فرزین کی خوشیاں بانٹتی کہانیاں – محمود شام کی تحریر

محمود شام کی تحریر خوش رہے فرزین لہرا کہ اس کی ٹہلتی مچلتی لکھت یہ اطمینان دلا دیتی ہے۔ ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے کیبورڈ والی پیڑھی لوح و قلم سے دور نہیں ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کسی بہت سلیقے سے سنوارے گئے چمن میں قدم رکھا ہے۔ پھول کلیاں ٹہنیاں سب ”جی آیاں نوں“ کہہ رہے ہیں۔ ہر طرف ایک تازگی۔ شگفتگی۔ نغمہ سرائی۔ ہم اپنی تحریروں میں زبردستی اپنا بڑا پن۔ عقلمندی مسلط کرتے ہیں۔ مگر

Read more

الیکشن 2024

آج ووٹ ڈالنے گئی تو نجانے کیوں دل بھر سا آیا۔ پولنگ اسٹیشن پر لوگوں کو ہجوم، قطاروں میں کھڑے نوجوان، بزرگ، عورتیں اور معذور۔ ہر کوئی تو وہاں موجود تھا۔ ہر کوئی اپنا ووٹ دینے آیا تھا۔ ہم نے بھی اپنا ووٹ دیا۔ اور بسم اللہ پڑھ کر ٹھپا لگایا اور اللہ کا نام لے کر اسے باکس میں ڈالا۔ ووٹ۔ ایک ایسی طاقت جس سے آپ اپنا حکمران چنتے ہیں۔ ووٹ طے کرتا ہے کہ کسے اقتدار میں

Read more

Book Review : Confessions of a Grandmother

Author: Yasmin Elahi Publisher:Auraq publications Pages: 240 دل چھونے والی کتاب کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو دل چھو لیتی ہیں۔ آپ سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ آپ پڑھتے ہوئے مسکرانے لگتے ہیں اور کتاب آپ کے ساتھ ساتھ مسکاتی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک کتاب گزشتہ دنوں زیر مطالعہ رہی جس نے مجھے اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ یہ کتاب یاسمین الٰہی صاحبہ کی confessions of a grandmother کے نام سے ہے جس میں انہوں نے ایک بیٹی، پھر

Read more

عماد قاصر کی کتاب: پانچ صاحب اسلوب شاعر

مرتب: عماد قاصر صفحات: ایک سو اسی پبلشر: رنگ ادب پبلیکیشنز اگر میں اپنی بات کروں تو مجھے ہمیشہ ہی کھانے میں platters بہت پسند ہیں۔ اس میں آپ کی پسند کے چنندہ پکوان، ایک بڑیسی ڈش میں سرو کر دیے جاتے ہیں۔ جس دن مجھے یہ کتاب ملی، ذہن میں یہی مثال در آئی اور سوچنے پر مجبور کر گئی کہ اہل ذوقکے لیے یہ کتاب بھی کسی مزیدار سے پلیٹرplatter سے کم نہیں! جی ہاں میں بات کر

Read more

جاتے ہوئے تم!

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا (بشیر بدر) پیارے تم! کچھ دنوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ تم یہاں ہو کر بھی یہاں نہیں۔ تمہاری موجودگی ہمیشہ ہی غیر موجودگی کا سا تاثر دیتی تھی اور تم ہم سب کے درمیاں ہو کر بھی مانو ہم سے کترائے کترائے سے تھے۔ کافی کے ہر سپ کے ساتھ میں خود کو منواتی کہ تم ہو میرے ساتھ۔ لبھی زبردستی ہی کوئی دبیز

Read more

"ماری جاؤ گی” 

”تمہیں محبت ہو گئی ہے، ہے نا؟“ وہ اس کی چمکتی آنکھوں کو دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ ”ہاں۔ ہو تو گئی ہے۔“ وہ اور بھی دلکشی سے مسکرائی تھی ”واقعی؟“ جانے کیوں اس کا دل ڈوب سا گیا تھا پھر بھی مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا ”ہمم“ وہ جیسے گنگنائی سی تھی۔ ”کون ہے وہ؟“ اس نے جبراً مسکراہٹ قائم رکھتے ہوئے پوچھا ”ہے کوئی جس سے مجھے محبت ہو گئی ہے لیکن یہ سب یک طرفہ

Read more

گلابی جوتے

شوکیس پر لگے مختلف جوتوں کو بے دلی سے دیکھتے ہوئے اس نے سیلزمین کو اپنی طرف بلایا۔ ”کوئی ایسے جاگرز دکھائیں جو پارک میں واک کے لیے ہوں۔“ سیلزمین نے ایک ناقدانہ نظر اس کے پیروں میں موجود جوتوں پر ڈال کر سائز کا اندازہ کرنا چاہا۔ اس کی جذبات سے عاری آنکھوں نے سیلزمین کی نظروں کے تعاقب میں اپنے تیز گلابی رنگ کے جوتوں کو دیکھا اور ایک بھیگی سے مسکراہٹ اس کے لبوں پر رینگ گئی۔

Read more

نیلماں

آج پھر وہی ہوا تھا جو پچھلے کئی سالوں سے ہوتا آیا تھا۔ نیلماں کو دیکھنے آئے ہوئے لوگ اسے اس کے بڑھے ہوئے وزن اور کم صورتی کو نشانہ کو بنا کر مسترد کر گئے تھے۔ وہ گھر والوں کی نظروں سے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ ”کیسی ہو؟“ آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اپنی ازلی مسکان لبوں پر بکھیرے اسی کی طرف پوری توجہ کیے دیکھ رہا

Read more

نیلماں 

آج پھر وہی ہوا تھا جو پچھلے کئی سالوں سے ہوتا آیا تھا۔ نیلماں کو دیکھنے آئے ہوئے لوگ اسے اس کے بڑھے ہوئے وزن اور کم صورتی کو نشانہ کو بنا کر مسترد کر گئے تھے۔ وہ گھر والوں کی نظروں سے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ ”کیسی ہو؟“ آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اپنی ازلی مسکان لبوں پر بکھیرے اسی کی طرف پوری توجہ کیے دیکھ رہا

Read more

واپس آ جاؤ

آج پھر تمھاری یاد کی لہر ایسی اٹھی ہے کہ مجھے پور پور بھگو گئی ہے۔ دل نادان بس کچھ سننے سمجھنے کو تیار ہی نہیں۔ ایک ہی رٹ لگائے بیٹھا ہے کہ کہیں سے تم سامنے آ جاؤ اور اسی طرح گلے لگا لو۔ جب بھی تم نے گلے لگایا تھا ایسا لگا تھا جیسے مانو زندگی نے اپنا بدصورت چولا اتار پھینکا ہو اور اب اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ مجھے دیکھ کر مسکرا اٹھی ہو۔ جب

Read more

بلا عنوان

مرتے ہوئے کسی شخص سے مستقبل کی باتیں کرتے ہوئے اشک چھپانا، ہنس کے دکھانا، کتنا مشکل ہوتا ہے (ڈاکٹر محبوب کاشمیری) یہ شعر نظر سے گزرا تو تمہارا چہرہ میری آنکھوں میں گھوم گیا۔ تم اور میں۔ ہم دونوں ہی جانتے تھے کہ تمہارے پاس کم وقت بچا ہے۔ پھر بھی ہم مستقبل کی باتیں کیا کرتے تھے۔ مستقبل۔ وہ مستقبل جس کے آنے کا کوئی امکان نہیں تھا کہ اب معجزہ ہونے کا وقت بھی گزر چکا تھا۔

Read more