تعلق کا نادیدہ بوجھ (3)


سونیا اور فہد نے مل کر دونوں بچوں کے لیے کچھ سخت اصول اور ضابطے بنا لیے ۔ اسکول سے سیدھے گھر آؤ، کہیں جانا ہو تو بتا کر جاؤ، کب آؤ گے۔ کس کے ساتھ ہو۔ فون بند نہیں ہو، شام سے پہلے واپس آنا ہو گا۔ کسی کو گھر بلانا ہو تو اجازت لینی ہو گی۔ ملاقات لیوینگ روم میں ہوگی بیڈ رومز میں کوئی مہمان نہیں جائے گا۔ بچوں نے منہ بنائے لیکن اصول نرم نہ ہوئے۔

ابھی ہوم رولز کو بنے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ سونیا کا گھبرایا ہوا سا فون آیا۔ ”فوری ملو۔“

وہ لنچ بریک میں آ گیا۔

” مجھے کراچی جانا ہو گا۔ ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں“

” اوہ خیر تو ہے؟ ہوا کیا ہے انہیں؟“

”پتہ نہیں کچھ ٹسٹس وغیرہ ہوں گے تو صحیح تشخیص ہو سکے گی۔ ابھی تو اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔“

”کب جانا چاہتی ہو؟“

”جلد سے جلد۔ میں بچوں کا سوچ کر پریشان ہوں۔ تم گھر آ جاؤ گے انہیں سنبھالنے؟“

” آف کورس۔ تم اس کی فکر بالکل مت کرو۔ جانے کی تیاری کرو۔ کتنے دن لگیں گے؟“

” کم سے کم دو ہفتے، شاید تین بھی لگ جایں۔ اس سے زیادہ کی میرے پاس چھٹی نہیں ہے“

اسے تین ہفتے ہی لگے۔ فہد کو میسج کر دیا کہ ابو کی طبیعت اب بہتر ہے میں اگلے چند دن میں واپس آ رہی ہوں۔

سونیا نے سوچا وہ گھر جا کر سرپرایز دے گی۔ گھر کی چابی تو ہے ہی اس کے پاس۔ ٹیکسی سے اتر کر سوٹ کیس دھکیلتی وہ اندر داخل ہوئی۔ لیوینگ روم سے باتوں، ہنسی اور قہقہوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ کیا کوئی پارٹی ہو رہی ہے اس نے سوچا۔ فہد پیانو بجا رہا تھا۔ ٹی وی پر کوئی فلم چل رہی تھی۔ صوفے پر میشل اور چنگ لی برابر برابر بیٹھے تھے۔ دوسرے صوفے پر شمیر بیٹھا تھا اور اس سے چیپک کر بیٹھی ایک سنہرے بالوں والی چھوٹی سی لڑکی۔ سب کتنے خوش تھے۔ سب سے پہلے فہد کی نظر اس پر پڑی۔ ”لو موم بھی آ گیں“ وہ خوشی سے بولا۔ سب اس کی طرف دیکھنے لگے۔ شمیر نے اٹھ کر اس سے لپٹ گیا۔ میشل بھی آگے آئی۔ چنگ لی نے ہیلو کہا۔

” موم یہ زوئی ہے۔ “ پھر سونیا کے کان میں کہا ”میری کلاس کی سب سے خوبصورت لڑکی“۔ اور زوئی یہ میری موم ہیں” پیاری سی لڑکی نے ہاتھ ملایا۔ سونیا کو لگا کمرے میں زندگی بھری ہوئی ہے۔ سب اپنی اپنی جگہ کتنے خوبصورت اور کتنے مکمل لگ رہے تھے۔

فہد نے آگے بڑھ کر اس کا بیگ لیا۔ حال پوچھا۔ ”میں نے پیتزا بنایا ہے کھاؤ گی؟ یا ابھی آرام کرنا چاہو گی؟“

سونیا اس منظر سے خود کو الگ نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔ کچھ دیر اور اسی میں گم رہنا چاہتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ اگر وہ یہاں سے اٹھی تو سین بدل جائے گا اور پھر کوئی اداسی والی کیفیت چھا جائے گی۔ اس کا دل چاہا اس منظر کو اپنی بانہوں میں بھر لے۔ وہ صوفے پر اپنی جگہ بنا کر بیٹھ گئی۔ فہد اس کے لیے پیتزا لے آیا۔

”موم ہم سب سمیٹ کر کمرا صاف کریں دیں گے“ میشل نے شرمندگی سے کمرے کی بے ترتیبی کو دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی ماں کو صفائی کا کتنا جنون ہے۔

”نہیں رہنے دو ابھی۔ میرے پاس بیٹھو“ اس نے بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ سونیا کو یہ بے ترتیب کمرا، بکھری چیزیں اور اوندھے پڑے کشنز سب اچھا لگ رہا تھا۔ آج تو چنگ لی بھی اسے برا نہیں لگ رہا تھا اور زوئی پر تو باقاعدہ پیار آ رہا تھا۔

کچھ دیر بعد چنگ لی اور زوئی اپنے اپنے گھر روانہ ہو گئے۔

سونیا پاکستان سے تحفے لائی تھی وہ دیے۔ میشل کے لیے سونے کی زنجیر اور شمیر کے لیے پاکستان میں بنی فٹ بال۔

” میرے لیے کیا لائی ہو؟“ فہد نے یونہی دل لگی کی۔

”تمہارے لیے کرتا پاجامہ لائی ہوں۔ ایک گرم شال بھی ہے۔ بالکل شعلے کے سنجیو کمار لگو گے“

سونیا کمرے میں آ گئی۔ فہد کچن صاف کرنے لگا۔ کچھ دیر میں اس نے سونیا کے دروازے پر دستک دی۔

” اچھا میں چلتا ہوں۔ تم بھی آرام کرو۔ کل بات کریں گے“

” اس وقت کہاں جاؤ گے۔ رک جاؤ۔ میں فریش ہو کر آتی ہوں پھر کافی پیں گے“

سونیا لیوینگ روم میں آئی تو فہد کافی کے مگ لیے کھڑا تھا۔ دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ فہد نے اس کے والد کا حال پوچھا۔ پورے ٹرپ کی روداد سنی۔ سونیا نے تفصیل سے سب بتایا۔

” اچھا میری غیر حاضری میں سب کیسا رہا؟ کوئی مشکل تو پیش نہیں آئی؟“

” نہیں۔ سب اچھا ہی رہا۔ میشل نے ذرا ڈراما کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے سنبھال لیا۔“

” شمیر ٹھیک رہا؟ اور یہ لڑکی کہاں سے آ گئی ایک دم؟“ وہ ہنسی۔

” ہاہاہا۔ ہاں شمیر نے پوچھا ڈیڈ میں ایک دوست کو بلا سکتا ہوں ساتھ مووی دیکھیں گے۔ میں نے کہا بلا لو۔ دیکھا تو دوست لڑکی تھی۔ دونوں کیوٹ لگ رہے تھے نا ساتھ ساتھ؟“

”خیر چلو۔ مجھے خوشی ہے تم نے سب اچھی طرح سنبھال لیا۔ بہت محنت کرنی پڑی ہو گی تمہیں“

”محنت؟ ارے نہیں۔ سب خود ہی ٹھیک ہو گیا۔ ہم نے ایک دوسرے پر اعتماد کیا۔“

”مجھے یاد کیا بچوں نے؟“

فہد کو چپ لگ گئی۔

”اچھا چھوڑو جواب مت دینا۔ مجھے دکھ ہو گا۔ میں ہی اس قصے میں ویلن ہوں“

” ایسا نہیں ہے۔ بچے تمہیں بہت چاہتے ہیں۔ بس یہ تبدیلی انہیں اچھی لگ رہی تھی۔ ایک نیا پن تھا۔ میں زیادہ دن رہتا تو میرا بھی وہی حال کرتے۔ میں بھی بیڈ گائے بن جاتا“

سونیا بہت دیر تک چپ رہی۔ کچھ کہتے کہتے رکتی۔ فہد اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔

”کیا سوچ رہی ہو؟“

”کچھ نہیں۔ تھک گئی ہوں۔ آرام کروں گی۔ تم بھی سو جاؤ۔ صبح ناشتے پر ملیں گے۔“

سونیا نے کمرے میں آ کر سوچا آج جو اچھا ماحول گھر میں دیکھا کیا یہ دائمی ہو سکتا ہے؟

اگلے دن اتوار تھا۔ چھٹی تھی۔ وہ سو کر اٹھی کمرے سے باہر آئی تو کچن سے ناشتے کی خوشبو آ رہی تھی۔ فہد کرتا پاجامہ پہنے بے ڈھنگے پن سے شال اوڑھے پین کیکس بنا رہا تھا۔ بچے میز پر اپنے اپنے فون سے کھیل رہے تھے۔ اسے آتا دیکھ کر دونوں ہی گرمجوشی سے ملے۔ سونیا فہد کے پاس جا کر ہنستے ہوئے بولی۔

”یہ ہاتھ مجھے دے دو ٹھاکر“ فہد بھی ہنس دیا۔

”یہ ہاتھ تمہارے ہی ہیں بسنتی“ اس نے الٹا سیدھا ڈائیلاگ بولا اور دل کھول کر ہنسا۔

سونیا نے سوچا دائمی کوئی چیز کوئی کیفیت نہیں ہوتی۔ بس یہی موجود لمحہ ہے جو سنبھال لینا چاہیے۔ کہیں ہاتھ سے نہ نکل جائے۔

” سنو کل چلے جانا۔ آج چھتی کا دن ہے بچوں کے ساتھ گزارو“

” آج نہیں کل تو جانا ہی ہے۔ بچے ابھی تھوڑی دیر میں اپنے اپنے مشغلوں میں لگ جایں گے۔ مجھے مس بھی نہیں کریں گے“

” میں تو کروں گی“ اس نے کہہ ہی دیا۔ وہ ہنس دیا یوں جیسے یہ ایک مذاق ہو۔

”مجھے اپنا گھر بھی دیکھنا ہے نا۔ کتنے دن سے بند پڑا ہے“

” یہ بھی تمہارا اپنا گھر ہی ہے“ اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔ فہد سوچ میں پڑ گیا

”پیاری سونیا ہم زیادہ وقت ساتھ رہیں گے تو الجھتے رہیں گے“

” پھر ہم سلجھ بھی جایں گے“

”دیکھو ہم الگ ہر کر کتنے خوش ہیں اطمینان سے ہیں۔“

”تم خوش ہو؟ اطمینان سے ہو؟“

”جتنی تم ہو اتنا ہی میں بھی ہوں۔ اب ہم جھگڑتے بھی نہیں۔ تحمل سے بات کرتے ہیں۔ تمہیں تلخ بات بھی نہیں کرنی پڑتی“

”سنو بچوں کی خاطر۔“

” بچوں کی خاطر شادی میں بندھے رہنا کوئی معقول عذر نہیں۔ جب بچے ہمیں لڑتے جھگڑتے دیکھیں گے تو بہت ڈسٹرب ہوں گے۔ وہ بکھر جایں گے۔ انہیں سائیڈ لینی پڑے گی یا شاید وہ ہم دونوں سے ہی متنفر ہو جایں۔“

”یہ اگر مگر یہ مٖفروضے۔ چلو ٹھیک ہے“ ۔

اگلے ویک اینڈ آؤں گا۔ شمیر کو ڈرائیونگ سکھانے کا وعدہ کیا ہے۔ لے جاؤں گا ”

”ڈرائیونگ؟ ابھی سے؟ ابھی تو وہ۔“

”پندرہ کا ہو گیا اگلے سال لائسنس لے گا“

” وہ اتنا بڑا ہو گیا؟“

”ہاں اور تمہیں پتہ بھی نہ چلا“

” بدلہ لے رہے ہو۔ لے لو۔“

”سوری“

فہد دیر تک اس کا چہرہ پڑھتا رہا۔ سونیا بھی کھلی کتاب بنی بیٹھی رہی۔ فہد یہ کتاب پڑھ چکا تو بولا۔

فرض کرو تم مجھے گھر لوٹنے کو کہہ دو۔ فرض کرو میں مان جاؤں تو کیا سب ٹھیک ہو جائے گا؟ ”

”پتہ نہیں۔ کوشش تو کر سکتے ہیں نا؟“

”کیا میں گیسٹ روم سے بیڈ روم تک آ سکوں گا؟“

سونیا کو اداسی نے گھیر لیا۔ فہد اوپر گیسٹ روم میں چلا گیا اور وہ سوچتی رہی کہ کیا اس نے لمحہ ضائع کر دیا؟

فہد اپنا بیگ اٹھائے آیا ”لو بھئی میں چلا۔ چابی ہے میرے پاس آتا رہوں گا“ ۔

Facebook Comments HS