نیلماں 


آج پھر وہی ہوا تھا جو پچھلے کئی سالوں سے ہوتا آیا تھا۔ نیلماں کو دیکھنے آئے ہوئے لوگ اسے اس کے بڑھے ہوئے وزن اور کم صورتی کو نشانہ کو بنا کر مسترد کر گئے تھے۔ وہ گھر والوں کی نظروں سے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی۔

”کیسی ہو؟“

آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اپنی ازلی مسکان لبوں پر بکھیرے اسی کی طرف پوری توجہ کیے دیکھ رہا تھا۔ نیلماں نے اپنا دکھتا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر پیچھے کی طرف دھکیلا کہ شاید اس بڑھتے بوجھ سے کچھ دیر کے لیے ہی سہی آرام ملے۔ لیکن کہاں؟ سر کے اندر موجود بھاری وزن کو بس بڑھنا آتا ہے، گھٹنا تو جیسے اس کی سرشت میں شامل ہی نہیں۔

”ہو رہا ہے نا سر درد؟ جانتا تھا ایسا ہی ہو گا۔“ اس نے ہلکی سی خفگی لہجے میں سمو کر نیلماں کو گھورا لیکن اس گھوری میں بھی چھپی محبت اس سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔

”کیا کروں؟ جان ہی نہیں چھوڑتا یہ سر درد اور نہ ہی گردن و کندھوں کا کھنچاؤ۔“ وہ اسے بتاتے ہوئی جیسے کراہی سی تھی۔

”ہممم“ اس نے ایک ہنکارا سا بھرا اور وہیں نیلماں کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس کے بال نفاست سے ایک طرف سمٹے ہوئے تھے اور گہری آنکھیں ہمیشہ کی طرح نیلماں پر جمی تھیں۔ اور یہ کون سی نئی بات تھی بھلا؟ نیلماں نے اسے ہمیشہ ہی ایسے ہیتو پایا ہے۔ مجال ہے جو اس کی توجہ کبھی ایک بار بھی نیلماں سے ہٹی ہو؟ نہیں! اس کی نظروں کا محور وہی رہی تھی اور وہی رہی ہے۔ جانے مستقبل کیسا ہو۔

”پھر گم؟“ اس نے چٹکی بجا کر نیلماں کو سوچوں کے بھنور سے باہر نکالا اور وہ ایک بار پھر جیسے حال میں آ گئی۔

”اب بتاؤ گی کیا ہوا ہے؟“ اس نے بڑی اپنائیت سے پوچھا۔
”کچھ نہیں۔ کیا ہونا ہے؟ بس سر درد۔“ نیلماں نے نظریں چرائیں

”اچھا یہاں آؤ میرے پاس۔ یہاں بیٹھو۔“ اس نے ایک دم سے اپنے پاس بچھے قالین پر ایک فلور کشن رکھتے ہوئے کہا۔ وہ نہ کہنا چاہتی تھی لیکن اس سامنے بھلا کبھی چلی ہے جو آج چلتی۔ چند لمحوں میں ہی نیلماں نے اپنے آپ کو اس صوفے کے پاس رکھے فلور کشن پر بیٹھا ہوا پایا۔ اس نے اتنا قریب کشن رکھا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے ایک داسی اپنے سادھو کے چرنوں میں آن بیٹھی ہے۔ نیلماں نے چہرہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نیلماں کے چہرے کے اطراف گرے بالوں کو سمیٹ کو اس کا سر اپنی گود میں رکھ دیا اور دھیرے دھیرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔

کبھی یہی انگلیاں گردن سہلانے لگتیں اور پھرماتھے تک کا سفر کرتی ہوئی بالوں میں جا الجھتیں۔ نیلماں نے اپنی آنکھیں ہی موند لیں۔ یہ کیسا احساس مسیحائی تھا؟ جیسے کوئی روح میں گھونپی ہوئی سوئیوں کو ایک ایک کر کے باہر نکال رہا ہے۔ سکون کی لہر نے اپنے ہونے کا احساس دلایا اور آنکھوں نے موندے رہنے کو ہی اپنا فیصلہ سنایا۔ شاید وہ سو ہی جاتی کہ اس کی آواز نے ایک بار پھر نیلماں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ ”کیا کرتی رہتی ہو اپنے ساتھ؟ ہر بار پہلے سے زیادہ ٹوٹی ہوئی آتی ہو۔ اپنی نہیں تو میری فکر ہی کر لیا کرو۔ مجھ سے نہیں دیکھا جاتا تمہارا یہ حال۔“

