پل پل بدلتا منظر نامہ

ہماری طرف برگ ریزی کا موسم بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ درخت جب ہرے رنگ کا لباس تبدیل کر کے لال پیلا اور نارنجی لبادہ اوڑھ لیتے ہیں تو ان کی چھب ہی نرالی ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہواؤں کے زور پہ ٹوٹتے بکھرتے یہ پتے اپنے اندر ایک عجیب سی اداسی لاتے ہیں۔ ٹوٹنے والے پتوں میں امید کا پتا کب شامل ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ یہ عمل اکتوبر کے وسط سے شروع ہو کر نومبر کے وسط تک جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد ماحول میں سرد مہری سی آ جاتی ہے۔ ہر غریب الوطن کے دل کی دو کھڑکیاں ہوتی ہیں، ایک تو وہ جو جائے سکونت کے رنگوں کی بہار دکھاتی ہے اور دوسری وہ جو ہجر کی بے آب و گیا وادیوں میں کھلتی ہے۔ غم دوراں اور غم جاناں یہاں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہ کیفیت ان ہی لوگوں کی ہوتی ہے جن کا کعبہ بوجوہ پیچھے چھٹ گیا ہے اور کلیسا آگے کھڑا ہے۔ نئی پود ان تمام گورکھ دھندوں سے آزاد ہے۔
وہ کھڑکی جو پچھلے آنگن میں کھلتی ہے اس میں کوئی نا کوئی ہنگامہ تو ہمیشہ ہی بپا رہتا ہے۔ پچھلے دو ڈھائی مہینے شہروں کے شہر سیلاب کو لے جاتے دیکھا۔ پانی کے تیز و تند ریلوں میں بہتے انسان اور جانور ایک جیسے بے بس دکھائی دیے۔ کھڑے پانی میں پھوٹتی بیماریاں، ٹوٹے ہوئے گھر، گھاس کھاتے بچے اور کھلے آسمان تلے بیٹھے چہروں پہ تفکر کی انگنت لکیریں کہہ رہی ہیں کہ زیست کا کل اثاثہ تو موج دریا لے گئی اب زندگی کیسے کریں؟
ایک جانب کسمپرسی کا یہ حال دیکھ کر جگر پاش پاش ہوتا رہا تو دوسری جانب وہ طبقہ بھی تھا جسے اس منظر نامے سے کوئی سروکار نہ تھا۔ وہ فوٹو شوٹ کر کے اپنے آپ کو تمام ذمہ داری سے مبرا سمجھتے ہیں۔ اس بار تو حکومتی ایوانوں میں بھی وہ ہلچل دکھائی نہیں دی جس کی متقاضی یہ صورتحال تھی۔ البتہ سیاسی میدانوں میں گہما گہمی ہی نہیں بلکہ گرما گرمی عروج پہ رہی۔
خدا خدا کر کے ستمبر گزرا تو کھڑے پانیوں کو بھول کر چہار جانب سیاسی منڈپ سجنے لگے۔ دنیا کے بازار میں غریبی جتنی بک سکتی تھی بیچ لی گئی، غریب جائے بھاڑ میں مگر کاروبار حکومت چلانے کا کچھ وسیلہ تو بن ہی گیا۔ دو مہینے تک یہ فلم چل گئی کافی ہے اب اس سے ان کا جی اکتانے لگا تھا۔ اکتوبر کے آخری ہفتے سے منظر نامہ خونی ہونا شروع ہو گیا۔ ہمارے جیسے دیوانے ان ہنگامہ خیزیوں کو ورطہ حیرت میں ڈوبے دم بخود دیکھ رہے ہیں۔
الیکٹرانک میڈیا ہو یا سوشل میڈیا کس کی بات کریں دونوں کا چلن ایک سا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورے معاشرے کا چلن بدل گیا ہے۔ ساحر نے کہا تھا، مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے مگر فی زمانہ ہر انسان اپنا مذاق اڑانے پہ تلا ہے کیونکہ زندگی بذات خود مذاق بن گئی ہے۔ جہاں دیکھو معمولی باتوں پہ گالم گلوچ، جگت بازی، دھمکی اور گولی ہے۔ انسان بے حیثیت ہو چکا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ پہلی بار ہو رہا ہے گولی کی سرکار تو ہم بچپن سے دیکھتے آئے ہیں۔ نو عمری میں بے مقصد جنگیں دیکھیں، ملک کو دو لخت ہوتے دیکھا۔ کوڑے کھاتے اور شاہی قلعوں میں برف کی سلوں پر ناخن کھنچواتے، بد ترین تشدد برداشت کرتے کٹے پھٹے جسم دیکھے۔ غداری کے الزام میں ملک بدر ہوتے حب الوطن دیکھے۔ عدالتی اور ماورائے عدالت قتل دیکھے۔ جعلی پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے اور فیکٹریوں میں زندہ بھسم ہوتے بے گناہ انسان دیکھے۔ ملک کے سب سے بڑے معاشی حب کو اپنی پھوٹی آنکھ سے دن رات جلتے دیکھا ہے۔ بم دھماکوں میں انسانی اعضا کے ٹکڑوں کو سڑکوں پہ بکھرتے دیکھا۔ میر انیس کا وہ مرثیہ ان آنکھوں پہ صادق آتا ہے کہ مجرائی ان آنکھوں نے کیا کیا دیکھا۔
کراچی میں ہمارے والد کی قبر کے پاس ایک قطار میں پانچ نوجوانوں کی قبریں ہیں جن میں سے کسی کی عمر بھی چوبیس برس سے زیادہ نہیں، وہ پانچوں ایک ہی دن مار دیے گئے تھے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کون تھے؟ کس لیے اور کس الزام میں مارے گئے؟ مگر ہر قبر پہ شہید لکھا ہے۔ شاید یہ لفظ تسکین کا باعث ہوتا ہے اسی لیے یہ یہاں کے اکثر قبرستانوں میں لکھا ملے گا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب تاریک راہوں میں مارے گئے۔ یہ اندھے راستوں کے راہی کیسے بنے اس بارے زبانیں گنگ رہتی ہیں۔
ہمیں بس اتنا سمجھ آتا ہے کہ یہ سیاست بہت ظالم چیز ہے اور اسے جوان خون پسند ہے۔ کسی بھی انسان کو جب اوتار کا درجہ دے دیا جاتا ہے تو وہ خون آشام درندہ بن جاتا ہے یہ گناہگار آنکھیں اس کی چشم دید گواہ ہیں۔ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے تو ہمارا دل دہل جاتا ہے اور نظروں کے سامنے وہ پانچ قبریں گھومنے لگتی ہیں۔
حساس ہونا جرم ہے تو ہم خطاوار ہیں اور یہ خطا ہم سے بار بار ہوتی رہے گی۔ زہر ہلاہل کو قند کہنے کا حوصلہ نہ کل تھا نہ آج ہے۔ اقتدار وہ نشہ ہے کہ جس کی لت ایک بار لگ جائے تو گور تک پیچھا نہیں چھوڑتی۔ یہ بات صدف نعیم جانتی تھی ایک ویڈیو میں اس نے یہی کہا تھا مگر معاشی مجبوریاں اسے کنٹینر کے ساتھ دوڑنے پہ مجبور کر رہی تھیں۔ وہ دو کلو میٹر تک بھاگتی رہی کیونکہ ڈیسک کے پیچھے بیٹھی آواز اس کے کان میں مسلسل کسی ایکسکلوسیو فوٹیج یا انٹرویو کی ڈیمانڈ کر رہی تھی۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ موت اس کا پیچھا کر رہی ہے۔ دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا تو ہاتھ پھسل گیا اور کنٹینر نے اسے روند ڈالا۔ ایکسکلوسیو فوٹیج اس کے مردہ جسم کی صورت ملی۔ ایک صدف ہی کیا کتنے ایسے ہیں جو ایک خبر کے لیے دیوانوں کی طرح بھاگتے نظر آتے ہیں۔ اس کے بچے کیسے پلیں گے یہ کوئی نہیں جان پائے گا اور کس کو اتنی فرصت ہے کہ ان بے کار باتوں پہ دھیان دے۔ صدف کی کہانی ختم ہوئی لیکن ڈیسک کے پیچھے بیٹھنے والوں کو کنٹینروں کے پیچھے بھاگنے کے لیے کوئی نیا ضرورت مند چہرہ ضرور مل جائے گا۔
دوسری تصویر کسی گاؤں دیہات کے اوندھے منہ گرے شخص کی ہے۔ ہمیں اس سے زیادہ اس کے بارے کچھ علم نہیں کہ وہ ایک انسان ہے۔ انسان کا تعلق کسی بھی مذہب، جماعت، طبقہ فکر یا نظریے سے ہو سکتا ہے۔ ہر انسان کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے مگر اپنی رائے دوسروں پہ مسلط کرنے کا حق نہیں ہے۔ طاقت کی نمائش کی تماش بینی کرنے والا یہ شخص نہیں جانتا تھا کہ وہ جائے گا تو دو پیروں پہ مگر لوٹے گا چار کاندھوں پہ، اگر جانتا تو شاید کبھی نہ جاتا۔
ہزاروں کے مجمع میں کسی ایک فرد میں بھی اتنی انسانیت نہ تھی کہ وہ اس کے مردہ جسم کے پاس رکے سوائے اس کے تین معصوم بچوں کے جنہیں شاید علم ہی نہیں تھا کہ باپ کسی نئے جہان کے سفر پہ روانہ ہو چکا ہے۔ اور اس میں تمہارے لیے نشانیاں ہیں! زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ بہت ظالم ہے وہاں لے جا کر مارتی ہے جہاں کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ ان کا کفیل چلا گیا اب ان معصوموں کی قسمت میں یتیمی کی ٹھوکریں ہی لکھی ہیں
موت برحق ہے سب کو آنی ہے مگر وہ پانچ قبریں ہمیں بھلائے نہیں بھولتیں، ابتدا میں پھولوں سے ڈھکی قبریں گزشتہ کئی سال سے اجاڑ پڑی ہیں۔ کتبوں پہ لکھے حروف وقت کی دھول نے دھندلا دیے ہیں۔ ان پہ برسوں سے کوئی نہیں آتا۔ یہ بات ہمارے استفسار پہ والد کی قبر کی دیکھ بھال کرنے والے شخص نے بتائی تھی۔ سیاست اور اقتدار دونوں بہت سفاک ہیں۔ اس میں عام آدمی کی حیثیت محض ایک نمبر کی ہے۔ شناختی کارڈ نمبر فلاں فلاں، ووٹر نمبر نو سو اکتالیس اور بس۔ اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ جب آپ ووٹ ڈالنے جائیں تو پتہ چلے کہ آپ کا ووٹ ڈل چکا ہے یا آپ سے آپ کا شناختی کارڈ ہی لے لیا جائے یہ کہہ کر کہ میاں گھر بیٹھو ووٹ ڈل جائے گا۔ یہ کون سی بڑی بات ہے یہاں تو برسوں پہلے مر کھپ جانے والے بھی ووٹ ڈال جاتے ہیں۔
یہ دھندا بہت گندا ہے۔ اس دھندے میں سیاسی ہی نہیں دیگر بہت سے فریق شامل ہیں۔ ظلم کے نظام میں یہی ہوتا رہا ہے اور نجانے کب تک ہوتا رہے گا؟ یہاں کبھی ایک فریق ظالم ہوتا ہے اور کبھی دوسرا مگر مظلوم ایک ہی رہتا ہے۔ یہاں چہرے بدلتے ہیں تقدیریں نہیں بدلتیں کون جانے کہ یہ منظر نامہ کسی بڑے گیم پلان کا حصہ ہو۔ خدا کرے کہ یہ خدشہ غلط ہو۔ آگ لگی ہے یا لگائی گئی ہے کوئی نہیں جانتا سوائے گیم پلانر کے کیونکہ جہاں پہ ہماری سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے اس کی سوچ شروع ہوتی ہے۔ سوالوں کے ساتھ ساتھ انگلیاں تو اٹھتی ہیں۔ جب ایک انگلی کسی سمت اٹھتی ہے تو تین کا رخ اپنی جانب بھی ہوتا ہے۔ ایسی باریکیاں کوئی نہیں سوچتا کہ سسٹم لپٹتا ہے تو لپیٹے میں سب آتے ہیں۔
ہماری دانتوں میں دبی انگلیاں صرف اتنا ہی مشورہ دے رہی ہیں کہ اے بے حیثیت انسانوں اقتدار کی اس جنگ میں موت کے خریدار نہ بنو۔ فریقین میں سے کسی ایک کو بھی تمہارے مسائل کا ادراک نہیں۔ جو بظاہر آ کے ہیں کہیں وہ چڑی کے غلام تو نہیں؟ شطرنج کی اس بازی میں داؤ پہ اس بار سر لگا ہے وہ کس کا ہے؟ ہمیں نہیں پتہ شاید آنے والا وقت اس کہانی کو ان فولڈ کر دے۔ یا سرے سے منظر نامہ ہی بدل جائے۔

