مرشد لانے اور نکالنے کے علاوہ بھی کچھ کرنا ہو گا!


پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ 2018 کے عام انتخابات متنازعہ رہے۔ کیونکہ پاکستان میں جنتا یہ جان چکی تھی کہ ملک میں سب سے بڑی دو جماعتیں ہیں اس کے علاوہ باقی ٹوکن سپورٹ جماعتیں جو حمایت اتحاد کے حد تک ہی مضبوط رہی ہیں۔ مگر جہاں تک حکومت بنانے کی بات ہوئی وہاں نون لیگ اور پیپلز پارٹی ہی سیاسی کھیل کے فاتح رہے لیکن اب جاکر پتا چلا اس ڈیل میں بھی کسی کا ہاتھ رہا مسلسل۔ مگر 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کا بھاری اکثریت سے جیتنا ان دو بڑی جماعتوں کو نڈھال کر گیا بلکہ عوام کے لیے بھی پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب اتفاق دیکھنے کو ملا کوئی موروثی سیاست کے خاتمے پر تبصرے کرنے لگا تو کوئی آج تم کل میں والی لے دے والی سیاست پر بات کرنے لگا۔ بلکہ اکثریت میں لوگوں کی رائے یہ تھی کہ اسٹیبلشمنٹ کے خصوصی تعاون سے یہ ممکن ہوا ورنہ کہا عمران خان کہاں پی ٹی آئی اور کہاں نون لیگ اور پیپلز پارٹی۔

یاد رہے پی ٹی آئی کی حکومت سے جتنی تکلیف نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو اٹھانی پڑی وہاں جمیعت علمائے اسلام کے لیے بھی یہ سانحہ کسی بدترین تکلیف سے کم نہ تھا کیونکہ کہ جمعیت علمائے اسلام جس صوبہ میں سب سے زیادہ فعال تھی وہاں سے عمران خان کی جماعت نے سابقہ سے لے کر 2018 الیکشن ان کی برتری والی سیاست کو کافی حد تک ختم کر دیا تھا۔ بہرحال پی ٹی آئی نے کچھ جماعتوں کے مختصر ساتھ سے مل کر بھاری اکثریت سے حکومت بنائی اور بدقسمتی سے عمران خان بھول گیا کہ کنٹینر لانگ مارچ والے سارے معاملات مجھے اپنی حکومت میں اپوزیشن کی طرف سے برداشت کرنے ہوں گے کیونکہ رواج ختم نہیں ہوتا وہ چلتا ہے خاص کر سیاست میں ری ایکشن لازمی ہوتا ہے۔

اور ایسا ہی ہوا حکومت بنتے ہی مکافات عمل شروع ہو گیا۔ اور عمران خان کے 2018 کے الیکشن سے پہلے بہت سارے وعدے جو انشاء اللہ تک محدود رہ گئے۔ اور اپوزیشن نے عمران خان کی حکومت سمیت پھر فوج کے تعاون کو نشانہ بنایا اور مہنگائی لانگ مارچ شروع کیا گیا مہنگائی تو ختم نہیں ہوئی البتہ جو معاہدہ تھا اس پر کامیابی ملی۔

بہرحال پی ڈی ایم اے اور دیگر نے سوچا عمران خان پاگل ہے صدمہ میں کچھ دن بولے گا پھر چپ ہو جائے گا مگر وہ وبال بن گیا کیونکہ فارمیشن ٹیم کا گروپ خان کے پاگل پن سے متاثر تھا اس نے عمران خان میں ترمیم کی یہاں بھی کوئی مقصد تھا۔ پھر کچھ ہم غلام ہیں کیا، ہارس ٹریڈنگ کی گئی ہے میرے پاس اختیارات نہیں تھے، امریکہ کی مداخلت ہے تو کبھی سازش ہے، مجھے کام نہیں کرنے دیا گیا ہم کو سب سے پہلے آزاد ہونا ہے جمہوریت کو زندہ کرنا ہے فوج کو نیوٹرل ہونا ہے عدالتیں خریدی گئیں ہیں الیکشن کمیشن بھی بک گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کوئی اور آپریٹ کر رہا ہے۔ پھر سکرپٹ رائٹر نے اللہ معاف کرے جن شخصیات کا نام لینا عام انسان تصور نہیں کرتا ان کی بارے میں سب کچھ عمران خان کو کہنے کی اجازت دی گئی اور یہ اجازت عوام تک پہنچانے میں عمران خان اور ان کی میڈیا ٹیم نے موثر کردار ادا کیا۔

عمران خان پھر عوام میں مقبول ہو گئے۔ اب اس عمل میں ملک سے بے انتہا محبت کرنے والے ذمہ دار گروپ کا کیا کردار تھا میں نہیں جانتا جان بوجھ کر مگر جب کوئی شخص اپنے ہی گھر کے کسی فرد یا افراد کے اختلافات کے سامنے مجبور ہوجاتا ہے یہاں بھی ایسا معاملہ دیکھنے کو ملا۔

اور اس کا باقاعدہ فائدہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو ملنا شروع ہو گیا۔ عمران خان کو مزید رشک آیا اس نے جتنا کہا گیا تھا سے تجاوز بھی کیا کیوں کہ خان صاحب میں میں میں کے علاوہ تم تم کہنے کی بھی عادت تھی جس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ نئی حکومت کو ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے خان نے اپنے ضائع شدہ دور حکومت کی کارکردگی اور یو ٹرنز کو مزید کوشش کا نام دے دیا اور عوام نے عمران خان کی دور حکومت بھلا کر عمران خان کے آئندہ کے لائحہ عمل پر فوکس کرنا شروع کر دیا جو کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے حق میں ایک بہترین پبلک ریسپانس تھا اور معاملہ پھر موجودہ حکومت کے لیے پیچیدہ دکھائی دینے لگا جو اب تک جاری ہے۔

عمران خان کے پاس بہترین سوشل میڈیا ٹیم ہونے کی وجہ سے اس کے بہت سارے معاملات آسان ہوتے گئے پھر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم نے بھی اپنے جوہر دکھانا شروع کیے جبکہ ملک سے بے انتہاء محبت کرنے والے ذمہ دار گروپ کو بھی مجبوراً سوشل میڈیا پر آنا لازمی بن گیا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کی سوشل میڈیا ٹیم کا ہدف آسان ہے وہ مشترکہ طور پر ایک ہی پیغام میں سب کو ٹارگٹ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی مگر باقی پی ڈی ایم اے میں شامل تمام جماعتوں کو اور ذمہ دار گروپ کو الگ الگ طریقے سے عمران خان کو ٹارگٹ کرنا ہوتا ہے۔

جبکہ اس تعاقب میں پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم نے پی ٹی آئی کی پوری قیادت نے ہر ممکن کوشش کی ملکی اہم اداروں کی تذلیل کو برقرار رکھنے کی جو ابھی تک جاری ہے۔ حیرت کی بات ہے اس عمل پر عام عوامی ریسپانس بھی خاطر خواہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اب اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جس میں نون لیگ پیپلز پارٹی باقی تمام پی ڈی ایم اے میں شامل جماعتوں سے یکسر اخفاء ہونا ہے یا پھر ذمہ دار گروپ کی پالیسیوں سے بہرحال اس سارے معاملے سے جگ ہنسائی کا دائرہ گھر سے غیروں تک پہنچ گیا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے بلوچ، سندھی، پٹھان جن میں بیشتر لوگ یا جماعتیں جن پر غداری کے مقدمے یا پھر کالعدم ہونے کا سامنا رہا ان تمام سے زیادہ گندی حرکتیں مطلب جن سے ملکی سالمیت کو نقصان ہو یا جس کو ملکی اداروں کی ساکھ کو ٹھیس پہنچ رہی ہو وہ سارے کردار اب پی ٹی آئی اور عمران خان کی جانب سے اوپن فارم پر دیکھنے کو مل رہے ہیں اور سب سے بڑی پریشانی والی بات یہ ہے کہ یہ شدت پنجاب میں زیادہ دیکھنے کو مل رہی ہے کو باقی صوبوں کے لیے باعث حیرت ہے جس کی بہت ساری وجوہات ہیں جو میرے موضوع کا حصہ نہیں۔

یہاں ایک اور معاملہ بھی ہے کچھ لوگو جن میں کچھ صحافی ہیں کچھ شاعر کچھ قوم پرست رہنما ان میں بیشتر جن کو عمران خان سے اختلاف ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے بھی مگر موجودہ حالت میں ان کو تنقید کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے۔ کیونکہ دکھائی یہ دے رہا ہے اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے خفاء ہے اور موجودہ حکومت سے چاہا ہے اس معاملے کو لے کر سلیکٹیڈ تنقید باز حیرانی میں مبتلاء ہیں۔ اگر عمران خان پر تنقید کرتے ہیں تو یہ اسٹیبلشمنٹ کے حق میں اور اگر اسٹیبلشمنٹ پر کرتے ہیں تو یہ عمران کے حق میں ہیں اور اس خاموشی کا بھی باقاعدہ فائدہ عمران خان کو ہی ہے۔

عمران خان پر چاہے جو بھی الزام لگائیں، چاہے وہ اداکار ہے سیاست دان ہے ڈونگی ہے موالی ہے پاگل ہے خریدار ہے بکا ہوا ہے یوٹرن کا ماہر ہے موقف بدلنے کا کاہل ہے، غدار ہے زانی ہے چور ہے سماجی ہے بہرحال جتنے بھی کردار ہیں جتنے اس کے روپ ہیں اتنی اس کی پسند کا دائرہ وسیع ہے یعنی اس کے کردار کو مختلف طریقوں سے عوام پسند کرتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے اس کو لانے والے اس کو نکالنے والے اس کو چاہنے والے اس سے نفرت کرنے والے سب کنفیوژن کا شکار ہیں۔

Facebook Comments HS