اس کی آواز کسی سرگوشی سے زیادہ تو بلند نہیں تھی لیکن نیلماں کے لیے اس وقت وہ ایک آواز ہی جیسے پوری کائنات تھی۔ دائیں آنکھ سے ایک آنسو جانے کیسے بہہ نکلا جسے اس نے اپنی شہادت کی انگلی سے گرنے سے پہلے ہی چن لیا۔

”تو اب یہ ہو گا؟“ اس لہجہ اداسی لیے ہوا تھا اور نیلماں کو بس پھوٹ پھوٹ کر رونا تھا۔ اتنا رونا تھا کہ اندر کا سارا غبار بہہ نکلے۔ نیلماں نے اس کی گود میں رکھے اپنے سر کو تھوڑا اور جھکا لیا کہ اپنا بھیگتا چہرہ اس سے چھپا لے اور ان آنسوؤں پر بندھے بند کو ٹوٹنے دے۔ اس کے ہاتھ اب نیلماں کا چہرہ سہلانے لگے تھے اور ان ہاتھوں کی اپنائیت بھری حدت اور لمس کو نیلماں کا وجود پہچانتا تھا۔ یہ وہی لمس تو ہے جو جانا پہچانا ہے۔ کیوں اس کا چھونا کبھی برا نہیں لگا نیلماں کو ؟ جانے اس لمس میں ایسا کیا ہے کہ نیلماں کا وجود اسے اجنبی نہیں مانتا۔ اس کی روح کی اس لمس سے جانے کب سے شناسائی ہے۔

”کون ہو تم“ نیلماں نے اس کے پیروں کے گرد اپنے بازؤں کو لپیٹتے ہوئے پوچھا۔
”تم بتاؤ!“ اس نے جوابی سوال کر کے جیسے بال نیلماں کے ہی کورٹ میں واپس پھینک دی تھی۔
”مسیحا؟“ نیلماں نے گود میں سر رکھے رکھے زیر لب کہا اور اس کی دھیمی سی ہنسی آس پاس بکھر گئی۔

”میں“ تم ”ہوں۔ تمہارے اندر ہی کہیں رہتا ہوں۔ تم ہی نے مجھے تراشا ہے اور اتنی یکسوئی سے تراشا ہے کہ آج میں مجسم تمہارے سامنے ہوں۔ ایسی یکسوئی ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر کوئی اپنا تراشا خاکہ دیکھ سکتا ہے۔ “ اس نے اپنی گمبھیر آواز میں کہتے ہوئے جھک کر نیلماں کا ماتھا چوم لیا اور وہ جیسے ششدر تھی۔

”تم میرا تراشا ہوا خاکہ ہو؟ کوئی انسان نہیں؟“

اس نے نیلماں کا سوال سن کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ”انسان ہوں یا فرضی انسان! ہوں تو تمہارے پاس نا؟ کیا میرے ہونے سے تمہیں تقویت نہیں ملتی؟“

”ملتی ہے نا۔ لیکن دنیا تو نہیں سمجھتی۔ وہ مجھے تم سے دور کرنا چاہتی ہے۔ مجھے پاگل کہتی ہے۔“ وہ رو ہی تو پڑی تھی۔

”اندر بسے پیکر کو کوئی بھلا کیسے دور کر سکتا ہے؟ انہیں اپنی کرنے دو ۔ میں اور تم ہمیشہ سے ساتھ تھے اور ہمیشہ ہی ساتھ رہیں گے۔“ اس نے ایک بار پھر جھک کر نیلماں کا گال چوم لیا تھا اور نیلماں؟ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اگلی دوا لے یا نہیں؟ دنیاوی زندگی میں واپس جانا ہے یا اس کے ساتھ ہی جیون بتادے۔ کیا کرے؟

Latest posts by فرزین لہرا (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

فرزین لہرا کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments