دانش ایاز


ادب کے افق پہ کئی چاند کئی تارے جیسے ادیب ابھرتے ہیں جگمگاتے روشنی بکھیرتے ہیں اور ڈوب جاتے ہیں۔
ایاز کے لئے فہمیدہ ریاض نے لکھا تھا کہ ”حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی کے بعد ، ایاز کے پائے کا کوئی دوسرا شاعر ہندوستان یا پاکستان میں ادب کے افق پہ ابھی تک نمودار نہیں ہوا“

دانشور وہ ہوتا ہے جو اپنی فکر اور سوچ سے نئی دشاؤں کی نشاندہی کرے نئی جہتیں تخلیق کرے نئے راستے تلاش کرے قوم کے لئے منزلوں کی اور اپنی فکر کے سنگ میل نصب کرتا جائے ہر مفکر اپنے سمجھ کے مطابق اپنے عصر کا سچ تحریر کرتا ہے چند ہوں گے جو اپنے تخیل کے وسیع کینوس اور مشاہداتی گہرائی سے مستقبل کی تصویر کشی کر سکتے ہیں

سندھ کا کلاسک لوک ادب میں ہمیں ایسی دانائی کے نشان ملتے ہیں جن کی شاعری نے پیشن گوئی کی صورت اختیار کر لی وقت نے ان کے کہے کو سچ ثابت کر دیا

ایسے بھی دانا تھے جن کے لفظ ضرب الامثال بنے ان کے کہی ہوئی باتیں عام لوگوں میں کہاوتوں اور محاوروں کی شکل میں مستعمل ہوتی گئیں اور رائج ہو گئیں۔

کلاسک دور سے نکل کر جب جدت کے دور پہ نظر ڈالتے ہیں تو ادب کے افق پہ شیخ ایاز کا نام جگمگاتا نظر آتا ہے۔ نثر کی اصناف سے لے کہ شاعری کی اصناف تک اس کے فکر کی وسعت کو کوئی ناپنے کا دعوٰی نہیں کر سکا۔ اپنی شاعری کے لئے لکھتا کہ کہ

” اگر میری شاعری تمھیں خدا کے وجود کا ثبوت معلوم نہیں ہو رہی تو پھر تمھیں
اور کیا ثبوت چاہیے۔ ”
اپنی تحریروں کے کیے ایاز لکھتا ہے کہ،
”رگ وید میں لکھا ہے کہ“ اے سندھو! ورن دیوتا نے تیرے بہاؤ کے لئے، کئی راستے بنائے ہیں ”
اور ہاں ان میں سے ایک راستہ میری شاعری بھی ہے ”
آؤ جام جم اور آئینہ ء سکندر میں
خود کو دیکھنا چاہوں تو میری کتاب حاضر ہے ”
”میری ہر کتاب موت کا سنگ لحد ہے“
”میں زندگی کی تشریح نہیں کر رہا ہوں اسے تخلیق کر رہا ہوں
تمھیں اگر تشریح چاہیے تو خود کر لو، کیا تمھارا کام بھی میں ہی کروں؟ ”

”میری شاعری میں ازمنہ ء قدیم کی صدائے بازگشت ملتی ہے، ہر لفظ کی ایک روح ہوتی ہے جو صدیوں کے مسلسل ارتقا سے گزرتی ہے“
” میری شاعری اس دلہن کی طرح ہے جس کا بیوہ ہونا پہلے ہی سے اس کی پیشانی پر درج ہے ”

ہم جہت تخلیق جس کا پھیلاؤ کائنات کی مانند بے کراں ہے۔ ایاز کی تحریر کی ایک خوبی ان کا تجاہل عارفانہ ہے بے ساختگی ہے، عجب طرز ہے جو کہ کم از کم میں نے کسی اور ادیب اور دانشور کی تخلیق میں محسوس نہیں کی۔

ایاز کہتا ہے کہ
” دانائی کی انتہا، نادانی کا احساس ہے“

بین الاقوامی ادب سے لے کے سندھی ادب تک کے ہر لیکھک کو اپنی تحریر میں مخاطب کرنا ان کی ہی تحریروں سے اقتباس لے کے سوال اٹھانا اور پھر جواب دینا یہ ایسی صنف ہے جس کا ابھی تک جدید ادب میں کوئی نام تخلیق نہیں کیا گیا۔

ایاز کہتا مرزا غالب سے مخاطب ہو ہے پوچھتا ہے
” غالب! کیا واقعی موت قید حیات و بند غم سے نجات ہے یا اس قید و بند کی دوسری ابتدا؟“
”کچھ لوگ تیر نیم کش کو جگر سے
نہ کھنچنے کا جواز خلش پسندی بتاتے ہیں،
لیکن!
دراصل وہ ڈرتے ہیں کہ تیر کھینچ کر نکالنے سے جگر پاش پاش ہو جائے گا ”

ایاز کہتا ہے کہ،
”وہ سمجھتے ہیں کہ مجھے قید تنہائی میں رکھ کر انہوں نے کوئی بڑی سزا دی ہے،
پاگل کہیں کے، کیا میں تنہا بھی ہو سکتا ہوں؟
یہ کالی داس میرے لئے وکرم اورشی پڑھ رہا ہے،
یہ میرا بائی اکتارے پر گا رہی ہے،
اور کبیر مجھے دوہے سنا رہا ہے
اور یہ میرا پیر و مرشد سر بہ زانو بیٹھا ہوا ہے،
ہا۔ ہا۔ انہیں کیا معلوم کہ، بھٹائی بھی میرے ساتھ قید و بند میں ہے!
اور وہ دور دور کے یار، جو کبھی مجھے تنہا نہیں چھوڑتے،
وہ مایا کوفسکی، لورکا، ناظم حکمت، ایک میلے کا سماں دکھائی دیتا ہے،

اور وہ سفید داڑھی والا کوئی
جو آج میرے سر پر ہاتھ پھیر کر مجھے آشیرباد دے رہا ہے، اور اپنا ایک پرانا گیت دہرا رہا ہے،
”کھنچی ہوئی کمان نے تیر کو کہا،
تیزی سے جا!
تیری آزادی ہی میری نجات ہے۔ ”
دنیا کی تاریخ ایاز کو ازبر ہے، تاریخ کے حوالے ایاز کی تحریر میں جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔
”جدید دنیا میں پہلی خرابی اس وقت ہوئی۔
جب گلوٹین کے نیچے پہلا سر دیکھ کر فرانس کے عوام نے قہقہہ لگایا تھا ”

”کروڑوں ہٹلر مل کر
ایک آئن اسٹائن پیدا نہیں کر سکتے۔ ”
”بربط اٹھاؤ اور خیام کی رباعی پڑھو بھلا چنگیز خان اور ہلاکو خان کا دور اور کس طرح گزارنا چاہیے؟“
لورکا! تم تو خانہ بدوشوں کے گیت گاتے تھے!
تم کو اس مٹی کے گھر میں قید کیوں کر دیا گیا؟ ”
”پاسٹرک مر گیا
ژواگو زندہ ہے! ”

ایاز تہذیب کے لئے لکھتا ہے کہ ’ ”تہذیب کے کیا معنی ہیں؟
صارفین کے لیے زیادہ سے زیادہ
عارفین کے لیے کم سے کم ”
خودکشی کے لئے لکھتا ہے کہ، ”خودکشی انسان کی خودمختاری کا، آخری اظہار ہے
یا وہ بھی مشیت کا حصہ ہے ”

ایاز ایسے سوال اٹھاتا ہے کہ ان پہ کتاب لکھی جا سکتی ہے اور ان مختصر جملوں میں کئی سوال ابھرتے ہیں بحث کے کئی دھارے پھوٹتے نظر آتے ہیں جن کو سمیٹنے کے لیے کے کئی دانشوروں کو مل کہ کوشش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

حقیت کی تلخی کو ایاز اپنی تحریر کی شیرنی میں چھپاتا بھی ہے تو اس انداز سے کہ اس کی تلخی تیز اثر زہر کی طرح خیال کی رگوں میں دوڑ جاتی ہے۔

قوم کے لیے لکھتا ہے کہ،
اس قوم کی پگڑی مت بنو
جوتی بنو
پگڑی اچھالنے میں یہ دیر نہیں لگاتی ”
اپنے ہم عصروں کے لئے ایاز کے چند الفاظ بہت اہم ہیں۔
”ہم عصر جب تمھارے ہم اثر نہ ہوں
تو دشمن بن جاتے ہیں ”
” کیا سچ بھی مردہ ہو جاتا ہے، اور اسے بھی صور اسرافیل کی ضرورت پڑتی ہے؟“
”پروانے تو ختم نہیں ہوں گے
اب یہ شمع ہی بجھا دو ”

” فن موت کے جس قدر قریب آتا ہے زرد گلاب کی طرح اتنا ہی کھل اٹھتا ہے“
”اے کاش! زندہ لوگ اس طرح جاگتے جیسے مردے قیامت کے دن جاگتے ہیں“
”بظاہر ہر مردہ لفظ پر دم عیسی پھونکنا، بہت مشکل کام ہے،
لیکن اس کے بغیر شاعری پیغمبری نہیں کہلا سکتی ”

صدیاں درکار ہیں شیخ ایاز کی تحریروں کو سمجھنے کے لئے ان کے الفاظ کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے ایاز جیسی دانش ایاز جیسا مشاہدہ درکار ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “دانش ایاز

  • 13/11/2022 at 10:51 صبح
    Permalink

    Nice

Comments are closed.