گنیش کے عقیدت مند اور ٹیٹوز سے محبت کرنے والے سوریہ کمار جنھیں مشہور ہونے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑا
ایک سوال کے جواب میں جوس بٹلر کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ اس وقت سب سے بڑا خطرہ سوریہ کمار یادیو ہیں، جو پورے ٹورنامنٹ میں اچھے کھیل کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔ وہ کھل کر بیٹنگ کرتے ہیں اور اپنے کھیل کے طریقے سے گیم کا پانسہ بدل سکتے ہیں۔‘
اس رپورٹ میں بی بی سی نے سوریہ کمار یادیو کے کریئر پر ایک نظر ڈالی ہے۔
15 دسمبر 2010 کو فرسٹ کلاس ڈیبیو کرنے والے سوریہ کمار یادیو کو 14 مارچ 2021 کو انڈیا کے لیے کھیلنے کا پہلا موقع ملا، یعنی ڈومیسٹک کرکٹ سے انٹرنیشنل کرکٹ تک کے سفر کے لیے انھیں 11 سال انتظار کرنا پڑا۔
اِن دنوں آسٹریلیا میں کھیلے جا رہے ورلڈ ٹی 20 ورلڈ کپ میں انھوں نے اپنی بلے بازی سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
سوریہ کمار نے انڈین ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک لے جانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھیں 360 ڈگری کا بلے باز کہا جاتا ہے یعنی ایسا بلے باز جو میدان کے کسی بھی کونے میں شاٹس کھیل سکتا ہے، اور اسی صلاحیت کی وجہ سے اُن کا موازنہ اے بی ڈی ویلیئرز سے کیا جا رہا ہے۔
لیکن سوریہ کمار یادو کے لیے ورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیم میں جگہ بنانے کا یہ سفر اُتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا۔ جب وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز بنا رہے تھے تو انھیں ٹیم میں جگہ نہیں مل رہی تھی، لیکن سوریہ کمار نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
اپنی جدوجہد کے دنوں میں سوریہ کمار نے آسٹریلوی کرکٹر مائیک ہسی کو اپنا رول ماڈل بنایا اور وہ ہمیشہ اُن کے ذہن میں رہتے تھے۔
یاد رہے کہ آسٹریلوی ٹیم میں اپنے وقت کے عظیم کھلاڑیوں کی موجودگی کی وجہ سے ہسی کو بھی دس سال انتظار کرنا پڑا تھا۔ ہسی نے اس پر کوئی شکایت نہیں کی، اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا، بس رنز بناتے رہے اور بلآخر انھیں موقع مل گیا۔
درحقیقت کھیلوں کی تیز رفتار دنیا میں عمر کی تیسری دہائی کو کیریئر کا آخری مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ ہسی کو بھی بڑی عمر میں یہ موقع ملا اور اسی لیے اُن کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا، لیکن جو موقع ملا اس کا انھوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
ہسی نے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں خود کو ثابت کیا اور ان کا شمار دنیا کے بہترین فنشرز میں ہوتا تھا۔
اب یہ بھی اتفاق ہے کہ سوریہ کمار کے والد انھیں وقتاً فوقتاً مائیک ہسی کی مثال دیتے تھے۔ آج سوریہ کمار یادو بھی مائیک ہسی کی طرح کرکٹ کے میدان میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔
ہسی کی طرح سوریہ کمار کو بھی بڑی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا مگر موقع ملنے کے ڈیڑھ سال کے اندر سوریہ کمار ٹی 20 فارمیٹ میں آئی سی سی بیٹنگ رینکنگ میں ٹاپ پر پہنچ گئے ہیں۔
سوریہ کمار نے صلاحیت، مہارت، فٹنس، دباؤ کو سنبھالنے اور کھیل کو پڑھنے کی صلاحیت جیسے تمام محاذوں پر خود کو ثابت کیا ہے۔
وہ ممبئی ٹیم کے مضبوط کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ آئی پی ایل ٹورنامنٹس میں ممبئی انڈینز کے لیے بھی کھیلتے ہیں۔ اس سے قبل وہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے بھی کھیل چکے ہیں۔
گوتم گمبھیر نے سوریہ کمار یادو کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے کھیلنے کا موقع دیا تھا، جس کے بعد ممبئی انڈینز کے کپتان روہت شرما کی نظر اُن پر پڑ گئی۔
سخت جان کھلاڑی
سنہ 2018 میں روہت شرما نے سوریہ کمار یادیو کو ممبئی انڈینز کے لیے خریدا اور تب سے ان کی قسمت بدل گئی۔
سوریہ کمار بھلے ہی ممبئی انڈینز کی ریڑھ کی ہڈی بن گئے ہوں لیکن ان کے لیے انڈین ٹیم کے دروازے اتنی آسانی سے نہیں کُھلے۔ آئی پی ایل ٹورنامنٹ میں رنز بنانے کے باوجود سوریہ کمار کو ویٹنگ لسٹ میں رکھا گیا مگر بالآخر انھیں 2021 میں انڈین ٹیم میں جگہ مل گئی۔
سوریہ کمار یادو کے والد بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر میں کام کرتے ہیں۔ خاندان میں اُن کی والدہ، بہن اور اہلیہ شامل ہیں اور یہ خاندان انوشکتی نگر میں رہتا ہے۔
سوریہ کمار کے اہلخانہ نے جب دیکھا کہ وہ کرکٹ میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور علاقے میں ٹینس بال مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں چنانچہ ان کی حوصلہ افزائی کی گئی اور سوریہ کمار نے ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن کے انڈر 15، انڈر 17 ٹورنامنٹس میں کھیلنا شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیے
منطق سے عاری پاکستان ٹیم کی ’سڈنی پارٹی‘
ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان کرکٹ کا جوابی وار، سمیع چوہدری کا کالم
ٹی 20 ورلڈ کپ: ’کنگ بابر، پچھلی تمام ٹویٹس کے لیے معذرت‘
کچھ ہی عرصے میں سوریہ کو ممبئی کی ٹیم میں جگہ مل گئی۔ ممبئی کے کرکٹرز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ آخری لمحات تک ہمت نہیں ہارتے، مراٹھی میں انھیں ’کھدو‘ بھی کہا جاتا ہے۔
سوریہ کمار کو ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر جانا جاتا ہے جو سخت حالات میں اپنا انداز بدلے بغیر کھیلتا ہے۔
سوریہ کمار نے محسوس کیا کہ انڈین ٹیم کے دروازے اس وقت تک نہیں کھلیں گے جب تک وہ رنز نہیں بناتے۔
آئی پی ایل ٹورنامنٹ میں فنشر کے طور پر اور مڈل آرڈر کے طور پر ان کا کردار بدلتا رہا۔ سوریہ کمار اس وقت بھی مایوس نہیں ہوئے جب ان کے ساتھ کھیلنے والوں کو تو ٹیم میں کھیلنے کے مواقع مل رہے تھے مگر وہ اس سے محروم تھے۔
بڑا پاؤ، پاؤ بھاجی اور چاول!
سوریہ کمار ممبئی میں پلے بڑھے ہیں، اس لیے وہ یقینی طور پر ممبئی والے ہیں۔ ’بریک فاسٹ ود چیمپیئنز‘ ایونٹ میں گورو کپور سے بات کرتے ہوئے سوریہ کمار نے کھانے سے اپنی محبت کے بارے میں بتایا تھا کہ انھیں وڈا پاؤ، پاؤ بھاجی اور سڑک کے کنارے چائنیز فوڈ خاص طور پر ٹرپل شیزوان چاول بہت پسند ہیں۔
کرکٹ کھیلنے کے لیے کھانے پینے پر کنٹرول ہونے کی وجہ سے اب وہ یہ چیزیں آسانی سے نہیں کھا سکتے ہیں۔ سوریہ کمار مراٹھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں، مراٹھی صحافی ان سے مراٹھی میں سوال پوچھتے ہیں تو وہ بھی روانی سے مراٹھی میں جواب دیتے ہیں۔
’سکائی‘ نام کیسے پڑا؟
سنہ 2014 کے سیزن سے سوریہ کمار نے آئی پی ایل میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے کھیلنا شروع کیا۔ اس وقت کولکتہ ٹیم کے کپتان گوتم گمبھیر تھے۔
ورزش کے دوران گمبھیر انھیں ’سکائی‘ کہتے تھے، سوریہ کمار نے پہلے اس پر توجہ نہیں دی۔ لیکن جب انھوں نے گوتم گمبھیر سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ سوریہ کمار یادو کے نام کے ہر لفظ کے پہلے حرف کو شامل کیا جائے تو لفظ سکائی یعنی ’آسمان‘ بنتا ہے۔
گنیش کے عقیدت مند اور ٹیٹوز سے محبت کرنے والے سوریہ کمار جنھیں مشہور ہونے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑا
سوریہ کمار یادو ونائک گنپتی کی تصاویر باقاعدگی سے انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہیں۔
سوریہ کمار کے جسم پر بہت سے ٹیٹو ہیں۔ یہ ٹیٹو منفرد ہیں۔ سوریہ کمار نے ایک طرف اپنے والدین کی تصویر کا ٹیٹو بھی بنوایا ہوا ہے اور ایک جگہ بیوی کا نام بھی لکھا ہوا ہے۔
بائیں کندھے پر ایک ٹیٹو ہے جو ماوری ثقافت کی علامت ہے۔ سوریہ کمار جب دورے پر ہوتے ہیں تو انھیں اپنے دو پیارے کتے ’پابلو‘ اور ’اوریو‘ یاد آتے ہیں، یہ کتے فرانسیسی بل ڈوگ نسل کے ہیں۔
سوریہ کمار کو کاروں کا بھی شوق ہے۔ انھوں نے اس سال مرسڈیز بینز کا ماڈل 2.5 کروڑ میں خریدا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس آوڈی آر فائیو، منی کوپر، رینج روور، نسان جونگا اور دیگر گاڑیاں بھی ہیں۔
جب روہت نے مبارکباد کے ذریعے ڈیبیو کا اشارہ دیا
آئی پی ایل سیزن کے دوران سوریہ کمار کی 30 ویں سالگرہ تھی۔ ممبئی انڈینز کے کپتان روہت شرما نے اس موقع پر ان سے کہا کہ ’کیپ‘ زیادہ دور نہیں ہے۔ روہت کی بات سچ ثابت ہوئی اور چند ہی مہینوں میں سوریہ کمار نے انڈیا کے لیے ڈیبیو کیا۔
سوریہ کمار کی ترقی میں روہت نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔
سوریہ کمار نے میڈیا کے سامنے یہ بات کہی کہ ’جب میں نے اپنا ڈیبیو کیا تو روہت بیٹنگ کر رہے تھے، تب سے لے کر اب تک انھوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔‘
سوریہ کمار اور دیویشا کی شادی سنہ 2017 میں ہوئی تھی، حالانکہ دونوں کے درمیان محبت 2010 سے تھی۔ سوریہ کمار بار بار کہتے رہے ہیں کہ دیویشا کا کردار ان کے کیریئر کو ایک نئی جہت دینے میں اہم ہے۔
دیویشا نے سوریہ کمار یادو سے کہا کہ آپ ممبئی کے لیے کھیلتے ہیں، آئی پی ایل کھیلتے ہیں لیکن آپ کا کریئر کیوں آگے نہیں بڑھ رہا؟ اس کے بعد ہی دونوں نے مل کر ایکشن پلان تیار کیا۔
اس کے بعد سوریہ کمار یادو نے بیٹنگ کوچ، ڈائٹنگ کوچ وغیرہ سے مشورہ کیا، روٹین کو کنٹرول کیا۔ رات گئے پارٹیاں بند ہو گئیں اور محنت بالآخر رنگ دکھانے لگی۔
سچن کی چوٹ اور آئی پی ایل ڈیبیو
سوریہ کمار یادو نے 6 اپریل 2012 کو آئی پی ایل میں اپنا ڈیبیو میچ کھیلا تھا۔ وہ بھی ممبئی انڈینز سے۔ پونے واریئرز کے خلاف میچ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سچن ٹنڈولکر نہیں کھیل سکیں گے۔ ان کی جگہ نوجوان سوریہ کمار یادو کو موقع دیا گیا۔
سچن جیسے لیجنڈ کی جگہ بہت کم کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سوریہ کمار اس میچ میں چھٹے نمبر پر بلے بازی کرنے آئے تھے لیکن زیادہ کچھ نہ کر سکے۔ سوریہ کمار کو یاد ہے کہ اس وقت سچن نے خود مجھے سائیڈ پر بیٹھنے کی جگہ دی تھی اور تب سے میں وہیں بیٹھا ہوں۔
سوریہ کمار کو ’زی سنیما‘ کا عرفی نام کس نے دیا؟
ممبئی ٹیم کے کارکردگی کے تجزیہ کار سوربھ واکر نے سوریہ کمار کے آل راؤنڈ کھیل کو دیکھا اور انھیں ’زی سنیما‘ کا نام دیا۔
ناگراج گولا پوڈی کے ساتھ کرک انفو ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے سوریہ کمار نے اس عجیب نام کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ سوربھ واکر نے کہا تھا کہ ’آپ کے کھیل میں ایکشن، مزہ، ڈرامہ سب کچھ ہے اسی لیے آپ زی سنیما ہیں۔‘
بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے سوریہ کمار نے پارسی جم خانہ میں گرین باؤنسی پچ بنانے کی درخواست کی تھی۔
سوریہ کمار نے ممبئی کے سابق کھلاڑی ونائک مانے کی رہنمائی میں اس پچ پر انتھک مشق کی۔
سینیئر سپورٹس صحافی مکرند ویانگکر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’ہر روز چار گھنٹے کے سیشن میں، انھوں نے سوریہ کمار کے مختلف سٹروک کو زیادہ کمپیکٹ اور درست بنانے پر کام کیا۔‘

