قطر میں تبلیغی ورلڈ کپ کے پیچھے چھپا مغربی منصوبہ


آپ اگر ہماری مانند حالات حاضرہ پر گہری نگاہ رکھتے ہیں تو آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ قطر نے بہت محنت سے اور کثیر سرمایہ خرچ کر کے فٹ بال کے ورلڈ کپ کا اپنی سرزمین پر انعقاد کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قطر نے فٹ بال ورلڈ کپ میں تبلیغ کا بہترین بندوبست کیا ہے۔ راستے میں تبلیغ، چوک پر تبلیغ، سٹیڈیم میں تبلیغ، حتی کہ ہوٹلوں کے کمروں میں بھی تبلیغ۔ دو ہزار مبلغین بھی تعینات کیے ہیں کہ جسے پاؤ اسے پکڑ کر مسلمان بنا دو۔ اللہ قطریوں کو جزا دے۔

ہمیں فٹ بال کی زیادہ سمجھ بوجھ تو نہیں لیکن ہماری رائے میں یہ ورلڈ کپ سپین جیتے گا۔ ورلڈ کپ کی روایت رہی ہے کہ جس براعظم میں اس کا انعقاد کیا جائے اسی کی ٹیم کپ جیتتی ہے۔ یورپ میں انعقاد ہو تو یورپی جیت جاتے ہیں اور جنوبی امریکہ میں ہو تو کوئی جنوبی امریکی ٹیم کپ اڑا لے جاتی ہے۔ اب عربستان کی قریب ترین ٹیم اندلس کی ہے۔ ظاہر ہے وہی جیتے گی۔ بعض ناقدین کے مطابق اندلس کی ٹیم اس بار مضبوط نہیں ہے، مڈ فیلڈ میں اچھے پلیئر ہیں لیکن تجربہ نہیں ہے، سٹرائیکر بہت اچھے نہیں، تو اس کا جیتنا مشکل ہے۔ بات یہ ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ روایات کی پاسداری لازم ہے اور روایت یہی ہے کہ جہاں ورلڈ کپ ہو اسی سرزمین کی ٹیم جیتے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ خود قطر یا سعودی عرب کی ٹیم کیوں نہیں جیتے گی؟ وہ ٹیمیں بھی تو کھیل رہی ہیں۔ جواب یہ ہے کہ عرب درویشی کے قائل ہیں اور حاتم طائی کی روایات کے امین۔ ان کی مہمان نوازی ضرب المثل ہے۔ ورلڈ کپ تو معمولی شے ہے، وہ مہمان کو اپنا پسندیدہ گھوڑا تک ذبح کر کھلا دیتے ہیں اور وہ نہ نہ کرتا رہ جاتا ہے۔ اندلس کو وہ مایوس نہیں کریں گے۔ انہیں یاد ہے کہ اندلس سے ان کا خونی رشتہ ہے۔ اندلسی رگوں میں ابھی تک عرب خون دوڑ رہا ہے، اور وہ بھی قریشی۔

خود کو تبلیغی ماحول میں پا کر اندلسی کھلاڑیوں کے دل موم ہو جائیں گے۔ جب سٹیڈیم کی فضا میں اولے اولے کے اندلسی نعرے واللہ واللہ کے عربی نعروں سے ملیں گے تو اندلسی کھلاڑی سپر چارج ہو جائیں گے۔ ایسے میں مغربی اور امریکی کھلاڑی بھلا کہاں ان کے آگے ٹک پائیں گے؟ عجب نہیں کہ فائنل جیتتے ہی اندلسی کھلاڑی گراؤنڈ میں سر بسجود ہو جائیں اور لا الہ کہہ کر کلمہ گووں میں علانیہ شامل ہو جائیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ مغرب نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیوں تسلیم کیا؟ مغربی شائقین نہ تو سٹیڈیم میں اور مے خانوں میں شراب پی پائیں گے، نہ ہی وہ اپنی روایت کے مطابق جوش و مستی میں جامے سے باہر ہو سکیں گے۔ انہوں نے ایسی کوئی حرکت کی تو قطری انہیں جیل میں ڈالیں گے۔ عجب نہیں کہ حد نافذ کر کے کوڑے بھی لگا دیں۔ الٹا ان پر اسلامی تبلیغ کی جائے گی۔ پھر مغرب نے قطر کو میزبانی کیوں دی؟

ایک پہلو مدنظر رکھنا چاہیے۔ تبلیغی جماعت کے ماہرین پرانے مسلمانوں کو ری کنڈیشن کر کے نیا مسلمان بناتے ہیں۔ ان کی مہارت غیر مسلموں کو قائل کرنے کی نہیں۔ ایسی صورت میں عرب خون والی اندلسی ٹیم کے سوا کتنے مغربی کھلاڑی یا فٹ بال فین ان کی تبلیغ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کریں گے؟ جبکہ انہیں نہ تو مرضی کا مشروب پینے کی اجازت ہے نہ فحاشی کی۔ جواب آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی۔

اگر غور کیا جائے تو قطر کو تبلیغ کی یہ اجازت ایک مغربی سازش دکھائی دے رہی ہے۔ مغرب میں ورلڈ کپ ہمیشہ ناچ گانوں اور رقص و سرود کے ساتھ منعقد کیا جاتا ہے۔ قطر میں پہلی مرتبہ مذہبی تبلیغ کا عنصر باقاعدہ طور پر ورلڈ کپ کی تقریبات کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے اب آپ یہ سوچیں کہ اگلا ورلڈ کپ کہاں ہو گا؟

اگلا ورلڈ کپ شمالی امریکہ میں ہے۔ وہاں فٹبال ورلڈ کپ میں جوابی تبلیغ ہو گئی تو پھر؟ یاد رہے کہ یورپی تو دین سے بہت دوری اختیار کر چکے ہیں لیکن امریکہ میں مذہب ابھی زندہ ہے۔ امریکیوں کے پاس دولت بھی ہے، میڈیا بھی ہے، مذہب سے محبت بھی، اور وہ پروپیگنڈے اور شاطرانہ چالوں کے امام بھی ہیں۔

اب اگر پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب وغیرہ کی فٹ بال ٹیمیں شمالی امریکہ میں ورلڈ کپ کھیلنے جائیں گی تو کیا سماں ہو گا؟ دودھ اور شہد وہاں وافر مقدار میں موجود ہے۔ شراب کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ حسینائیں ایسی کہ حسن بن صباح کی جنت والیاں بھی ان کے آگے ماند پڑیں۔ اگر بیس پچیس برس کی عمر کے ان گرم خون والے مومن کھلاڑیوں پر مشنریوں نے تبلیغ کی گئی اور ساتھ ہی ایک ہاتھ میں گوری کا ہاتھ اور دوجے میں گرین کارڈ پکڑا کر کہا گیا کہ ہمارے پیام کو قبول کر لو اور ہمارے بھائی بن جاؤ، تو آپ کی رائے میں کتنے کھلاڑی اس آفر کو ٹھکرا پائیں گے؟ ایسا دل کہاں سے لائیں گے کہ سامنے موجود ارضی جنت کو چھوڑ کر حیات بعد الموت کا انتظار کریں؟ امتحان سخت ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1516 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments