روس پر 34 سال حکمرانی کرنے والی ’محبت کی متلاشی‘ ملکہ جو اپنی فتوحات اور معاشقوں سے مشہور ہوئیں


 کیتھرین دی گریٹ
18ویں صدی ختم ہو رہی تھی جب روس کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے حکمران رہنے والی کیتھرین ’دی گریٹ‘ کی موت کے ساتھ اُن کی فتوحات اور معاشقوں سے بھرپور 34 سالہ عہد تمام ہوا۔

وہ 1729 میں پیدا ہوئیں تو ’سوفی‘ نام پایا۔ وہ پرشیا (جرمنی) کے  ایک غیر معروف شہزادے کی بیٹی تھیں۔ 16 سال کی عمر میں ایکاٹرینا یا کیتھرین الیکسیوینا کے خطاب کے ساتھ روس کی زارینہ الزبتھ کے 17 سالہ بھانجے کارل پیٹرالریچ سے بیاہی گئیں۔ پیٹر دی گریٹ کی بیٹی بے اولاد زارینہ نے جرمنی میں پیدا ہونے والے پیٹر کو تخت کا وارث مقرر کیا تھا۔

مؤرخین کا کہنا ہے کہ کیتھرین الیکسیوینا  کے شوہر پیٹر عصبی خلل کے شکار، اکھڑ، ضدی، شراب کے رسیا اور زارینہ کے دشمن فریڈرک دوم کے جنونی پرستار تھے۔ پیٹر کے کردار کی یہ خصوصیات بنیادی طور پر ان کی اہلیہ اور جانشین کی یادداشتوں سے اخذ کی گئیں جنھوں نے انھیں ایک ’بے وقوف‘ اور ’شرابی‘ کہا۔

لکھاری سوسن یاک کے مطابق پیٹر کے ساتھ اپنی شادی کے بارے میں کیتھرین نے لکھا کہ ’بچہ شوہر رکھنے سے بدتر کوئی چیز نہیں۔‘

کیا کیتھرین کی اولاد اُن کے شوہر سے تھی؟

تاریخ دان باربرا مرانزانی کے مطابق کیتھرین اور ان کے شوہر کی ازدواجی زندگی شروع ہی سے تلخ تھی اور ابتدائی آٹھ سال بغیر اولاد کے گزر گئے۔

کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ پیٹر شادی کے قابل نہ تھے جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ وہ فقط تولیدی صلاحیت  سے محروم تھے۔

بہت سے جدید مؤرخین پیٹر کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔ روسی مؤرخ اے ایس ملنیکوف کا کہنا ہے کہ پیٹر میں بہت سی متضاد خوبیاں موجود تھیں: گہرا مشاہدہ، اپنے دلائل اور عمل میں تیز ، گفتار میں بے احتیاطی، بے تکلفی، نیکی، طنز، گرم مزاجی اور غصہ۔

لیکن کیتھرین کی تصویر کشی اُن پر غالب ہے۔ ان کے خطوط اور یادداشتیں پیٹر کے ’بیہودہ، شرابی اور اکثر ظالمانہ رویے‘ کی کہانیوں سے بھری پڑی ہیں۔ ایک بارانھوں نے  الزام لگایا کہ پیٹر نے انھیں ایک چوہے کی ’پھانسی‘ دیکھنے پر مجبور کیا۔

پیٹر نے شادی کی رات دوستوں کے ساتھ پارٹی کی اور کیتھرین نے والٹیئر جیسے روشن خیال مصنفین کی کتابیں پڑھنے میں پناہ لی۔ پیٹر کے برعکس (جو اپنی غیر روسی جڑوں کے ساتھ ثابت قدم رہے) کیتھرین نے اپنے نئے وطن روس کی زبان میں روانی حاصل کر لی۔

مرانزانی لکھتی ہیں: ’اپنی شادی شدہ زندگی میں سخت ناخوش، پیٹر اور کیتھرین دونوں نے غیر ازدواجی تعلقات شروع کر لیے۔ کیتھرین نے ایک روسی فوجی افسر سرگئی سالٹیکوف کے ساتھ تعلقات استوار کیے۔ جب کیتھرین نے 1754 میں ایک بیٹے پال کو جنم دیا، تو افواہ اڑی کہ وہ  پیٹر کی اولاد نہیں بلکہ سالٹیکوف سے تھے۔ خود کیتھرین نے اپنی یادداشتوں میں اس افواہ کو ’سچ‘ قرار دیا اور یہاں تک کہا کہ زارینہ الزبتھ کو کیتھرین اور سالٹیکوف کے تعلقات کا علم تھا۔

’جب کہ آج  کے مؤرخین کا خیال ہے کہ کیتھرین کے دعوے محض پیٹر کو بدنام کرنے کی ایک کوشش تھی اور یہ کہ وہ درحقیقت پال کے والد تھے۔ (پیٹر سے پال کی گہری مشابہت بہت سے لوگوں کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ ہی اس لڑکے کے باپ تھے) کیتھرین کے تین دوسرے بچوں کی ولدیت پر بہت کم بحث ہوتی ہے: یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی پیٹر سے پیدا نہیں ہوا تھا۔‘

 کیتھرین دی گریٹ

بغاوت کا اختتام معزول زار کے خون پر

جنوری 1762 میں الزبتھ کی وفات ہوئی تو ان کے بھانجے پیٹر سوم کے طور پر تخت پر بیٹھے۔ انھوں نے فوری طور پر روس کی پرشیا کے ساتھ جنگ ​​ختم کر دی، یہ ایک ایسا عمل تھا جو روس کے فوجی طبقے میں انتہائی غیر مقبول ثابت ہوا۔ غریبوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کے پروگرام نے چھوٹے امرا کو بھی الگ کر دیا۔

یہ ناخوش دھڑے کیتھرین کی طرف متوجہ ہوئے، جو خود بھی پیٹر کے ارادوں سے خوفزدہ تھیں۔ انھیں یہ بھی خوف تھا کہ اب پیٹر ان سے علیحدگی اختیار نہ کرلیں۔ جیسے جیسے کشیدگی بڑھتی گئی، پیٹر کا تختہ الٹنے کا منصوبہ جڑ پکڑ گیا۔

جب جولائی 1762 میں اس سازش کا پردہ فاش ہوا تو کیتھرین تیزی سے حرکت میں آئیں اور ملک کی سب سے طاقتور فوجی رجمنٹ کی حمایت حاصل کر کے اپنے شوہر کی گرفتاری کا بندوبست کیا۔

زار بننے کے صرف چھ ماہ بعد 9 جولائی کو پیٹر نے استعفیٰ دے دیا اور کیتھرین کو واحد حکمران قرار دے دیا گیا۔ پیٹر کو سینٹ پیٹرزبرگ سے 30 میل دور روپشا میں جلاوطن کر دیا گیا جس کے آٹھ دن بعد وہ مر گئے۔

سرکاری رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ شدید بواسیر سے مرے۔ تاہم مؤرخین لکھتے ہیں کہ 17 جولائی کو پیٹر کی موت ممکنہ طور پر کیتھرین کے عاشق گریگوری کے بھائی الیکسی اورلوف کے ہاتھوں ہوئی۔ اگرچہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ کیتھرین مبینہ قتل کے بارے میں پہلے ہی جانتی تھیں۔

 کیتھرین دی گریٹ

کیتھرین اپنے چاہنے والوں کو بہت نوازتیں

صحافی راکیل چینگ لکھتی ہیں کہ روس کی سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی خاتون کے طور پر اپنی تین دہائیوں کے دوران کیتھرین نے نئے قصبوں کی تعمیر کی، سرحدوں کو وسعت دی، تعلیمی نظام کو بہتر بنایا اور فن و ثقافت کی سرپرستی کی۔ اس کے باوجود آج انھیں ان کی محبتوں کے لیے سب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے، جن کی تعداد محققین نے 12 سے 22 کے درمیان بیان کی ہے۔

کیتھرین کا کہنا تھا کہ ’مصیبت یہ ہے کہ میرا دل محبت کے بغیر ایک گھنٹہ بھی رہنے سے نفرت کرتا ہے۔‘

اخبارات نے کیتھرین کو ’جنسی ہوس‘ کی شکار فرد کے طور پر دکھایا گیا۔

تاہم چینگ کے مطابق ’محبت سے محبت کے باوجود، ہمیں وہ دراصل ایک ایسی عورت نظر آتی ہیں جنھوں نے کبھی ایک وقت میں ایک سے زیادہ  تعلق نہیں رکھا اور اپنے چاہنے والوں سے اچھا سلوک کرتی تھی۔‘

تاریخ کی استاد اونا میکلوینا کہتی ہیں کہ 1752-1796 تک 44 سال کے عرصے میں، کیتھرین 12 رومانوی رشتوں میں رہیں، جن میں سے زیادہ تر دو سال سے زیادہ قائم رہے۔

باربرا مرانزانی کا کہنا ہے کہ کیتھرین اپنے تعلق کے دوران اور اس کے ختم ہونے کے بعد بھی، اپنے چاہنے والوں سے وفاداری کے لیے مشہور تھیں۔ ہمیشہ الگ ہوتے ہوئے بھی بہت نوازتیں۔

’لیکن شاید کوئی بھی سٹینسلا پونیاٹووسکی سے زیادہ نوازا نہیں گیا جو ان سے محبت کرنے والے ابتدائی لوگوں میں سے ایک اور ان کے بچوں میں سے ایک کے باپ تھے۔ پولش اشرافیہ کے ایک رکن، پونیاٹووسکی پہلی بار کیتھرین (جو ابھی اقتدار میں نہیں تھیں) کے قریب تب آئے جب انھوں نے سینٹ پیٹرزبرگ میں برطانوی سفارت خانے میں خدمات انجام دیں۔ جزوی طور پر ان کے تعلقات کی وجہ سے ایک سکینڈل پر روسی دربار سے نکالے جانے کے بعد بھی، وہ دونوں قریب ہی رہے۔

’1763 میں، ان کے تعلقات ختم ہونے کے طویل عرصے بعد اور ان کے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد، کیتھرین نے پولینڈ کا بادشاہ بننے میں پونیاٹووسکی کی فوجی اور مالی مدد کی۔ تاہم، ایک بار تخت پر بیٹھنے کے بعد، نئے بادشاہ، جن کے بارے میں کیتھرین اور دیگر کا خیال تھا کہ روسی مفادات کے لیے محض کٹھ پتلی ہوں گے، انھوں نے اپنے ملک کی آزادی کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کا ایک سلسلہ شروع کیا۔‘

ماضی میں عاشق و معشوق رہنے والوں کے درمیان جو کبھی مضبوط رشتہ تھا جو جلد ہی کھٹائی میں پڑ گیا، کیتھرین نے پونیاٹووسکی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور روس نے نو تشکیل شدہ پولش، لتھوانیائی دولت مشترکہ کو توڑنے اور تحلیل کرنے کی کوشش کی قیادت کی۔‘

کیتھرین خود کو ایک روشن خیال حکمران قرار دیتیں

کیتھرین فکری تجسّس کی حامل خاتون تھیں اور تخلیق کے ساتھ ساتھ کنٹرول کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔

کیتھرین کا دور حکومت علاقائی توسیع سے عبارت ہے جس سے روس کے خزانے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا لیکن اس سے لوگوں کے مصائب کم نہ ہوئے۔ تاہم، کیتھرین خود کو یورپ کے سب سے زیادہ روشن خیال حکمرانوں میں سے ایک سمجھتی تھیں اور بہت سے مؤرخین اس سے اتفاق کرتے ہیں۔

انھوں نے روس کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد کتابیں، پمفلٹ اور تعلیمی مواد لکھا۔ وہ فنون کی بھی سرپرست تھیں۔ والٹیئر اور اس دور کے دیگر ممتاز لکھاریوں اور ادیبوں کے ساتھ اُن کا زندگی بھر رابطہ رکھا۔ سینٹ پیٹرز برگ کے سرمائی محل (اب ہرمیٹیج میوزیم کا مقام) میں دنیا کے سب سے متاثر کن آرٹ کلیکشنز میں سے ایک تخلیق کیا۔ اوپیرا کمپوزنگ کی بھی کوشش کی۔

انھوں نے 1762 میں پادریوں کی جائیداد کو سیکولرائز کیا، جو روس میں ایک تہائی زمین اور جبری مزدوروں کے مالک تھے۔ روس کے پرانے دشمن پرشیا کے ساتھ ساتھ روایتی اتحادیوں فرانس اور آسٹریا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھا۔

تاہم، اصلاحات کے لیے ان کی کوششیں تسلی بخش نہیں تھیں۔

اصلاحات کی اپنی کوششوں سے مایوس، کیتھرین نے ‘قومی عظمت’ کے نام پر 1768 میں ترکی کے ساتھ جنگ ​​شروع کر دی جس کے باعث روس کو غیر متوقع مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سب سے پہلے، ماسکو میں ایک خوفناک طاعون پھوٹ پڑا۔

 کیتھرین دی گریٹ

یوکرینیوں پر غلامی مسلّط کی

اقتدار سے پہلے، کیتھرین نے جبری زرعی مزدوروں کو آزاد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جن پر روس کی معیشت کی بنیاد تھی۔ تاہم، کیتھرین نے اقتدار میں آ کر دیکھا کہ مالکان، جن پر وہ انحصار کرتی تھیں، ان کی طرف سے غلاموں کی آزادی کو کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس ناگزیر برائی کو قبول  کرتے ہوئے کیتھرین نے ایک ایسے نظام کو منظّم اور مضبوط کیا جس کی انھوں نے خود مذمت کی تھی۔ انھوں نے یوکرینیوں پر غلامی مسلّط کر دی جو اس وقت تک آزاد تھے۔ ان کے دور حکومت کے اختتام پر روس میں شاید ہی کوئی آزاد کسان رہ گیا تھا۔

مؤرخین کے مطابق لگ بھگ 95 فیصد روسی عوام نے کسی بھی طرح کیتھرین کے دور حکومت کی کامیابیوں سے براہ راست فائدہ نہیں اٹھایا۔

جنگ کی مشکلات کے ساتھ ساتھ، عدم اطمینان اور عوامی تحریک کا ماحول پیدا ہوا۔ کیتھرین کو اپنے دور حکومت میں ایک درجن سے زیادہ بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سب سے خطرناک 1773 میں ایمیلیان پوگاچیف کی قیادت میں روس کے جبری مزدوروں کی سخت سماجی اقتصادی حالات کے خلاف بغاوت تھی۔ دو سال بعد پوگاچیف کو گرفتار کر کے سرعام پھانسی دے دی گئی۔

تب تک ترکی کے ساتھ جنگ ​​روس کی فتح پر ختم ہو چکی تھی۔

17 نومبر 1796 کو جب کیتھرین کی موت ہوئی تو اس کے بعد بھی مختلف افواہیں پھیلیں۔ لیکن مؤرخین کہتے ہیں کہ کیتھرین کو فالج کا دورہ پڑا اور اگلے دن خاموشی سے اپنے بستر پر مر گئیں۔

67 سال کی عمر میں فالج سے ہونے والی غیر متوقع موت تک بھی اُن کے پاس نوجوان چاہنے والے تھے۔ انھوں نے خوبصورت اور معمولی نوجوانوں کا انتخاب کیا، جو صرف، جیسا کہ ان میں سے ایک نے خود کہا، ’رکھیل کی طرح تھے۔‘

 کیتھرین دی گریٹ

وراثت اور علاقائی توسیع

کیتھرین کے بڑے بیٹے پال کی پرورش بڑی حد تک ​​زارینہ الزبتھ اور  اتالیقوں نے کی تھی۔

تخت سنبھالنے کے بعد کیتھرین نے پال کو امور مملکت سے بہت دور رکھا۔ دونوں کے درمیان تعلقات اس قدر خراب ہو گئے تھے کہ پال کو کبھی کبھار لگتا کہ ان کی ماں ان کی موت کی سازش کر رہی ہیں۔ اگرچہ کیتھرین کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں تھا، لیکن انھیں ڈر تھا کہ پال ایک نااہل حکمران ثابت ہو گا۔

الزبتھ کی طرح، کیتھرین نے پال کے بیٹوں کی پرورش اور تعلیم کا کنٹرول سنبھال لیا اور افواہیں پھیلیں کہ وہ پال کو نظرانداز کرتے ہوئے انھیں اپنا وارث بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کیتھرین نے 1796 کے اواخر میں ایسا کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ان کی موت ہو گئی۔

اس فکر میں کہ ان کی والدہ کی وصیت میں ایسی دفعات شامل نہ ہوں، پال نے اس دستاویز کو عام کرنے سے پہلے ہی ضبط کر لیا۔ پال کے سب سے بڑے بیٹے الیگزینڈر اپنی دادی کے منصوبوں سے واقف تھے لیکن اپنے باپ کے راستے میں نہیں آئے۔

پال زار بن گئے لیکن جلد ہی اتنے ہی غلط اور غیر مقبول ثابت ہوئے جتنا کیتھرین کو خوف تھا۔ اقتدار کے پانچ سال بعد انھیں قتل کر دیا گیا، اور ان کے 23 سالہ بیٹے نے الیگزینڈر اوّل کے طور پر اقتدار سنبھالا۔

کیتھرین کے دور حکومت کے اختتام پر، روس مغرب اور جنوب کی طرف 200,000 مربع میل سے زیادہ رقبے تک پھیل چکا تھا اور روسی حکمرانوں کا آبنائے باسفورس تک رسائی کا قدیم خواب (بحیرہ اسود کو ایجیئن سے ملانا) ایک قابل حصول مقصد بن گیا تھا۔ 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26837 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments