چھوٹی بہن

ارے ماشاءاللہ! گڑیا سی پیاری بیٹی کی مبارکباد قبول کرو عائشہ۔
وقت کتنا تیزی سے گزرتا ہے۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے جب تم پیدا ہوئی تھی۔ ہم پانچ بہن بھائیوں میں تم سب سے چھوٹی اور میں سب سے بڑا ہوں۔ عمر کا فرق اتنا تو ہے کہ مجھے وہ دن یاد ہے جب تم دنیا میں آئی۔
رات ہمارے گاؤں میں اتر چکی تھی۔ گھر کے صحن میں بھری تاریکی میں مدھم سے سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ نیم کی شاخوں اور پتوں کو ہوا آج زور زور سے جھنجھوڑ رہی تھی۔ تبھی تو بل کھاتی، لہراتی، ناگن سی شاخیں پھنکار رہی تھیں۔
ہم بہن بھائی انہی پھنکارتی شاخوں کے نیچے ایک چارپائی پہ خاموش بیٹھے تھے۔ ابو کمرے کے آگے بچھی چارپائی پہ پریشان سے بیٹھے تھے۔ نا جانے کیوں آج گھر پہ عجب خوف بھری اداسی چھائی تھی۔ آس پاس کی ڈھاریوں سے کتوں کے بھونکنے کی گہری اور بھاری آوازیں آ رہی تھیں۔ کبھی قریب سے کبھی قدرے دور سے۔ دور سے کتے بھونکنے کی آتی آوازیں کسی بھیانک دنیا کی آوازیں محسوس ہو رہی تھیں۔
ابو کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی۔ ہم بہن بھائی بھی آج نا باتیں کر رہے تھے نا شرارتیں۔
کمرے کا دروازہ چرچراہٹ کے ساتھ کھلا۔ دائی فیضاں نے ابو کے پاس آ کر سرگوشی کی۔ ابو ہمارے پاس آئے اور بھاری دھیمی آواز میں کہا ’اللہ نے آپ کو بہن دی ہے۔ ایک پاؤں سے اپاہج۔‘
ابو کے چہرے پہ الم کا ایک گاؤں ابھر آیا تھا۔ آنکھوں سے ضرور آنسو ٹپکے ہوں گے تبھی تو فوراً پلٹ کر اپنی چارپائی پر جا لیٹے تھے۔
ہمارے گاؤں میں بیٹیوں کی قسمت پر تو باپ اکثر آنسو بہایا کرتے تھے۔ اور ایسے حالات میں اگر بیٹی اپاہج پیدا ہو تو ایک باپ کیسے چارپائی پہ سیدھا بیٹھ سکتا تھا۔ کمر جیسے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گئی ہو اور جسم بے سدھ کھردرے بان سے چپک کر چپکے چپکے بین کرنے لگا ہو۔
رات اور بھی ڈراونی ہو گئی تھی۔ کتوں کے ساتھ ساتھ ابو سمند والے قبرستان کی طرف سے گیدڑ بھی زور سے چلانے لگے تھے۔ نیم کے پتے نا جانے کیوں زیادہ پھنکارنے اور چنگھاڑنے لگے تھے۔
لیکن یہ خبر غلط تھی۔ تمہارا پاؤں بالکل ٹھیک تھا۔ بس شکم مادر میں ہلکا سا ٹیڑھا کیے تم سوئی رہی تھی شاید۔ پہر دو پہر میں سب نارمل ہو گیا۔
ایک دم گھر پہ جیسے خوشی کا نور بھرا سویرا چھا گیا ہو۔ ابو کی آنکھوں میں اداسی کے سبھی ناگ ختم ہو گئے تھے۔ اب آنکھوں میں مسرت کے دیے جگمگا رہے تھے۔ وہ بھی نیم پہ لگی نمولیوں کی طرح ان گنت۔
گھر میں سب سے چھوٹی تھی تو لاڈ پیار تو سبھی کرتے تھے۔ تایا ابو کا تمہارے ساتھ الگ ہی لگاؤ تھا۔ گھنٹوں ساتھ کھیلتے رہتے، ہنستے ہنساتے رہتے۔ طرح طرح کی ٹافیاں بسکٹ، کھلونے لے کر دیتے۔ وہ چارپائی پہ لیٹے رہتے، تم ان کے گھٹنوں پر کھڑے ہو کر ان کے پیٹ پر چھلانگ لگاتی۔ تایا ابو اور تم دونوں خوب ہنستے۔ قہقہوں کی پھلجھڑیاں پورے آنگن کو روشن کر دیتیں۔
شاید تب تمہاری عمر ڈیڑھ دو سال ہو گی جب ایک جامنی رنگ کی قمیض تمہیں بے حد اچھی لگنے لگی تھی۔ سچ میں وہ بہت خوبصورت تھی۔ امی نے اس قمیض پر دھنگ رنگ کے دھاگوں سے بیل بوٹے کاڑھ دیے تھے۔ ضرور تمہیں ان خوش رنگ پھولوں سے پیار ہو گا۔
تمہاری تمنا یہی رہتی کہ ہر وقت وہی قمیض پہنو۔ کوئی اور کپڑے پہنانے پر تم رونے لگتی تھی۔ قمیض تمہیں چھوٹی ہو گئی تھی۔ جامنی رنگ کچھ پھیکا پڑ گیا تھا۔ بیل بوٹوں کے پھول پتوں پہ جیسے خزاں سی چھا گئی تھی۔ ان پھولوں پہ منڈلاتی خوش رنگ تتلیاں بھی کہیں اڑ گئی تھیں۔ پھر بھی تم اس قمیض کو اپنی گڑیا کے پٹولوں کے ساتھ ہی رکھا کرتی۔ شاید اب گڑیا کو تحفہ کر دی تھی وہ قمیض۔
ہمارے گھر کے صحن میں لگے نیم کے پیڑ پر کچھ گلہریوں کا بھی بسیرا تھا۔ شاخ شاخ دوڑتے پھرتے۔ صحن میں اتر کر روٹی کے بکھرے ٹکڑے ڈھونڈتے رہتے۔ دھوپ لگوانے کے لیے جو گندم اور دھان بچھاتے تھے وہاں آ کر بے خطر چھوٹے چھوٹے پیروں سے دانے چاول اٹھا کر کچر کچر چباتے رہتے تھے۔ کتنے معصوم اور پیارے لگتے تھے۔
کچھ مخصوص دنوں میں گلہری ہمارے آنگن اور کمروں سے پرانے کپڑے، چیتھڑے، روئی کے نرم گالے اور نا جانے کیا الل تلل اٹھا کر نیم کی چوٹی پر شاخوں میں اپنا گھر بناتے تھے۔ گلہری گڈی پٹولوں کے پاس پڑی وہ جامنی قمیض بھی لے گئے اور خزاں رسیدہ بیل بوٹے اپنے گھر میں سجا دیے۔
صحن میں کھڑے ہوتے تو وہ قمیض صاف دکھائی دیتی تھی۔ سب گھر والے کتنے ہنسے تھے۔ تم رونے لگی تھی۔ ہم سب کو اس پرانی، استعمال شدہ، چھوٹی قمیض کا گلہریوں کے کام آنے پر کوئی دکھ نہیں تھا۔ تم ان گلہریوں سے اپنے پھول، تتلیاں اور رنگوں کی قوس قزح واپس لینا چاہتی تھی۔
پھر نا جانے کیسے یوں ہوا کہ تم دھیرے دھیرے اس قمیض کو بھول گئی تھی۔
گاؤں میں کپاس کی چنائی کا موسم تھا۔ تم میرے کندھوں پہ سوار بالوں کو پکڑ کر بیٹھی تھی۔ گھر سے نکل کر قبرستان کے بڑے شریہنہ کے نیچے سے گزرتے ہم شمال کی طرف اپنے ٹیوب ویل کی طرف جا رہے تھے۔ کپاس کے کھیتوں میں بل کھاتی پگڈنڈیوں پر ہم باتیں کرتے جاتے تھے۔ میں تھک گیا تھا۔ تمہیں کندھوں سے پگڈنڈی پر اتار کر کہا کہ میرے ساتھ ساتھ کچھ فاصلہ پیدل چلو۔ تم میرے دامن سے لپٹ گئی تھی۔ ’بھائی مجھے اٹھا لو۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔ ‘ میں نے پھر اٹھا لیا تھا۔
مجھ احمق کو نا جانے کیا سوجھی۔ بڑے کیکر کے سائے، پگڈنڈی کے پاس کپاس کے پودوں میں تمہیں بٹھا کر کہا ’تم یہاں رہو۔ میں تمہیں چھوڑ کر جا رہا ہوں‘ ۔ تمہارے ننھے سے دل پہ ایک پل میں کیا قیامت گزر گئی ہو گی۔
میں چند قدم چلا تھا آگے۔ کس بے بسی اور لاچارگی سے تم نے کہا تھا ’بھائی! مجھے ساتھ لے چلو۔ یہاں نا چھوڑو مجھے۔ اب سارا راستہ پیدل چلوں گی۔ اب نہیں کہتی کہ اٹھا لو‘
میری بے وقوفی کی وسعت ملاحظہ ہو۔ میں نے کہا نہیں میں تو جا رہا ہوں۔ آنسو تمہاری آنکھوں سے بہہ گئے تھے اور ہونٹ کانپ رہے تھے۔ آواز ٹوٹ گئی تھی۔ تم نے کہا تھا ’بھائی! تم سے امی پوچھے گی کہ عائشہ کہاں ہے‘ ۔
میں نے پلٹ کر تمہیں اٹھا لیا تھا اور ہلکی سی ہنسی تمہارے ہونٹوں پہ پھیلی اور آنسوؤں سے بھری آنکھوں میں نور کا سیلاب آ گیا تھا۔ لیکن ہونٹ بہت دیر بعد بھی کانپتے رہے تھے۔
یہ بات مجھے آج بھی بہت دکھ دیتی ہے۔ میں اس پر سخت نادم ہوں۔ جب بھی یاد کرتا ہوں تو آنکھیں بھر جاتی ہیں۔ یہ لکھتے ہوئے بھی ندامت کے دو آنسو ضبط کے باوجود چھلک ہی گئے۔
اس حماقت پر عمر بھر آپ سے معافی کا طلبگار رہوں گا۔
گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کروایا تو تمہیں سکول جانا اچھا نہیں لگتا تھا۔ روز تڑکے تم سکول نا جانے کی ضد کرتی اور بوجھل قدموں سے روتے روتے تایا جی کے گھر سے گزر کر سکول کو جاتی۔
ایک دن تایا نے تمہیں دیکھا تو چپکے سے اپنے پاس بلایا، آنسو پونچھے، پیار کیا اور کہا کہ اچھا رو مت۔ سکول مت جانا۔ ہم باہر چلتے ہیں۔
نا جانے کتنے دن تک تم گھر سے سکول کے لیے نکلتی اور تایا کے ساتھ باہر نکل جاتی۔ چاچا ڈھرپیلی کے چھپر کے نیچے وہ تاش کھیلتے رہتے اور تم پاس بیٹھی رہتی۔ سکول سے چھٹی کے وقت چھپر سے نکل کر تایا کے ساتھ گھر آ جاتی۔
تایا ابو اب بھی ہنستے ہیں یہ یاد کر کے۔ کہتے ہیں واہ بھئی تمہاری قسمت کہ تم نے ایم اے کر لیا ہے۔ ورنہ ہم تایا بھتیجی تو سکول پڑھنے کی بجائے ڈھرپیلی کے چھپر نیچے بیٹھے رہتے تھے۔
تایا جی کی سرشت میں ہنسنا ہنسانا ہے۔ وہ آپ سے بہت پیار کرتے تھے تب۔ اب بھی کرتے ہیں۔ جب تمہاری رخصتی ہوئی تھی تو ان کی بوڑھی آنکھوں سے اتنے آنسو تو نکلے تھے کہ ان کی دھاری دار چادر کا پلو بھیگ گیا تھا۔
تایا نے تمہیں روتے ہوئے چپ کرایا، پیار کیا، تمہاری آرزووں کی قدر کی، آنسو پونچھے۔ مشکل کشائی کی۔ تم کہتی تھی نا کہ بچپن میں تم سوچا کرتی تھی کہ خدا کو کبھی دیکھا تو نہیں لیکن ضرور خدا کی شکل تایا ابا جیسی ہو گی۔
تمہاری شادی ہوئی۔ پیاری سی گڑیا خدا نے دی ہے تمہیں۔ عمیزہ۔ دیکھو کتنی صحت مند اور معصوم سی بچی ہے۔ پاؤں مڑے ہوئے نا آپ کے تھے نا اس بچی کے ہیں۔ الٹے پاؤں والی پچھل پیری بلائیں تو ہم بھائی ہیں آپ جیسی بہنوں کے لیے۔ جو آپ کو کالج یونیورسٹی بھیجنے پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ تم پہ بے جا پابندیاں لگاتے ہیں۔ جھڑکتے ہیں، زہر آلود غصہ بھری نظروں سے دیکھتے ہیں بات بات پر۔ کھانا لیٹ پکنے پر کیا کیا بکنے لگتے ہیں۔ کتنے ہی موقعوں پر تمہارے ہنسنے پر بھی غصہ کیا ہو گا۔
پچھل پیری بلائیں ہیں ہم۔ پل پل زندگی اجیرن کر کے دانت نکوستے ہیں۔
اچھا دیکھو عمیزہ کے لیے جامنی رنگ کی ننھی سی قمیض بنانا۔ سات رنگوں کی قوس قزح جس پہ کھلی ہو۔ لیکن دھیان رکھنا گلہری اٹھا کر نا لے جائیں پیڑ پر۔
ٹیوب ویل جاتے کپاس کے کھیتوں سے گزرتی پگڈنڈی پر آپ کو بٹھا کر گھر چلے جانے کی دھمکی دینا میری نری حماقت تھی۔ بچپنا تھا۔ تمہاری رخصتی جب ہوئی تھی تب بھی اور اب بھی جب تمہیں ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا تیرے اس احمق بھائی کو وہی پرانی بات ستاتی رہی۔ تمہارے الفاظ میں میرے دماغ میں گھسے بھڑ کی طرح بھنبھناتے رہے۔ ’بھائی! مجھے ساتھ لے چلو۔ یہاں نا چھوڑو مجھے۔ اب سارا راستہ پیدل چلوں گی۔ اب نہیں کہتی کہ اٹھا لو۔‘
آنکھوں سے برستے پانی پہ پھر اختیار نہیں رہا تھا۔
ہاں! آپ کو پلٹ کر اٹھا لیا تھا تب۔ ماتھا چوما تھا۔ پورے راستے کندھوں پہ بٹھا کر لے گیا تھا۔
یہ ناتواں کندھے ہمیشہ حاضر ہیں۔ خدا کرے کہ تم اتنی مضبوط اور خوش رہو کہ کندھوں کی ضرورت کبھی محسوس ہی نا ہو۔
اور ہم گاؤں سے اپنے کھوہ (ٹیوب ویل) تک ساتھ ساتھ چلتے رہیں۔ ہنستے ہنساتے۔ پگڈنڈی پہ جو بڑا کیکر ہے، کپاس کے کھیتوں میں، اس کیکر تک تو ہم پہنچ چکے۔

