تاریک راہیں


وہ کیفے میں بیٹھا شاید کسی کے انتظار میں تھا۔ وردی پہنے بار بار اپنی گھڑی کی سوئیوں کی طرف دیکھ رہا تھا اس کے تاثرات بتا رہے تھے جیسے وہ کسی بڑی خبر کا منتظر ہے وہ خبر جو شاید وقت اور طاقت دونوں کو بدل سکتی تھی۔ اسے اپنی وردی سے محبت تھی شدید محبت اور اسے اپنے کام سے عشق تھا۔ ویسے تو سب ٹھیک تھا مگر پھر بھی کچھ ادھورا تھا، کچھ ایسا جو ہر دم بے چین کیے رکھتا تھا۔ وہ معاملہ جو کچھ بھی تھا اس کی آنے والی زندگی میں طوفان برپا کرنے والا تھا اور وہ بے خبر اس کی طرف بڑھتا جا رہا تھا۔

اس کو آئے ہوئے تیس منٹ ہونے کو تھے مگر کوئی بھی شخص ابھی تک پہنچا نہیں تھا۔ رات کی سیاہی مکمل پھیل چکی تھی اور ہوا میں بھی خنکی کا عنصر آ چکا تھا۔ کیفے سے آہستہ آہستہ لوگ جاتے جا رہے تھے حتیٰ کہ وہ اکیلا رہ گیا۔ اس نے اپنی کافی کا اختتامی گھونٹ جیسے ہی بھرا اس کا فون بج اٹھا۔ ”ہیلو، اچھا، کیا“ اس نے سامنے سے کچھ سنا اور خود سے چند قدم دور ایک میز کی جانب لپکا جہاں اخبار کے اندر ایک کاغذ رکھا ہوا تھا۔ اس نے جیسے ہی کاغذ پڑھا اندر کچھ ایسا تھا جس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔

اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اس کے اندر جیسے طوفانوں کے جھکڑ چل رہے تھے۔ اور یہ آندھیاں محبت اور دوستی دونوں کے دیے بجھاتی ہوئی جا رہی تھیں۔ اس کی دنیا لمحوں میں الٹ پلٹ ہو چکی تھی۔ وہ روشنیاں بانٹنے والا شخص اس کی اپنی زندگی تاریک ہو چلی تھی۔ آناً فاناً سب ختم ہو چکا تھا۔ وہ شخص جو ایک چٹان تھا خود مع اپنی انا کے زمین بوس ہو چلا تھا اور وہ زمین اس ماں کی طرح بانہیں پھیلائے اس کو اپنے اندر سمو لینے کو تیار تھی جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو اپنی بانہوں میں سمونے کو بے قرار ہوتی ہے۔

محبت کے بازار میں سب سے مہنگا سودا وفا کا ہوتا ہے ہر شخص اس کو خرید نہیں سکتا اور پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے جو ازل سے محبت کا مقدر ہے آنسو، دکھ، تکلیف اور دھوکا۔ آنے والا وقت شاید اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا۔ شاید وہ زہر اپنا اثر دکھاتا جا رہا تھا جس کی بنیاد چند برس قبل دوستی کے نام سے رکھ دی گئی تھی۔ ہر وہ چیز جسے وہ ایک جیتا جاگتا انسان سمجھا تھا وہ تو پتھر کے تراشے بت نکلے۔ بے حس، ظالم اور سنگدل۔

ملک اس وقت نازک ترین دور سے گزر رہا تھا۔ حالات قابو سے باہر ہو چلے تھے اور خانہ جنگی تھی کہ بس دروازے پر دستک دیے دروازے کے کھلنے کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ اپنی وردی اور ملک سے شدید محبت کرتا تھا۔ دہشت گردی عروج پر تھی۔ دشمن کو بس ایک بار ان سے آگے رہنا تھا جب کہ ان کو ایک موقع بھی فراہم نہیں کرنے دینا تھا۔ اس کے پاس ان جاسوسوں کی فہرست موجود تھی جو ان کی مدد کرتے تھے وہ محفوظ تھی مگر کب تک جب اپنے ہی گھر میں میر جعفر اور میر صادق موجود ہوں تو فرنگیوں سے کیا گلہ۔

اس کے گھر میں موجود وہ فہرست چرا لی گئی۔ چرائی بھی مگر کس نے اس دوست نے جس سے وہ شدید محبت کرتا تھا۔ اس شخص نے جس کی شاید اس نے کبھی بے لوث خدمت کی تھی۔ محبت نے ایک فرض شناس پولیس افسر کو اپنے گھر سے بے خبر رکھا۔ اس کا سب سے بہترین دوست جس کی شاید اس نے برے وقتوں میں جانے کتنی بار مدد کی تھی نے وہ فہرست چرا لی۔ رات کی تاریکی میں اس کے گھر نقب لگانے والے اس دوست نے یہ تک نہیں سوچا کہ جس آگ میں وہ ہاتھ ڈالنے جا رہا ہے وہ کتنے گھروں کو جلا کر راکھ کر دے گی اور شاید متاثرین میں اس کا اپنا نام بھی موجود ہو۔

وہ اپنے گھر جیسے ہی پہنچا تو سامنے پولیس کی گاڑیوں نے اس کا استقبال کیا۔ اس نے لمحے بھر تحیر سے بھرپور نگاہ ان اشخاص پر ڈالی اور پھر نگاہیں گھومتی ہوئی ایک جگہ مرکوز ہو گئیں اور پھر اس نے وہ سنا جو شاید وہ کبھی نہیں سننا چاہتا تھا۔ ”انسپکٹر صاحب یہی ہے وہ غدار جس نے ملکی راز بیچے ہیں۔“ وہ لفظ نہیں انگارے تھے جو اس کے دوست کے منھ سے نکلے تھے۔

جج کے سامنے اس کو غداری کی سند سے نوازا گیا۔ سب لوگ اس پر تھو تھو کر رہے تھے۔ ‌اس سے کچھ پوچھا ہی نہیں گیا بس فیصلہ سنایا گیا۔ اسے سمجھ آ گیا تھا یہ محض ایک فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسے طبقے کی سوچ تھی جن کے مفاد کو وہ وردی کی محبت اور ایمانداری کے نشے سے سرشار روند آیا تھا۔ جب ایسے طبقے کی آنا پر چوٹ پڑتی ہے تو وہ بدلہ لینے پر اتر آتا ہے۔ ان کا دین ایمان پیسا اور اس سے انھوں نے سب کو خریدنا شروع کیا۔ آغاز دوست سے ہوا اختتام جج پر۔ منصف کا قلم دان سرمایہ دارانہ نظام کے زیر اثر آ گیا اور انصاف نے نوحے کہتے ہوئے وہاں سے رخصت لی۔ یوں جج کا فیصلہ تو محض ایک رسمی سی کارروائی تھی۔ اس نے سر اونچا کیا وہاں سے اسے لے جایا گیا۔

لوگوں کا ایک جم غفیر جمع تھا۔ تختہ دار پر وہ شخص کالا کپڑا سر پہ لیے گردن میں پھندا لیے کھڑا تھا۔ سب اس شخص کو دیکھنا چاہتے تھے جو کل تک جو شخص اس ریاست کی آنکھوں کا تارہ تھا اب سرمایہ داروں کے انتقام کی بھینٹ چڑھ رہا تھا۔ کچھ فاصلے پر ریاست اپنی گردن میں سرمایہ دارانہ نظام کا طوق پہنے اس منظر کو بہتے آنسوؤں سے دیکھ رہی تھی۔ جج نے اشارہ کیا اور جلاد نے ایک جھٹکے میں لیور کھینچ لیا۔ اس کے پاؤں کے نیچے لگے دروازے کے پٹ کھلے اور اس کی روح سب لوگوں کو دیکھتے ہوئے نکلی، ریاست کے پاس رکی ایک الوداعی سلام لیا اور آسمان کی طرف پرواز کر گئی۔ تختہ دار پر لٹکتی وہ لاش اس ریاست کے باسیوں پر افسوس کرتی رہی اور پھر منظر دھندلا گیا۔

Latest posts by احمد رضا خان کھوسو (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

احمد رضا خان کھوسو کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments