دانش ایاز

ادب کے افق پہ کئی چاند کئی تارے جیسے ادیب ابھرتے ہیں جگمگاتے روشنی بکھیرتے ہیں اور ڈوب جاتے ہیں۔ ایاز کے لئے فہمیدہ ریاض نے لکھا تھا کہ ”حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی کے بعد ، ایاز کے پائے کا کوئی دوسرا شاعر ہندوستان یا پاکستان میں ادب کے افق پہ ابھی تک نمودار نہیں ہوا“ دانشور وہ ہوتا ہے جو اپنی فکر اور سوچ سے نئی دشاؤں کی نشاندہی کرے نئی جہتیں تخلیق کرے نئے راستے تلاش

Read more

سیلاب زدگان کے خواب اور مشکلات

چلو! ”میں دکھاتی ہوں، سب لوگ ادھر تھوڑی ہیں، اوپر بھی بیٹھے ہیں ” ”آپی! کچھ عورتیں بہت بیمار ہیں“ وہ مجھے ایک تعلیمی ادارے کے ریلیف کیمپ میں ملی تھی۔ چھوٹی سی 8 یا نو سالہ بچی تھی بہت خوشی سے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے اور سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ اس کو سب کا پتہ تھا کس روم میں کون کون ہے۔ سیلاب متاثرین، میہڑ کے کسی ڈوبے گاؤں سے آئے تھے ”ماسی کو بخار ہے، پھوپھو کو جگر

Read more

سیلابِ غربت

ارے! یہ تو وہ ہی لوگ ہیں، کچھ چہرے بدلے ہیں، شہر وہ ہی، گاؤں وہ۔ ہی، لوگوں کے نام بھی تو وہ ہی ہیں۔ دکھ بھی وہ ہی ہیں۔ درد بھی وہ ہی ہیں سنہ 2010 میں سندھ میں سیلاب آیا تو اس وقت بھی یہ ہی منظر تھے! روتا سسکتا سندھ، جس کے پاس، خالی ہاتھ ٹوٹی پھوٹی چارپائیاں، ٹین کی پیٹیاں، ایک دو پھٹی پرانی رلیاں ننگ دھڑنگ بیمار بچے تھے اور درد کے طوفان ان کے

Read more

آدھا انسان

مجھے انتساب پڑھے بغیر ؛کتاب شروع نہ کرنے کی عجیب سی عادت ہے۔ لیکن انتساب تک پہنچنے سے پہلے ہی رشی خان کی کتاب کا پرکشش سر ورق اور سر ورق کی تحریر نظر کو جکڑ لیتی ہے۔ ” کوئی بھی عورت اپنی ذات میں صرف عورت ہے اور مرد محض مرد جب دونوں ایک یا ایک میں ہو جاتے ہیں تو انسان مکمل ہوتا ہے ” واہ! دل سے نکلا، انسانیت کے بارے میں کسی لیکھک کا فارمولا دلچسپ

Read more