی دور الم کو واپس لانے کے لئے ”حقیقی آزادی“ کا نعرہ لگانا اور لانگ مارچ کرنا انہیں زیب دیتا ہے؟
عمران خان مارچ کی تاریخ دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے لیکن معروف اینکر ارشد شریف کے سانحہ قتل کے بعد اچانک لانگ مارچ کا آغاز کر دیا، جس سے ان کے مخالف حلقوں کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ عمران خان کو اپنے لانگ مارچ میں ہمدردی کا عنصر شامل کرنے کے لئے درحقیقت کسی انسانی لاش کی ضرورت تھی جو ارشد شریف کی موت کی صورت میں انہیں دستیاب ہوئی تو عمران خان گومگو کی کیفیت سے نکل آئے۔ لانگ مارچ کی منصوبہ بندی کچھوے کی چال سے اسلام آباد جانا اور 10، 15 دن تک جی ٹی روڈ پر اودھم مچانا ہے جو افراتفری کے ایجنڈے کا عکاس ہے رات کو لانگ مارچ نہ کرنے کا فیصلہ بھی اسی لئے کیا گیا اس سے خان صاحب کو استراحت اور قیلولہ فرمانے کا موقع بھی مل رہا ہے۔
البتہ انہوں نے اپنے اندھے عقیدت مندوں کو پیدل چلنے اور خجل خوار ہونے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ لانگ مارچ کے دوران کئی افسوسناک سانحات ہوچکے ہیں، ایک سانحہ انڈر پاس کی فائبر کی چھت کے ٹوٹنے سے رونما ہوا اور ایک درجن شرکاء زخمی ہوئے۔ لانگ مارچ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں میں باہمی جھڑپ ہوئی، کرسیاں چلیں اور لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ہوا اس ”حادثے“ میں بھی لوگ زخمی ہوئے۔ خانقاہ ڈوگراں میں تعینات پولیس کا ایک ڈرائیور کانسٹیبل اچانک دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا۔
سادھوکی میں صحافتی کمیونٹی پر قیامت ٹوٹی، ایک نجی چینل کی خاتون رپورٹر صدف نعیم جس نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی بجاآوری کے لیے کنٹینر تک رسائی کے لیے ڈیڑھ دو میل کا سفر پیدل بھاگ کر طے کر لیا تھا وہ کنٹینر تک رسائی کے بجائے اس کے نیچے آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اسی طرح ایک اور نوخیز بچہ کنٹینر کی ٹکر سے جان سے گیا۔ اب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ مبینہ طور پر عمران خان بھی اور کچھ دوسرے لوگ بھی، زخمی ہو گئے۔ اللہ خیر کرے نہ جانے آگے کیا ہو گا؟
پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پر بھارت کی خوشی دیدنی ہوتی ہے ان دنوں بھارتی میڈیا کی خصوصی نشریات میں افواج پاکستان کو ہدف بنایا جا رہا ہے جس کا مواد پاکستان تحریک انصاف نے فراہم کیا ہے، عمران خان افواج پاکستان کو مسلسل نشانہ بنائے ہوئے ہیں بھارت کو سب سے زیادہ خوشی عمران خان کی طرف سے آئی ایس آئی پر الزامات کی وجہ سے ہے۔
عمران خان پارلیمنٹ میں اپنی سیاسی شکست کا بدلہ افواج پاکستان اور آئی ایس آئی سے لے رہے ہیں۔ اور لوگوں کو فوج مخالف بیانیے کے لیے تیار کر رہے ہیں ان کی حکمت عملی یہی نظر آتی ہے کہ کسی بھی طرح تصادم کے حالات پیدا کیے جائیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پی ٹی آئی کے مظاہرین آمنے سامنے آئیں او ر خونی سیاست ہوتا کہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے بعد امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہو۔
جب عمران خان افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کو للکار رہے ہیں تو بھارتی ادارے اور میڈیا کیسے خوشی کے شادیانے نہ بجائیں وہ تو کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کو کمزور کرنا ان کا ہدف ہے۔
لندن میں بھارتیوں کے ساتھ تحریک انصاف کے کارکنوں کے مظاہرے کو کون حب الوطنی کہنے کی جرات کر سکتا ہے؟ بھارتی فوج کے سابق میجر نے بھارتی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ عمران خان کو ہر بھارتی چاہے دس ڈالر ہی کیوں نہ ہو ’ضرور چندہ دے تاکہ لانگ مارچ والوں کو پیسے کی کمی نہ ہو اس کے بعد اب کوئی کہانی کیا رہ جاتی ہے؟
ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف کو اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ملک و قوم کے لیے کر رہے ہیں تو سوال یہ ہے کہ اس سے ملک دشمن کیوں خوش ہیں؟


