ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ فائنل۔ پاکستان بمقابلہ انگلستان


سولہ اکتوبر دو ہزار بائیس سے شروع ہونے والا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا میلہ اختتام پذیر ہونے کو ہے، پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں اتوار تیرہ نومبر کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے ٹی ٹونٹی کرکٹ کے عالمی چیمپئن کا تاج اپنے سر سجانے کے لیے میدان میں اتریں گی۔ وہ دونوں ٹیمیں جن کی اس ورلڈ کپ میں شروعات مایوس کن تھی۔ پاکستان اپنا پہلا میچ روایتی حریف بھارت سے دلچسپ مقابلے کے بعد ہارا جس میں آخری اوور میں محمد نواز کی چوتھی گیند کو نو بال دیا جانا پاکستانی شائقین کو پسند نہیں آیا تھا اور اسے انڈین کرکٹ اور آئی سی سی کی ملی بھگت قرار دیا گیا، لیکن اس کے بعد اگلا میچ زمبابوے کے ساتھ تھا جو آخری بال پر زمبابوے نے پاکستان کو ہرا دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستان ٹیم خاص طور پر کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر محمد رضوان اپنی بری فارم کی وجہ سے مداحوں کے نشانے پر تھے۔

دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم بارش سے متاثرہ میچ میں ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے تحت آئرلینڈ سے میچ ہار گئی جس کے بعد ان کی پوزیشن اپنے گروپ میں کمزور لگ رہی تھی۔ لیکن آسٹریلین ٹیم نیوزی لینڈ سے اپنا میچ ہار چکی تھی جبکہ انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ جیت کر آسٹریلیا سے بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں اپنی جگہ بنائی۔ دوسری جانب پاکستان ٹیم کے لیے ہر بار کی طرح اگر مگر کے حالات پیدا ہوئے کہ ٹیم پاکستان اپنے باقی تینوں میچ جیتنے کے بعد بھی گروپ کے باقی میچز کے فیصلے اپنے حق میں ہونے کے منتظر رہیں گے۔

قدرت نے وہ دن بھی دکھایا جب سپر ٹویلو مرحلے کا آخری دن تھا اور اسی دن ساؤتھ افریقہ بمقابلہ نیدر لینڈز اور پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش جبکہ بھارت بمقابلہ زمبابوے میچز تھے۔ پاکستان کو سیمی فائنل کوالی فائی کرنے کے لیے اپنا میچ جیتنے کے علاوہ نیدر لینڈز یا زمبابوے کو میچ جتوانا ضروری تھا۔ پھر ایسا ہی ہوا دن کے پہلے میچ میں ہالینڈ کی ٹیم نے ساؤتھ افریقہ کو چاروں شانے چت کیا تو پاکستان نے بنگلہ دیش کو ہرا کر ورلڈ کپ سیمی فائنل کا ٹکٹ کٹوایا۔

اس طرح پہلے گروپ سے نیوزی لینڈ پہلی پوزیشن اور انگلینڈ دوسری پوزیشن پر جبکہ گروپ ٹو سے انڈیا کا پہلا نمبر اور پاکستان کا دوسرا نمبر رہا۔ اس دوران پاکستان ٹیم کی کارکردگی کی بات کی جائے تو انجری سے واپس آئے شاہین شاہ آفریدی پہلے دونوں میچز میں تھوڑے آؤٹ آف ٹچ نظر آئے لیکن اس سے اگلے تین میچز میں آٹھ وکٹیں لے کر اچھا کم بیک کیا۔ باقی تمام باؤلرز نے پورے ورلڈ کپ میں شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بھی میچ میں مخالف ٹیم کو ایک سو ساٹھ رنز کا ہندسo پار نہیں کرنے دیا۔

خاص طور پر حارث رؤف کی شاندار ڈیتھ باؤلنگ نے کسی بھی ٹیم کو آخری اوورز میں اچھا اختتام کرنے کا موقع نہیں دیا۔ دوسری جانب بیٹنگ میں بابر اعظم اور محمد رضوان کی سٹار اوپننگ جوڑی آؤٹ آف فارم دکھائی دی جس پر انہیں کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا اور کپتان بابر اعظم پر شدید دباؤ تھا کہ وہ اوپننگ کی بجائے نمبر تین پر بیٹنگ کریں۔ گروپ سٹیج میں بابر اعظم پانچ میچز میں صرف انتالیس رنز بنا پائے تھے اور محمد رضوان بھی نیدر لینڈز کے خلاف انچاس رنز کی اننگز کے علاوہ کوئی تھرٹی پلس سکور کرنے میں بھی ناکام رہے تھے۔

اس دوران مشکل وقت میں محمد افتخار، شان مسعود اور شاداب خان نے مختلف مواقع پر بلے بازی میں ٹیم کو سہارا دیا۔ خاص طور پر ساؤتھ افریقہ کے خلاف محمد افتخار اور شاداب خان کی ففٹیز نے اس جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ پہلے دو میچز میں خراب کارکردگی کے باعث حیدر علی کو ٹیم سے آؤٹ جبکہ نوجوان وکٹ کیپر بلے باز محمد حارث کو ٹیم میں شامل کیا جنہوں نے ابھی تک ٹیم کی ہر جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے اچھے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کی ہے۔

دونوں سیمی فائنلز کا جائزہ لیا جائے تو پہلا سیمی فائنل نو نومبر کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا گیا جس میں کیویز نے ٹاس جیتتے ہوئے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تو شاہین آفریدی نے پہلے ہی اوور میں جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنے والے بلے باز فن ایلن کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا جس کے بعد ڈیون کانوے کو شاداب خان نے شاندار ڈائریکٹ ہٹ سے رن آؤٹ کرتے ہوئے پویلین کی راہ دکھائی۔ اس کے بعد گلین فلپس آٹھویں اوور میں محمد نواز کی گیند پر کاٹ اینڈ باؤلڈ ہوئے تو ٹیم نیوزی لینڈ بھاری مشکلات میں گھر چکی تھی۔ کپتان ولیمسن اور مڈل آرڈر بلے باز ڈیرل مچل نے پارٹنر شپ لگائی لیکن پاکستانی بلے بازوں کی شاندار ڈیتھ باؤلنگ کے باعث نیوزی لینڈ ٹیم صرف ایک سو باون رنز ہی سکور کر پائی۔

ٹارگٹ کے تعاقب میں اوپنرز بابر اعظم اور محمد رضوان نے پہلے دس اوورز میں ستاسی رنز سکور کر کے میچ مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا جیسے کہ بعد مقابلہ یک طرفہ مقابلہ بن کے رہ گیا۔ بابر اعظم اپنی ففٹی مکمل کرنے کے بعد آؤٹ ہوئے تو رضوان کا ساتھ محمد حارث نے دیا۔ رضوان بھی نصف سنچری کے بعد آؤٹ ہوئے تو میچ تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ اس طرح پورے پاکستان اور دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی کہ پہلے دونوں میچز ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوتی ہوتی ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ چکی ہے۔

دس نومبر کو دوسرے سیمی فائنل میں ایڈلیڈ اوول کے میدان میں انگلینڈ اور بھارت کا مقابلہ ہوا۔ ٹاس جیت کر انگلینڈ نے پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔ بھارتی اوپنر لوکیش راہول پاور پلے میں ہی کرس ووکس کا شکار بنے تو ویرات کوہلی اور روہت شرما نے ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن دونوں بلے باز ہی سو کے سٹرائیک ریٹ سے کھیلتے رہے اور روہت شرما اٹھائیس گیندوں پر ستائیس رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ نمبر ایک ٹی ٹونٹی بلے باز سوریا کمار یادیو بھی جلد ہی آؤٹ ہو گئے جس کے بعد ویرات کوہلی اور ہاردک پانڈیا کی ففٹی پلس پارٹنرشپ لگی۔

کوہلی اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد پویلین لوٹ گئے اور ہاردک پانڈیا نے شاندار اختتام کرتے ہوئے ٹیم کا سکور ایک سو اڑسٹھ تک پہنچا دیا۔ ورلڈ کپ سیمی فائنل کی ہائی پریشر گیم میں یہ ہدف حاصل کرنا کسی بھی ٹیم کے لیے ایک مشکل کام ہوتا، لیکن انگلش کپتان جاس بٹلر اور ایلکس ہیلز نے شاندار اننگز کھیلتے ہوئے کوئی وکٹ گنوائے بغیر یہ ہدف سولہویں اوور کے اختتام پر حاصل کر لیا۔ یعنی ایک تو دس وکٹوں سے شکست اور پھر چوبیس گیندیں پہلے ہی ہدف کے حصول نے بھارت میں صف ماتم بچھا دی۔

بھارتی شائقین نے اور سابق کرکٹرز نے اس ہار کو شرمناک قرار دیا۔ سابق سپنر ہربجھن سنگھ کا کہنا تھا کہ ہار جیت گیم کا حصہ ہے لیکن اس طرح ہارنا بہت سے سوال چھوڑ گیا ہے۔ دوسری جانب سچن ٹنڈولکر نے ٹویٹ میں لکھا کہ اگر ہم ٹیم کی جیت پر خوشی مناتے ہیں تو ان کی ہار پر ہمیں اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑے ہونا چاہے۔ اس طرح ملے جلے احساسات کے ساتھ ٹیم انڈیا کا ورلڈ کپ میں سفر تمام ہوا۔

اب انگلینڈ اور پاکستان ٹیم اتوار کو میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں لگ بھگ ایک لاکھ شائقین کی موجودگی میں مد مقابل ہوں گے۔ پاکستانی شائقین اس ورلڈ کپ کی انیس سو بانوے کے ورلڈ کپ سے کڑیاں جوڑنے میں مصروف ہیں۔ اعداد و شمار دیکھے جائیں تو اس ورلڈ کپ کا سفر بانوے کے ورلڈ کپ سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔ بانوے میں بھی پاکستان اپنا پہلا میچ ہارا، گروپ سٹیج میں ہی انڈیا سے بھی اپنا میچ ہارا جس کے بعد ٹیم کے آگے جانے کے راستے مشکل نظر آرہے تھے۔

اس کے بعد گروپ سٹیج کے آخری تینوں میچز جیتنے کے بعد سیمی فائنل میں جگہ بنائی اور سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو ہرا کر فائنل میں پہنچے اور فائنل میں انگلینڈ کی ٹیم سے سامنا ہوا۔ یعنی اب تک اس ورلڈ کپ میں وہی پیٹرن کاپی ہورا ہے، اب دیکھنا یہ کہ کیا فائنل میں بھی اسی طرح شاندار پرفارمنس دکھاتے ہوئے کپ اپنے نام کرتے ہیں یا اس دفعہ ان فارم ٹیم انگلینڈ اپنا بدلہ لیتی ہے۔

اتوار کو پوری دنیائے کرکٹ کی نظریں اس بڑے معرکے پر ہوں گی جہاں ایک جانب بابر اعظم اور محمد رضوان کی ورلڈ کلاس اوپننگ جوڑی ہوگی تو انگلینڈ کے پاس جارحانہ بلے بازی کرنے والے ایلیکس ہیلز اور جاس بٹلر ہوں گے۔ باؤلنگ میں شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں حارث رؤف، نسیم شاہ اور محمد وسیم کی شکل میں بہترین فاسٹ باؤلرز پاکستان کی جانب سے میدان میں اتریں گے جبکہ انگلینڈ کی طرف سے مارک ووڈ (اگر انجری سی ریکور کر گئے ) کی قیادت میں ووکس، سیم کیورین اور بین سٹوکس جیسے باؤلرز اپنی ٹیم کو جتوانے کے لیے پر عزم ہوں گے۔ سپنرز میں عادل رشید اور شاداب خان کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا۔

پوری پاکستانی قوم اپنی ٹیم کے لیے دعائیں کر رہی ہے کہ سیاسی کشمکش کی اس صورتحال میں ورلڈ کپ جیتنے کی خوشی تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو گی۔ باؤلنگ لائن اپ اسی طرح اچھی کارکردگی دکھائے اور بیٹنگ میں اوپنرز محمد رضوان اور بابر اعظم کا کردار اہمیت کا حامل ہو گا۔ فائنل میچ سے پہلے بابر اعظم اور محمد رضوان کی فارم واپس آنا بھی پاکستانی ٹیم کے لیے خوش آئند ہے۔ پلئینگ الیون کے تمام کھلاڑیوں نے کسی نا کسی طرح ٹیم کے فائنل تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، صرف سٹار آل راؤنڈر محمد نواز اس ورلڈ کپ میں کوئی شاندار پرفارمنس نہیں دے سکے، بلکہ پہلے دونوں ہارنے والے میچز میں وہ ایک طرح سے ٹیم کے لیے ولن بن کر سامنے آئے تھے، اب شاید ان کے پاس موقع ہے فائنل میں اچھی کارکردگی سے دوبارہ ہیرو بنیں گے۔ یہی امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان ٹیم دو ہزار نو کی ٹرافی کو تیرہ سال گز جانے کے بعد دوسری بار ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور اتوار کے روز ملک بھر میں جشن ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments