کرونا کا خطرہ باقی ہے، نئی قسم سامنے آ گئی


عالمی وبا کرونا کے باعث مختلف ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی، جس میں امریکہ، برطانیہ، چین، جاپان اور جنوبی کوریا سر فہرست رہے۔

دو سال کے طویل عرصے تک دنیا نے لاک ڈاؤن کی سختیوں کو برداشت کیا، تقریبا ہر ملک میں دفتری، سماجی، کاروباری، مذہبی، تعلیمی، کھیل اور سیاحت کی سرگرمیوں معطل رہیں، سماجی فاصلے کی سختی کے باعث ایک دوسرے سے مصافحہ اور ہاتھ ملانے سے اجتناب برتنے کی ہدایات بھی کی گئیں۔ بعد ازاں انسداد کرونا کی ویکسینیشن کے بعد دنیا میں کسی حد تک معمولات زندگی بحال ہوئے تاہم ابھی بھی کرونا کا خطرہ مکمل ٹالا نہیں ہے، اس وبا کے باعث صرف امریکہ میں دس لاکھ سے زائد افراد موت کا شکار ہوئے، اگر صرف امریکہ میں ہی کرونا وبا سے ہلاکتوں کا سر سری جائزہ لیں تو اس قسم کے اعداد و شمار سامنے آئیں گے

امریکہ کی 50 ریاستوں میں سے سب سے زیادہ ہلاکتیں کیلیفورنیا میں ہوئیں جہاں تقریباً 90 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

کیلیفورنیا کے بعد ٹیکساس میں تقریباً 86 ہزار، فلوریڈا میں تقریباً 74 ہزار اور نیویارک میں تقریباً 68 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فی کس کی بنیاد پر، سی ڈی سی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مسیسیپی کو فی 100,000 رہائشیوں میں تقریباً 418 اموات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے بعد ایریزونا 414، الاباما 399 اور ویسٹ ورجینیا 384 ہیں۔

ان ریاستوں میں فی کس اموات کی شرح تقریباً 300 فی 100,000 کی اوسط امریکی قومی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کے سترہ ملین تک انسان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کورونا وائرس سے قبل عالمی ادارہ صحت نے 2009 میں سوائن فلو کو 2009 میں عالمی وبا قرار دیا تھا جس سے 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کورونا وائرس جسے
Covid 19
بھی کہا جاتا ہے، اس کی نئی قسم
Long Covid

کے نام متعارف ہوئی ہے، جس کی مدت چودہ دن سے زیادہ ہے، لانگ کوویڈ کا دورانیہ تین ماہ سے زائد عرصے پر مشتمل ہوتا ہے، لانگ کوویڈ علامات میں شامل ہے کہ اس عارضے کا شکار مریض اپنی توجہ ایک جانب مرکوز نہیں رکھ پاتا ہے، اسے سوچنے میں دشواری ہوتی ہے، یادداشت کمزور ہو جاتی ہے، سانس لینے میں دشواری، جوڑوں یا پٹھوں میں درد، دھڑکن کی تیز رفتار، سینے میں درد، کھڑے ہونے پر چکر آنا، ذائقہ/بو میں تبدیلی، ورزش کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔

لانگ کوویڈ خواتین کی ماہواری پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، رپورٹ کے مطابق امریکہ مین اس وقت 20 لاکھ کے لگ بھگ افراد طول کوویڈ کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب امریکی صدر جون بائیڈن نے عالمی وبا کے مکمل خاتمے کی نوید سنائی ہے، جس پر ماہرین صحت حیران رہ گئے کیونکہ ان کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کورونا وائرس کے تقریباً 612 ملین کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سائنس دانوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم اوور ورلڈ ان ڈیٹا کے مطابق، جنوری 2022 میں امریکہ میں 806,987، فرانس میں 366,554 اور ہندوستان میں 311,982 نئے کیسز سامنے آچکے ہیں، گزشتہ ہفتہ کو، دنیا بھر میں تقریباً 493,000 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے تھے

رواں سال 16 اگست سے 17 ستمبر تک، دنیا بھر میں 19.4 ملین نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے کچھ نمایاں اضافہ جاپان 29 %، تائیوان 20 % اور ہانگ کانگ ( 19 %) میں ہوا ہے۔ اسی دوران امریکہ میں کورونا کیسز میں تین فیصد اضافہ ہوا ہے۔

دفتر برائے قومی شماریات کے مطابق، انگلینڈ اور ویلز
میں، مارچ 2020 اور جون 2022 کے درمیان 137,447 اموات کورونا کے باعث ریکارڈ ہوئیں۔

ماہرین صحت کے مطابق وبا کے باعث اموات کا سلسلہ اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا ابھی بھی کورونا کے اثرات سے دوچار ہیں۔ حکومت کو انسداد کورونا کے لئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

صحت عامہ کے ماہر ڈاکٹر میگن رینی، جو براؤن یونیورسٹی کے سکول آف پبلک ہیلتھ کی سربراہ ہیں، انہوں نے امریکی صدر کے کورونا کے خاتمے کے حوالے سے بیان کو ان کی خام خیالی قرار دیا، ڈاکٹر انتھونی فوکی، جو کہ امریکی صدر جون بائیڈن کے طبی مشیر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکٹو ڈیزیز کے ڈائریکٹر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وائرس کے ساتھ جیو، کیونکہ ہم اسے ختم نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجھے اس وبا کی مزید اقسام سامنے آئیں گی۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے انہیں آڑے ہاتھ لے کر کہا کہ اس موذی وبا کی وجہ سے ہم نے اپنے پیاروں کو کھو دیا جبکہ موت کا خطرہ ابھی بھی برقرار ہے اور جون بائیڈن ایسے بیانات دے رہے ہیں، جس میں ان کی غیر سنجیدگی نظر آتی ہے۔

امریکی حکومت لانگ کوویڈ کے حقائق کو عوام سے پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کے صدر وائرس سے پاک امریکہ کی نوید سنا رہے ہیں جبکہ حقائق اس سے مکمل برعکس اور قابل تشویش ہیں، عالمی ماہرین نے پاکستان سمیت 70 ممالک کا جائزہ لیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ اس وائرس کی وجہ سے 40 کروڑ سے زائد افراد غربت کا شکار ہوئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی لڑکھڑا رہی تھی، ایسی صورتحال میں کورونا وائرس مزید مہلک ثابت ہوا، جس کی وجہ سے ہم ایک بار پھر آئی ایم ایف کے در پر ہیں، بہرحال دنیا کو امریکی صدر کے بیان پر بہت حیرت ہوئی ہے کیونکہ دنیا توقع کرتی ہے کہ امریکہ کو بطور سپر پاور زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔ کم از کم امریکہ کو دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہمیں ابھی بھی وائرس سے لڑنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS