شعبہ اُردو اور جامعات کی روداد


دھول، مٹی، پان اور کچرا جمی شعبہ اردو کی سیڑھیاں شعبے کی خستہ حالی کی عکاس ہیں۔ دیواریں گرد و غبار کو زیب تن کیے ہوئے، اردو زبان کی طرح شعبہ اردو بھی توجہ کا منتظر ہے۔ کمرہ جماعت کھلے اور ہوا دار، کرسیاں دھول اور مٹی کے زیور سے آراستہ، بلب کی باقیات اس بات کی غماز ہیں کہ کسی زمانے میں یہاں بلب بھی ہوا کرتا تھا۔ بجلی کی تاریں جگہ جگہ کھلی ہیں، جو کسی بھی حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں۔

واش رومز پر لگے تالے، نظر پڑنے سے قبل سے ہی معافی کے طلب گار دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ تو خدا کا شکر ہے شعبہ انگریزی کے واش رومز ہمیشہ قابل استعمال رہتے ہیں، بس سیڑھیاں چڑھنے، اترنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے۔ برآمدے میں ٹوٹے، پھوٹے گملے، مرجھائے ہوئے پودے انتظامیہ، طلباء اور پروفیسرز کا منہ تک رہے ہیں۔ ادیب جذبہ حساسیت سے لبریز ہوتے ہیں۔ یہاں حساسیت سے مانوسیت کم ہے۔ طلباء کی اکثریت گنتی کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔

کتاب کھولنے سے قبل نتائج سے متعلق فکر مند، حصول علم کے بجائے غرض حصول نمبرز سے رٹا لگانے والے طلبا ء کی بڑی کھیپ پنپ رہی ہے۔ سیکھا کیا، پایا کیا، حاصل کیا کیا، اس کی پرواہ نہیں۔ کم نمبرز کا گلہ سب کو ہے نمبرز کی اس گیم میں معیار پر مقدار کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تخلیق کی جگہ تقلید کا رواج پایا جاتا ہے، پروفیسرز کی جانب سے سونپا جانے والا کام تخلیقی کم تقلیدی زیادہ ہوتا ہے۔ کام کے معیار کی جگہ مقدار کو دیکھنا یہ ہمارے نظام تعلیم کی مجموعی بدقسمتی رہی ہے۔ جو کہ شعبہ اردو میں بھی رائج ہے۔ پروفیسرز کی اکثریت ڈاکٹریٹ ہیں۔ چند اساتذہ سے سوال کی ہمت کریں تو، جواب ملتا ہے، کیا ہے؟ کہاں سے آئے ہو، یہ کیا سوال ہے؟ جیسے سوالات سننے کے بعد طلباء پھر کبھی پوچھنے کی غلطی دہرانے کا خیال بھی ذہن سے نکال دیتے ہیں۔ شعبہ اردو ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے چند اساتذہ کا رویہ ادب اور ڈگری کے شایان شان نہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اور جامعات کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے ساتھ کم از کم اخلاقیات اور رویہ کو بھی جانچنا چاہیے۔ تاکہ جامعات سے نکلنے والی نسل با تہذیب اور شائستہ ہو اور جامعات میں جنسی ہراسانی کے کیسز کا سامنا بھی کرنا نا پڑے۔

ایک انمول پروفیسر صاحب کو تو کلاس میں صرف طالبات ہی نظر آتی ہیں اور انہی سے سروکار ہوتا ہے۔ وہی ایک انمول پروفیسر صاحب نے کمرہ جماعت میں دوران درس اپنی عمر کے متعلق طلباء سے دلچسپ تجزیے و تبصرے دل کھول کر لیے۔ پھر سب کو مایوس کرتے ہوئے۔ فصیح و بلیغ تقریر کے بعد قدرے گرم جوشی سے فرمانے لگے کہ 38 سے 40 کے درمیان اندازہ لگا لیجے۔

