قوم کے مستقبل کی جھلکیاں


پچھتر سال زیادہ نہیں ہوتے مگر ہم نے ان میں پھر بھی بہت کچھ کر لیا ہے۔ یہ تو خیر کچھ بھی نہیں آگے آگے دیکھیے کہ کیا ہوتا ہے۔ اس وقت بھی خیر سے دنیا بھر میں ہمارا وقار بلند ہے کہ صرف چند ہی ملکوں میں بغیر ویزے کے ہم جا سکتے ہیں مگر یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ دنیا تو ہمارے ہاں آنے سے بھی کتنی کتراتی ہے یہ بھی اچھی بات ہے کہ ہمیں کسی دوسرے ملک کے شہریوں کی ذمہ داری اٹھانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔ دوسرے ممالک کی شہریت لینے کو ہم بے قرار رہتے ہیں جبکہ ہم سے کوئی لینا چاہے تو ناک بھوں چڑھاتے ہیں کہ وہ ہمارے قابل کہاں۔

عدلیہ ہماری آزاد ہے اور جلد عالمی رینکنگ وغیرہ کی پابندی سے بھی پھلانگ جائے گی اور اوپر کی رینکنگ والے سارے ممالک کا بوجھ ہم پہ آ جائے گا یعنی سارے ہمارے کندھوں پر سوار ہوں گے۔ ڈیم ہم نے بہت بنا لیے اب ان میں صرف پانی جمع کرنا ہے۔ بجلی ہمارے ہاں وافر ہے بس بیچنے کو خریدار نہیں مل رہے۔ نہری نظام ہمارا دنیا میں سب سے بڑا ہے بس نہروں میں پانی کی کمی ہے اور زراعت ہماری تگڑی ہے۔ دنیا ہماری مصنوعات خریدنے کو مری جا رہی ہے اور مستقبل ہمارا روشن ہے۔ اس روشن مستقبل کی جھلکیاں ہم آپ کو پڑھانے لگے ہیں

تو دوستو! اب ہمارا سب سے بڑا جو مسئلہ ہے وہ ہندوستان ہے۔ مسئلے ہیں تو نہیں ہمارے لیکن جو چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں ان کی جڑ ہندوستان ہی ہے۔ پچھتر سال پہلے یہ طے ہو گیا تھا اور اب بھی طے ہی ہے۔ یہ ہماری پولیس کا رویہ جو خراب ہے اور جج فیصلے نہیں کر پا رہے لاکھوں مقدمات التواء کا شکار ہیں اس کے پیچھے بھی ہندوستان ہے۔ مودی روز ہمارے سارے تھانوں میں فون کر کے انھیں ہدایات دیتا ہے۔ بارڈر بھی سیل ہے مگر ہندوستان ہے کہ گھسا ہی چلا آ رہا ہے۔ اس کا کھوج لگا چکا ہے اور جلد اس کی گردن دبوچ لی جائے گی۔

ہندوستان کا مسئلہ حل ہو گیا تو پھر یہاں نہ ملاوٹ ہو گی اور نہ تفرقہ بازی پیدا ہو گی۔ امن و امان مثالی ہو گا اور سب کو عزت، دولت، سکون میسر ہو گا۔ تعلیم اور علاج مفت ہو گا۔ روزگار کے مواقع ضرورت سے زائد ہو جائیں گے چنانچہ یہاں ہمارے نوکر دور سے آیا کریں گے۔ رشوت کا تو نام و نشان نہ ہو گا۔ سڑکیں ہموار اور ماحول تو شفاف ہو گا ہی۔ زراعت آسمان سے باتیں کرے گی اور انڈسٹری تو روانہ تیس گھنٹے رواں رہے گی۔ ہمارے میڈیا کے تمام چینل اور اخبارات دنیا بھر میں دیکھے اور پڑھے جائیں گے بلکہ کسی روز اخبار نہ شائع ہوئے تو لوگ امریکہ سے لینے آ جایا کریں گے۔

ہمارے پرانے دریاؤں کے ساتھ ساتھ پندرہ بیس نئے دریا بھی بہتے دکھائی دیں گے اور بحیرہ عرب کا پانی اٹلی تک لوگ بوتلیں منگوا کر پیا کریں گے۔ گوگل، یو ٹیوب، ٹویٹر، فیس بک، انسٹا گرام اور واٹس ایپ وغیرہ کسی ڈھوک سے کنٹرول ہوں گے اور جب بھی کسی بات نے قومی مفاد کے خلاف جانے کی بات کی ہم فوری اس سارے سوشل میڈیا کو عارضی طور پر بند کر دیا کریں گے۔ اور ہاں الیکشن وقت پر ہی ہوا کریں گے۔ طیارے پولنگ والے دن دنیا بھر سے بیرون ممالک رہنے والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر لایا کریں گے اور شام کو انھیں واپس ڈراپ بھی کر کے آیا کریں گے۔

اشیائے ضروریہ اور اشیائے تعیش سستی نہیں بلکہ مفت ہوں گی۔ ہر بندہ اپنی پوری عمر کے دوران جو مرضی استعمال کرے پیسے حکومت دے گی۔ یہاں مردوں کا کام محض قوم کی تعداد بڑھانا اور خواتین کا ان کی اس کام میں مدد کرنا ہو گا۔ بچے پیدا ہوتے ہی حکومت سنبھال لے گی اور قوم کا کام پھر اس ”کام“ میں جت جانا ہو گا۔ سارا مسئلہ ہندوستان کا ہے یہ انگریزوں کی سازش ہے جو ہندوستان بھی بنا گئے ورنہ ایک ہی ملک ٹھیک تھا۔ دو ملک بنانے پر خرچہ بڑھ جاتا ہے ان کو پتہ نہیں تھا۔

انتظامی امور بیرون ممالک سے آنے والے بیروزگار سنبھالیں گے اور صرف تین بندے ان امور کی نگرانی کریں گے۔ ان نگرانوں میں صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف شامل ہوں گے کیونکہ ان کا مسلمان ہونا ضروری ہوتا ہے اور آئین کی پاسداری کا خیال نہایت ضروری ہو گا۔ تمام کھیلوں کے سارے ورلڈ کپ یہاں ہوں گے اور تمام کھیلوں کی رینکنگ میں ہمیں پہلے نمبر پر رکھنا مجبوری ہو گی۔ خلا اور اس کے دائیں بائیں بھی ہماری کی حدود تصور ہوں گی۔ کرونا وائرس وغیرہ جیسے وبائی امراض یہاں داخل نہیں ہو سکیں گے بلکہ یہاں سے باہر جایا کریں گے۔ یہاں ہر شہری سینکڑوں کنال کے گھر میں رہے گا اور دنیا بھر میں جہاں کی عورت سے چاہے گا شادی کر سکے گا مگر یہاں کی عورتوں کے باہر جانے پر پابندی ہو گی کیونکہ اس طرح سیکیورٹی لیک ہو جاتی ہے۔

جہاز ساری دنیا میں صرف ہمارے کے چلیں گے اور ریلوے بھی یہاں سے ہر طرف جائے گی۔ سمندر میں بھی جہاز ہمارے ہی ہوں گے اور ساری مچھلیاں بھی صرف ہم ہی پکڑ سکیں گے۔

اور ہاں ہم سے کہیں بھی کرایہ وصول نہیں کیا جائے گا بلکہ جس گاڑی میں کوئی اگر ہم میں سے بیٹھا ہو گا اس کے سارے مسافروں سے کرایہ اکٹھا کر کے اس کو دیا جائے گا۔ روپیہ ساری دنیا کی مجبوری ہو گا بلکہ چونی بھی دوبارہ عروج پائے گی۔

میرے یہ چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ پڑھ کے اب کچھ لوگ ضرور ہنسیں گے۔ یہ میری پیشن گوئی ہے اور اگر یہ درست ہے تو باقی ساری بھی درست ہیں پھر۔ یہی لوگ دراصل ملک کو خوشحال ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ ان کو ہنسنے دیں باقی سارے بھائیوں سے گزارش ہے کہ رات کے پچھلے پہر چونکہ سردی ہو جاتی ہے لہٰذا اپنے پاس رضائی یا بھاری کمبل رکھ کے سویا کریں بس اتنی سی ہی گزارش ہے اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ لائک اور شیئر کریں تاکہ ملک کے دشمنوں کو سبق سکھایا جا سکے جو اس ساری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وقاص محمود منہاس کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments