خواب انگارے ناول کے ساتھ ایک مکالمہ


نعیم بیگ کا نیا ناول اپنی بالائی قرآت میں بلوچوں کے مسائل مایوسی اور پھر مزاحمت کے ساتھ ساتھ سپین میں جاری کیتا لون باشندوں کی مزاحمتی تحریک کے پس منظر میں لکھا گیا ہے مگر درحقیقت یہ بڑے کینوس پہ عالمی استعماری نظام میں ممالک کی تقسیم در تقسیم مسائل زدہ علاقوں میں مفاد پرست ممالک کی دخل اندازی اور سرمایہ دارانہ و جاگیرداری نظام کے زہریلے اثرات پہ بات کرتا ہے۔ ناول کا کردار شہناز بلوچ ایک فیمنسٹ اور سوشل ایکٹیوسٹ ہے جو بلوچستان کے نسبتاً چھوٹے سردار گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔

داتا دربار بم دھماکے میں شہناز اور اس کے شوہر کی ایک ساتھ ہلاکت کے بعد اس کی بیٹی صبا اور بیٹا سروپ سخت مشکل حالات کا شکار ہوتے ہیں۔ سروپ جو بارسلونا یونیورسٹی میں ایم فل کا طالب علم ہے اس کی دوستی اپنی کلاس فیلو ریکا سے ہوتی ہے جو کیتا لونین تحریک آزادی کی سرگرم رکن ہے وہ سروپ کو اپنی تنظیم میں شمولیت کی دعوت دیتی ہے۔ وہاں ڈاکٹر انتالیو اور سروپ کی گفتگو در اصل اس ناول کا مغز ہے۔ جس میں قیام پاکستان سے لے کر بعد کے ادوار تک میں معاشی سماجی و سیاسی مسائل جنہوں نے بلوچستان میں بے چینی پیدا کی ان کا احاطہ کرتے ہیں۔

ناول کے اس حصے پہ غور کی ضرورت ہے جہاں قیام پاکستان میں مغرب کے دیرپا اغراض و مقاصد بھی سامنے لائے گئے ہیں۔

یہاں ناول میں کافی سے زیادہ اختصار کے ساتھ قیام پاکستان کی تاریخ کھنگالی گئی ہے۔ کئی جگہ تشنگی بھی محسوس ہوتی ہے۔ جیسے کہ کہنے کو بہت کچھ ہو مگر کسی نے الفاظ کی حد مقرر کر دی ہو۔ جبکہ ناول میں ناول نگار کے پاس بہت گنجائش ہوتی ہے۔ اور کہیں ایسا ہے کہ ناول نگار اپنے قاری کو ہی مکالمے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ جو ناول کے آخر میں کھل کر واضح ہو جاتا ہے۔

خیر اگر تاریخ کی بات کریں تو عالمی استعماری نظام کے پس منظر میں برصغیر کی آزادی اتنی سادہ اور آسان نہ تھی۔ برطانیہ اپنی جس کالونی کو بھی چھوڑ کر گیا وہاں بڑے ملک کو توڑ کر نہ صرف کئی ممالک بنا دیے گئے بلکہ پسپائی اختیار کرنے والی افواج کی مانند ان ممالک کی جڑوں میں ایسی بارودی سرنگیں بچھا گئے کہ جن کے قضایا مستقبل بعید میں بھی ختم ہونے کے آثار نہ رہے۔ یمن عرب۔ عرب اسرائیل پاکستان بھارت تنازعات ایک مثال ہیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تین جون انیس سو اڑتالیس کی بجائے پندرہ اگست انیس سو سنتالیس کو جو آزادی اور تقسیم کا اعلان کیا تھا اس میں پنجاب کی خونی لکیر کے علاوہ مسئلہ کشمیر جیسے تنازعے کی راہ بڑی ہوشیاری سے ہموار کی۔

حالانکہ اگر تاج برطانیہ کی مرضی ہوتی تو چھوٹی ریاستوں کے الحاق کا مسئلہ بھی پہلے ہی نپٹا دیا جاتا۔ سروپ اور پروفیسر کے مکالمے میں قائد اعظم کی جانب سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پاکستان کا۔ پہلا وائسرائے مقرر نہ کرنے کے فیصلے کی بات ناول میں تو کہیں ادھوری رہ گئی۔ لیکن یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قائد اعظم کو اندازہ ہو چکا تھا کہ برطانیہ خطے میں کیا کھیل کھیل کر گیا ہے۔

معاشی آزادی کے بغیر نو زائیدہ مملکت کی آزادی ایک خواب ہی تھی اور جلد ہی امداد کے چکر میں پاکستان کو اس جانب دھکیل دیا گیا جہاں اتحادیوں کے مفادات کا لانگ ٹرم تحفظ تھا۔ جو بعد کی روس امریکہ سرد جنگ میں ہمارے مذہب، ہماری زمین اور وسائل کے استعمال نے کھل کر واضح کر دیا۔

عالمی استعماری نظام میں جنگ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ دنیا میں سب سے بڑی قانونی تجارت آلات حرب کی ہے۔ اگر جنگوں کے جواز پیدا و مہیا نہ کیے جائیں تو اسلحے کی فروخت کیونکر ممکن ہو۔ ان ممالک کی مستحکم معیشت کیسے باقی رہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا بائی پروڈکٹ جنگیں ہیں۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو کنگ جارج کا کزن تھا، بری شہرت کا حامل بگڑا ہو شہزادہ تھا جو اپنی چالبازیوں کی وجہ سے برطانیہ کے اندر بھی سیاسی تنازعے پیدا کرتا رہا۔ پنجاب کی خونی لکیر سے لاکھوں مسلمان سکھ اور ہندو مارے گئے۔ کاش وہ کسی پنجابی کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچتا مگر اسے آئرش ریپبلکن آرمی نے بم دھماکے میں اڑایا۔

ناول میں اگر چہ آئرش ریپبلکن آرمی کا کہیں تذکرہ نہیں مگر اسی ناول میں پاکستان کی ادھوری آزادی، سپین میں کیتا لون کی تحریک اور ماضی کی جنگجو تنظیموں کو نئے نوآبادیاتی تناظر بیک وقت پرکھنے کے لیے وہ ایک اہم حوالہ ہیں۔ آج بھی کنگ چارلس سوم کے اپنے بیٹے ولیم کو نئے خطاب دینے اور آئرلینڈ کا پہلا باقاعدہ رائل وزٹ کیے جانے کے اعلان کے بعد وہاں جو بے چینی اور آئرش لوگوں کی جانب سے مزاحمت اٹھی وہ ان کے بلاگز اور ٹمبلر وغیرہ پہ بہت نمایاں ہے۔

سپین ماضی میں برطانیہ کے خلاف آئرلینڈ کے لوگوں کی حمایت کرتا رہا ہے مگر اپنے ہی خطے میں مزاحمت پہ کیتا لونین کے خلاف سخت ردعمل دکھاتا ہے۔ یہی خدشہ مصنف کو ہے کہ مسائل کا شکار خطوں میں اپنا اپنا مفاد دیکھ کر دیگر ممالک کوئی الگ ہی کھیل کھیلنے آ چکے ہیں۔ جنہیں مقامی لوگوں کے مسائل سے غرض نہیں مگر ان کے غم و غصے کو وہ اپنے مفاد کے لیے فیول بنا کر استعمال کر سکتے ہیں۔

ناول نگار نے اپنے ناول میں دنیا میں جن حکومتی ڈھانچوں اور معاشی نظام کا ذکر کیا اس میں ایک برطانوی طرز کی جمہوریت ہے وہ یورپ کے ساتھ ساتھ دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہے دوسرا نظام کمیونزم کا اور ایک نظام حکومت جس کا ذکر نہیں وہ بادشاہت کا ہے۔ ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد جس تیزی سے برطانیہ کے وزیراعظم بدلتے ہیں معاشی پالیسی میں جو مسائل ہیں اندازہ ہوتا ہے کہ مڈل ایسٹ کے علاوہ بھی بادشاہت کتنی طاقت ور ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام پہ ضرب لگانا آسان نہیں ہے۔ نام۔ نہاد جمہوریتیں کیپٹل ازم کو کور فراہم کرتی ہیں۔

یا تو ان کے پیچھے طاقتور تھیو کریٹک عناصر ہیں یا کیپٹلسٹ یا معاشی پالیسیوں پہ اختیار رکھنے والے بین الاقوامی مالیاتی ادارے ہیں۔ کمپنی کی حکومت شکل بدل کر ابھی تک باقی ہے

ناول کی طرف واپس آتی ہوں۔ ان تمام حالات سے باخبر اور غور کرنے والے اذہان سخت فکر مند ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ چھوٹے ممالک کو کیسے بڑے ممالک اپنے مفادات کے تحت قربان گاہ پہ چڑھاتے ہیں۔ اگر پاکستان کے معاشی حالات ہی ایسے دگرگوں نہ ہوتے تو آج پسماندہ صوبے کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب اندرون سندھ اور قبائلی علاقوں کی حالت زار کہیں بہتر ہوتی۔ معاشی مسائل کے ساتھ سیاسی مسائل یوں جڑے ہیں کہ جو محدود تر وسائل تھے وہ عالمی مالیاتی اداروں کو گروی رکھ کر مہنگے قرض لیے گئے۔

وہ قرض عوام کی تعلیم صحت اور بنیادی انسانی سہولیات کی بجائے حکمرانوں کے عیش و عشرت اور بد عنوانیوں کی نذر ہونے لگے۔ ملکی دولت کو لوٹ کر ذاتی خزانے بھرے گئے اور بلوچستان سمیت پسماندہ خطوں میں شدید محرومی پھیلتی گئی۔ تعلیم جو انسان میں شعور کے ساتھ سوال پیدا کرنے اور کسی بہتر حل کی جانب بڑھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے اس سے کمزور طبقے اور خواتین کو دانستہ طور پہ محروم رکھا گیا۔

ناول کی ایک اہم کردار صبا، شہناز بلوچ کی بیٹی ہے اسے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کاوشیں کرنے پہ پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہاں تک کہ اس کی اور اسلام

آباد سے آئے اس کے دو دوستوں کی جان مقامی عسکریت پسند لے لیتے ہیں۔ اس کا بھائی سروپ کیتالونین تحریک میں شمولیت کے فوراً بعد ہسپانوی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتا ہے۔

یہاں مصنف خود ایک کردار بن کر کہانی میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کی بے چینی خوف اور اندیشے ہر اس شخص کے اندیشے ہیں جو اپنی مٹی سے محبت کرتا ہے جو چاہتا ہے کہ کچھ غلط نہ ہو جائے۔ مصنف راوی اور قاری کو مکالمے کا حصہ بناتا ہے اور یہیں ناول نگار نے ایک الگ تکنیک برتنے ہوئے قارئین کو ناول کے اندر بلانے کی کوشش کی ہے۔

مجموعی طور پہ یہ ایک عمدہ ناول ہے۔ ناول مصنف کا بلوچستان کے جغرافیائی سماجی و سیاسی عوامل پہ گہری دسترس کا غماز ہے۔ ان کا مشاہدہ بھرپور ہے گلن گور جیسے دور دراز علاقوں کا تذکرہ بتاتا ہے کہ وہ ان علاقوں سے خوب واقفیت رکھتے ہیں۔ ناول بلوچستان میں مسائل کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ بین السطور حل بھی تجویز کرتا ہے۔ حل وہ جو کہانی کار، راوی اور قاری کے مکالمے کی صورت میں نکلے گا۔

Facebook Comments HS