موصوف کی عمر کا تعلق ادب کی کس صنف سے تھا آج تک سمجھ نہ آیا۔ ایک پروفیسر موصوف تو درس سے قبل ہی یہ غلط فہمی دور کیے دیتے ہیں کہ انہیں تاریخ، اشعار، کتابیں اور شخصیات کے نام یاد نہیں رہتے۔ جو کچھ درس میں وہ فرما رہے ہیں وہ صحیح اور غلط کے درمیان ہو سکتا ہے۔ اس لئے کوشش طلباء خود کریں۔ کچھ پروفیسرز تو کم یاب ہو گئے ہیں۔ جو ہفتوں بعد حاضری کو ایمانداری کے ساتھ یقینی بناتے ہیں۔ وہی کچھ فرض شناس اساتذہ کرام بلاناغہ اپنے فرائض خوش اسلوبی سے نبھاتے نظر آرہے ہیں۔

صدر شعبہ کو کبھی کسی کمرہ جماعت میں جھانک کر اساتذہ کی حاضری اور طلبا ء کے مسائل سے متعلق جاننے کی زحمت کرتے ہوئے نہیں پایا۔ کتب خانے میں کتابوں کی حفاظت کا مکمل انتظام کیا ہوا ہے۔ طلباء اور کتابوں کے درمیان ایل او سی کی سر حد بنی ہوئی ہے۔ لوہے کی مضبوط الماریوں میں تالے لگا کر چابیاں داروغہ کو سونپ دی گئی ہیں۔ تاکہ کوئی طالب علم ان کتب سے مستفید ہونے کی جرات نہ کرسکے اکثر طلباء اور کتب ایک دوسرے کو ایسے تکتے ہیں جیسے واہگہ بارڈر پر انڈیا اور پاکستان کے شہری۔

دروازے کے ساتھ ہی کرسی پر تشریف فرما، کتب خانے کی داروغہ عینک لگائے قرب الہٰی کی متمنی رہتی ہیں۔ کسی بھی کتاب کے حوالے سے دریافت کرنے پر عینک کے پیچھے سے غورتی ترشی ڈراونی نظریں خوفزدہ کر دیتی ہیں۔ ذرا سی غلطی پر خوب ٹوک دیتی ہیں۔ کتابوں کی فہرست دیکھنے والے طلباء کی چودہ سے سولہ سال کی حاصل کردہ تعلیم کو یک لمحے میں زمین بوس کرتے ہوئے ترش لہجے میں متوجہ ہوتی ہیں، کیا آپ کو اے بی سی پڑھنی نہیں آتی، کتب خانہ میں پائی جانے والی کتابیں کی فہرست انگلش کے حرف اے بی سی ڈی کے خانوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔

انگریزی کی اردو میں مداخلت یہاں بھی نظر آتی ہے۔ طلباء میں کتب بینی کا رجحان بہت کم پایا جاتا ہے، باوجود اس کے جو طلباء خود کو بہ مشکل کتب بینی کی جانب قائل کرتے ہیں محترمہ داروغہ کا رویہ، ترش مزاجی اور ایل او سی کی سرحد دوبارہ کتب خانے کی طرف مائل ہونے سے روک دیتی ہیں۔ کتب خانے کی میز پر خاموشی اختیار کیجیے کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ مگر طلباء کی توجہ اس جانب مبذول نہیں۔ کتب بینی کی جگہ نجی محافل لگی ہوتی ہیں۔

جب طلباء پر سکوت طاری ہوتا ہے تو لائبریرین کی فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ کتب خانے میں کتابوں کو تالے لگا کر دیوار پر بانیان پاکستان اور مفکرین پاکستان کی تصاویر لٹکانا، ان مفکرین کی علمی خدمات کو تختہ دار پر لٹکانے کے مترادف ہے۔ کتب خانے میں لگائے جانے والے کتابوں پر قفل کے بعد ادب کے درس میں آزادی، حریت، قیام، تخلیق، تہذیب اور نئے نظریات و اسلوب کے اختیار کیے جانے کی تلقین بے سود ہے۔ جامعہ کا نصاب بابائے اردو کے زمانے کا ہے اور طلباء سے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ادب کے فروغ کی توقعات لگائے رکھنا نیا نہیں قدیم سے قدیم تر پاکستان کی علامت ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کی تمام جامعات کے شعبۂ ہائے اردو کا یہی حال ہے۔ بس دیواروں اور برستی چھت سے لگتا ہے کہ کمرہ ہے۔ اردو قومی زبان ہے اور قومی زبان کے فروغ میں ہم کس قدر سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ آپ جامعات کے شعبہ اردو کی حالت زار سے لگا سکتے ہیں

Facebook Comments HS