کلنگ کمانڈیٹور


تبصرہ و تعارف ڈاکٹر فرخ ملک

جاپانی ناول نگار ہاروکی مراکامی کا نام عالمی شہرت کا حامل ہے۔ میں آج اس کے ناول ”کلنگ کمانڈیٹور“ پر تبصرہ و تعارف پیش کرنے جا رہا ہوں۔

کلنگ کمانڈیٹور ایک مصور کی کہانی ہے جو اپنی معاش کی تگ و دو کی وجہ سے اپنے تخلیقی وجود سے دور ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کا تجریدی آرٹ کی طرف جھکاؤ ہوتا ہے لیکن فکرمعاش اسے پورٹریٹ پینٹ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے مزاج کے مترادف سمت میں چل رہا ہے۔

ناول کی باقاعدہ شروعات تب ہوتی ہے جب مرکزی کردار کا رشتہ ازدواج اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور مرکزی کردار اپنا گھر چھوڑ کر اپنے دوست کے مصور والد کے گھر میں جاکر رہنا شروع کرتا ہے۔ اس کے دوست کا والد اس ناول میں اہم حیثیت کا حامل ہے جو کہ جاپانی کلاسیکی فن مصوری کا ایک شہرت یافتہ مصور دکھایا گیا ہے اور ناول کا نام بھی اس کی ایک پوشیدہ پینٹنگ سے منسوب ہے۔

مراکامی کے ناولوں میں اکثر میجیکل ریئل ازم کی آمیزش نظر آتی ہے۔ مراکامی تخیلاتی دنیائیں بنتا ہے اور اس کے کردار سپرا ہیومن صلاحیتوں کے حامل نظر آتے ہیں۔ گو کہ مراکامی کا میجیکل ریئل ازم گارسیا مارکیز کے جیسا شوخ نہیں ہے، ہاں مگر مراکامی قارئین کو اپنے ناولوں میں کردار کے ساتھ بن لینے کی صلاحیت بخوبی رکھتا ہے۔

کلنگ کمانڈیٹور میں بھی میجیکل ریئل ازم واضح ہوتا ہے۔ ناول کی ابتداء کچھ یوں ہوتی ہے کہ مرکزی کردار کی آنکھ کھل جاتی ہے اور ناول کا پہلا کردار کچھ دیر کے لئے قارئین کے سامنے آشکار ہوتا ہے۔ وہ کردار بے چہرہ آدمی ہے جو مرکزی کردار سے اپنے پورٹریٹ بنانے کا تقاضا کرتا ہے، پورٹریٹ ایک ایسے شخص کا کہ جس کا کوئی چہرہ ہی نہیں ہے۔ ناول میں مرکزی کردار کا کوئی نام نہیں ہے اور وہ فرسٹ پرسن میں اپنی روداد سنا رہا ہے۔ اس ناول میں بے چہرہ آدمی شاید مرکزی کردار کا ہمزاد ہے۔ چونکہ مرکزی کردار اپنے تخلیقی وجود سے ہم آہنگ نہیں، اس لئے اسے لگتا ہے کہ اس کا کوئی چہرہ نہیں اور چہرے کی جگہ دھند ہے جس کے کوئی خد و خال نہیں۔ بے چہرہ آدمی ایک علامت سا لگنے لگتا ہے، ان سب کا ہمزاد جو اپنے اصل سے ہم آہنگ نہیں ہوتے ہیں اور کہیں گم رہتے ہیں۔ کتاب سے ایک اقتباس کا ترجمہ پیش خدمت ہے :

”آج میں جب نیند سے بیدار ہوا تو بے چہرہ آدمی میرے سامنے تھا۔ وہ اس صوفے کے سامنے کرسی پہ بیٹھا تھا جس پر میں سو رہا تھا۔ وہ مجھے گھور رہا تھا، اپنی دو خیالی آنکھوں سے جو اس کے چہرے کا حصہ تھیں، وہ چہرہ جو کہ تھا ہی نہیں۔

وہ دراز قد تھا۔ اس نے ویسے ہی کپڑے پہنے ہوئے تھے جیسے ہماری پہلی ملاقات کے وقت اسے زیب تن تھے۔ اس کا چہرہ جو کہ چہرہ نہیں تھا، اس کی گول ٹوپی سے ادھ ڈھکا تھا اور اس نے لمبا سیاہ کوٹ پہنا ہوا تھا۔ ”

اس ناول میں مرکزی کردار اپنے داخلی احساسات کو کہانی کا حصہ بناتا ہے اور اس میں باقی کردار پرونے لگتا ہے۔ ناول میں تقریباً تمام کردار تنہائی کا شکار دکھائے گئے ہیں جو اپنے باطن میں، کسی دوسرے ڈائمینشن میں، کسی فرد یا احساس کے ساتھ لنگر انداز ہیں اور تنہا نہیں ہیں۔ ظاہری طور وہ خاموش نظر آتے ہیں لیکن اپنی سوچوں میں دنیائیں بسائے پھرتے ہیں۔ ان میں سے مرکزی کردار کے دوست کا مصور والد ٹوموہیکو اماڈا بھی ایک ہے۔ ٹوموہیکو اماڈا کی ایک پینٹنگ کلنگ کمانڈیٹور جو اس نے اپنے گھر کی چھت کے بالائی حصے میں چھپا کر رکھی ہوتی ہے، اسے دیکھ کر مرکزی کردار متاثر ہوتا ہے اور اپنے تخلیقی وجود سے ہم آہنگ ہو کر پینٹ کرنا شروع کرتا ہے۔ اس پینٹنگ میں کسی کے قتل ہونے، قتل کرنے اور قتل کا تماشا دیکھنے کی ٹریجڈی کو تمام تر کو ڈرامائی پہلوؤں کے ساتھ رنگوں میں قید دکھایا گیا ہے۔

ناول میں نئی سمت تب کھلتی ہے جب ایک رات مرکزی کردار خاموشی کو سن کر اچانک نیند سے جاگ جاتا ہے۔ اسے ماحول کچھ بدلا سا لگتا ہے اور کہیں دور ایک گھنٹی کی آواز اسے اٹھنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ جنگل کے بیچ ایک قدیم مقام تک جا پہنچتا ہے۔ گھنٹی کی آواز اس کے پاس زمیں سے آ رہی ہوتی ہے جس کو بعد میں کھدوایا جاتا ہے اور وہاں مرکزی کردار کو ایک گھنٹی پڑی ملتی ہے جسے وہ گھر لے آتا ہے۔ کچھ دنوں بعد اس کی آنکھ پھر کھلتی ہے اور وہ اپنے کمرے میں کسی شخص کی موجودگی محسوس کرتا ہے۔ غور کرتا ہے تو اسے دو فٹ کا ایک بونا نظر آتا ہے جو پینٹنگ کے کردار کمانڈیٹور کی شکل کا ہوتا ہے۔

وہ کردار اسے بتاتا ہے کہ وہ کمانڈیٹور نہیں، وہ ایک خیال ہے جس کی اپنی کوئی ہیئت نہیں اور اس نے ہم کلام ہونے کے لئے کمانڈیٹور کہ شبیہ ادھار لی ہے۔ وہ مزید بتاتا ہے کہ چونکہ وہ خیال ہے اس لئے اس پر زمان و مکان کی قید نہیں۔ وہ جہاں چاہے، جب چاہے پہنچ سکتا ہے اور جس کے ساتھ چاہے ہم کلام ہو سکتا ہے۔ اس ناول کا ایک قابل ذکر کردار تیرہ سالہ ماریے اکیکاوا کا ہے جس کا پورٹریٹ بنانے کے لئے مرکزی کردار کو منسیکی نامی شخص کہتا ہے جسے لگتا ہے کہ وہ اس کا حقیقی والد ہے۔

پورٹریٹ بناتے ہوئے مرکزی کردار کو ماریے میں اپنی تیرہ سالہ بہن نظر آنے لگتی ہے جو کہ مر چکی ہوتی ہے۔ ماریے کے ساتھ مرکزی کردار کی بات چیت کچھ عجیب سی رہتی ہے جس میں جنسیت کا پہلو ہوتا ہے۔ آگے چل کہ ماریے گم ہوجاتی ہے اور اس کی تلاش میں مرکزی کردار زمین دوز بھول بھلیوں کی مسافت کو جاتا ہے جہاں اس کی لاشعور سے اشکال سامنے آشکار ہوتی ہیں اور وہ اپنے ڈر کو تسخیر کرتے ہوئے باہر نکل آتا ہے۔

ناول میں دوسرے کردار ماریے کی خالہ، اس کے والد اور مرکزی کردار کی محبوبائیں شامل ہیں۔ ناول خیالوں، تخلیق، تخلیقی عمل، تنہائی داخلی احساسات، جنسی معاملات و لذت، جسمانی پیچیدگیوں، جادوئی حقیقتوں، خیالی دنیاؤں اور ان سے منسلک پہلوؤں کی آمیزش ہے۔

 

Facebook Comments HS