لوگ دعوت میں کھانا دیکھ کر دیوانے کیوں ہو جاتے ہیں؟


عام طور پر مجھے کسی بھی قسم کی تقریب میں جانے سے الجھن ہوتی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ جیسے ہی دعوت نامہ موصول ہو میں گھر میں کسی نہ کسی فرد کو اس بات پر رضامند کرلوں کہ میری بجائے وہ شرکت کر لے۔ پہلے پہل یہ ذمہ داری میں اپنے مرحوم والد صاحب کے گلے ڈال دیتا کہ دیکھیں آپ خاندان میں بڑے ہیں تو آپ کی شرکت ضروری ہے۔ وہ میری چالاکی سمجھ رہے ہوتے تھے لیکن میرے ذرا سے اصرار پر مان جاتے۔ ان کی رحلت کے بعد اب یہ ذمہ داری مجھ پر ہے۔

میں ایسی ہی ایک شادی کی تقریب میں مدعو تھا۔ میز پر میرے علاوہ دوسرے افراد بھی موجود تھے۔ ان میں کچھ لوگوں سے آشنائی تھی جبکہ باقی لوگ اجنبی تھے۔ سب افراد بظاہر پرسکون اور معزز لگ رہے تھے۔ بات سیاسی اور سماجی شعور پر چل رہی تھی۔ میرے لیے یہ سب حیران کن خوشی کا باعث تھا۔ میں پر امید ہو چکا تھا کہ کھانا پیش کیے جانے تک کا وقت اچھا گزرے گا۔ سب لوگ وقفے وقفے سے اپنے تجربات اور خیالات پیش کر رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا آج تو میں دانشوروں کے بیچ آ گیا۔

ایک صاحب اچانک ہڑبڑا کر سیدھے ہوئے اور پلیٹوں کی طرف لپکے تو میں پریشان ہو گیا کہ ان کو کیا ہوا۔ یہ کھانا پیش کیے جانے کا ابتدائی مرحلہ تھا۔ چند لمحوں میں سب حضرات پلیٹوں میں گوشت کی چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بنا چکے تھے۔ کچھ لوگوں نے پیش بندی کے طور پر میٹھا بھی پلیٹوں میں ڈال کر رکھ لیا تاکہ وہ میٹھا چکھنے کے اعزاز سے محروم نہ رہ جائیں۔

میں میزبان کی معاملہ فہمی سے واقف تھا کہ انہوں نے پیش کیے گئے اشیائے طعام میں سے ہر شے کا اضافی بندوبست کیا ہوا ہے۔ بہرحال یہ لوگ بار بار مزید کھانے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ ان کی پلیٹوں میں کھانا بدستور موجود تھا۔ کھانے کے اختتام پر ان کی پلیٹوں میں کھانے کی پہاڑیاں جوں کی توں موجود تھیں اور میٹھا بھی آدھے سے زائد بچا ہوا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے ذہین باشعور اور بظاہر معقول نظر آنے والے حضرات بھی کھانا دیکھتے ہی نیم پاگلوں کا سا برتاؤ کیوں کرتے ہیں؟ کھانا پہلی بار دیکھا ہے یا آخری بار دیکھ رہے ہیں؟ کیا میزبان ہمیں اپنی تذلیل کے لیے مدعو کرتا ہے؟ کسی کا مہمان بننے کے یہی آداب ہیں؟ کیا کھانے کا ضیاع کرنا بری بات نہیں؟

آداب تو یہ ہیں کہ جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائیں۔
جو پیش کیا جائے وہ کھا لیں۔ ضرورت کے مطابق لیں۔
مزید کا مطالبہ نہ کریں جب تک میزبان خود نہ پوچھے۔
کھانے میں کیڑے نہ نکالیں۔ پسند نہ آئے تو کم کھالیں۔
آخر میں میزبان کو موقع کی مناسبت سے تعریفی کلمات کے ساتھ شکریہ کہہ دیں یا مبارک باد پیش کریں۔

معاملات زندگی میں جانوروں جیسا برتاؤ ہم انسانوں کو زیب نہیں دیتا کہ جیسے ہی رسی کھلی اور چارے پر ٹوٹ پڑے۔ پاکستان میں زیادہ تر والدین اپنے بچوں کی تربیت کے دوران ان کو رہنے سہنے کا سلیقہ سکھانے پر قطعاً توجہ نہیں دیتے نہ ہی اس طرح کی کوئی تحریک سکولوں میں موجود اساتذہ کی طرف سے دی جاتی ہے۔ جبکہ دیگر ممالک میں کم از کم سکول کی حد تک اس بات کا خاص اہتمام ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ لوگ سماجی برتاؤ کے معاملے میں ہم سے قدرے بہتر ہیں۔

ہمیں اپنے سکولوں کے نصاب میں میٹرک تک کم ازکم ایک ایسا ”لازمی مضمون“ پڑھانے کی ضرورت ہے جو ہمیں سماج میں رہنے کے بہتر طور طریقے سکھا سکے۔ اس مضمون کا امتحان لینے کی بجائے طالب علم کے برتاؤ کا مشاہدہ کیا جائے اور اسی مشاہدے کی بنیاد پر اسے کامیاب یا ناکام قرار دیا جائے۔ خود کو معاشرتی حیوان کہتے کہتے ہم حقیقی حیوان بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔ ہمیں انسانوں کے درمیان رہنے کے مناسب اطوار بہرحال سیکھنے ہوں گے ۔ دیوانے کا یہ خواب کب حقیقت کا روپ دھارے گا، رب جانے۔

Facebook Comments HS